ﷲ پر توکّل

(Rasheed Ahmed Naeem, Patoki)

تحریر:زویا خالد جہلم
اﷲ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کرنا انبیاء کرام کے طریقہ کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔ قرآن وحدیث میں توکل علی اﷲ کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ صرف قرآن کریم میں سات مرتبہ ’’وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن‘‘ فرماکر مؤمنوں کو صرف اﷲ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، یعنی حکم خداوندی ہے کہ اﷲ پر ایمان لانے والوں کو صرف اﷲ ہی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے۔۔۔ آئیے سب سے قبل توکل کے معنی سمجھیں۔ توکل کے لفظی معنی کسی معاملہ میں کسی ذات پر اعتماد کرنے کے ہیں، یعنی اپنی عاجزی کا اظہار اور دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توکل کہلاتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں توکل کا مطلب: اس یقین کے ساتھ اسباب اختیار کرنا کہ دنیاوی واخروی تمام معاملات میں نفع ونقصان کا مالک صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے حکم کے بغیر کوئی پتا درخت سے نہیں گر سکتا۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود اور بقا کے لیے اﷲ کی محتاج ہے۔ غرضیکہ خالق کائنات کی ذات باری پر مکمل اعتماد کرکے دنیاوی اسباب اختیار کرنا توکل علی اﷲ ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اسے مرض سے شفایابی کے لیے دوا کا استعمال تو کرنا ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اﷲ تعالیٰ شفا نہیں دے گا دوا اثر نہیں کرسکتی۔ یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کا نظام یہی ہے کہ بندہ دنیاوی اسباب اختیار کرکے کام کی انجام دہی کے لیے اﷲ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ کرے، یعنی یہ یقین رکھے کہ جب تک حکم خداوندی نہیں ہوگا اسباب اختیار کرنے کے باوجود شفا نہیں مل سکتی-

ہمارے ایمان کی کمزوری کی وجہ ہی یہی ہیکہ ہم اﷲ پر دل سے توکّل نہیں کرتے جس وجہ سے ہمارا ایمان ڈھگمگاتا ہے یہی وجہ ہیکہ جب ہم دعا مانگتے ہیں تو ہم دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ پتا نہیں ہماری دعا قبول ہو گی یا نہیں جب ہم اس بات پر کامل یقین کر لے کہ اﷲ ہمارے لئے جو بھی کرے گا بہتر کرے گا تو اس سے ہمارا ایمان مضبوط ہو گا ہمارا مسئلہ یہ ہیکہ ہم اﷲ کو مانتے ہیں اﷲ کی نہیں مانتے ہم ایک پل میں اﷲ سے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے ہم نماز نہیں پڑھتے تو ہماری توبہ کا کیا فائدہ اور مومن کی تو نشانی ہی یہی ہیکہ اﷲ اسے جو عطا کرتا ہے وہ اس پر صبرو شکر ادا کرتا ہے
اسی طرح اﷲ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے دنیاوی مشکلوں اور معاشی پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ایسے امور کے ارتکاب پر اتر آئیں کہ جو منہیات میں سے ہیں، مثلاً: خود کشی کر لینا یا حرام ذرائع آمدنی کو اختیار کرنا وغیرہ۔ جبکہ مالی مشکلات اور معاشی پریشانیوں کا آنا ان آزمائشی امور میں سے ہے جن کے ذریعے اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے کہ میرے بندے کس قدر صابر و شاکر ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور یقینا ہم تمھیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔‘‘ (البقرۃ2:155)

رسول اﷲ کا فرمان ہے: ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ اس کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور جب اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو یہ اس پر (اﷲ کا) شکر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے فائدہ مند ہے۔‘‘(مسند ا?حمد: 18959)

حضرت جابر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے تو اس درخت کو ہم نے رسول اﷲ ﷺ کے لیے چھوڑ دیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور حضور اکرم ﷺ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار اس نے لے لی اور سونت کر کہنے لگا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے کہا: اﷲ۔ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ آپ ﷺ نے وہ تلوار پکڑ کر فرمایا۔ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا تم بہتر تلوار پکڑنے والا بن جاؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا نہیں، لیکن میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ سے لڑوں گا اور نہ میں اُن لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔

انسان پر جب سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر اس کے پاس ایک ہی در باقی رہتا ہے اور وہ در اﷲ رب العزت کا ہے اس ہستی کا در کبھی بند نہیں ہوتا وہ ذات ایسی ہے جو ہر وقت سننے کو تیار رہتاہے نہ وہ سوتا ہے نہ اسے اونگھ آتی ہے اور وہ اپنے بندے کی ہر وقت متوجہ رہتی ہے لیکن یہ انسان ہے جو اپنے خالق و مالک سے غافل رہتا ہے اﷲ فرماتا ہے: کہ جب بھی کسی پریشانی میں میرے بندے مجھے پکارتے ہیں تو میں ان کی مدد کرتا ہوں لیکن ہم انسانوں کو اﷲ پر توکّل ہی نہیں ہے جب جب انسان نے اﷲ پر توکّل کی اﷲ نے انسان کو وہ کچھ اور وہاں سے نوازا جہاں سے اسے گمان ہی نہیں تھا-

آج کے دور میں بھی ایسے انسان ہیں جو اﷲ پر توکل رکھتے ہیں آپ کو ایک لاچار عورت کا واقعہ سناتے ہیں اس عورت کا کہنا ہے کہ میرا خاوند بنا بتائے مجھے چھوڑ کر چلا گیا میں کئی دن اس کی راہیں تکتی رہی جب وہ مجھے چھوڑ کر گیا تو اس وقت میری گود میں ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی جب مجھے اپنے شوہر کی واپسی کی کوئی امید نہ رہی تو میں اپنے بوڑھے باپ کے پاس رہنے لگی میرا والد اس قدر بوڑھا اور کمزور تھا کہ کما نہیں سکتا تھا کچھ دنوں میں بات فاقوں تک جا پہنچی ایک دن میری بچی اچانک بیمار ہو گئی میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں تھے میں اسے ڈاکٹر کو دیکھاتی پریشانی کے عالم میں،میں اٹھی اور اٹھ کر وضو کر کے نماز ادا کرنے لگ گئی بچی کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے نماز بھی مختصر ادا کی پھر اٹھی اور بچی کو ٹھنڈے پانی کی پٹی کی اور دو رکعت نفل ادا کیے اس عمل کو میں نے تین چار دفعہ دہرایا اٹھتی پٹی تبدیل کرتی اور نفل پڑھتی اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی میں اور میرا باپ پریشان کہ اتنی رات کو کون ہو سکتا ہے میں نے دروازہ کھولا ایک آدمی تھا اس نے پوچھا مریض کہاں ہے ہم۔نے بچی کی طرف اشارہ کر دیا ڈاکٹر نے بچی کو چیک کیا کاغذ پر کچھ لکھا اور مجھے تھما دیا اور بولا لائے میری فیس میں نے انتہائی عاجزی سے۔کہا میرے پاس تو فیس نہیں ہے تو ڈاکٹر بولا جب فیس نہیں تھی تو مجھے اتنی رات کو کال کر کے کیوں بلایا میں نے بولا ہمارے پاس تو فون نہیں ہے ہم نے نہیں بلایا پھر ڈاکٹر نے پوچھا کیا یہ اشفاق صاحب کا گھر نہیں ہے ہم نے بولا نہیں وہ اس گلی کے نکڑ پر ہے تو ڈاکٹر صاحب خاموشی سے چلے گئے کچھ دیر بعد دروازے پر پھر دستک ہوئی وہی ڈاکٹر دوبارہ آیا اور بولا جب تک میں پورا معاملہ نہ جان لوں میں نہیں جاؤں گا پھر میں نے اسے سارا ماجرہ بتایا اسنے ہمیں تسلی دی اور میڈیکل سٹور سے جا کر دوائیں اور ہماری ضرورت کی چیزیں لے آیا اس نے میری بچی کو اپنے ہاتھ سے دوائی پلائی اور جاتے جاتے ہمیں کہہ کر گیا کہ وہ ہر مہینے ہماری ضرورت کی چیزیں بھیج دیا کرے گا۔
یہ مدد یقیناً اﷲ کی طرف سے تھی جب انسان اﷲ پر بھروسہ کرتا ہے تو اﷲ اسے نوازتا ہے -

جس طرح اس عورت نے توکّل کی اور اﷲ نے اسے نوازا بلکل اسی طرح اﷲ ہمیں بھی اتنا پکا توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Ahmed Naeem

Read More Articles by Rasheed Ahmed Naeem: 39 Articles with 12549 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2019 Views: 1044

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