طارق محمود مرزا اور”دنیا رنگ رنگیلی“ایک جائزہ-----آخری قسط ۔۔

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

اگلے روز جمعے کی نما زکی فکر لاحق ہوئی جس پر انہیں نزاکت علی یا د آیا اور اسے فو ن کرکے اس سلسلے میں معلومات حاصل کیں اور پھر نزاکت علی کے بتائے ہوئے اڈریس پر وقتِ مقررہ پر نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچ گئے۔

یہ شہر سے قدرے باہر ایک وسیع قطعہ پر بنا ایک خوبصورت گھر تھا۔گیٹ کھلا دیکھ کر ہم گاڑی اندر لے گئے۔اس کے وسیع صحن میں چھ سات گاڑیاں پہلے سے کھڑی تھیں۔ہم گاڑی سے باہر نکلے تو نزاکت علی کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر ترکی نژاد شخص نے استقبال کیا۔نزاکت علی نے اس سے ہمارا جب کہ سفرِ جاپان میں ان کے صاحبزادے ان کے ہم رکاب تھے۔بادی النظر میں ان سفر ناموں کا حقیقت کے قریب تر ہونے کامحرک بھی یہی لگتا ہے، کیونکہ انسان اپنی شریکِ حیات اور اولاد کے سامنے غلط بیانی سے جہاں تک ممکن ہو اجتناب کرتا ہے چنانچہ طارق مرز ا کے ان تینوں سفر ناموں میں حقیقت کا عنصر نمایاں ہے۔اگرچہ ہمارے کچھ سفر نامہ نگاروں نے محض اپنے قاری کی attractionکے حصول کی خاطر صنف نازک کے ذکرکو اپنے سفرناموں کا جزوِ لاینفک بنایا ہوا ہے۔ایسا نہیں کہ طارق مرزا نے خواتین کا ذکر نہ کیا ہو لیکن یہ تذکرہ قدرے مختلف ہے مثلاً،سالم اور اس کی اہلیہ کی داستانِ عشق کو نہایت خوبصورت لیکن ایک ادیبانہ رنگ میں بیان کیا ہے۔ سالم ایک عام قطری تھا جب کہ اس کی محبوبہ مریم ایک قطری شہزادی تھی۔ دونوں یونیورسٹی میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اور پھر سالم کو مریم سے عشق کی پاداش میں قید وبندکی صعوبتیں برادشت کرنا پڑیں اور ایک دن دونوں قطر سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور بحرین، دبئی، سنگاپور اورآسٹریلیا سے ہوتے ہوئے نیوزی لینڈ پہنچ گئے۔اب سالم ایک بیکری میں کام کرتا ہے جب کہ شہزادی مریم اب پھول بیچتی ہے لیکن دونوں ایک دوسرے کو پاکر بہت خوش ہیں۔قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی خاطر چند سطریں درج کی جارہی ہیں۔

اس دوران مریم میری بیگم کی طرح خاموش بیٹھی یہ گفتگو سن رہی تھی۔اب خواتین کا نمبر تھا۔میری بیگم نے اس سے پوچھا ”تمہیں یہاں آکر کیسا لگ رہا ہے۔میرا مطلب ہے کہ گھر والوں کی یاد تو نہیں آتی؟“
مریم نے پہلی مرتبہ اپنے لب کھولے۔وہ مسکرائی تو اس کے سنہرے چہرے پر سفید دانت بہت اچھے لگے۔ اس نے آہستہ سے کہا
”سوری میری انگریزی اتنی اچھی نہیں ہے۔ ہاں! مجھے اپنے ماں باپ اور بہن بھائی بہت یاد آتے ہیں۔اب شاید میں ان سے کبھی نہ مل سکوں۔مگر میں سالم کو پاکر بہت خوش ہوں۔“

اتنی سی بات کرکے مریم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور اس کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔ ماحول اُداس ہو گیا۔
مصنف اور ان کی اہلیہ والٹر پیک فارم اور اس کے ارد گرد کے ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہوٹل لوٹ آئے اور پھر وہی پاؤ بھر ”دال“اوراس کا قصہ لیکن اب وہ ائیر پورٹ پر نہیں بلکہ ہوٹل میں تھے اور دال کے پکائے جانے کا مرحلہ تھا۔ وہ دال جسے وہ کبھی کھا نہ سکے اگرچہ اسے سڈنی سے ساتھ لائے تھے اور اس کی وجہ سے ایئرپورٹ پر خاصا وقت بھی صرف ہوا تھااور جب امیگریشن حکام کے سوالوں کے جواب دے کر باہر نکلے تھے تو ان کے علاوہ سب مسافر جاچکے تھے۔

مصنف ہوٹل میں رات بھر قیام کے بعد اگلے روز گلین اورکی(Glenorchy)کا رخ کرتے ہیں۔ یہ کوئینز ٹاؤن کا ایک دلکش اور حسین نواحی گاؤں ہے جسے طارق مرزا نے جنتِ ارضی کہا ہے اور اس کی سیر کے دوران ایک دلچسپ واقعہ بھی رقم کیا ہے جو مختصراً یوں ہے کہ یہاں ان کی ملاقات ایک فارم کے مالک میاں بیوی(فرینک اور ماریہ)سے ہوئی۔ مصنف نے باتوں باتوں میں پوچھا کہ آپ کے بچے نہیں ہیں جس پر فرینک نے کہا ماریہ کو بچے پالنا اچھا نہیں لگتا اس لیے ہم نے بچوں کا نہیں سوچا بس اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بس۔بقول مصنف،”جب ہم فرینک اور ماریہ کے دلکش فارم ہاؤس سے رخصت ہوئے تو ہمارے ہاتھ میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کی ایک خوبصورت ٹوکری تھی۔ فرینک اور ماریہ کے دیئے گئے یہ تحفے تو ایک دو دن میں ختم ہوگئے لیکن ان کی محبت اور مہمان نوازی کی مہک آج تک ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔“

