کشمیر کی تقسیم نہیں آزادی

(Malik Ansar Mehmood, )

باسم تعالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم صدیقی
مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی جانب باقاعدہ سرکاری قبضے کے بعدانتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی اپنے شیطانی منصوبوں کو مزید پھیلانے کے جنون میں پاگل ہوا جا رہا ہے۔نہتے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو طاقت کے زور پر سلب کرنے ،انکے خون سے ہاتھ رنگنے والے،بچوں،بوڑھوں اور خواتین کی زندگی کو عذا ب سے دوچار اور گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے اس سفاک شخص کو ہمارے ہی مسلمان ملکوں کے سربراہان عزت و احترام دے رہے ہیں۔اس قاتل اور کشمیری مسلمانوں کے بدترین دشمن کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اعلی ترین اعزازات سے نواز رہے ہیں۔جس کی وجہ سے دنیائے اسلام میں مسلمان سخت بے چینی اور دکھ محسوس کر رہے ہیں۔امت مسلمہ کا تصور خواب خیال بن کر رہ گیا ہے۔اسلامی سربراہی کانفرنس کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آج جب کہ مکار و عیار بھارت کشمیر کے مسلمانوں پر زندگی اور آزادی کے دروازے اسلحہ اور طاقت کے زور پر بند کر رہا ہے۔دنیائے عالم کو ضمیر خاموش ہے۔ایٹمی قوت کی حامل طاقتیں مصلحت پسندی کے تحت اس لیے بھارت کے خلاف بات نہیں کرتیں کہ سب کے مالی اور معاشی مفادات بھارت کے ساتھ وابستہ ہیں۔لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ جب کسی زخم کا علاج نہیں کیا جائے گا کسی سنگین ترین مسئلے کا حل نہیں تلاش کیا جائے گا تو یہ لاوہ بن کرآخر کار پھٹ جائے گا۔جس کا نقصان سب کو ہو گا۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی بات کی ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ مذاکرات اور اس سلگتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے سے راہ فرار اختیار کی ہے۔جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں مسئلہ کشمیر کے تناظر میں لڑی گئی ہیں ۔آج بھارت کی قیادت نے جس انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کے نوے لاکھ سے زائد عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم کر کے پوری مقبوضہ وادی کو جیل میں بدل دیا ہے۔پانچ اگست سے لگائے جانے والے کرفیو کا ظالمانہ نفاذ تاحال جاری ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ عورتیں، بچے، بزرگ اور نوجوان سنگینوں کے سائے میں روز مرہ زندگی کی ضروریا ت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔بیماروں کے لیے علاج،خوراک،تعلیم اور کاروبار زندگی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ہر طرف ماتم اور خوف کا سماں ہے۔بھارت نے اپنی آٹھ لاکھ سے زائد مسلح فوج ک مدد سے کشمیر کی سرزمین پر قبضہ تو کر رکھا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ لوگوں کے دل بندوقوں اور کرفیو سے کبھی نہیں جیتے جا سکتے۔کشمیریوں کا مطالبہ حق خود ارادیت ہے اور جب تک بھارت ان کے اس بنیادی حو کو تسلی نہیں کرتا اس وقت تک کرفیو لگے یا فوجی قبضہ ہو۔یہ قیامت خیز صورتحال زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی۔ابھی کچھ دن پہلے بھارتی اپوزیشن کے رہنما راہول گاندگی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے تو انھیں ائیر پورٹ سے باہرنہیں نکلنے دیا گیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں انسانیت سوز مظالم روا رکھے جا رہے ہیں۔نوجوانوں کو گھروں سے اغوا کر کے جیلوں میں بھرا جا رہا ہے۔یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ وادی میں چونکہ جیلوں میں زیادہ قیدی رکھنے کی گنجائش نہیں ہے اس لیے ان جوان کشمیریوں کو بھارت کے شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔لاٹھی چارج، گولی اور آنسو گیس کا استعمال عام ہے جس کی وجہ سے کئی اموات اور بے شمار لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔ہسپتالوں میں علاج کی گنجائش نہیں ہے۔سکول بند،کاروبار زندگی بند۔ہمیں ڈر ہے کہ بھارت کی جنونی قیادت اپنے مذموم عزائم کی تکمیل اور کشمیری عوام کو کوفزدہ کرنے کے لیے آزادی پسند جوانوں کا خون ناحق بہائے گا۔عالمی برادری کو مصلحت پسندی کے مصنوعی خول سے باہر نکل کر انسانیت کا سوچنا ہوگا۔کشمیر میں لگنے والی آگ کو بجھانا عالم اسلام نہیں عالمی برادری کی اولین ذمہ داری ہے۔بھارت کو کسی بھی صورت یہ چھوٹ نہیں دی جا سکتی کہ وہ صرف قانون میں ترمیم یا قوانین کو معطل کر کے نوے لاکھ کشمیریوں کو اپنا غلام اور اپنی مرضی کا تابع بنا لے۔ اقوام عالم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہند و توا ہندو ازم، اور مہابھارت کا شیطانی خواب دیکھنے والے نریندر مودی کی یہ شیطانی چال اس کے نحوست زدہ منہ پر مار دی جائے گی۔مسلم امہ اجتماعی طور پر اپنے دین کے لیے سب کچھ قربان کرنے کیلیے ہر وقت آمادہ و تیار رہتی ہے اگرچہ مسلمان ملکوں کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جنھوں نے اپنے ملکوں اور قوموں کے مفادات کو بہت ہی کم قیمت پر طاقت ور ملکوں کو بیچ دالا ہے۔اگر آج بھی اسلامی دنیا میں ترکی،ایران اور طالبان جیسی حکومتیں وجود میں آجائیں جو ذاتی مفادت کی بجائے ملک اور قوم کے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے محنت اور ایمانداری کو اپنی پہچان بنا لیں تو ہمارا ایمان ہے کہ اسلام کی نشاط ثانیہ کا دور واپس آسکتا ہے۔کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔اقوام عالم کو اس مسئلہ کے منصفانہ حل پر فوری توجہ دینا ہوگی۔پاکستان کی ذمہ داری اس لیے زیادہ ہے کہ پاکستان اس مسئلے کا فریق ہے ۔بھارت بھی اپنے ریاستی آئین کے مطابق اس مسئلے کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کا پابند ہے۔غنڈہ گردی،فوج کی چڑھائی اور انتہاپسندانہ اقدامات اس مسئلے کو ایٹمی جنگ میں کے مقام تک لے جائیں گے۔اگر بھارت کی کم ظرف قیادت کو اس بات کا احساس عالمی رہنماؤں کی جانب سے دلایا گیا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت کشمیر میں مظالم کا سلسلہ عارضی طور پر روک سکتا ہے۔کرفیو ختم کیا جا سکتا ہے یہاں تک کہ کشمیر کا پرانا سٹیٹس بھی بحال کر سکتا ہے لیکن خدشہ ہے کہ بھارت کشمیر کی تقسیم کی سازش کرے گا جو کہ کشمیری عوام کے کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم کے دوٹکڑے کر دیے جائیں۔کوئی بھی قوم اجتماعی طور پر خود کشی نہیں کر سکتی۔کشمیری ایک قوم ہیں۔صدیوں سے آزاد چلے آرہے ہیں ان کو غلام بنا کر رکھنا اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنا بھارت کے شیطان صفت حکمرانوں کی بھول ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Ansar Mehmood

Read More Articles by Malik Ansar Mehmood: 11 Articles with 4064 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2019 Views: 326

Comments

آپ کی رائے