دیویندر فڈنویس : برا وقت کہہ کر نہیں آتا

(Dr Salim Khan, India)

وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پانچ سال عیش کرنے کے بعد انتخاب سے قبل دیویندر فڈنویس کو عوام سے رابطے کی ضرورت محسوس ہوئی اور وہ ’مہا جن آدیش یاترا ‘ پر نکل کھڑے ہوئے ۔ چار ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے جب وہ ناسک پہنچے تو وزیر اعظم کو آشیرواد دینے کے لیے بلایا ۔ اس موقع پر سےمہاراشٹر کے حوالے سے مودی نے کہاکہ ملک اور ریاست میں سیاسی بے اطمینانی کے سبب ترقی متاثر رہی لیکن اب حالات بہتر ہوچکے ہیں۔مہاراشٹر میں آنجہانی وسنت دادا پاٹل اور دیویندر فڈنویس کے علاوہ کسی نے بھی مدت کار مکمل نہیں کی ہے۔اور موجودہ حکومت دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی جوکہ 60 سال میں پہلی بار ممکن ہو گااس کا سہرہ فڈنویس کی بہتر کارکردگی اور عوامی اعتمادکے سر ہے۔وزیر اعظم کے بعد وزیر داخلہ نے ممبئی آکر یقین دلایا کہ ’کچھ بھی ہوجائے ‘ وزیر اعلیٰ تو فڈنویس ہی ہوں گے ۔ بالآخر جب بڑے جوش و خروش سے فڈنویس اپنے روایتی حلقہ ٔ انتخاب جنوبی نا گپور میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے پہنچے تو عدالت عظمی ٰ کے ایک فیصلے نے ان کے ہوش اڑا دیئے ۔

سپریم کورٹ میں یہ قضیہ زیر بحث تھا کہ پانچ سال قبل 2014 کے انتخابی حلف نامہ میں فڈنویس کے ذریعہ مجرمانہ مقدمات کی معلومات چھپانےکے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دی جائے یا نہیں؟ منصفِ اعظم کی صدارت والی سہ رکنی بنچ نے اس بابت یہ چونکانے والا فیصلہ سنا دیا کہ عوامی نمائندہ قانون کے تحت فڈنویس کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہوا نظر آ رہا ہے اس لیے مقدمہ چلنا چاہیے ۔ فڈنویس نے جن مقدمات کی جانکاری پوشیدہ رکھی ان میں سے ایک تو ہتک عزت کا معاملہ ہے مگر دوسرا جعل سازی کا ہے۔ اس طرح 2014 کے انتخاب کا پرچہ نامزدگی کے ساتھ ان پر جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے کا تیسرا مقدمہ بن گیا ۔ یہ معاملہ جب بامبے ہائی کورٹ میں آیا تو وہ وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے قاصر رہا اور دلائل کی کمی کا بہانہ بناکر عرضی خارج کر دی لیکن دیویندر فڈنویس عدالت عظمیٰ کو مرعوب نہیں کرسکے۔ اب اگر ٹھگی کا الزام ثابت ہوجائے تو پتہ چلے گا کہ جمہوریت کی بدولت ایک جعلساز کو بھی حکومت کرنے کی سعادت نصیب ہوگئی۔

اس فیصلے سے سب سے زیادہ خوشی بی جے پی کے رہنما ایکناتھ کھڑسے کو ہوئی ہوگی ۔ ان کا کانٹا نکالنے کے دیویندر فڈنویس نے بے بنیاد الزام لگوائے اور استعفیٰ لینے کے بعد تفتیش کا ناٹک کرکے کلین چٹ بھی دے دی لیکن کرسی واپس نہیں کی ۔ جون ۲۰۱۶؁ کے اندر پونے شہر میں مہاراشٹر بی جے پی کے دوروزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی ٰدیویندر فڑنویس نے کہا تھا کہ ایکناتھ کھڑسے پر عائد الزامات سچ ثابت نہیں ہوئےاور ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ۔ انہوںنے بی جے پی کی اخلاقی روایت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ فڈنویس خود بھی پارٹی کی روایت کا خیال کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیں ورنہ وہ اوروں کو نصیحت اور خود فضیحت کا ارتکاب کرنے والوں میں شمار ہوں گے ۔

وزیراعلیٰ کی کلین چٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکناتھ کھڑسے کے وفادار مہاراشٹر اسٹیٹ ساہتیہ اردواکیڈمی کے کارگزار چیئرمین عبدالرئوف خان نے مطالبہ کیا تھا کہ کھڑسے کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیا جائے ۔ان کی دلیل یہ تھی کہ کھڑسے ایک عوامیرہنما ہیں اس لیے چونکہ وزیراعلیٰ نے اعتراف کرلیا ہے کہ کھڑسے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس لیے بلند قد رہنماء کو دوبارہ وزارت میں شامل کیا جائے ۔ عبدالروف خان کی منطق درست تھی لیکن فڈنویس کی کینہ پروری آڑے آگئی اور کانگریس سے آنے والے وکھے پاٹل کو تو وزیر بنایا گیا لیکن ایکناتھ کھڑسے کو جو اس سے پہلے حزب اختلاف کے لیڈر تھے معمولی وزارت سے بھی محروم رکھا گیا ۔ اس محرومی کا برملا اظہار جنوری ۲۰۱۸؁ میں اس وقت ہوا جب ایکناتھ کھڑسے نے کھلے عام پارٹی چھوڑنے کا اشارہ دے دیا ۔ انھوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا بی جے پی اپنے عمل سے مجھے پارٹی چھوڑنے کے لیے مجبور نہ کرے۔

کھڑسے کا کہنا تھا ”میں واضح کر دوں کہ میں بی جے پی چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن آپ لوگوں (بی جے پی لیڈران) کو بھی مجھے پارٹی چھوڑنے کے لیے مجبور نہیں کرنا چاہیے۔“ کھڑسے نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ”پارٹی مجھے بتائے کہ میرا جرم کیا ہے۔ اگر میں مجرم ہوں تو مجھے جیل میں ڈالا جائے۔ بغیر کسی غلطی کے مجھے سزا دینے کا کیا مطلب ہے؟“ انھوں نے پارٹی سے اپنی مایوسی ظاہر کرتے ہوئے یہ شعر بھی کہا تھا کہ ”رہتے تھے جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح/ بیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہگاروں کی طرح۔“ ایکناتھ کھڑسے نےاسمبلی کے آخری اجلاس میں بھی یہ بات کہی تھی کہ اب شاید میں دوبارہ اس مجلس میں نہ آوں اس لیے برائے کرم میرے دامن پر لگے ان الزامات کو دھو ڈالیے لیکن وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ان کی فریاد کو ان سنا کردیا ۔ وقت کا پہیہ پھر سے گھوم رہا ہے کون جانے وہ جوش میں آکر فڈنویس کو کچل دے اور ایکناتھ کو پھر ایکبار اپنے رتھ پر سوار کرلے ؟ اور دیویندر فڈنویس کو اسی غزل کا یہ شعر کہنے پر مجبور کردے؎
سو روپ بھرے جینے کے لئے،بیٹھے ہیں ہزاروں زہر پیئے
ٹھوکر نہ لگانا ہم خود ہیں،گرتی ہوئی دیواروں کی طرح

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 461230 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2019 Views: 263

Comments

آپ کی رائے