نسوانی گناہِ کبیرہ (ظرافیئے)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 نوٹ : خواتین ہر معاشرے کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ان کے بغیر کوئی معاشرہ، معاشرہ نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ اپنا وجود ہی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دنیا کی ہر زبان کی شاعری اور ادب میں خواتین کو اول مقام حاصل ہے۔ کہیں کہیں شاعروں اور ادیبوں نے ہلکے پھلکے انداز میں صنفِ نازک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جسارت بھی کی ہے جس سے خواتین کے مقامِ و مرتبہ میں مزید اضافہ واقع ہوا ہے۔ درج ذیل کچھ ظرافیئے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری یا جگ ہنسائی ہرگز نہیں۔ خواتین کاادب و احترام ہمارے لئے فرضِ عین کا درجہ رکھتا ہے جس سے ہم کسی صورت پہلو تہی نہیں کر سکتے۔

درج ذیل کچھ ظرافیئے روزمرہ زندگی سے اخذ کئے گئے ہیں جن کا مشاہدہ آپ نے بھی بار ہا کیا ہو گا کیوں کہ میرے جیسے کم فہم کا مشاہدہ بھی اتنا عمیق نہیں ہوتا ، بس سطحی باتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی اگر کسی پر یہ ظرافیئے گراں گزریں تو پیشگی معذرت اور اگر پسند آئیں تو پیشگی شکریہ۔
خواتین کے روزمرہ زندگی میں کچھ گناہِ کبیرہ درج ذیل ہیں:
۱۔ قمیض یا شرٹ کو جیب لگوانا۔
۲۔ بغیر میک اپ کسی فنکشن میں جانا۔
۳۔ ایک بار پہنا گیا سوٹ دوبار پہن کر کسی فنکشن میں جانا۔
۴۔ اپنے شوہر کی تعریف کرنا۔
۵۔ آپس میں خاموشی سے بیٹھنا۔
۶۔ ناخن چھوٹے رکھنا۔
۷۔ ناخنوں پر پالش نہ لگانا۔
۸۔ جوتے، سوٹ، اور میک اپ کی میچنگ یا کنٹراسٹ نہ کرنا۔
۹۔ کسی دوسری کی برتری خاموشی سے سن لینا یا بعد کے ردِ عمل میں اسے رد یا ذلیل نہ کرنا۔
۱۰۔ کسی علمی ،ادبی یا نظریاتی موضوع پر گفتگو کرنا۔
۱۱۔ اپنے پکائے کھانے کا کوئی نقص خاموشی سے سن لینا اور اس پر شدید غصے اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنا۔
۱۲۔ دوسروں کے کیڑے نہ نکالنا۔
۱۳۔ اپنے سے زیادہ کسی اور کو بولنے دینا۔
۱۴۔ فنکشنز میں بالوں کو کھلا نہ چھوڑنا یا اپنے لباس کے نمائشی انداز نہ بنانا۔
۱۵۔ کوئی بات معلوم ہونے پر آگے ابلاغ نہ کرنا۔
۱۶۔ ٹی وی پے سیاسی بحثیں یا سنجیدہ قسم کے پروگرام دیکھنا۔
۱۷۔ فون پر یا ویسے گفتگو میں بات مختصر کر لینا۔
۱۸۔ اپنی کمائی میں سے(اگر وہ جاب کرتی ہو) شوہر کو رقم دے دینا۔
۱۹۔ شوپنگ سے خریدی گئی نئی چیزیں دوسروں کو نہ دکھانا۔
۲۰۔ اپنی عمر درست بتا دینا۔
۲۱۔ اونچی اور باریک ایڑھی والی جوتی نہ پہننا۔
۲۲۔ تھوڑا سا ڈرنے پر بھی چیخ نہ مارنا۔
۲۳۔ حشرات سے خوف زدہ نہ ہونا۔
۲۴۔ چوہوں وغیرہ سے جنگلی درندوں جیسا خوف نہ کھانا۔
۲۵۔ فرش کی دھلائی کرتے ہوئے گلی سے گزرنے والوں پر چھینٹے نہ اڑانا۔
۲۶۔ اپنی کسی نئی ریسیپی کے متعلق اپنی جاننے والیوں کو نہ بتانا۔
۲۷۔ ہر تیسرے ہفتے اپنی طبیعت کی خرابی کی شکایت نہ کرنا۔
۲۸۔ اپنے بچوں کے آگے، اپنے شوہر پر اپنی برتری کا اظہار نہ کرنا۔
۲۹۔ اپنے شوہر کے رشتہ داروں کے آنے پر موڈ خراب نہ کرنا۔
۳۰۔ اپنے میکے والوں کی تعریف کے قصیدے نہ سنانا۔
۳۱۔ کسی کام میں ہونے والی اپنی غلطی مان لینا۔



 

Reviews & Comments

Language: