تو نے توفیق دی چلا آیا۔۔۔

(یونس مجاز, Haripur Hazara)
اس کالم میں سفر حج کی روداد ہے جسےمعروف کالم نگار ۔صحافی اور شاعر یو نس مجاز نے اپنے تجربے اور مشائدات کے تناظر میں تحریر کیا ہے۔مناسک حج اور درپیش مشکلات کا ذکر دھیمے لہجے میں کرتے ہوں متعلقہ ذمہداروں تک اپنے خیالات پہچانے کی کوشس کی ہے۔

تو نے توفیق دی چلا آیا ۔
میری اوقات کیا کرم تیرا
قسط 1۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔یو نس مجاز
صاحبو! یوں تو حاجی کیمپ میں اچھے انتظام کئے گئے تھے اور مستعد اساتذہ یعنی سکائوٹس حاجیوں کی راہنمائی کے لئے ہمہ وقت موجود تھے مجھے اور میرے دوسرے ساتھی میاں آصف کو وہاں ڈیوٹی پر موجود میرے شاگرد خورشید انور خان نے پاسپورٹ۔ٹکٹ چند ثانئے میں لا کر دے دیئے ۔لیکن معاملہ وہاں آکر سست روی کا شکار ہو گیا جہاں نیشنل بینک کا عملہ اپنے ٹھنڈے مزاج کی وجہ سے حجاج کرام کے کا امتحان لے رہا تھا۔اوپر سے اس خبر نے حاجیوں کو اور سیخ پا کر دیا کہ پرائیویٹ بینک ہینڈ کیری بیگ بھی گفٹ کر رہے ہیں۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا وہ حاجی کف_ افسوس مل رہے ہیں جنھوں نے سرکاری بینکوں کے بجائے پرائیویٹ بینکوں میں حج کے لئے پیسے جمع کئے تھے کاش ہمیں بھی بیگز ملتے۔بلکہ میں نے تو ایک پرائیویٹ بینک میں جا کر کوشش بھی کی۔لیکن بے سود۔ سو اس ناکامی کا اس وقت تو ہمیں بہت افسوس ہوا کاش ہم بھی سرکاری بینکو ں کے بجائے ان بینکوں میں درخواستیں جمع کرواتے تو آج ہم بھی (ینگینی اور اورنجی رنگ )والے بیگ کے مالک ہوتے۔عارف نمبر ون سکول میں میرے ساتھ ٹیچر رہا اس کو سب چھوٹا عارف بولتے ہیں اسے کولیگ ہونے کا طعنہ دیا منت سماجت اور دوستی کا لالچ دیا کہ بھابھی والا بیگ مجھے دے دو ۔لیکن اس نے ایک نہ سنی کنجوس کہیں کا ۔۔ڈر گیا شائد بھابھی سے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ کہنے لگا مجھے تو نمبر ون سکول والوں نے چندہ جمع کر کے حج پر بھیجا ہی اسی لئے ہے کہ آپ کو کنکریاں ماروں۔تم بیگ مانگتے ہو؟ دوسرے دن باکمال لوگ لاجواب سروس پی آئی اے میں سوار ہوتے بعض حاجیوں کے ہاتھوں میں رنگ برنگے بیگز کو لا لچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے حاجی سے کہا آپ تو خوش قسمت ہیں بیگ تو مل گئے موصوف خوش ہونے کے بجائے آگ بگولا ہو گئے میں ڈر گیا شائد کوئی غلط بات ہوگئی ہے لیکن انھوں نے فورا وضاحت کرتے ہوئے کہا بینک والوں نے دھوکہ دیا انھوں نے تو کہا تھا احرام ۔چھتری اور بیگز دیں گے صرف بیگز پر ٹر خا دیا ۔۔۔۔۔یعنی وہ دے کر بھی بدنام۔ یہ نہ دے کربھی بد نام ہوئے۔۔۔۔۔۔چھتریوں کی کمی پی آئی اے والوں نے پوری کر دی حالانکہ ان سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ کاغذات رکھنے کے لئے ہنڈ بیگز دیں گے؟ نیا ائیر پورٹ خوبصورت بنایا گیا ہے حسب_ روایت انتظام یہاں بھی ڈھیلے ہیں ایک مسجد تک بلڈنگ کے اندر بنانا گوارا نہیں کی جس ویو ہیکل جہاز پر بیٹھے وہ گرم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا خدا خدا کر کے جہاز نے آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد اڑان بھری ۔میں کلمہ کے ورد کرتا رہا جدہ ائیر پورٹ اترنے تک سفر کی تکمیل پر شک ہی رہا عملہ میں بجھا بجھا سا سستی کا مارا ہوا ۔ایک گھنٹہ تک جوس ٹافیاں تو دور کی بات پانی تک کا پوچھا نہیں۔۔بس درمیان میں نارمل سا کھانا دیا اور بس۔۔۔۔
جدہ ائیر پورٹ پر 12 بجے کے قریب اترے تو سعودی مکتب والوں نے انٹری پراسس کے بعد ہم سے پاسپورٹ وغیرہ لے لئے اور ایک گاڑی میں بیٹھا کر ہوٹل لے آئے وہاں پاکستانی معاونین کے حوالے کر دیا اب حج تک ہماری میزبانی کے فرائض ان ہی کی ذمہ داری تھی حسب_ روایت توقع یہ تھی کہ سعودی مکتب والے پہلے دن کی میزبانی کرتے ہوئے حاجیوں کو کھانا دیں گے لیکن انھوں نے شائد ہماری بد ہضمی اور تھکاوٹ کا ِخیال کرتے ہوئے اس تکلف سے گریز کیا سو مجبورا" یہ ذمہ داری بھی پاکستانی معاونین نے پوری کی ۔ہوٹل پہنچے تو کمروں کی الاٹ منٹ کا مرحلہ طے ہوا ۔وی آئی پی ہو ٹل کے کمرے اچھے اور صاف ستھرے تھے پینے کے لئے آب زم زم کا انتظام موجود تھا کھانے اور صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن کبھی کوتائی بھی ہوتی رہتی ہے مجموعی طور انتظام اور معاونین کا رویہ اچھا تھا ۔کچھ دیر آرام کیا دن کا کھانا کھایا اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے کمر کس لی جس کے لئے احرام پاکستانی ائیر پورٹ سے ہی باندھ لیا تھا میرے ساتھ کچھ نئے لوگ تھے جو پہلی بار آئے تھے سوان کو عمرہ کی ادائیگی میں معاونت مجھ پر واجب تھی حرم پاک تک جانے کے لئے بسوں کا انتظام موجود تھا یہ الگ بات ہے واپسی پر رش ہو جانے کی وجہ سے بسوں کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہوتا ہے ایک طرف تھکاوٹ دوسری طرف بسوں کا انتظار اذیت سے کم نہیں ہوتا لیکن ان دنوں میں ایسے مسائل تو رہتے ہیں۔حرم پاک عصر کی نماز کے بعد پہنچے خانہ کعبہ میں رش دیدنی تھی پہلی دوسری منزل تک جگہ باقی نہیں رہی مجبورا" تیسری منزل پر جانا پڑا اس جگہ مطاف کافاصلہ بہت زیادہ ہو جاتا میں اس کوشش میں تھا کہ مناسب وقت میں خانہ کعبہ کے ساتھ گراونڈ والےمطاف میں عمرہ ادا کیا جائے لیکن ساتھی شوق شہادت میں باضد تھے تیسری منزل پر ہی طواف_ عمرہ مکمل کیا جائے مغرب کی نماز کے ساتھ ہی طواف شروع ہو گیا تیسرے چکر میں پائوں بھاری پڑھ گئے لیکن ہمت بانندے رکھی 6 چکر مکمل کئے تو عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تھا نماز باجماعت ادا کی آخری چکر مکمل کیا آب_ زم زم سیر ہو کر پیا کہ یہی حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہےاور فرمان بھی دورکعت واجب طواف_عمرہ ادا کئے دعا مانگی مقام ابراہیم کے سامنے بیٹھ کر۔ ملتزم کے بعد میرے ساتھی مجھ سے بچھڑ گئے ۔مجبورا" اکیلے ہی سعی کے لئے مقام صفا پر جانا پڑا سعی کی نیت کی اور اللہ کا نام لے کرمروہ کی طرف چل پڑا تیسرے چکر میں بچھڑا ہوا ساتھی بھی مل گیا پائوں کی سوجن مذید مشقت کے قابل نہ تھی لیکن فرض تھکاوٹ پر حاوی رہا۔سعی مکمل ہوئی تو قصر کے لئے حجام کے پاس پہنچے سر منڈوانے کے بعد عمرہ کی تکمیل پر خدا کا شکر ادا کیا رات 12 بجے تھکے مانندے ہوٹل پہنچے کھانا کھایا اور بستر پر دراز ہو گئے۔میرے رومیٹ میں قاضی رشید احمد ارشد ایڈوکیٹ سابق ممبر ضلع کونسل قاضی محمد صالح کے فرزند ہیں ۔دوسرے رومیٹ مولانا عبد الطیف سکنہ نوردی سابق معلم دنیات ہیں جب کہ ایک با با جی خان بہادر حویلیاں کے رہائشی ہیں ۔دوسرے دن قاضی رشید صاحب اور میں اکٹھے حرم پاک گئے عصر کی نماز کے بعد طواف کے لئے کمر بانند لی حالانکہ پہلے دن کی تھکاوٹ اس کی متحمل نہ تھی لیکن خانہ کعبہ کو دیکھ کر کب رہا جاتا ہے سو طواف شروع کردیا۔اس سارے عمل میں قاضی صاحب کے ہاتھ کو سختی سے پکڑے رکھا کہ کہیں گر نہ جائیں وہ رش سے گریز پا تھے جب کے مجھے خانہ کعبہ کے نزدیک تر ہونے کا مزہ اپنی طرف کھینچے جا رہا تھا سو آخری چکروں میں ۔میں انھیں کھینچ تان کر رکن یمانی تک لے ہی گیا اور ان کے دونوں ہاتھ رکن یمانی سے مس کرنے میں کامیاب ہو گیا جس پر وہ بہت خوش تھے ۔رش اور تھکاوٹ بہت تھی ورنہ میں تو حجرے اسود کو بوسہ دینے پہ تل گیا لیکن قاضی صاحب ہمت نہیں بانند رہے تھے ۔سو طواف مکمل ہوا تو نماز مغرب کا وقت ہو گیا تھا آب زم زم تک پہنچنے کا راستہ بند کر دیا گیا تھا طواف_ نفل کا بھی وقت نہ تھا سو مقام ابراہیم کے سامنے بیٹھ کر ان سارے دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے تو ِخصوصی دعائیں مانگی جنھوں نے بل المشافہ یا کسی بھی ذریعے سے دعائوں کی درخواست کی تھی اس کے علاوہ بھی جو جو دوست رشتہ دار یاد آتے گئے ان کے لئے بھی دعائیں کرتا رہا کہ یہ ان کا مجھ پر قرض تھا وقت زیادہ تھا اور قرب_کعبہ بھی ۔وطن عزیز کی سلامتی بھی پیش نظر رہی ۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی ناصر ہو ۔۔۔۔
صاحبو! سعودی عرب میں پاکستانی معاونین جنھیں عرف عام میں خدام الحجاج کہتے ہیں بڑا تعاون کرتے ہیں حجاج کی راہنمائی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔جب سے ہم آئیں ہیں معلم کو دیکھنا تو درکنار اس کانام تک نہیں سنا ایک معاون سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ معلم سعودی حکومت کے قائم کئے گئےمکتب کہ ذمہ داری ہے ۔جس میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے حج تک آپ ہماری ذمہ داری میں ہیں جوں ہی حج کے دن شروع ہوں گے سعودی حکومت مکتب کے ذریعے ہم سے یہ اختیار لے لیے گی اور ہمیں آپ سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کرنے دیا جاتا پھر بھی ہم اپنے طور پر اپنے حجاج کی معاونت کے لئے رابطے میں رہتے ہیں اور مقدور بھر مدد فراہم کرتے رہتے ہیں۔