کڑوا سچ

(Rana Ghulam Hussain, Rawalpindi)
میں نے یہ تحریر کڑوا سچ کے جواب میں لکھی ہے،اس کو اسی تناظر میں پڑھا جائے، میں نے شہید مقبول بٹ،امان اللہ خان،کے ایچ خورشید سب کو پڑھا ہے،لیکن کڑوا سچ کے نام سے جو بکواس کشمیریوں کی تحریک اور نظریہ پاکستان کیخلاف کیا گیا ہے، اس کا مقبول بٹ، کے ایچ خورشید اور امان اللہ خان کے نظریات سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔

تحریر: راجہ ذکی جبار ایڈووکیٹ

خاص نوٹ: مقبول بٹ شہید اپنی کتاب " شعور فردا" میں لکھتے ہیں ۔۔" میرے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس میں چند غدار حکمرانوں کا ہاتھ ہے، لیکن کشمیری قوم یاد رکھے، کشمیریوں کو جب بھی ضرورت پڑے گی پاکستان کی قوم کشمیریوں سے بھی دو قدم آگے کھڑی ہو گی۔"

میں نے یہ تحریر کڑوا سچ کے جواب میں لکھی ہے،اس کو اسی تناظر میں پڑھا جائے، میں نے شہید مقبول بٹ،امان اللہ خان،کے ایچ خورشید سب کو پڑھا ہے،لیکن کڑوا سچ کے نام سے جو بکواس کشمیریوں کی تحریک اور نظریہ پاکستان کیخلاف کیا گیا ہے، اس کا مقبول بٹ، کے ایچ خورشید اور امان اللہ خان کے نظریات سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔

تمہیں بلا وجہ،غدار،منافق اور نمک حرام کسی نے نہیں کہا،،،
اب دل تھام کر سنو، میں بھی میر پور سے شروع کرتا ہوں۔۔1931, 1932 میں مہاراجہ حکومت کیخلاف میر پور اور راجوری میں عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک چلی،مہاراجہ حکومت نے بہت بے دردی سے اس تحریک کو کچلا،ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید کیئے گئے، کئی لاشوں کو زندہ جلایا گیا، لیکن بقول آپ لوگوں کے" محب وطن " مہاراجہ ہندو دکانداروں کے نقصان کا رونا روتا رہا اور ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل عام پہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکا، وہ مہاراجہ آج بھی آپ کی نظر میں ریاست کا وفادار تھا، کیا ریاست صرف مہاراجہ کے محل کا نام تھا اور اسی فیصد مسلمان آبادی جس کا مہاراجہ استحصال کرتا رہا وہ ریاست کے باشندے نہیں تھے۔۔؟ تمھیں آج میر پور کا پانی یاد آ گیا، لیکن جب مہاراجہ حکومت میں میر پور اور راجوری کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا تو کس وجہ سے اس کی مذمت کرنے کے بجائے آج بھی اسی قاتل کے گیت گا رہے ہو، یہ منافقت نہیں تو پھر کیا ہے ۔۔؟

ذرا ٹھہرو، گلاب سنگھ کی بات کر لیں، آج بھی فیس بک پہ جس کے فوٹو اپ لوڈ کر کے تم سلام کرتے ہو،
1845میں سکھوں اور انگریزوں کی جنگ میں انگریزوں کی مخبری اور سکھوں سے غداری کے انعام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے انعام کے طور پہ میرے اور آپ کے کشمیر کے باسیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سکھوں کے میر جعفر کے ہاتھوں بیچا، 1846 کے معائدہ امرتسر کے بارے میں خود انگریز مسٹر ڈیوڈ کنگم نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ کر کے انگریز نے اپنے دامن پہ کالک ملی،اس

معاہدے کو تم آج بھی ریاست کی حدود کی دستاویز کہتے ہو،مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب جموں پہ حملہ کیا تو اس وقت گلاب سنگھ رنجیت سنگھ کی فوج میں شامل تھا،گلاب سنگھ نے اپنے خلاف بغاوتوں کو کچلنے کے لئے میرے اور آپ کے آباؤ اجداد کے شر سر کی قیمت پانچ روپے مقرر کی،سبز علی خان اور ملی خان کی کھالیں اتروا کر ان میں بھوسہ بھروا کر سر عام شاہراہوں پہ لٹکایا،عورتوں اور بچوں کو بھیڑ بکریوں کی مانند ہانک کر باڑے میں بند کر کے ان کے سامنے مکئی کے گھٹے ڈالے جاتے تھے،اسی گلاب سنگھ کی تصویر کو تم آج بھی سوشل میڈیا پہ سلیوٹ کرتے ہو،

اسی معائدے کو آپ ریاست کی حدود کی دستاویز کہتے ہیں، اس طرح گلاب سنگھ اور اس کی اولاد نے برسوں تک بلخصوص ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا جو استحصال کیا، اس کا تذکرہ کرنے کے بجائے تم گلاب سنگھ کے آج بھی قصیدے پڑھتے ہو، یہ غداری نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟

ہاں تم کچھ ٹیکسوں کی بات کر رہے،پاکستان کی خاطر میرے اور آپ کے آباؤ اجداد نے اپنا لہو بہایا تھا،لیکن اپنے: ریاستی ہیرو" گلاب سنگھ کے کشمیریوں پہ عائد کردہ چولہا ٹیکس، مویشی ٹیکس، اور شادی ٹیکس کا تذکرہ گول کر کے آج بھی گلاب سنگھ اور اس کی اولاد کو آئیڈیا لائز کرتے ہو،یہ غداری نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

اسی طرح 1934 سے لیکر 1943تک بقول آپ لوگوں کے " محب وطن " حکمران مہاراجہ نے مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لیے کون سا ظلم نہیں کیا، لیکن تم آج بھی ہری سنگھ کے گن گاتے ہو،یہ نمک حرامی نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔۔۔؟

مہاراجہ کا وزیر اعظم آئینگر جس نے گلانسی کمیشن کی رپورٹ اس لئے کالعدم کی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے کچھ حقوق تسلیم کئے گئے تھے، اس آئینگر نے مسلمانوں کے خلاف اسلحہ ایکٹ اور ملازمت کے قوانین پاس کئے تھے، اسی وزیر اعظم آئینگر کے کہنے پر آپ کے نظریاتی باپ شیخ عبداللہ نے کشمیر کی نمائندہ ریاستی تحریک کو نہرو اور سرحدی گاندھی کے ہاں گرو رکھا، آپ کے نظریاتی گرو شیخ عبداللہ نے تاریخ کے فیصلہ کن اور نازک موڑ پہ کشمیریوں کی اجتماعی طاقت کو تقسیم کر کے نہرو اور ہندوستان کو کشمیر پہ قابص ہونے کا موقع دیا،آج آپ کو اپنی نسل کا پانی اور بجٹ یاد آ رہا ہے آپ کے نظریاتی اسلاف خان عفار خان اور شیخ عبداللہ جس نے بھدروا جیل سے خط لکھا تھا کہ کشمیر کا الحاق ہندوستان سے ہونا چاہئے، ان کے خوابوں کی دھرتی سیکیولر اور جمعوری ہندوستان نے ستر سال میں جو کشمیریوں کا خون بہایا ہے،اس کا تذکرہ نہیں کرتے،ہاں یاد آیا آپ کے ایک اور نظریاتی باپ خان غفار نے پہلے سرحد کا الحاق ہندوستان سے کرنے کی کوشش کی اور جب ناکام ہوا تو اس وقت کے انگریز گورنر کے کہنے پہ آزاد پختونستان کا مطالبہ کر دیا تھا اسی غفار خان کے نظریات پہ آپ فخر کرتے ہیں،
اسی طرح سوشلسٹ اور کمیونسٹ لٹریچر کی اولاد عبدالصمد خان اچکزئی،خان غفار خان اور شیخ عبداللہ جو اس وقت سوویت یونین کے کے ایشیئن سیکیورٹی پلان کے مطابق خود مختاری کے نام پہ کشمیر،سرحد اور بلوچستان پہ مشتمل بفر زون قائم کرنے کے لیے کرائے دار بنے ہوئے تھے،تم آج بھی انہیں کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہو،یہ منافقت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

آج مقبوضہ کشمیر میں خود مختار اور الحاق پاکستان کے حامی ملکر ایک پرچم تلے ہندوستانی فوج کے سامنے کھڑے ہیں،تم اگر نمک حرام نہیں ہو تو پھر کیوں برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے ذریعے آنی والی فنڈنگ کے وظیفہ خوار بن کر پاکستان کی ریاست اور فوج کو گالی دے رہے، یہ نمک حرامی اور منافقت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

ریاست پاکستان اور پاکستانی فوج ان سب لوگوں کی ہے جنھوں نے انگریز اور ہندو دونوں سے لڑ کر پاکستان حاصل کیا تھا،جس کو تم مقدس گائے کہتے ہو آزاد کشمیر اور برطانیہ میں بیٹھ کر،اگر آزاد کشمیر کی سرحد پہ یہ مقدس گائے دس منٹ کے لئے ہٹ جائے تو تمھیں مودی اور " سیکیولر ہندو جمعوریہ " حقیقت میں گاو ماتا کا موتر زبردستی پلائے،اگر کوئی غلط فہمی ہے تو آج بھی بھارتی گجرات اور دیگر ریاستوں کے غیر ہندو لوگوں کا حشر دیکھ لو۔۔۔

تم 1947 کی تحریک کو نہرو اور غفار خان کی عینک لگا کر 22اکتوبر کے قبائلی حملہ کا حوالہ اپنی تشریح کے مطابق دیتے ہو،لیکن 22 اکتوبر 1947 سے قبل اگست اور ستمبر 1947 میں کٹھوعہ، اودھم پور اور جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا ذکر چھپا لیتے ہو،یہ منافقت اور غداری نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

تم یہ بھی چھپا لیتے ہو کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے کہنے پہ مہاراجہ پٹیالہ کی فوج جموں میں مسلمانوں کے قتل عام میں شریک رہی ۔۔یہ منافقت نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔؟

ہاں تم نے عدالتی نظام کا ذکر کیا ہے، ،ذرا یہ بھی بتاؤ کہ تمہارا نظریاتی باپ شیخ عبداللہ جس ہندوستان سے الحاق کرنے جا رہا تھا،یا جس نہرو کی محبت میں اس نے اپنے نظریات تبدیل کر کے کشمیریوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر نیشنل کانفرنس بنائی،اور جس ہندوستانی فوج کے زیر سایہ ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں شیخ عبداللہ اور اس کی اولاد ریاستی مسلمانوں کے خون کی قیمت پہ لولہ لنگڑا اقتدار حاصل کرتی رہی،خود ان کو ان کے نظریاتی گرو نہرو کی ریاست میں کتنا انصاف ملا، ۔۔؟

آج تم نسلوں کی بات کرتے ہو،تمہارے نظریاتی باپ شیخ عبداللہ اور مہاراجہ نے ذاتی نمبرداری قائم رکھنے کے لئے فیصلہ کن موڑ پہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی راہ میں رکاوٹ بنے،جس کے نیتجے میں آج تک 72 سال سے ہندوستانی فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے، اس خون کا حساب بھی تم جیسے منافقوں اور غداروں کے سر ہے۔۔

آج تم میر پور ڈیم کی جن قبروں کا ذکر کر رہے ہو ان قبروں میں آسودہ خاک ہمارے وہ آباؤ اجداد ہیں جنھوں نے کسی سوشلسٹ،کمیونسٹ نظریے پہ نہیں، جنھوں نے کسی آئینگر،نہرو، غفار خان یا عبدالصمد خان اچکزئی کے نظریات پہ نہیں بلکہ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نظریات پہ موت کو گلے لگایا ہے۔۔۔ان قبروں میں سونے والوں نے کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کے لیئے سب کچھ قربان کیا، تم آج ہندوستان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ان قبروں والوں کی روح کو زخمی کر رہے ہو ۔

آج تم کشمیر بنے گا پاکستان کے نظریے، پاکستان اور پاک فوج کو گالی دے رہے رہے ہو،،،اصل میں تم کشمیری شہداء کے خون سے غداری کر رہے ہو،

ذرا بتاؤ جب عطا محمد کشمیری نے اپنی چار بیٹیوں کے خون سے اپنے گھر کی دیوار پہ کشمیر بنے گا پاکستان لکھا تھا اس وقت کون سی فوج تھی، کون سا اقتدار حاصل تھا، کون سی اسٹیبلشمنٹ تھی ۔۔؟
تم کشمیر بنے گا پاکستان کے نظریے کی وجہ سے مسلم کانفرنس کے خلاف مغلظات بکتے ہو، تمہیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ 23 مارچ 1940 کے جلسے میں پاکستان کی حمایت میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے غلام حیدر جنڈالوی نے 45 منٹ تقریر کی تھی ۔اس وقت مسلم کانفرنس کے پاس کون سا اقتدار تھا،کون سی پاکستانی حکومت یا فوج تھی، کون سی لالچ تھی ۔۔؟ہاں یہ ضرور تھا کہ اس وقت مہاراجہ کی حکومتی مشینری مسلم کانفرنس سے دشمنی کی بنیاد پہ نیشنل کانفرنس کی پشت پناہی کر رہی تھی ۔۔
غازی ملت سردار ابراہیم صاحب کے گھر قرار داد الحاق پاکستان منظور نہ ہوتی اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان اور بہت سے دوسرے سرکردہ رہنماؤں کی قیادت میں مسلح جہاد نہ ہوتا تو آج تم جیسے را کے گماشتے پاکستان کے پاسپورٹ پہ برطانیہ اور یورپ میں بیٹھ کر عیاشی نہ کر رہے ہوتے بلکہ کسی ہندو بنیئے کی گاڑی اور ٹائلٹ صاف کر رہے ہوتے ۔۔

ہاں تم آج آزاد کشمیر کو بلوچستان اور وزیرستان بنانے کی بات کرتے ہو، تمہارا یہ راستہ مسلم کانفرنس اور سردار عبدالقیوم خان نے 1972 میں بند کر دیا تھا، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ تم جیسے آوارہ لوگ مکتی باہنی اور شکتی باہنی کی طرح کرائے پہ دستیاب ہو جاتے ہیں، ،،وزیرستان اور بلوچستان میں پاک فوج نے تین چار عالمی طاقتوں کی کرائے دار ٹھیکیداروں کو شکست فاش دی ہے، تم کس باغ کی مولی ہو،،تمہارا راستہ روکنے کے لیئے ہم ہی کافی ہیں۔۔۔۔تمہاری اوقات اتنی ہے کہ دن رات کوشش کر کے اپنے خلاف جعلی ایف آئی آر کراتے ہیں، تا کہ اس کو بنیاد بنا کر برطانیہ اور یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کر کے را کی فنڈنگ پہ عیاشی کی جائے۔

تم کشمیر بنے گا پاکستان اور نظریہ الحاق پاکستان کو گالی دیتے ہو،ذرا شیخ عبداللہ اور ہری سنگھ کی اولاد سے بھی مشورہ کر لو،جو آپ کے نظریاتی بھائی ہیں،آج فاروق عبداللہ یہ کہنے پہ مجبور ہے کہ قائداعظم کا پاکستان بنانے کا فیصلہ درست تھا،کرن سنگھ آج کہہ رہا ہے کہ 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے تھا، آج محبوبہ مفتی دھائی دے رہی ہے کہ کانگرس پہ اعتبار کر کے ہم نے غلطی کی، اگر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے تو ان کے نظریاتی پیروکار ہونے کے ناطے تھوڑی بہت شرم آپ کو بھی آنی چاہیۓ تھی،،یہ بے غیرتی نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

مقبوضہ کشمیر میں مسلمان 72 سال سے اپنا خون بہا رہے ہیں، تمہیں کشمیر بنے گا پاکستان کے نظریے کی حقانیت دیکھنی ہے تو دیکھو، آج مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز کی بوچھاڑ میں بچپن تڑپتا ہے،سنگینوں کی نوک پہ جوانیاں اچھلتی ہیں، ماں باپ کے سامنے جوان بیٹیوں کی عصمت لٹتی ہے،لیکن وہ موت کو گلے لگاتے وقت،کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے پاکستان کے پرچم کو کفن بنا لیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں علی گیلانی،یسین ملک،عمر فاروق شبیر شاہ سمیت الحاق پاکستان کے حامی اور خود مختار والے بھی پاکستان کا پرچم تھامے ہوئے ہیں، لیکن تم یہ ثابت کرنے پہ تلے ہو کہ بھارتی فوج کے سامنے سینے وا کیئے وہ سب غلط اور تم درست ہو،یہ غداری نہیں تو پھر اور کیا ہے ۔۔؟

اگر آپ میں ذرا بھی شرم ہوتی تو کاکستان اور نظریہ پاکستان کو گالی دینے کے بجائےمقبوضہ کشمیر والوں کی آواز میں آواز ملاتے، اچھا ہوا تم نے ہماری سب خوش فہمی اور غلط فہمی دور کر دی،
اب یہ بات بلکل واضح ہے کہ تم اسی طرح کسی کہ کرائے دار بنے ہوئے ہو،جس طرح پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کانگرس کی بی ٹیم تھی، تم وہی زہر افشانی کر رہے ہو،جو پاکستان کیخلاف عبدالصمد اچکزئی اور اس کے حواری کر رہے تھے، تم وہی منافقت کر رہے ہو جو سرحدی گاندھی اور اس کے ساتھی کر رہے تھے، اور تم وہی غداری کر رہے ہو جو دلفریب نعروں کی آڑ میں مکتی باہنی اور شکتی باہنی نے کی تھی، ،
تم نے ہر پہلو سے یہ ثاب ثابت کیا ہے کہ مقبول بٹ شہید، کے ایچ خورشید، امان اللہ خان اور یٰسین ملک کے نظریات سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں ہے، اور آپ واضح طور پہ مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے آلہ کار کے طور پہ کشمیر اور پاکستان دونوں کے وجود کے دشمن ہو،،،
تم غدار بھی ہو،منافق بھی اور نمک حرام بھی ۔۔۔۔

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے،
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے ۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Ghulam Hussain

Read More Articles by Rana Ghulam Hussain: 8 Articles with 4697 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2019 Views: 249

Comments

آپ کی رائے