لااﷲ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

بسم اﷲ الرّحمٰن الرّحیم
ایاک نعبدوایاک نستعین
لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
ہم ایک اﷲ پرایمان رکھتے ہیں جس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں۔اسلام صرف ایک ہے جوہمیں ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے سکھایاہے دوسراکوئی اسلام نہیں اورنبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسلام کادہشتگردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جب کوئی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کرتاہے توہمارے دل کوتکلیف ہوتی ہے ۔ہم دنیاکوبتاناچاہتے ہیں کہ دل کی تکلیف جسم کے مقابلے میں بہت شدید ہوتی ہے جسے برداشت کرناممکن نہیں اس لئے ہماراسخت ردعمل آتاہے۔ہم ایک اﷲ پرایمان رکھتے ہیں۔کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمارارشتہ لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کاہے اس لئے ہم کشمیرمیں بھارتی مظالم کیخلاف آخری سانس تک لڑیں گے۔میں پوری ایمانداری کے ساتھ کہناچاہتاہوں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں ترکی کے صدر طیب اردوان،مہاتیرمحمدیاکسی اورمسلم رہنمانے کہی ہوتیں توآج وزیراعظم پاکستان عمران خان پرتنقیدکرنے والے طیب اردوان یامہاتیرمحمدکومسلم امہ کاہیرو۔عظیم مسلم لیڈر۔مردمجاد۔دلیراورنجانے کیاکیاقراردے رہے ہوتے۔وزیراعظم پاکستان جوپوری پاکستانی قوم کے نمائندہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔جنرل اسمبلی میں ایسا شانداراورجاندارخطاب کیاجس کی تعریف پوری دنیاکررہی ہے پر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے سیاسی ومعاشی مفادات کے تحفظ کی غرض اور بغض کے باعث اپنے ہی وزیراعظم کوایسی تنقیدکانشانہ بنارہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔انڈیاکے وزیراعظم نریندرمودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دنیاکی ترقی یافتہ قوموں کے درمیان کھڑے ہوکربڑے فخرکے ساتھ لیٹرینیں بنانے کابھارتی حکومت کاکارنامہ بیان کیاجس کی تعریفیں پوراانڈین میڈیااورعوام کررہے ہیں۔ہمارے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پوری دنیاکے امن کے حوالے سے ایسی مدلل گفتگوگی کی جس کے چرچے ترقی یافتہ ممالک کے میڈیاپرجاری ہیں۔اپنے وطن۔دین اسلام۔رسول اﷲ ﷺ کی ناموس کاتحفظ ایسے الفاظ میں کیاجنہیں سن کرمغربی لوگوں کے دل پریشان ہوگئے اوروہ یہ سوچنے پرمجبورہوچکے ہیں کہ لوگ ایسے کامل دین اسلام اورمسلمانوں کے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کیوں کرتے ہیں؟مجھے امیدہے کہ آنے والے دنوں میں مغرب میں رہنے والے غیرمذہب لوگ رسول اﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کامحاسبہ کرنے میں ہمارے ساتھ ہوں گے اوراس تبدیلی کی وجہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مدلل خطاب ہوگا ۔جس اندازاورجن الفاظ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کشمیری بہن بھائیوں پربھارتی مظالم کیخلاف آوازاُٹھائی اُس کی ماضی میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ کہاجائے کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے شاندار۔جاندار۔مدلل اورپوری دنیاکیلئے امن کی دلیل پیش کرنے والے خطاب کی کوئی مثال موجودنہیں توغلط نہ ہوگا۔جولوگ وزیراعظم کے خطاب کوصرف عمران خان نیازی کے ماضی یاذاتی کردارکے حوالے سے دیکھ کرتنقیدکررہے ہیں انہیں یہ جان لیناچاہیے کہ اقوام متحدہ میں عمران خان بطوروزیراعظم پاکستان نے جوخطاب کیاوہ پوری قوم کی بھرپورترجمانی تھی۔قومی بیانئے پرمبنی جوتقریرعمران خان نے جنرل اسمبلی میں کی اسے اسلام۔پاکستان اورکشمیرکیلئے نیک اورصاف دل محب وطن پاکستانیوں کی مشاورت اورشدیدمحنت سے تیارکیاگیایعنی عمران خان باحیثیت وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں جوخطاب کیااسے ان کے ذاتی کردارکے تناظرمیں نہیں دیکھناچاہیے اورپھرہمیں یہ بھی یادرکھناچاہیے کہ اﷲ تعالیٰ جس سے چاہے کام لیتاہے اورجسے چاہے عزت دیتاہے۔بدقسمتی سے عمران خان کے سیاسی مخالفین عمران خان پر تنقیدکرتے ہوئے اپنے ہی ملک کے خلاف وہ زبان استعمال کررہے ہیں جوانڈیادشمن ملک ہوکرنہیں کرسکا۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے سینئر خاندانی سیاستدان آج تک مخالفین پرتنقید کرنانہیں سیکھ پائے۔اس موقع کی مناسبت سے شاعرنے بہت خوب کہاکہ
شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر
دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر

وزیراعظم پاکستان نے لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھ کراہل کشمیرکے حقوق کیلئے آخری سانس تک لڑنے کی بات کی جس کی اہمیت سے اہل مغرب توشائد اس قدر واقف نہ ہوں پرہم لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھنے کی اہمیت اورفضیلت سے واقف ہیں۔ایک مسلمان کسی انسان کے ماضی یاکردارکودیکھتے ہوئے جب اُس کی بات پراعتبارنہیں کرتاتب وہی شخص لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھ کرکوئی بات کرتاہے تومسلمان لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گواہی قبول کرکے اُس کی بات پریقین کرتاہے پرافسوس کہ ہمارے سیاسی قائدین اورکارکنان اپنی مردہ سیاست کی سانسیں بحال رکھنے کیلئے لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھ کرکہی گئی بات پربھی یقین نہیں کررہے ۔کشمیری عوام کے ساتھ ہمارارشتہ لااﷲ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بنیادپرقائم ہے۔اپنے حق کیلئے لڑناہرفرداورقوم کاحق ہے جبکہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے حق کیلئے لڑنامسلمانوں پرفرض ہے جسے ہم ہرقیمت پرنبھائیں گے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 310704 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2019 Views: 298

Comments

آپ کی رائے