طارق مرز اور ان کی اہلیہ نماز کے پابند معلوم ہوتے ہیں چنانچہ جب وہ گلین اورکی سے واپس لوٹے تو اگلے روز جمعے کی نما زکی فکر لاحق ہوئی جس پر انہیں نزاکت علی یا د آیا اور اسے فو ن کرکے اس سلسلے میں معلومات حاصل کیں اور پھر نزاکت علی کے بتائے ہوئے اڈریس پر وقتِ مقررہ پر نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچ گئے۔

یہ شہر سے قدرے باہر ایک وسیع قطعہ پر بنا ایک خوبصورت گھر تھا۔گیٹ کھلا دیکھ کر ہم گاڑی اندر لے گئے۔اس کے وسیع صحن میں چھ سات گاڑیاں پہلے سے کھڑی تھیں۔ہم گاڑی سے باہر نکلے تو نزاکت علی کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر ترکی نژاد شخص نے استقبال کیا۔نزاکت علی نے اس سے ہمارا مختلف انداز ہے۔ ”اینا“کی کہانی اس سفر نامے کا ماسٹر پیس کہی جاسکتی ہے۔

تیسرا سفر نامہ جو ”دنیا رنگ رنگیلی“ میں شامل کیا گیا ہے، وہ تھائی لینڈ کا سفر ہے۔اب ایک بار پھر اس سفر میں مصنف کی اہلیہ ان کے ہمراہ ہیں۔ یہ جیسے ہی بنکاک کے خوب صورت ائیرپورٹ پر اترے اور امیگریشن کے لیے قطار میں لگے تو ائیرپورٹ کا حسن ماند پڑتا دکھائی دیا کیو نکہ امیگریشن کے کارندوں کے چہروں پر ماسک اور لہجے میں کرختی تھی۔ائیرپورٹ سے نکل کر وہ سیدھے ہوٹل ”کلوورسوکو“چلے گئے۔ بنکاک تھائی لینڈ کا گنجان ترین شہر ہے اور 2015 ء کی مردم شماری کے مطاق تھائی لینڈ کے باشندوں کی کل تعداد چھے کروڑ اسی لاکھ ہے۔ جس میں صرف بنکاک کی آبادی نوے لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنکاک کے گردو نواح میں رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر روزگار کے لئے بنکاک آتے ہیں۔بنکاک شہر کا رقبہ ۸۶۵۱مربع کلومیٹر ہے۔
بنکاک کے گلی کوچے اور بازار ساتھ ساتھ ہیں۔ گلیاں تنگ ہیں جہاں سے دو گاڑیوں کا بیک وقت گزرنا محال ہے۔موٹر سائیکل لوگوں کی عام سواری ہے۔مصنف کے مطابق وہ نومبر کے آخری عشرے میں یہاں پہنچے اس کے باوجود گرمی شدید تھی نیز تھائی لوگ منہ پر ماسک چڑھائے گھومتے پھرتے تھے۔
مصنف نے فلوٹنگ مارکیٹ، شاہی محل اور واٹ پاؤ کے مندر کا نظارہ کرنے کے لیے ٹیکسی بک کی لیکن ڈرائیور کو انگریزی اتنی ہی آتی تھی جتنی مصنف کو تھائی زبان آتی تھی چنانچہ نتیجہ باآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ سارے دن کا سفر کس قدر خوشگوار ہو گیا ہو گا۔وا ٹ پاؤ کا مجسمہ کسی دھات کا بنا ہوا ہے اور اس مج سمے کا سب سے قابلِ ذکر اور قابل توجہ حصہ اس کی آنکھیں ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ آنکھیں سیاحوں پر گڑی ہوئی ہیں۔ان آنکھوں میں تجسّس ہے،کھوج ہے اور سوال ہے۔مہاتما بدھ کے دیوہیکل مجسمے کا نظارہ کرنے کے بعد مصنف نے لانچ کی سیر کی اور اس کے عملے کا سلوک اسے بالکل پنجاب پولیس جیسا لگا۔اگلی صبح واٹ آرون کے مندر کو دیکھنے گئے جسے طلوع آفتاب کا دیوتا مانا جاتا ہے اور شاہی محل کی سیر تو مصنف کو گویا ماضی میں لے گئی۔بنکاک کے سفاری پارک کی سیر بھی اس سفر نامے کا حصہ ہے جہاں مصنف کو”شیر“ بہت ہی مطمئن نظر آیا۔شاید وہ بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ:
ؔ ؎ غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر وشبِ مہتاب میں

”دنیا رنگ رنگیلی“ میں طارق مرزا نے ثقافت، تاریخ اور معاشرت کو کچھ یوں یکجا کر دیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں۔ میں انہیں ایک کامیاب سفر نامہ تصنیف کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور قارئین سے کہوں گا کہ اگر وہ نیوزی لینڈ، جاپان اور تھائی لینڈ کے گلی کوچوں، تاریخی وتہذیبی اور صحت افزا مقامات کے بارے جاننا چاہتے ہوں تو اسے ضرور پڑھیے کیونکہ طارق مرزا اس سفر میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر چلے گا اور آپ بھی اس سیاحت سے اسی قدر لطف اندوز ہوں گے جس قدر طارق مرزا ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ ماضی قریب میں انہوں نے جن یورپی ممالک کی سیاحت کی ہے وہ جلد ہی کسی نثری پیرائے میں قارئین کے لیے دستیاب ہوگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 110 Articles with 45741 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
25 Aug, 2019 Views: 411

Comments

آپ کی رائے