پاکستان کا قومی ترانہ اس کا پسِ منظر، معنی ومفہوم اور وضاحت: ساتویں قسط

(Syeda F GILANI, Australia)

حفیظؔ جالندھری ”قومی ترانہ“ میں مسلمان قوم کے عروج کی آرزو رکھتے ہیں اور قوم کو عروج صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے۔ جب وہ دین کا دامن پکڑ کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے۔شاعر قوم کو زندہ و پائندہ دیکھنے کا خواہاں ہے جس نے مضبوط قوتِ ارادی سے اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا، جس کے عظیم قائد کے عزائم اس قدر پختہ تھے کہ اس نے اپنے ایک بیان میں ان خیالات کا اظہارکچھ یوں کیا:
"خدا کی قسم جب تک ہمارے دشمن ہمیں اٹھا کر بحیرہء عرب میں نہ پھینک دیں، ہم ہار نہ مانیں گے۔پاکستان کی حفاظت کے لیے میں تنہا لڑوں گا، اس وقت تک لڑوں گا، جب تک میرے ہاتھوں میں سکت اور جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔"
اگر ہمارے وطن کا ہر فرد ایسے ہی جذبات اپنے اندر اجاگر کرے تو کوئی وجہ نہیں پاکستانی قوم کا شمار دنیا کی عظیم اقوام میں نہ ہو۔قائدِ اعظم ؒ نے پاکستانی قوم کے بارے فرمایا:
"پاکستان کو دنیا کی عظیم اقوام میں شامل کرنے کے لیے اور اسے خوشحالی اور فراوانی کی سرزمین بنانے کے لیے ہمیں سچے شہریوں کی حیثیت سے اپنا اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔"
ہمیں بانئ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا ہر وقت احسان مند رہنا چاہیے کہ جن کی ذہانت و فطانت نے ہندو فریب کاریوں کا پردہ چاک کیا اور دلائل سے یہ بات ثابت کی کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں۔جن کا مذہب الگ ہے، رہن سہن اور کھانے پینے کے طور طریقے الگ ہیں اور قومیت کی جس طرح بھی تعریف کی جائے اس کی رو سے مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ اس ملک (ہندوستان) میں ان کی الگ مملکت اور جداگانہ خود مختار ریاست ہو۔ یہی ”دو قومی نظریہ“ پاکستان کی اساس تھا اور ایک آزاد ریاست کا حصول مسلمانانِ ہند کا جزو ایمان بن گیا۔گویا پاکستانی قومیت کی بنیاد کسی نسلی، علاقائی یا لسانی تصور کے بجائے مسلمانوں کے نظریہ حیات اسلام پر رکھی گئی ہے۔شاعر کی دعا ہے کہ خدا پاکستانی قوم کو اسلامی نظریات کے احیا کی توفیق دے۔ قومی ترانے کے دوسرے بند کے تیسرے مصرعے میں شاعر ایک بار پھر اپنے وطن پاکستان کی خوشحالی کا آرزو مند ہے۔
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد اسلامی نظریات پر رکھی گئی ہے اور یہ ملک اس لیے معرضِ وجود میں آیا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان بحیثیت ایک قوم اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔وہ جان چکے تھے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو ان کے ساتھ کیا کر گزرنے والے ہیں۔وہ بروقت ہندو عزائم سے آگاہ ہو چکے تھے۔وہ اپنا ایک نصب العین متعین کر چکے تھے، جس کے حصول کے لیے انہوں نے آزادی کی تحریک شروع کی اور یہ تحریک بہت جلد مسلمانوں کی آرزؤں کا مرکز بن گئی۔حتیٰ کہ ایمان۔ اسلام اور پاکستان کے الفاظ ایک ہی مفہوم میں استعمال ہونے لگے۔آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مسلمانوں کے سبھی طبقوں نے برھ چڑھ کر حصہ لیا پھر وہ دن آگیا جب شاعرِ مشرق کے خواب کی تعبیر اور جناح کی قیادت کی عملی تصویر، ایک آزاد مملکت معرضِ وجود میں آگئی، جس کے بارے بابائے قوم قائدِ اعظم نے فرمایا:
"ہماری بڑی سی بڑی قربانی دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آگ میں سے کندن کی طرح پیدا ہوں۔۔۔ملکِ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور ہمہشہ قائم رہے گا۔
14/اگست 1947ءکو اپنے خطاب میں فرمایا:

“میں نے آپ کے ملک کی بنیاد رکھ دی ہے اب آپ کا فرض ہے کہ آپ اس کی جلداز جلدتعمیر کریں، جذبے کے ساتھ آگے بڑھیے، خدا آپ کی مدد کرے گا۔“
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 388 Print Article Print
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 22 Articles with 5570 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: