میں کیا کہوں؟ زبان خلق بولتی ہے

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ کسی ایک ملک کی نمائندگی کرنے والا شخص اپنے ملک و خطے کے مسائل بیان کرے اور اتنا وقت لے لے اور اس دوران مسلم و غیر مسلم کے فرق کو ختم کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کے سربرہان یا ان کے نمائندے تالیاں بجا بجا کر بات کرنے والی کی تائید و حمایت کا اعلان کرتے رہیں حقیقت اور سچائی کا طبل بجاتے رہے پھر گفتگو اور تقریر کے اختتام پر اسے باقاعدہ شاباش ویل ڈن جیسے الفاظوں سے نوازا جائے اور پرجواش انداز میں ماتھے پر بوسہ دیا جائے اور گلے لگایا جائے۔ یہ سب معاملات ہمارے ملک کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پیش آئے۔ جن کی دبنگ مدلل جامع اور بر محل تقریر نے ایشا سمیت یورپ کے یہود ونصاری کو بھی داد دینے پر مجبور کردیا عمران کی بغیر لکھی تقریر شروع کرنے پر بہت سے خیر خواہ اس بات پر پریشان اور خائف تھے کہ جوش جذبات اور جوش خطابت میں کہیں کوئی غلط اور بے محل بات نہ کردی جائے جس سے ملکی حالات میں مزید انتشار کی فضا پروان چڑھے لیکن عمران خان نے ایک بارپھر ثابت کردیا کہ وہ واقعی نڈر بے باک اور ڈٹ جانے والا شخص ہے یہودی ایجنٹ کے لیبل لگانے والوں کو بھی خبر ہوگئی کہ ان کے خود ساختہ فضول اور لغو الزامات بے جا ہیں۔

ناموس رسالت پر پوری دنیا بالخصوص مغرب کو بتادیا کہ جس طرح تم لوگوں کے نزدیک ہولوکاسٹ معتبر و محترم ہے اس سے کہیں زیادہ اونچے درجے پر ہمارے لئے ہماری نبی مکرم و محترم احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ کی ذات اقدس ہے اور ان کے اسوہ حسنہ ہیں ان کی ذات پر ہذیان بکنے والوں کے ساتھ شدت پسندی سے ہی نمٹا جائے گا دین اسلام ایک ہی ہے جو اﷲ تعالی نے ہمارے نبی آخر الزمان رحمت دو عالم ﷺ پر نازل فرمایا جو کہ امن و سلامتی کا مظہر و منبع ہے اور اسی کا درس دیتا ہے لیکن جب کوئی ان حدود کو پار کرتا ہے تو یقینا اسے بھگتنا بھی پڑے گاپھر اسے چاہے کچھ بھی نام دے دیا جائے ۔یہود و نصاری میں اسلامو فوبیا درحقیقت تو حضور اکرم ﷺ کی پیدائش کے روز سے ہی حاوی ہوگیا تھا جب قیصرو کسری کے کینگرے زمین بوس ہوگئے تھے ااور آتشکدے بجھ گئے تھے ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹ گئے تھے نور کی کرنیں چہار دانگ عالم میں پھیل کر امیر غریب کالے سفید عربی عجمی جمادات نباتات و حیوانات سب کو نور میں نہلا رہی تھی۔عمران خان نے بتادیا تھا کہ رعب و دبدیہ اس روز سے شروے ہوگیا تھا اور انشاء اﷲ رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا تو مغرب کا اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غیر مسلم دنیا اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرے اسلام کی تعلیمات کو سمجھے اسلام تو محبت و سلامتی کا پیامبرہے امن و آشتی پھیلانے کا مبنع ہے دور دور تک دہشت گردی کا شائبہ تک نہیں کیا جاسکتا۔ اور ہاں اگر آپ لوگ ہمارے گلے دباؤ اور خواہش بھی کرو کہ آنکھیں بھی نہ نکالیں تو ایسا ممکن ہی نہیں جب گلہ دبے گا تو لامحالہ آنکھیں تو نکلیں گیں اور پھرانہیں برداشت کرنا بلکہ سہنا بھی پڑے گاکیونکہ یہ ہمارا حق ہے

وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا مودی اور انتہا پسند ہندو جماعتوں کے منفی کرداراور ان کے کرتوت دنیا کے سامنے لاتے ہوئے جس انداز میں ننگا کیا دنیا بالخصوص پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کشمیریوں کے مسئلے کو اپنا مسئلہ جانتے ہوئے جس انداز میں فائت کی اس عمل نے ان تمام لوگوں کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کردیا جو کہ عمران خان اور ان کی حکومت پر کشمیر کو بیچنے کا بے ہودہ الزام عائد کرتے تھے۔اندرونی سازشی عناصر سمیت پوری دنیا پر یہواضح کردیا گیا کہ کشمیر اور کشمیریوں کیلئے ہمارے جذبات احساسات اور خیالات کیا ہیں کشمیریوں کے ساتھ کھیلی جانے والی خون کی ہولی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور دنیا کے امن کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ کے ساتھ ساتھ عالمی امن کو خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے اور اس طمانچے کی گونج کو عمران خان نے چار گنا کرکے دنیا کی بے ثباتی اور بے حسی کو بھی جھنجھوڑا ہے۔ یہ بات بھی باور کرادی ہے کہ جس طرح دو ہمسایوں کے جھگڑے سے پورا محلہ اور علاقہ مضطرب اور پریشان رہتا ہے اسی طرح دو ایٹمی ممالک کی جنگ سے پوری دنیا بھی لپیٹ میں آئے کی اور ہم نے سرنڈر نہیں کرنا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور پھر اس کے مضمرات پوری دنیا بھگتے گی لہذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہوش کے ناخن لے کر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ذمہ دارانہ سعی کی جائے۔

عالمی موسمیاتی تبدیلوں اور ان کی بنا پر ماحول میں ہونے والے تغیرات کی بات اور ان کے نقصاات و منفی اثرات کا جائزہ پیش کرکے بھی دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں فطرت کے ساتھ ساتھ غیر قدرتی اور مصنوعی امور اور دخل اندازی نے بھی موسم پرشدید اثرات مرتب کئے ہیں دنیا کو اس طرف بھی دیکھنا چاہئے جبکہ دولت کی غبر منصفانہ وغیر مساوی تقسیم میں منی لانڈرنگ بے نامی اکاؤنٹس نے بھی دنیا کو عدم توازن کی طرف لا کھڑا کیا ہے ناجائز و جائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کو جس طرح یورپ تحفظ فراہم کررہا ہے اس میں عالمی بدعنوانی(international Corruption) واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اسے بھی روکنے اور اس کے قوانین میں تبدیلی و ترمیم کی ضرورت ہے

عمران خان کی یہ سب باتیں خیالات اقدامات نے جہاں سب کو عش عش کرنے پر مجبور کردیا وہیں اب ضرورت ملکی اندرونی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے وزارتوں اور بیوروکریسی میں تبادلے اور اکھاڑ پچھاڑ صرف تبدیلی کی حد تک نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے مثبت ثمرات عوام تک پہنچنا بھی ضروری ہیں اور اگر عمران خان اور ان کی حکومت چاہتی ہے کہ دنیا کی طرح پاکستانی عوام اور سیاسی مخالفین بھی تالیاں بجائیں تو مہنگائی کے عفریت کو قابو کرنے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور انتہائی نا گزیر ہے تاکہ غریب طبقہ بھی خوشحال و پرسکون ہو کر عمران خان کے ساتھ قدم ملاکر بیرونی خطرات سے نمٹ سکے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 120406 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More
07 Oct, 2019 Views: 224

Comments

آپ کی رائے