یوم الوطنی مملکت العربیہ السعودیہ

(Muhammad Akram Awan, )

مملکت ِسعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِ سعود رحمتہ اﷲ علیہ نے 1932میں ایک ایسے خطہ کوامن واستحکام بخشا اور دُنیاکے عظیم ممالک میں بدلا جہاں ہروقت مختلف قبائل میں جنگ وجدل اورانتشار رہتاتھا۔ بانی مملکت نے بہادری ، حوصلہ مندی،دن رات انتھک محنت اوراخلاص نیت کی بدولت ایک پرامن اورمثالی معاشرہ تشکیل دیا۔یہاں امن وامان کے قیام کے بعد عوام الناس کی خوشحالی وترقی کے اقدامات کئے اورصحت ،نقل وحمل اورسماجی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کوترتیب دیا۔خادم حرمین شریفین شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِ سعود نے سلطنت کے عوام کو سب سے اہم اثاثہ سمجھتے ہوئے انفرادی اوصاف کوابھارنے کے لئے تعلیم کوخاص اہمیت دی تاکہ یہاں کے عوام جدید علوم اوراعلی ترین عالمی اقدار سے بہرہ مند ہو سکیں۔اس مقصدکے تحت 1945میں شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِ سعودنے جامعہ پروگرام کاآغازکیااوراس نظام کے تحت ہرطالبعلم کومفت تعلیم،کتب اورصحت کی سہولتیں فراہم کی جاتیں۔

شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِ سعودنے معاشی مسائل سے نبٹنے کے لئے بھی خصوصی اقدمات کئے اورملک کے اندرموجود چھپے معدنی وسائل کی تلاش اوراُن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہنگامی بنیادی پرکوششیں جاری رکھیں۔بالآخرتیل کی دریافت سے معاشی مسائل پرقابوپانے میں کامیابی کی ابتداء ہوئی ۔بانی مملکت شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِسعودکی مدبرانہ پالیسیوں اور کاوشوں کانتیجہ یہ ہواکہ کچھ ہی عرصہ میں مملکت سعودی عرب معاشی طورپرمستحکم ہوگیا،مملکت سعودی عرب میں خوشحالی کے دورکا آغاز ہوا اور بہت ہی مختصرعرصہ میں سعودی عرب کاشماردُنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ہونے لگا۔
مملکت سعودی عرب کاشماررقبہ کے اعتبارسے دُنیاکے 15بڑے ممالک میں ہوتاہے اورمملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے خطہء عرب کے 80 فیصدرقبہ پرمشتمل ہے۔شاہ عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِسعودنے مملکت سعودی عرب کی تعمیروترقی کے ساتھ ساتھ پورے خطہ عرب کے امن واستحکام ،بیرونی عدم مداخت ، خوشحالی کے ساتھ ساتھ خیرسگالی اوردردمندی کواپنی سرحدوں اورخطہء عرب سے کہیں آگے پھیلانے اور پوری اُمت مسلمہ کے باہمی اتفاق واتحاد کی اہمیت کوسمجھااورہمیشہ اس مقصدکے لئے سرگرم رہے اوراس کارخیرمیں بھرپورطریقہ سے اپنا کردار ادا کیا ۔ بانی مملکت عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِسعودکے نقش قدم پر چلتے ہوئے بعدمیں آنے والے آئمہ سعودی عرب نے بھی ہمیشہ خطہ میں امن واستحکام ،مسائل کی یکسوئی کے لئے ثالثی او ر مصالحت کی پالیسی اختیارکی۔

حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب پوری دُنیا کے مسلمانوں کامرکز اورگہوارہ اسلام کی حیثیت رکھتاہے۔اسی بنا پر سعودی عرب کے بانی عبدالعزیزبن عبدالرحمن آل ِسعودنے اپنے آپ کو بطورخادم حرمین شریفین کہلاناسب سے بڑااعزاز اور باعث عزت وشرف سمجھا۔حرمین شریفین کی تعمیروتوسیع اوردُنیابھرسے حج وعمرہ کے لئے تشریف لانے والوں کوہرممکن سہولتیں مہیاکرنے پربھرپورتوجہ دی اور خدمت حجاج کرام کوہمیشہ عظیم ترین ترجیحات میں شامل رکھا۔شاہ عبدالعزیزکے بعدآنے والے آئمہ سعودی عرب نے بھی ہمیشہ اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہلوانا پسندکیااسے اپنے لئے اعزازاوردُنیاوآخرت کی عزت کاباعث سمجھا،اسی طرح حاجیوں کی خدمت اورحرمین شریفین کی توسیع میں بھی ہرایک نے اپنا کردار جاری رکھا۔

بانی مملکت شاہ عبدالعزیزسے لے کر شاہ سلمان بن عبدالعزیزاورولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان بن عبدالعزیز تک اس عظیم خاندان نے سعودی عرب کوایک مکمل فلاحی اسلامی مملکت بنانے میں طویل جدوجہداورعظیم قربانیاں دیں اوردُنیا بھرمیں انسانیت کی فلاح وبہبودمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ شاہ سلمان سنٹرفارہیومانٹیرین ایڈاینڈریلیف نے چاربراعظموں میں37سے زائد ملکوں کو انسانی اورترقیاتی مددفراہم کی ۔ بے آسرا وبے سہارا لوگوں کے لئے مکانات تعمیرکئے گئے،غریب ممالک کے شہریوں کی غذائی ضروریات کوپورا کیاگیااورصحت وتعلیم کے شعبہ میں معاونت کی ۔ شاہ سلمان سنٹرفارہیومانٹیرین ایڈاینڈریلیف کے تحت عالمی صحت تنظیم(W H O)اوریونیسیف (United Nations Children Funds)کو لاکھوں ڈالر عطیہ کی امدادکی گئی۔

ولی عہدپرنس محمدبن سلمان بن عبدالعزیزبن آل سعودنے اپنے بزرگوں کی خواہش کے عین مطابق مملکت کوجدیدخطوط پر استوارکرتے ہوئے مزیدترقی،عوامی خوشحالی اورتیزی سے بدلتے عالمی منظرنامہ میں مملکت سعودی عرب کو امتیازی حیثیت دلوانے میں پیش بندی کے طورپر ویثرن 2030 تریب دیا۔جس کے تحت ڈیجیٹل اکانومی میں سرمایہ کاری،معدنی وسائل سے جدیدبنیادوں پراستفادہ حاصل کرنا،صنعت وحرفت کوفروغ دینا، بحیرہ احمرکے ریزارٹس،200کلومیٹرپرپھیلی مغربی ساحلی پٹی پر50سے زائدخوبصورت قدرتی جزائر،ڈائیونگ، پیراشوٹنگ، راک کلائمبنگ(چٹانوں پرچڑھنا)جیسی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے سمیت مملکت بھرمیں دیگر پرکشش سیاحتی اورتاریخی وثقافتی مقامات کی آرائش وتزئین کے منصوبوں کاآغازکرنا اوران منصوبوں پرتیزرفتارعمل درآمدکروانا،جس کے تحت مملکت سعودی عرب کے سیاحتی مقامات کودُنیا بھرمیں متعارف کرواتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے اوردلچسپی پیداکرنے جیسے اقدامات کوخصوصی اہمیت دینااور مجموعی قومی پیدوار بڑھانے کے لئے دیگربے شمارمنصوبے شامل ہیں۔

وطن عزیزپاکستان کا ہرباشندہ سرزمین حرمین شریفین کے ساتھ خصوصی محبت وعقیدت رکھتا ہے کیونکہ حجاز مقدس ہرپاکستانی کی عقیدتوں کا مرکزومحورہے۔پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔جہاں ایک طرف سعودی عرب کانام سنتے ہی ہر پاکستانی کی زبان سے بے ساختہ سعودی عرب کی سلامتی،ترقی اورخوشحالی کے لئے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں نکلتی ہیں،وہیں دوسری طرف اہل عرب نے بھی پاکستان کاخوشی اوررنج والم میں ساتھ دیا۔1973میں سیلاب،1975میں سوات کے زلزلہ،2005میں کشمیرمیں زلزلہ الغرض قدرتی آفات سے تباہی ،اقتصادی پابندیوں کاخطرہ ہویا دُشمن کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ سعودی عرب نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔تمام آفات ومصائب میں سعودی عرب کا اہل پاکستان کے ساتھ ہمدردی اورتعاون سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

سعودی عرب ہرسال 23ستمبرکوقومی دن(Saudi National Day)کے طورپرمناتا ہے۔مملکت کے ہرشہروقصبہ میں سرکاری طورپردعائیہ تقریبات منعقدکی جاتی ہیں،شہروں اورگاؤں کو قومی پرچم اورمختلف رنگوں سے سجایاجاتاہے۔اس دن کی مناسبت سے خاص طورپر محفلیں سجائی جاتی ہیں،جن میں انواع واقسام کے کھانوں سے ضیافت اور سعودی عرب کی معروف لوک رسم تلواروں کے ساتھ کئے جانے والے قومی رقص ارضیٰ کااہتمام کیا جاتا ہے۔سعودی نوجوانوں کاقومی دن منانے اورمملکت سے محبت کے اظہارکااپنامنفرداور الگ اندازہوتاہے۔ تمام اسلامی ممالک بھی اس دن کوخاص طور پر مملکت سعودی عرب سے اظہارمحبت اوریکجہتی کے طورپرجوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں،وطن عزیزپاکستان میں بھی سعودی عرب کاقومی دین (یوم الوطنی)، (Sauid National Day) انتہائی عزت واحترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔مختلف شہروں میں دعائیہ تقریبات کااہتمام کیا جاتاہے،جن میں مملکت سعودی عرب کی ترقی ، امن وسلامتی،خوشحالی اوراستحکام کی دعائیں کی جاتی ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 44773 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2019 Views: 437

Comments

آپ کی رائے