تقریر کے بعد اقدامات کی ضرورت ہے ․․!

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

عمران خان کی جنرل اسمبلی کی تقریر کے بعد دنیا نے رنگ بدلا یا نہیں بدلا،مودی سرکار عالمی افق پر نیا چاند چڑھانے کی تگ و دو میں ہے۔مودی قدم بہ قدم امن پسندوں کو روندتے جا رہے ہیں۔بھارت میں داخلی فتح حاصل کرنے کے بعد عالمی سطح پر بھی اپنی فنکاری کا جوہر دکھا رہے ہیں،بلکہ اعزازات اور مضبوط دوستیاں سمیٹ رہے ہیں اور عالمی دنیا مودی کا بھر پور ساتھ بھی دے رہی ہے ۔اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کو مظلوم و مقہور کشمیری عوام صدا لصبحرا سنائی نہیں دے رہی ۔کشمیریوں پر یہ جبر و استبداد کی نئی لہر نہیں بلکہ کشمیریوں کو ان حالات میں آدھی صدی سے زیادہ گزر چکی ہے۔کشمیریوں کو مارا جا رہا ہے ،لیکن انہیں رونے کا حق بھی نہیں ہے ۔مودی کی اکثریت سے دوبارہ حکومت میں آنے کی وجہ اقلیتوں کے خلاف پھیلائی نفرت ہے ۔ہندو تعصب واضح ہے ،لیکن اس سے بھارت کے سیکولر اور لبرل ہونے کا ڈرامہ تہس نہس ہو چکا ہے ۔لیکن حیرت ہوتی ہے عرب مسلم ممالک پر جو انہیں ایوارڈ سے نوازتے ہیں ۔امریکہ کی اصلیت سے نظریں نہیں چرانی چاہیئں ،جو ایسے ملک کو پذیرائی دے رہا ہے ،جو ایک انتہا پرست نظریہ رکھتا ہے ۔

پاکستان کو اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہیے ۔جس سے ثالثی کی امید رکھتے ہیں ،وہ ہیوسٹن میں مودی کے جلسے میں گئے ۔اس کی وجہ کوئی بھی ہو ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ سال نومبر میں صدارتی انتخابات کی وجہ سے گئے ہوں یا واقعی یار کی یاری کا بھرم رکھنا تھا۔ٹیکساس میں اتنا بڑا اجتماع ٹرمپ کو انتخابی مہم کے لئے فائدہ مند تھا کیونکہ ریپبلکن پارٹی گزشتہ انتخاب میں یہاں سے کامیاب نہیں ہوئی تھی ۔کیونکہ بھارتی نژاد بھارتیوں کی زیادہ تعداد رہتی ہے ۔ٹرمپ یہاں سے انتخاب جیتنا چاہتے ہیں ،لیکن دنیا کو واضح ہو گیا کہ امریکی پالیسی کیا ہے ۔وہ اپنے مفادات کے لئے کسی بھی پلڑے میں گر سکتے ہیں ۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ امریکی اور بھارت قیادت کی سوچ ایک جیسی ہے ۔دونوں نسل پرست انتہا پسند حکمران ہیں ۔

اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح کشمیر کو پاکستان بنانے کی خواہش ہر پاکستانی کی ہے ۔ایسے ہی کشمیر کا مکمل انضمام بھارتیوں کی خواہش ہے ۔کشمیریوں پر مظالم کی انتہا ہو چکی ہے ۔وہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے ،لیکن پھر بھی بھارتی مسلمان ہوں یا دوسری قومیں ۔تمام بھارت کی رائے عامہ مودی کے اقدام کی حامی ہے ۔ہمیں اپنی کمزوریوں اور نا اہلیوں کی جانب بھی دیکھنا چاہیے ۔اگر مقابلہ دنیا کی بڑی طاقتوں سے کرنا ہے اور آپ کمزور بھی ہوں تو لائحہ عمل مؤثر ہونا چاہیے ۔ہماری کارکردگی ناقص رہی ہے ۔ہم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی جانب سے کشمیر کی صورت حال پر قرارداد پیش نہیں کر سکے ۔کہنے کو ہم نے بلند و بانگ دعوے کئے کہ 58ممالک ہمارے موقف کی پیروی کرتے ہیں ،مگر قرارداد پر 16کے دستخط نہیں کروا سکے ۔اس ناکامی کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے ،مگر اس سے پاکستان اور کشمیر کاز کو جو نقصان اور سبکی ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دشمن کو زیادہ شہ ملی ہے۔مودی سرکار اپنی پالیسیوں کو زیادہ تیزی سے عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔اب بھارت کی جانب سے ایک ریاستی انتخابات کا ڈرامہ بھی رچایا جا سکتا ہے ۔جس سے کٹھ پتلی حکومت لا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی جائے اور دنیا کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ،عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریرکے دوران کشمیرکاز پر ایک ایک بیان اور جذبات قومی جذبات کے آئینہ دار تھے ،لیکن جہاں قومی ہم آہنگی ہے وہاں حکمرانوں کا کردار مشکوک نظر آتا ہے ۔کیونکہ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت میں کسی مسئلے کے حل کا تصور نہیں ہے ۔کشمیر کے مسئلہ پر عمران خان کو آل پارٹی کانفرنس بلانا چاہیے تھا ،لیکن اس وقت نہیں تو اب یہ کانفرس ضرور ہونی چاہیے ،جس میں ہر ممکنہ طور پر تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت کو نہ صرف باقاعدہ مدعو بلکہ آمادہ کیا جائے تاکہ دنیا کوسیاست دانوں کی طرف سے یک جہتی کا پیغام دنیا بھرمیں پہنچایا جا سکے ۔اس تقریر کے بعد ملک کی عزت ،سالمیت اور وقار داؤ پر لگا ہے،جس کے لئے پاکستان حکومت ،عوام اور مسلح افواج کو تیار رہنا چاہیے ۔ثالث ٹرمپ پر اعتماد کرنا ،بڑی بیوقوفی ہے ۔وہ ہر جانب جپھیاں ڈالتے اور ہر کسی کو گریٹ لیڈر کہتے رہیں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 152 Articles with 52327 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2019 Views: 206

Comments

آپ کی رائے