نئے اسلامی سال کا آغاز

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

زندگی کا ایک اور سال گزر گیا اور نیا اسلامی سال ’’ہجری1441‘‘ شروع ہوچکا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں جب باضابطہ طور پر اسلامی سال کا تعین ہوا تو مشاورت کے بعداسے ہجرت کے واقعہ سے منسوب کیا گیا لھذا اسے ’’ہجری سال‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد نبی کریمﷺ کی دعوتی زندگی تقریبا تئیس سال ہے۔ ان میں سے آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ مکی زندگی مشکلات اور اذیتوں سے بھرپور تھی۔ دعوت دین اور تبلیغ اسلام کے مشن کے راستے میں کفار مکہ نے کئی مشکلات کھڑی کی ہوئی تھیں۔ اﷲ کے حکم کی تعمیل میں آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک انقلابی حصہ ہے جس کے بعد اسلام کو عروج ملا۔ ابتدائی طور پر کئی مسائل تھے جنہیں آپﷺ نے حل کرنا تھا۔سب سے پہلے آپﷺ نے مہاجرین کی آباد کاری اور مساجد کی تعمیر کی طرف توجہ دی۔ پہلے مسجد قبا اور پھر مسجد نبوی شریف کی بنیاد رکھی۔ مہاجرین و انصار کے مابین مواخات قائم کر کے کئی معاشی اور سماجی مسائل کو حل کردیا۔ ارد گرد کے یہودی قبائل سے خوشگوار تعلقات قائم رکھ کے معاشرے کو پرسکون بنانے کیلئے ان کے ساتھ معاہدے کیے اور ان کی پاسداری فرمائی۔ مدینہ طیبہ میں دس سالہ قیام کے دوران آپ نے ستائیس غزوات میں بحیثیت سپہ سالار شرکت کی اور اَسی سے زیادہ سرایا میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی اجمعین کو سپہ سالار مقرر کیا۔ لوگوں پر عظمت اسلام اور مقام مصطفیﷺ کی رفعتیں اجاگر ہوئیں اور ہجرت کے بعد جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اسلامی ریاست کے قیام کا موقع ملا ۔ ’ ’ہجرت مدینہ‘‘ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہی اسلامی سال کو ہجری تقویم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جوں ہی مغرب کی بلندیوں سے محرم الحرام کے چاند کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو کئی ایک خونی داستانیں بھی قلب و ذہن میں ترو تازہ ہوجاتی ہیں۔ اسی ماہ مبارک کی پہلی تاریخ کو امیر المومنین، امام عادلاں حضرت عمر فاروق ؓ کی دردناک شہادت ہے۔ذوالحج کے آخری ایام میں مسجد نبو ی شر یف میں آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا اورزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام کو آپ نے اپنی جان جان آفرین کے حوالے کردی۔ آپ کا دس سالہ دور خلافت اپنی مثال آپ ہے۔ بہت سی فتوحات کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایران اور عراق تک پھیل گئی۔ آپؓ نے اپنے دور خلافت میں ایسی معاشی اور سماجی اصلاحات کیں جن کی جھلک آسمان کی نگاہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ خلافت، ملوکیت اور جمہوریت کے مختلف ادوار میں آپ کی اصلاحات سے استفادہ کیا جاتا رہا۔ آج یورپ کے کئی ممالک میں بھی حضرت عمرؓکے دور خلافت میں رائج کئی اصلاحات کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ چائلڈ بینیفٹ اور سوشل سیکورٹی کے نظام کی انسانی تاریخ میں آپ کے دور خلافت سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسی طرح اسی ماہ مبارک کی دس تاریخ کو شہزادہ گلگوں قبا، جگر گوشہ فاطمۃ الزہرہؓ، نور نگاہ علی مرتضیؓ اور نواسہ مصطفیﷺ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے خانوادہ کو میدان کرب و بلا میں انتہائی بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔ اسلام میں شہید کے مقام سے ہم سب واقف ہیں۔ اﷲ کا قرآن ان کی حیات جاودانی پر شاہد عادل ہے۔ یہ درجہ تو عمومی طور پر ہر اس شہید کو نصیب ہوتا ہے جو رضائے الہی کی خاطر اور دین کی سربلندی کیلئے اﷲ کی راہ میں اپنی عزیز جان تک کا نذرانہ پیش کردیتا ہے۔ لیکن شہدائے کربلا کا مقام ہی الگ ہے۔یہ کوئی عام شہدا ہی نہ تھے۔ امام عالیمقام امام حسینؓ اور آپ کے خانوادے کی رگوں میں خون محمدی محو گردش تھا۔ ان کے نام آپﷺ نے خود تجویز فرمائے اور منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا۔ آپﷺ کی آغوش مبارل میں انہوں نے تربیت پائی۔ ان کیلئے دوران نماز حضورﷺ اپنے سجدوں کو طویل فرما دیتے۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کو جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا۔ آیت تطہیر میں قرآن پاک نے آل بیت اطہار کی پاکیزگی اور طہارت کو بیان کیا۔ اس طرح یہ شہدائے کربلا بھی ہیں اور محبوبان بارگاہ مصطفیﷺ بھی۔ یزیدیوں نے یہ سمجھا تھا کہ شاید ہم امام حسینؓ کو شہید کرکے حسینی مشن کو مٹا دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ
نہ زیاد کا وہ ستم رہا، نہ یزید کی وہ جفا رہی رہا تو نام حسینؓ کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

یزیدیت اب بھی کئی روپ دہار کے سامنے آتی ہے۔ لیکن اسے دیکھنے کیلئے امام عالی مقام کی نگاہ درکار ہوتی ہے اور بے سرو سامانی کے عالم میں اس کے خلاف برسر پیکار ہو جانے کیلئے آپکے قلب و جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سے بے سر و سامان کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا بھی یزیدیت کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اس ظلم کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے حسینی مشن اور کردار کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے کیو نکہ ’ ’ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘ ۔ لیکن آج مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور انہیں درس یہ پڑھایا جاتا ہے کہ’’جنگ کر نا اچھی بات نہیں ہے۔ جنگ سے ملک تباہ ہو جاتے ہیں۔ غربت ڈیرے ڈال لیتی ہے وغیرہ وغیرہ'' ۔یہ باتیں بظاہر کافی پر اثر اور وزن دار لگتی ہیں۔ لیکن اس کے تناظر میں کچھ حقائق بھی قابل غور ہیں۔1۔ گزشتہ دو سو سال سے امریکہ نے ایک دن بھی جنگ بندی نہیں کی۔ امریکہ کی ترقی کا راز مسلسل جنگ کرتے رہنے میں ہی پوشیدہ ہے۔2۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک اسرائیل نے ایک لمحہ کیلئے بھی جنگ بندی نہیں کی مگر وہ مضبوط ہو رہا ہے جبکہ جنگ سے بھاگنے والے بزدل عرب ممالک بے شمار معدنی وسائل ہو نے کے باوجود کمزور ہوتے جارہے ہیں۔3۔ گزشتہ صدی میں سب سے زیادہ طویل، خوفناک اور تباہ کن جنگیں جاپان، جرمنی اور کوریا نے لڑی ہیں۔ اور یہی ممالک ترقی میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔4۔ ساڑھے 12 صدیوں تک مسلمان مصروفِ جہاد اور حالت جنگ میں رہے۔ اسی لیے طاقتور تھے اور وقت کی سپر پاور بھی۔ گزشتہ دو صدیوں سے مسلمانوں کو جنگوں سے ڈرنے اور بزدلی کا سبق پڑھایا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ صرف ترقی میں پیچھے رہے بلکہ غربت کا بھی شکار ہو گئے۔غور کیا جائے تو ذوالحج اور محرم الحرام ، دونوں مہینوں کے یکے بعد دیگرے آنے کی ایک حکمت یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذوالحج کی دس تاریخ کو حضرت اسماعیل ؑ اپنی گردن چھری کے نیچے رکھ کے امت مسلہ کو ئی پیغام دیتے ہیں کہ اے مسلمان! اگر تو چاہتا ہے کہ رضائے الہی کے تحت زندگی گزارے۔ تو پھر۔ اگر اﷲ کی خوشنودی کیلئے تیرا گلا چھری کے نیچے بھی آجائے، پھر بھی تیری گردن ہر گزنہ سرکے۔ ہاں چھری رکے تو رکے۔ اسی طرح محرم کی دس تاریخ کو حضرت امام حسینؓ اپنے نانا پاک کی امت کو یہ پیغام دے گئے کہ اگر تو چاہتا ہے کہ میرے نانائے پاک کا لایا ہوا دین اوراہل اسلام کی عزت و آبرو سلامت رہے ۔ اس کے تقدس پر آنچ نہ آسکے۔ فسق و فجور کی آندھیاں اس چمنستانِ اسلام کو اجاڑ نہ کر سکیں۔ تو پھر نتائج کی پرواہ کیے بغیر اور بے سرو سامانی کے عالم میں اگر سر دھڑ کی بازی لگانا پڑ جائے تو دریغ مت کرنا۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے اسے حقیقت کو بیان کیا کہ
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین،ؓ ابتدا ہے اسماعیلؑ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 196 Articles with 122975 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
11 Sep, 2019 Views: 189

Comments

آپ کی رائے