سعودی حکومت کی طرف سے حاجیوں کو ایک چھوٹی قالین۔جائے نماز اور ہوائی تکیہ گفٹ کیا گیا ہے بعض حجاج کو چھتریاں بھی دی گئی ہیں۔چونکہ پوری دنیاں سے حجاج کرام تشریف لائے ہوتے ہیں اس لئے مختلف ممالک کے لوگوں سے ملنا ان کے خیالات و حالات سے آگاہی کا بہترین موقع ہوتا ہےکیونکہ بطور صحافی میں ان موقعوں کی تلاش میں رہتا ہوں ۔اس لئے گزشتہ روز حرم پاک میں طواف اور نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد تھوڑی دیر کے لئے فسٹ فلور پر خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ گئے تاکہ آرام کے ساتھ ساتھ دیدار کعبہ کا لطف بھی لیا جاسکے ۔آب زم زم سے مستفید ہو کر قاضی صاحب اور میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک بزرگ حاچی محمد السعید مر غمی نے عربی میں پوچھا آپ عربی جانتے ہیں میں نے عرض کی نہیں پڑھ اور سمجھ سکتا ہوں بول نہیں سکتا اور اپنے ملک کا بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو انھوں نے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا میں الجزائر کا رہنے والا ہوں ہم نے فرانس سے آزادی حاصل کی ہے ہم القدس اور کشمیر کی آزادی کے پر جوش حامی ہیں اس لئے ہم پاکستان کی بھی بہت قدر کرتے ہیں اپنے جھنڈے کے چاند میں آدھے سبز اور آدھے سفید کے بارے میں بتایا یہ مسلم اور غیر مسلم آبادی کی نشاندھی کرتے ہیں البتہ اس میں سرِ خ رنگ کے سٹار کا جھرمٹ ہمارے شہداء آزادی کی نشاندہی کرتا ہے۔پھر میں نے اپنے ملک کے جھنڈے کے بارے میں بتایا کہ ہمارے ملک میں 99 فیصد سے زائد مسلمان ہیں کچھ اقلیت میں دیگر مزاہب کے لوگ بھی ہیں تو انھوں نے میرے پاتھ پر لکھے 99 فیصد کو مٹا کر 100 فیصد لکھ دیا اور کہا ہم پاکستان کو صرف مسلمانوں کا ملک جانتے ہیں مسلمانوں کی نااتفاقی اور اغیار کی سازشوں پر گفتگو اور اس پر اظہار افسوس مشترکہ کاز تھا ۔ پھر ہم نے مل کر امتہ مسلمہ کے اتحاد کے لئے رب_ کعبہ کے سامنے دعا کی یاد گار کے طور پر سیلفی اور اکٹھی عشاء کی نماز ادا کی۔ گلے ملے اور جدا ہو کر اپنی اپنی رہائش گاہ کی طرف چل دئے ۔اگلے روز پھر حرم پاک میں حاضری ہوئی تو میں طواف کے بعد مقام _ اپراہیم کے سامنے مغرب کی نماز کے انتظار میں بیٹھ گیا میرے پاس ایک ملا ئشیا کا حاجی بیٹھا تھا میں نے پاکستانی کے طور پر تعارف کرایا توبڑا خوش ہوا اور بولا میرا نام صلاح الدین ہے آپ کدھر کے ہو کراچی۔لاہور ۔پشاور یا اسلام آباد میں نے اس کی ان معلومات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہری پور ہزاراہ پشاور کا ہوں تو اس نے کہا پشاور مجھے اچھا لگا فرنٹئر کے لوگ بہت اچھے ہیں میں بطور قونسلیٹ ان سب جگہ میں رہا ہوں بحثیت مجموعی پاکستانی بہت اچھے لوگ ہیں ۔مہاتیر محمد ہمارا ہیرو ہے پاکستان کے لوگ بھی ہمارے ہیرو کا بڑا احترام کرتے ہیں ۔عمران خان بھی ان کا فین ہے ۔پاس ہی بیٹھے ایک انڈین بابا بھی گفتگو میں شامل ہوگیا اسی اثنا میں میری بائیں جانب بیٹھے سری لنکن نے بھی اپنا تعارف اسلم کے نام سے کراتے ہوئے کہا کہ وہ بزنس مین ہے اور وہ بھی پاکستان کے بارے میں دلچسبی رکھتا ہے پھر اس نے بہت سی معلومات شئیر کیں اس کے ساتھ ایک اور بھی سری لنکن تھا سب ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش تھے اسلام کی عالمگیریت پر فخر کر رہے تھے ۔ہر ایک نے اپنے اپنے موبائل سے گروپ سیلفی لی ایک دوسرے سے وٹس اپ نمبر شیئر کئے مسلم بھائی بھائی کا نعرہ لگایا اور مل کر رب_ کعبہ سے مسلمانوں کے اتحاد اور یگانگت اور اغیار کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کی دعا کی ۔۔۔
صاحبو! مکہ معظمہ میں حرم کی توسیع کے ساتھ ساتھ شہر کے طول عرض میں بڑی بڑی عمارات کی تعمیر کا کام وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ اب جب بھی اللہ تعالی آپ کو مکہ میں آنے کی توفیق دے گا آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے۔ مکہ میں کبھی چاروں طرف پہاڑ ہی پہاڑ ہوا کرتے تھے اب پہاڑ کم اور بڑی بڑی بلڈنگیں زیادہ نظر آئیں گی ۔سڑکیں ہی سڑکیں۔جہاں سڑک کی حدود ختم ہوتی ہے وہاں سے بلندو بالا عمارتیں شروع ہو جاتی ہیں۔تاہم صفائی ستھرائی کا انتظام اعلی ہے قوانین پر سخت بابندی کروائی جاتی ہے اسی لئے ہر چیز ایک سسٹم کے ساتھ چل رہی ہے ادھر بعض بلڈنگز سے کھانے کے ناقص ہونے کی شکایات بھی آنا شروع ہو گئیں۔بہت سے حاجی صاحبان بیمار پڑنے لگے میں بھی دو تین بار ہسپتال کا چکر لگا چکا تھا ڈاکٹر بچارے اچھے تھےلیکن سیکٹر 9 کی ڈسپنسری میں ایک پیرامیڈیکس کا لہجہ اب بھی پاکستانی اور تحمکانہ تھا ۔کیوں کہ فطرتی مجبوری ہے ۔ ۔
صاحبو! حسب_روایت بیورو کریسی اس دفعہ بھی حاجیوں کو چونا لگانے سے باز نہ رہی ۔عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چائیے ۔زرداری اور نواز شریف کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے حاجیوں کو رقوم کی واپسی میں ایسے ٹیکنکل طریقے سے کرپشن کی ہے کہ سر چکرا کے رہ جاتا ہے حالانکہ ٹرینگ کے دوران اسپیشلی بتایا گیا تھا کہ حاجیوں کو رقوم میں کمی پیشی اس لئے ہوتی ہے کہ بعض لوگوں کی رہائش قریب ہوگی اس لئے انھیں کم رقم ملے گی اور بعض کی دور ہونے کی وجہ سے زیادہ پیسے واپس کئے جائیں گے ۔اور خصوصی طور پر منع کیا گیا تھا کہ اس پر سوال نہ کیجئے گا۔۔سو ہمیں جب کم پیسے ملے تو ہم خوش ہوگئے کہ چلو قریب ہونے کی وجہ سے حرم شریف میں روزانہ حاضری میں آسانی ہو گی ۔لیکن یہاں آکر دو تین دنوں میں اندازہ ہوا کہ بیورو کریسی یہاں بھی ہاتھ کر گئی۔ہم سیکٹر نمبر 9 بطِخہ قریش میں 907 بلڈنگ میں مقیم ہیں جہاں ہری پور ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے حاجی ہیں ۔کوہاٹ کے حاچیوں کو 33 ہزار روپے واپس کئے گئے جو 4اور 5 فلور پر رہائش پزیر ہیں جبکہ 4 پر ہی مقیم ہری پور کے حاجیوں کو 28ہزار 50 روپے واپس کئے گئے اور 1۔2۔3 پر مقیم ہری پور ۔ایبٹ آباد کے حاجیوں کو 27 ہزار 700 روپے واپس کئے گئے جب کہ سہولیات اور حرم سے فاصلہ ایک جیسا ہے ۔اسی طرح ہماری بلڈنگ کے سامنے والی بلڈنگ نمبر 906 میں بعض لوگوں کو 37 ہزار روپے واپس کئے گئے۔905 میں بھی 33 ہزار دئیے گئےاور 28 ہزار دئے گئے۔904 میں بھی ایسے ہی 28 اور 33 ہزار دئے گئے ۔902 میں 29 ہزار۔ اسی طرح ہمارے قریب ہی واقع 933 میں کمرہ نمبر 314 والوں کا کہنا ہے کہ ہمیں 49 ہزار واپس کیا گیا ۔واضح رہے یہ ساری بلڈنگ بطخہ قریش میں ایک ساتھ واقع ہیں ایک جیسی سہولیات سے مزین ہیں ایک نمبر کی بس پر ایک ہی اسٹاپ سے حرم شریف جاتے ہیں ۔تو پھر یہ منطق دم توڑ جاتی ہے کہ درو نزدیک کے فرق سے پیسے واپس کئے گئے ۔ہمارے سامنے والے سیکٹر 6 میں بلڈنگ 621 کے ایک رہائشی کے مطابق انھیں 49 ہزار واپس کئے گئے اس سیکٹر کے رہائشی بھی نہ صرف حرم شریف سےفاصلے کے لحاظ سے ہمارے برابر ہیں بلکہ ان کے ہوٹل اور سہولیات اور کمروں کی تزئین و آرائش ہم سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ ایک ہی محلے کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ۔اسی طرح پاکستان بھر سے آئے ہوئے حاجیوں کے ساتھ یہی کھیل کھیلا گیا ۔حاجیوں نے عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ بیوروکریسی کی اس ٹیکنکل کرپش کی باقاعدہ انکوائری کر وا کر حاجیوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور حاجیوں رقوم واپس کی جائیں۔۔۔۔
صاحبو !حرم پاک میں اظہار یکجہتی مشن کے طور پر دیگر ممالک کے لوگوں سے رابطے کر کے ان سے عمومی گفتگو جاری رہتی ہے جمعہ کےدن حرم پاک میں نماز جمعہ میں شرکت کے لئے حاجی صبح سویرے سے ہی حرم پاک پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔تاکہ خانہ کعبہ کا طواف اور نماز گرائونڈ پر مطاف میں ادا کی جاسکے ۔ہم 9 بجے کے قریب گراونڈ والے مطاف میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور اللہ کانام لے کر طواف_ کعبہ شروع کر دیا دھوپ کی شدت اور حاجیوں کے رش میں حمد وثنا کی گونج میں طواف کا اپنا ہی مزا تھا ایک طواف مکمل ہوا دوسرے کی نیت باندھ لی یہ ارداہ باندھ لیا تھا کہ نماز جمعہ تک مطاف ہی میں رہنا ہے۔رکن _ یمانی کو مس کرنے کی طلب اور حطیم میں نوافل کی ادائیگی کا اردہ کیا تو اللہ نے مدد کے ایک چکر میں یمانی کو چھونا نصیب ہوا تو دوسرے چکر میں اللہ کی مدد سے حطیم کے اندر پہنچ گیا جہاں رش کے بیچ وبیچ دونائجرین ہاتھوں سے زنجیربنائے اپنے ساتھیوں کو نوافل کی ادائیگی میں مدد کر رہے تھے ۔نائجیرین کے بارے 2016 میں عمرہ کے دوران میرا مشاہدہ اور تجربہ اچھا نہ رہا تھا سخت بد تمیز اور اڑیل قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا لیکن اس بار مجھے اس وقت حیرانی اور خوشی ہو ئی جب ان میں سے ایک نے مجھے حسرت سے کھڑے دیکھ کر اشارہ سے پو چھا نفل ادا کرنے ہیں ۔میں نے اثبات میں سر ہلایا اس نے میرے لئے جگہ چھوڑ دی اور دیگر نے میرے ارد گرد حلقہ بنا دیا دو نوافل کی ادائیگی کے بعد ان کا شکریہ ادا کر کے میں مڑا تو دو پاکستانی نوجوان جنھوں نے بعد میں اپنے نام حسنین اور لقمان بتائے تھے اور پنڈی کے رہنے والے تھے اللہ ان کے والدین کو ان کی خوشیاں نصیب کرے یہی عمل دھرا رہے تھے اور لوگوں کو اس رش میں نوافل کی ادائیگی میں مدد کر رہے تھے میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ان کے حلقہ میں بھی 4 نوافل ادا کر لئے کہ شائد پھر یہ سعادت نصیب ہو نہ ہو ۔تین طواف کے بعد بدن چور اور پسینے سے شرابور تھا لیکن نماز جمعہ میں ابھی وقت تھا اور مطاف سے نکلنا بھی گواراہ نہ تھا سو ایک اور طواف کی نیت باندھ کے اللہ کا نام لے کر چل پڑا یہ طواف مکمل ہوا تو بھی آدھا گھنٹہ نماز جمعہ کی آذان میں باقی تھا لیکن صفیں بندھنا شروع ہوگئی تھیں سو تھکا ہارا مقام اپراہیم کے پاس خانہ کعبہ کے دروازاہ کے سامنے جگہ پا کرتیسری صف میں بیٹھ گیا بیٹھتے ہی دھوپ کی شدت نے ستانا شروع کر دیاپاس بیٹھا ایک بنگالی لڑکا بھی دھوپ کی وجہ سے پریشان پایا دل ہی دل میں اللہ سے دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ نماز جمعہ کی ادائیگی تک ہمت واستقامت عطا کر اور دھوپ سے بچنے کی سبیل بھی۔کہ اسی اثنا میں بنگالی کے ساتھ ایک انڈین لڑکا آن براجمان ہوا اور سر پر چھتری تان لی پہلے بنگالی سے شئیر کی لیکن کچھ دیر بعد چھتری بنگالی کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مجھے بھی سائے میں لے لیا خدا کاشکر ادا کیا ان لڑکوں کا بھی ممنون ہوا تو انڈین نے ہنستے ہوئے سیلفی لی اور کہا اللہ کے گھر میں انڈیا ۔بنگال اور پاکستان اکٹھے ہوگئے ہیں میں نے اسے برصغیر پاک و ہند کا جوڑ قرار دیا اتنے میں موءاذن کی صدا بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر بے شک اللہ سب سے بڑا ہے ۔خطبہ امام کعبہ نے پڑھا نماز جمعہ ادا کی حرم پاک میں ایک اجروثواب کا عمل ہر نماز میں حاصل ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی میت کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور یہ فرض کفایا ہر فرض نماز کے چند ثانئےبعد ادا کیا جاتا ہے۔عصر سے مغرب تک سیکنڈ فلور پہ آرام اور صرف نمازوں تک محدود رہا کہ اب پائوں مزید چلنے سے سے گریز پا تھے لیکن مغرب کے بعد عشاء تک ایک اور طواف کی ہمت کر ڈالی کیوں کہ یہ ایسی نفلی عبادت ہے جو خانہ کعبہ ہی میں نصیب ہو سکتی ہے جبکہ نوافل اور تلاوت کلام کا ثواب ہر جگہ میسر ہو سکتا ہے سو جو شخص بھی یہاں آنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اس کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دیدار اور طواف کعبہ سے فیض یاب ہو سکے۔
کہ بڑےمقدر کے ہیں یہ فیصلے
کہ بڑے نصیب کی یہ بات ہے۔
رات کو تھکا ہارا کمرے میں پہنچا تو دھوپ کی شدت نے اپنے اثرات خوب دکھائے دودن تک خانہ کعبہ جانا نصیب نہ ہوا اگلے دن پھر ہمت باندھی عصر سے عشاء تک اللہ تعالی کے دربار میں حاضری مکمل کی چونکہ اس سے اگلے روز گاڑیوں کا حرم تک جانا بند کر دیا گیا تھا تا کہ حاجیوں کو آرام کرنے کا موقع ملنے کے ساتھ ساتھ مناسک حچ کی ادائیگی کی تیاریاں مکمل کی جا سکیں ۔اب 7 ذوالحج کی شام سے ہی حاجیوں کو منی میں پہنچانے کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ حاجی پہلے رکن کے طور پراپنے کمروں سے احرام باندنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں نیت کے ساتھ ہی فضا ء لیبیک اللہ امہ لبیک کے پرکیف نعروں سے گونچ اٹھتی ہے۔ آٹھ ذوالحچ کہ ظہر تک حاجیوں کو منی پہنچانے کوشش کی جاتی ہے 9 ذوالحج کی نماز فجر کے بعد طلوع سورج کے ساتھ ہی حاجی دوسرے رکن کی ادائیگی کے لئے میدان_عرفات پہنچ جاتے ہیں۔ وقوف عرفات کے بعد پھر آذان مغرب کے ساتھ ہی قافلے تلمیہ پڑھتے ہوئے مودذلفہ کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں رات کھلے آسمان تلے اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی سنت کی ادائیگی کے لئے گزاری جاتی ہے جہاں نماز مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کی جاتی ہے نماز فجر کے بعدوقوف مودذلفہ کے ساتھ ہی حاجی 9 ذوالحج کوطلوع سورج سے قبل مو دذلفہ سے روانہ ہو جاتے ہیں منی پہنچ کر زوال سے قبل بڑے شیطان کو جمرات میں کنکریا یعنی رمی ادا کی جاتی ہے پھر حاچی قربانی کرتے ہیں اور قصر یا حلق یعنی سر کے بال منڈوا کر احرام کھول دیتے ہیں وقت ہوتو اسی دن نہیں تو گیارہ کو طواف_ زیارت کافریضہ بمعہ _ سعی ادا کرتے ہیں واپس منی آ کر گیارہ بارہ دودن تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں کچھ 12 اور کچھ باامر_ مجبوری یا اختیاری طور پر 13 کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں مار کر واپس اپنے اپنی اپنی رہائش گائوں پر لوٹ اتے ہیں۔اگلی قسط میں حچ کے پانچ دنوں پر تجربات مشائدات کے حوالے سے بات ہوگی۔۔!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 107 Print Article Print
About the Author: younas majaz

Read More Articles by younas majaz: 24 Articles with 12059 views »
معروف کالم نگار وشاعر محمد یو نس مجاز، کا تعلق ہری پور ہزارہ سے ہے ایم اے اردو پشاور یونیورسٹی سے کیاگزشتہ تیس سال سے دنیا ء صحافت سے منسلک ہیں شا.. View More

Reviews & Comments

Language: