اہل کشمیر کیا کریں ۔۔۔؟

(Umer Farooq, )

 مجھے دیکھیں،میں تو کئی ہفتوں سے اکیلا کھڑا ہوں اور آ پ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو لاکھوں تسلیاں،دلاسے ملتے ہیں۔آپ کو اپنے خلائی جہاز سے رابطے کی دوبارہ امید ہے، میرے پاس تو یہ امید بھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے میرے جیسے لوگوں کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا،میری ماں بڈگام میں رہتی ہے اورکئی ہفتوں سے میرا اس سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ آپ کاچاند سے رابطہ منقطع ہوا، میر ا رابطہ ایک ماہ سے میرے چاند یعنی میری ماں سے منقطع ہے، رابطے ٹوٹنے کا دکھ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ ڈاکٹر کے سوا آپ کا دکھ بحیثیت کشمیر ی میں بخوبی سمجھ سکتاہوں،آپ تو خوش قسمت ہیں کہ آپ کو وزیر اعظم مودی نے تھپتھپایا اور گلے لگایا، مجھے دیکھیں اپنے پیاروں سے رابطہ ٹوٹے ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن کوئی دلاسا دینے نہیں آیا۔یہ ہے وہ خط جوایک کشمیری نوجوان نے چاند پر مشن ناکام ہونے کے بعدبھارتی خلائی ایجنسی کے سربراہ کولکھا ہے ۔

کشمیری نوجوان کایہ خط صرف بھارتی خلائی ایجنسی کے سربراہ کونہیں ہے بلکہ ہمارے ضمیرکوبھی جھنجوڑرہاہے اس کی امیدٹوٹ رہی ہے اس کودلاسادینے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہاہے،کشمیری نوجوان کواحساس ہورہاہے کہ وہ ابھی تک اکیلاکھڑاہے حالانکہ ہم نے آدھاگھنٹہ کھڑے ہوکراس سے یکجہتی کااظہارتوکیاتھا، اس کو والدہ سے ملانے کے لیے کوئی ہمت نہیں کرپارہا حالانکہ ہمارے وزیراعظم نے توہین رسالت کے الزام میں قیدآسیہ مسیح کواپنے خاندان سے ملانے کے لیے ہرجائزوناجائزاقدام اٹھایاتھا۔ کشمیری نوجوان دہائی دے رہاہے کہ اس کارابطہ ٹوٹ گیاہے مگرکوئی رابطہ بحال نہیں کروارہا۔سوشل میڈیاپرہمارے جہادی پوسٹیں بھی کشمیری نوجوان تک نہیں پہنچ پارہی ہیں کہ کیوں کہ اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہی میسرنہیں ہے ۔مودی سے کیاگلہ اس نے توخلائی مشن کی ناکامی پراپنے سائنسدان کوگلے لگاکراس کے آنسوپونجے مگرمیرے کشمیرکوتقسیم ہوئے چالیس دن ہونے کو ہیں کوئی ان کے آنسوپونجنے والابھی نہیں،

سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کشمیریوں کیاکرناچاہیے یا وہ کیاکرسکتے ہیں ؟ایک راستہ تویہ ہے کہ وہ اسی طرح نہتے اورخالی بھارتی فوج کے ظلم وبربریت کامقابلہ کرتے رہیں ظلم سہتے رہیں ،بھارتی فوج اورآرایس ایس کے غنڈے ا ن کی عزتیں تاراج کرتے رہیں بھوک اورفاقوں سے ان کے بچے شہیدہوتے رہیں ،ظلم کی چکی میں مزیدکچھ عرصے تک پستے رہیں تاوقتیکہ وہ ہارنہیں مان لیتے ،جب تک انڈین فوج ان پرقابونہیں پالیتی ،جب تک ان کی باغیانہ سوچ ختم نہیں ہوجاتی ،یاپھراﷲ کی طرف سے کوئی معجزہ وقوع پذیرنہیں ہوجاتا۔

دوسراراستہ یہ ہے کہ وہ مزاحمت کریں ،گوریلاجنگ لڑیں اورطویل جدوجہدکے بعد وہ بھارت کوکشمیرسے نکلنے پرمجبورکردیں جس طرح افغانیوں نے جہادکی بدولت امریکیوں کوافغانستان سے نکلنے پرمجبورکردیاہے ، ایسااسی وقت ممکن ہے کہ کوئی ان کی مددکرے ان کواسلحہ فراہم کرے مگر ان حالات میں ایسارسک کون لے گا ؟خالی ہاتھ ،پتھروں اورڈنڈوں سے وہ مسلح آرمی اوردہشت گردجتھوں کاکب تک مقابلہ کریں گے؟ بیس کیمپ کے باسی اپنے بھائیوں کوظلم سے نجات دلانے کے لیے بے تاب ہیں مگران کے پاؤں میں بھی بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں ۔

ایک راستہ یہ ہے کہ وہ انڈیاکے سامنے ہتھیارڈال دیں وہ اپنی ایک سوسالہ جدوجہداور شہداء کی قربانیوں کوبھول جائیں ،اچھے شہری بن کرزندگی گزاریں بھارتی قبضے کوتسلیم کرلیں اوردہلی کی حکومت سے اپنے علاقے میں تعمیروترقی کروائیں ایسی صورت میں کشمیریوں کے لیے اپنی تہذیب وتقافت کی بھی قربانی دیناپڑے گی ،اپناکلچربھی چھوڑناپڑے گاکچھ عر صے بعد کشمیریوں کی شناخت ختم ہوجائے گی اور کشمیربھی ہندودیش بن جائے گاکشمیری توشایداس طرح گزارہ کرلیں مگرہماراگلہ خشک ہوجائے گا ہماری فصلیں ،کھیت کھلیان صحرابن جائیں گے ۔

کشمیریوں کے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی جدوجہدکریں اپنے حقوق اورآزادی کے حصول کے لیے ایک طویل اورصبرآزماایجنڈہ تشکیل دیں نوجوان قیادت کوسامنے لائیں بھارتی ہتھکنڈوں کاسیاسی حربوں سے جواب دیں ،کشمیرکی متنازعہ حیثیت کی بحالی کے لیے کردارداکریں اورپھراپنامقدمہ لے کربین الاقوامی فورم پرجائیں روایتی قیادت سے جان چھڑائیں اورایک متفقہ قیادت کے جھنڈے تلے جمع ہوکرسیاسی تحریک چلائیں مگریہ ایک طویل اورصبرآزما جدوجہدہوگی، کیاکشمیری اس قسم کی جدوجہدکے متحمل ہیں۔؟

کشمیریوں کے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ وہ ہجرت کرکے خصوصا اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اورچین میں پناہ لے لیں جوفی الوقت ممکن نہیں کیوں کہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم پچاس ساٹھ لاکھ مہاجرین کابوجھ اٹھاسکیں ہماری معیشت زبوں حالی کاشکارہے،ہمیں اندرونی وبیرونی پیچیدہ مسائل کاسامناہے اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے بھی لائن آف کنٹرول عبورکرنا ایک مشکل مرحلہ ہے اوران چالیس دنوں میں کوئی ایسی خبرنہیں آئی کہ کسی کشمیری خاندان نے مظفرآبادکی طرف ہجرت کی ہو۔بہرحال اجتماعی ہجرت ایک مشکل اورکٹھن فیصلہ ہوگا۔

اہل کشمیرکے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ پاک فوج کشمیرکی آزادی کے لیے حملہ کردے جس طرح کشمیریوں کوامیدبھی ہے اورجیسے ہماری فوج نے کشمیرپرآخری گولی اورآخری سانس تک لڑنے کاعزم بھی کیاہے مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ ممکن ہے ؟فی الحال پاک بھارت جنگ کے امکانات نہیں ہیں ،دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اوردونوں ممالک کے درمیان جنگ کامطلب تیسری عالمی جنگ ہوگا،ظاہرہے کہ عالمی طاقتیں کبھی یہ نہیں چاہیں گی کہ تیسری عالمی جنگ ہو۔

ایک راستہ یہ بھی ہے کہ آرپارکے تمام کشمیری متحدہوکرلائن آف کنٹرول کورونڈڈالیں ،ایک کروڑکے قریب کشمیری جب نکلیں گے توپھرکسی کوہمت نہیں ہوگی کہ وہ ان کوروک سکے مگرمسئلہ یہ ہے کہ مختلف ٹولیوں کی شکل میں ہم لائن آف کنٹرول نہیں توڑسکتے نہ ہمیں اجازت دی جارہی ہے اس کے لیے متفقہ قیادت کے ساتھ دونوں اطراف کے کشمیری تاریخی اوریادگارمارچ کریں کہ دونوں اطراف کی بالادست قوتیں اس کونہ روک سکیں تو پھرشایدکشمیریوں کوکچھ ریلیف مل سکے اورعالمی ادارے بھی حرکت میں آسکیں ۔

کشمیریوں کے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھرپاکستان پرانحصارکریں پاکستان کشمیریوں کاوکیل بن کریہ مقدمہ عالمی سطح پرلڑے ،اقوام متحدہ سمیت ہرفورم پرانڈیاکاتعاقب کیاجائے عالمی طاقتوں کوباورکرائے کہ جب تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوتا اس وقت تک اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہمارے کچھ سیاسی رہنماؤں اوردانشوروں نے افغان ایشوکے ساتھ مسئلہ کشمیرمنسلک کرنے کی تھیوری پیش کی تھی مگریہ تھیوری کامیاب نہیں ہوسکی ہے اس کے ساتھ ساتھ ہم نے سترسال میں مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے جوکوششیں کی ہیں ان کابھارت پرکوئی خاص اثرنہیں ہوااگرہم نے واقعی مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے کچھ کرناہے تواس کے لیے ہمیں کچھ نئے طورطریقے اپناناہوں گے ۔

کشمیری یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کے وکیل کی مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس کے وزیراعظم آئے روز دنیا کو کشمیر کی ابتر صورتحال پر متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کے وزیر خارجہ دنیا کو یہ بتا کر کہ بھارت کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کے نئے ریکارڈ قائم کررہا ہے، دباو ڈالنے کی اپیل کرتے ہیں۔ لیکن خود بھارت پر دبا ؤڈالنے کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک فضائی حدود کی بندش اور زمینی راستے بند کرنے پر صرف غور کیا ہے۔جب مسئلہ کشمیر پر ہماری سنجیدگی کا یہ عالم ہے تو ہم دنیا کو کس منہ سے یہ درخواست کررہے ہیں کہ آپ کشمیر کی خاطر بھارت سے اپنے تعلقات کو خراب کرلیں۔ جب ہم کشمیر کی خاطر اپنے تجارتی مفاد چھوڑ نے کو تیار نہیں ہیں تو ہم کس طرح توقع کررہے ہیں کہ اسلامی دنیا بالخصوص عرب ممالک ہمارے کہنے پر بھارت سے اپنے تجارتی اور وسیع تر ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر کشمیر کاز پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائیں ؟۔بہرحال آخری فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرناہے کہ وہ اپنی آزادی کے لیے کون ساراستہ اپناتے ہیں ۔؟


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 105 Articles with 29194 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Sep, 2019 Views: 352

Comments

آپ کی رائے