اے پی سی آر ۔ حق کی لڑائی میں نیا کاروان

(Muddasir Ahmed, India)

ہندوستان میں جمہوری نظام اور مسلمانوں کے مسائل پر قانونی کارروائی کرنے والی تین تنظیمیں ہیں ان میں جمیعت العلماء ہند ، اے پی سی آر اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کے قانونی مسائل پر لڑائی لڑنے کے پابند ہیں ، ان میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں جمیعت العلماء ہند اور اے پی سی ہیں جو دہشت گردی کے معاملات سے لے کر ملک میں بنائے جارہے نت نئے قوانین جو عوام کے مفاد میں نہیں ہیں انکے لئے قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں ۔ اے پی سی آر کچھ سال قبل تشکیل شدہ ایسی ٹیم ہے جو حقوق انسانی کے لئے آواز بلند کرنے کے علاوہ عوام میں قانونی بیداری لانے اور عوام کو بنیاد حقوق سے آراستہ کرنے کے لئے مسلسل جد و جہد کررہی ہے ۔ اسوسیشن آف پروٹیکشن آف سویل رائٹس ( اے پی سی آر) ایک ایسی جماعت ہے جس میں ماہرین قانون، ماہرین صحافت ، ماہرین اقتصادیات و معاشیات ہیں اور یہ آرگنائزیشن ملک کی مختلف سماجی و انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کے اشتراک و تعاون سے مسلسل کام کررہی ہے ۔ حالانکہ اس آرگنائیزیشن کے اغراض و مقاصد بالکل دستورہند کے تحت ہیں اور یہ تنظیم پوری شفافیت کے ساتھ حقوق انسانی کے لئے کام کررہی ہے جو ملک کی گودی و مودی میڈیا کے لئے قبول نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کو میڈیا میں فوکس نہیں کیا جاتا۔ اے پی سی آر نے اپنے وجود میں آنے کے بعد سے مختلف ایسے مقدمات پر قانونی لڑائی لڑی ہے جس میں درجنوں مسلمان اور آدی واسیوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی تھی ۔ بنگلور میں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر جو گرفتاریاں ہوئی تھیں ان مقدموں کی پیروی کے لئے اے پی سی آر نے ہی قابل وکلاء کی مدد سے ان نوجوانوں کو رہا کروایا اسکے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میں آدی واسیوں کے ساتھ جو ناانصافیاں ہورہی ہیں ان پر آواز اٹھانے کے لئے بھی اے پی سی آر نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ ملک بھر میں جس تیزی کے ساتھ قوانین بدل رہے ہیں یا موجودہ قوانین میں ترمیم لاتے ہوئے ملک کو تباہی کی جانب لے جانے کے لئے حکومتوں کی جانب سے کام کیا جارہاہے اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے آج ملک کے ہر شہری کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ یو اے پی اے، ین سی آر اور ین پی آر جیسے قوانین کو نافذ کرتے ہوئے ملک میں افراتفری و خوف کاماحول پیدا کیا جارہاہے ، ان قوانین کو ناکام بنانے یا پھر منسوخ کروانے کے لئے جو تنظیمیں آوازاٹھارہی ہیں ان میں سے اے پی سی آر بھی ایک تنظیم ہے ۔ حال ہی میں اے پی سی آر نے سپریم کورٹ میں یو اے پی کے خلاف عرضی دائر کرتے ہوئے اس قانون پر نظر ثانی کرنے اور ترمیم کرنے کی گذارش کی ہے جسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا ہے ۔ حالانکہ اس قانونی جنگ کے لئے کافی محنت و قربانیاں کرنی ہونگی لیکن انصاف ملنے کے قوی امکانات ہیں ۔ حال ہی میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے 6 بے گناہ مسلمانوں کو عدالت سے رہائی ملی ہے اور یہ رہائی انہیں پورے 23 سال بعد ملی ، مرکزی حکومت نے ان لوگوں کو اس وقت کے ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کے تحت بند کیا تھا یہی قوانین اب یو اے پی اے کی شکل میں عمل میں لائے جارہے ہیں ۔ یو اے پی اے ایک ایسا قانون ہے جس میں کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر جانچ ایجنسیاں بغیر کسی یف آئی آر یا وارنٹ کے گرفتار کرسکتی ہے اور عدالتیں انہیں فوری ضمانت پر رہا بھی نہیں کرسکتی۔ایسے خطرناک قوانین کے خلاف آواز اٹھانا آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔اے پی سی آرنے ایسے قوانین کے تعلق سے عوام میں بیداری لانے کیلئے مہم شروع کرنے کافیصلہ کیا ہے۔بعض لوگ ایسی تنظیموں سے صرف اس وجہ سے علیحدہ رہتے ہیںکہ یہ تنظیمیں کسی خاص جمیعت یا مکتب کے ماننے والوںکی جانب سے عمل میں لائی جاتی ہیںجبکہ جب قانون کو نافذ کرنے والے کسی مسلمان کو گرفتار کرتے ہیںتو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کونسے مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔اگر ہندوستان میں آنے والے دنوں میں سکون کی سانس لینا ہے تو خصوصاً مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قانونی معلومات حاصل کریںاور حقوق کیلئے لڑنے والی تنظیموں کے ساتھ جڑ کر ان کو مضبوط کریں۔اسوسیشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس( اے پی سی آر)صرف مسلمانوںکے حقوق کیلئے لڑنے والی تنظیم نہیں ہے بلکہ ہر کمزور طبقے پر ہونے والے ظلم کے خلاف آوا زاٹھانے والاایک نیا کاروان ہے اور اس کاروان کو مضبوط ومستحکم کرنا ہر انصاف پسند شہری کی ذمہ داری ہے۔اگر اب بھی مسلمان علیحدہ رہ کر ملک کی جمہوریت کی بات کرتے ہیںتو یہ ایک طرح سے کم عقلی ہوگی اور اس میں کامیابی ملنا نہایت مشکل ہے۔علامہ اقبال کاشعر ہے کہ
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید ومبین
منتشر ہو تو مرو ،شور مچاتے کیوں ہو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 186 Articles with 56107 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2019 Views: 218

Comments

آپ کی رائے