مقبوضہ کشمیر اقوام عالم کی توجہ کا منتظر

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مددمانگتے ہیں سے شروع ہونیوالی گفتگوکوئی ساتھ دے نہ دے ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں تک پہنچی تودنیاکوپیغام پہنچاکہ پاکستان بھارت کوکشمیریوں کی نسل کشی سے روکنے کیلئے کسی بھی حدتک جاسکتاہے،ویلڈن وزیراعظم پاکستان پہلے ہی کہہ چکاہوں اوریہ بھی باربار کہہ رہاہوں کہ مسئلہ کشمیرکاحل دنیاکے امن کیلئے انتہائی اہمیت اختیارکرچکاہے،اب ویلڈن پاکستان کہنے کاوقت ہواچاہتاہے،ہم نے گزشتہ سات دہائیوں سے مسئلہ کشمیردنیاکے سامنے اُجاگرکرنے کی ایسی مخلصانہ کوشش نہیں کی جتنی آج مثبت اورموثرترین کوشش شروع ہوچکی ہے،ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ افواج پاکستان،منتخب حکومت،اپوزیشن سمیت پاکستانی قوم کاہرفردیک زبان ہوکرکشمیری عوام کے ساتھ کھڑاہے ،پیرکے روزوزیراعظم پاکستان نے جرات مندانہ اورقوم کی امنگوں کے عین مطابق خطاب کرکے دنیاپرایک بارپھرواضح کردیاکہ ہم کشمیرکے مسئلہ پرپیچھے نہیں ہٹ سکتے،بھارت جان لے کہ وزیراعظم پاکستان کاخطاب 22کروڑپاکستانیوں کے دل کی آوازہے، وزیراعظم پاکستان نے سو فیصد درست کہا کہ تکبر نے بڑے بڑے حکمرانوں کو تباہ کیا،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اوراُن کی پارٹی نے تکبر میں تاریخ ساز غلطی کر دی ہے، میں اپنی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے،بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے اور پرامن تعلقات ہماری اولین ترجیح ہیں پربھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی مخلصانہ دعوت کوہماری کمزوری جانااورکبھی سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیا،وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ بھارت نے آخری پتا کھیل دیا اب وہ کشمیر پر کچھ نہیں کر سکتا اب جو کچھ کرینگے وہ ہم کرینگے، ہم آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دینگے،افواج پاکستان اوروزیراعظم پاکستان کی جانب سے کشمیرکے حوالے سے دوٹوک موقف آنے کے بعد عوامی حلقوں سے جوآوازبلند ہورہی ہے اس کے مطابق یہی کہاجاسکتاہے کہ ویلڈن پاکستان،ویلڈن افواج پاکستان،ویلڈن وزیراعظم پاکستان،آج بھارت دنیاکے سامنے یہ موقف پیش کرنے کی ناکام کوشش کررہاہے کہ مقبوضہ وادی کامعاملہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہے جس کاحل دونوں فریقین باہمی مذاکرات سے نکال لیں گے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیرپاکستان سے قبل بھارت لے کرگیاتھاجس کے بعد 1948ء سے آج تک درجن سے زائدقراردادیں منظورہوچکی ہیں،بھارت اس مسئلہ کوباہمی مذاکرات سے حل کرناچاہتاتھاتوپھراسے اقوام متحدہ میں کیوں لے گیا؟خوداقوام متحدہ میں جانے کے بعد آج تک وہاں منظورکی جانے والی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے سے کیوں خائف ہے؟یہ بھارت کی ہٹ دھرمی نہیں تواورکیاہے کہ 14اگست1947ء قیام پاکستان اورآزادی بھارت کے ساتھ ہی پیداہونے والا تنازعہ کشمیرآج سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی حل طلب ہے ،بھارت نے ان 72سالوں میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کوکچلنے کیلئے ہرحربہ استعمال کیا،مقبوضہ وادی کی زمین کاذرہ ذرہ کشمیریوں کے خون سے رنگ دیاپھربھی آج تک کشمیری عوام آزادی کی خاطراپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے،بھارت نے مسئلہ کشمیرسے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے اندورنی معاملات میں بھی شدید مداخلت کی،جاسوسی اوردہشتگردی کے بے شمارمنصوبے بے نقاب ہوچکے ہیں جس کی ایک مثال کلبھوشن یادیوبھی ہے جسے عالمی عدالت انصاف نے بھی انڈین جاسوس اوردہشتگردتسلیم کیاہے،آج تک بھارتی حکمران کشمیرکے ساتھ پاکستان کے رشتے کوسمجھ ہی نہیں پائے،پاکستان کے حالات جیسے بھی ہوں ہم کشمیری بہن بھائیوں کاساتھ نہیں چھوڑسکتے،اقوام متحدہ مسلمانوں کی ترجمان ہے نہ ہی زیرانتظام ہے لہٰذااقوام متحدہ کی قراردادیں ردکرنابھارتی ہٹ دھرمی اورانسانی حقوق کے ساتھ اقوام متحدہ کی بھی توہین ہے بلکہ یوں کہاجائے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل نہ کرکے اقوام متحدہ کے وجودکی نفی کی ہے توزیادہ مناسب ہوگا،یہاں یہ بات انتہائی قابل غوراورقابل ذکرہے کہ پہلی بار مسئلہ کشمیر پاکستان نہیں بلکہ بھارت سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا،1948ء سے شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی کوششوں کی تفصیل خاصی طویل ہے لہٰذامختصر یہ کہاجاسکتاہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اوربھارت پرزوردیاکہ وادی سے فوجیں نکال کرمکمل امن بحال کیاجائے،کشمیری عوام کوبلاخوف وجبراپنی رائے کے اظہارکاموقع دیاجائے اورمسئلہ کاحتمی حل کشمیری عوام کی رائے کے مطابق کیاجائے یعنی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کواپنے مستقبل کافیصلہ خودکرنے کاحق تسلیم کیا گیا اوریہ بھی یادرہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بنائے گئے کشمیرکمیشن میں پاکستان،بھارت کے ساتھ ارجنٹائن، بیلجیئم، کولمبیا، چیکو سلوایا اور امریکہ کے نمائندے بھی شامل کئے تھے لہٰذابھارت کایہ موقف کہ مقبوضہ وادی کے مسئلہ کاحل پاکستان اوربھارت کامعاملہ ہے دوسرے ممالک مداخلت نہ کریں صاف جھوٹ اورمسئلہ کے پرامن حل سے فرارکے سواکچھ نہیں،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود انتہاء پسند،جنونی بھارت نے آج تک تسلیم نہیں کیاکہ مقبوضہ وادی میں بسنے والوں کوبھی پوری دنیاکے انسانوں کی طرح آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق حاصل ہے ،سلامتی کونسل کی قراردادوں میں صاف کہاگیاہے کہ بھارتی قانون سازاسمبلی کومقبوضہ کشمیرکی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کرنے سمیت کسی قسم کی قانون سازی کاحق نہیں،بھارتی حکومت نے 72سالہ ریاستی دہشتگردی کے باوجودکشمیری عوام کی جدوجہدآزادی کوکچلنے میں ناکامی کے بعدشدید گھبراہٹ کے عالم میں ایک جعلی آرڈینیس کے ذریعے وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ وادی کے اندر فوج کی تعدادمیں اضافے کے ساتھ دہشتگرد نظریات کی حامل ہندوتنظیم آرایس ایس کے غنڈوں کوبھی وادی میں پرامن اور نہتے کشمیری عوام کے قتل عام کی کھلی چھٹی دے دی ہے ایسے سخت ترین حالات میں پاکستان ابھی تک انتہائی صبر،برداشت اورذمہ داری کامطاہرہ کرتے ہوئے دنیاکوپیغام دے رہاہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارت کسی بھی وقت بڑی دہشتگردی کرسکتاہے لہٰذادنیابھارت پردباؤڈال کراسے مجبورکرے کہ مسئلہ کشمیرکاحل وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق کرناناگزیرہوچکاہے،امن کی خواہش کابارباراظہارکرنے کے ساتھ ہم دنیاپریہ بھی واضح کررہے ہیں کہ ایٹمی قوت بھارت کے حکمران اورفوجیں انتہائی بزدل اور نیچ ذہنیت کے حامل ہیں جس کاوہ خودبھی اظہارکرتے رہتے ہیں،تاریخ شاہدہے کہ بزدل قومیں اپنے دشمن کے مقابلے میں آتے ہی سب سے پہلے سب سے طاقتورفوجی اورہتھیاراستعمال کرلیتے ہیں،آج بھارت میں جنونی ہندؤں کی حکومت ہے جودنیاکے امن کیلئے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں بہت چھوٹاملک ہے،معاشی حالات بھی خراب ہیں،سیاسی عدم،استحکام کے ساتھ دیگرکئی مسائل سے دوچارپاکستان سے جنگ جیت سکتے ہیں یاڈراسکتے ہیں توآج میں نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیاکے لوگوں کو یہ دعوت دیناچاہتاہوں کہ اسلام کی تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھیں توانہیں معلوم ہوجائے گاکہ مسلمان جب بھی میدان جنگ میں اترے اورشاندار فتح حاصل کی اُن کے معاشی حالات تب بھی بہترنہ تھے،دشمن کے مقابلے میں تعدادبھی کم تھی اورجنگی سازوسامان بھی نہ تھا،الحمدﷲ آج پاکستان کے پاس دنیاکی بہترین فوج کے ساتھ ایٹمی قوت بھی ہے،بزدل مودی یااُس کی فوج مسلمانوں کے جذبہ شہادت کامقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے،دنیاکی ہرقوم اس حقیقت کوتسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں کے جذبہ شہادت کاسامناکرنادنیاکی کسی فوج کے بس کی بات نہیں،زندگی سے پیارکرنے والوں کاجب شہادت کے شوقین فوجیوں سے سامناہوتاہے توغیرمسلم جوپہلے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کی بزدلی مزید غالب آجاتی ہے ایسی حالت میں بزدل اور خوفزدہ لوگ دلیر دشمن کاسامناکرنے کاحوصلہ چھوڑدیتے ہیں اورپھر وہ اپنی بزدلی کے سبب جنگ کے اصولوں کی پاسداری کرنے کے اہل نہیں رہتے لہٰذاوہ گھبراکرجنگ کے آخرمیں استعمال ہونے والے ہتھیار سب سے پہلے استعمال کرجاتے ہیں جوان کی زلت آمیزشکست کی وجہ بن جاتاہے البتہ آئندہ جنگیں میزائل اور ایٹم بم کی موجودگی میں ہوں گی لہٰذا ایک فریق کی غلطی کانقصان نہ صرف دونوں طرف ہوگا بلکہ پوری دنیاکیلئے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے،بہتریہی ہوگاکہ مسلمان ایسے بزدلوں کامیدان جنگ کی بجائے دیگر محاذوں پرمقابلہ کریں،دنیاکے امن پسند اور انصاف پسند ملکوں کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھیں خاص طورپرمسلم برادارممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کوترجیح دیں تومسئلہ کشمیرجیسے تمام معاملات کاحل نکلنے میں اتنی دیرنہ لگے جتنی کہ لگ رہی ہے،یہاں اس حقیقت کوتسلیم کرنابھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کیخلاف جنگ کی بجائے ہمیشہ غیرمسلم قوتوں نے عورت،دولت اور جائیداد کااستعمال کرکے مسلمانوں کی صفوں میں منافقین،غداراورباغی پیداکرکے مسلمانوں کیخلاف سازش کی ہے جوآج کامیابی کے عروج پرہے جس کے سبب آج مسلمان آپسی اتحادسے کوسوں دور ہیں،عورت اور مال کی محبت ہوس کی شکل اختیارکرچکی ہے،غیرمسلم معاشرے کے رسم ورواج اپنانے کے بعد اسلامی تعلیمات سے روگردانی تک مسلم غلبہ سے تنزلی،پستی تک پہنچ چکے ہیں،اہل ایمان کوبھائی بھائی قراردے کراسلام نے امت کوایک جسم قراردیاتاکہ جسم کے کسی ایک حصے کوتکلیف پہنچنے پرپوراجسم بے چین و کرار ہوکر اس تکلیف کودورکرنے کیلئے متحرک ہوجائے پرافسوس کہ آج اتحاد امت اس طرح قائم نہیں جیساکہ ہوناچاہئے جس کی تازہ ترین مثال عربوں کی جانب سے ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کواعلی ترین سول ایوارڈدیناہے وہ بھی ایسے وقت میں جب وہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی بدترین سازش کررہاہے ،اہل کشمیراﷲ سبحان تعالیٰ کی پاک ذات پربھروسہ اور جدوجہد جاری رکھیں ،پاکستان کے 22کروڑعوام اُن کے ساتھ تھے،ہیں اورہمیشہ رہیں گے،بیشک اﷲ ہی ہماراحامی ومددگارہے اورہم اﷲ ہی کی عبادت کرتے ہیں اوراﷲ ہی سے مددمانگتے ہیں -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 300812 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2019 Views: 234

Comments

آپ کی رائے