عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

(Mohammad Nadir Waseem, Bhakkar)

بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات عالیہ اور لائے ہوئے نظام میں ہی دنیا کی فلاح و بہبود کا راز مضمر ہے۔قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا۔لقد كان لكم في رسول الله اسوه حسنه لمن كان يرجو الله واليوم الاخر وذكر الله كثيرا۔(سوره احزاب: 21) یعنی یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کی یاد کرتا ہے۔
دور جدید میں اخلاقی قدریں تیزی سے پامال ہورہی ہیں۔ ہر شعبہ زندگی میں پیارومحبت ، اخوت ،احساس، ایثار، قربانی اور تحمل و برداشت جیسی اخلاقی قدر تیزی سے زوال پذیر ہورہی ہیں۔ان میں سے ایک اہم سماجی مسئلہ عدم برداشت کا رجحان بھی ہے۔ اس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہےاور اس کی وجہ سے امن عالم مفقود ہے۔

معاشرہ میں بڑھتی عدم برداشت کا ہر کس و ناکس کو سامنا ہے۔ پیدل ہو یا موٹر سائیکل سوار ،ریڑھی بان ہو یا گاڑی میں بیٹھا شخص ہر ایک کے اندر زمانہ کی تیز رفتاری نے عدم برداشت اور عدم روا داری پیدا کر دی ہے۔اور پوری دنیا میں انتشاروافتراق اور اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔اس بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے دانشور اور ذمہ داران فکرمند ہیں۔اس مضمون میں ہم اس مسئلہ کا حل تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔

اسلام سے قبل عرب معاشرے کی حالت
اسلام کی آمد سے قبل پوری دنیا میں امن و آشتی، پیار و محبت اور احساس و غمخواری جیسی قدریں مٹ چکی تھیں۔ دنیائے عرب میں چھوٹی چھوٹی بات پر تلواریں نیام سے باہر آجاتیں۔ عدم برداشت اور جہالت کا عالم یہ تھا کہ کسی کے کھیت میں اگر بھول کر بھی جانور گھس جاتا تو اس کے نتیجے میں تلواریں باہر نکل آتیں اور خاندان کے خاندان اور قبیلے کے قبیلے جنگ کی وادی میں جھونک پڑتے۔کسی عام بندے کی سواری اگر سردار کی سواری سے آگے نکل جاتی تو یہ بات نہ قابل برداشت ٹھہرتی۔
بقول مولانا الطاف حسین حالی:
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا کہیں پہلے گھوڑابڑھانے پہ جھگڑا
لبِ جوکہیں آنے جانے پہ جھگڑا کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں
ادھر ہندوستان میں ہندوؤں کے ہاں یہ تعلیم تھی کہ: اگر کوئی شودر کسی برہمن کو ہاتھ لگائے یا گالی دے تو اس کی زبان تالو سے کھینچ لی جائے۔
الغرض پوری دنیا میں یہی حالت تھی۔ ان حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا اور آپ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے مہرومحبت، عفودرگذر، تحمل و برداشت اور رحم وکرم جیسی قدریں رائج فرمائیں۔
بقول شاعر:
خودنہ تھے جو راہ پہ اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی سیرت مبارکہ کے دو گوشے ہیں۔عملی اورقولی ۔ ہم ہر ایک سے معلوم کریں گے کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رجحان پر قابو پانے کی ہدایت فرمائی۔
اہل مکہ کا ظلم و ستم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر عفو و درگزر، رواداری اور برداشت کی ایک عظیم الشان روایت چھوڑی۔اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و ستم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، کبھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو جسم اطہر پر اوجھڑی لا کررکھی اورکبھی گردن کے گرد رسی لپیٹ کر ایذا دی، کبھی جادوگر کہا، کبھی شاعر کہا اور کبھی مجنون کہا اور کبھی بازاروں میں چلتے پھرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب کو تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور دل میں ان کے لیے کوئی کینہ، بغض اور حسد نہیں رکھا۔لیکن جب مکہ فتح ہوا اور وہی ظالم لوگ بے بس ہوکر اور مجرموں کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَاتَثْرِيبَ عَلَيْکُمْ الْيَوْم اِذْهَبُوْا فَاَنْتُمْ الطُّلَقاء.یعنی آج تم پر کوئی الزام باقی نہیں۔ جاؤ تم سب کو چھوڑ دیا جاتا ہے‘‘۔
یوں آپ نے ان سے کوئی انتقام نہیں لیا اور سب کو معاف فرما دیا بلکہ ان لوگوں کو عزت و احترام سے نوازا جنہوں نے زندگی بھر آپ کو تکلیف پہنچائی تھی۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی زندگی، صفحہ نمبر 326)
واقعہ طائف
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو ان بدبختوں نے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو ٹھکرایا بلکہ اوباش لڑکوں کو پیچھے لگا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی جرأت اہل مکہ کو بھی نہیں ہوئی تھی۔چناچہ نرم و نازک جسم پر اس قدر پتھر برسائے کے جسم سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے اور نعلین مبارک بھی تر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باغ میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخم دھوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی بددعا نہ دی بلکہ فرمایا: ’’اے اللہ تو ان لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ نادان ہیں مجھ کو نہیں پہچانتے‘‘۔
صحیحین میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی زندگی میں احد سے بھی زیادہ سخت ترین دن کوئی گزرا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ طائف کا دن بڑا سخت ترین دن تھا۔جب میں نے اپنے آپ کو وہاں کے سرداروں کے سامنے پیش کیا۔ کتب احادیث و تاریخ میں آتا ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سخت جملے کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور انکے لیے اللہ تعالی سے بھلائی کی دعا فرمائی۔
یہ تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی سے چند مثالیں۔اب ہم آپ کی چند تعلیمات کا مطالعہ کریں گے جن میں تحمل وبرداشت کا درس دیا گیا ہے۔
دین خیر خواہی کا نام
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک بڑا ضابطہ اور اصول عطا کیا ہے جس میں ساری اخلاقی قدروں کو سمو دیا گیا ہے، فرمایا۔الدين النصيحه قلنا لمن قال لله ولكتابه ولرسوله ولائمه المسلمين وعامتهم. یعنی "دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے عرض کیا، کس کے ساتھ، فرمایا: اللہ کے ساتھ، اس کی کتاب کے ساتھ، اس کے رسول کے ساتھ مسلمان حکمرانوں کے ساتھ اور عام مسلمانوں کے ساتھ"۔
جب بندے کو معلوم ہوجائے کہ مجھ سے میرے دین کا مطالبہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی ہے تو وہ ہر معاملے میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے خیر کا طلبگار ہوگا۔اور کوشش کرے گا کہ میری طرف سے کسی مسلمان بھائی کو تکلیف نہ پہنچے۔کسی کو تکلیف دینا، غصہ کرنااور عدم برداشت کا مظاہرہ کرنا ایسے رویے ہیں جو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی کے منافی ہیں۔لہذا ہمیں بطور مسلمان اس اصول اور ضابطے کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنی زندگی اس کے مطابق گزارنی چاہیے۔
دین میں جبر نہیں
آج ہمیں اپنے عقیدہ کے خلاف کسی کی بات برداشت نہیں ہوتی اور ہم مخالف عقیدہ والے پر چڑھائی کرنا کار ثواب سمجھتے ہیں یہ مرض تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور مسلکی وفرقہ ورانہ تشدد کا عنصر عام ہو گیا ہے۔جبکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي فمن يكفر بالطاغوت ويومن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها والله سميع عليم. یعنی کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں ، اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
لہذا ہمیں اپنے عقائد و نظریات دوسروں پر زبردستی نہیں ٹھونسنے چاہئیں بلکہ دلائل اور حکمت عملی کے ساتھ دوسروں تک اپنے نظریات پہنچا کر انکو قائل کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں کسی قسم کا جبر نہیں کرنا چاہیے بلکہ تحمل مزاجی اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
غصے پر قابو پانے کا اجر:
بندے کے اندر تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے لیے شریعت مطہرہ نے بڑے حسین اقدامات کیے ہیں۔ غصہ آنا چونکہ ایک فطری عمل ہے اور بتقاضائے بشریت کوئی بندہ اس سے بچ نہیں سکتا۔ اگر کبھی یہ کیفیت طاری ہو جائے تواس حالت میں صبر کرنے پر بڑے اجر کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر غصے کا گھونٹ پی جاتا ہے وہ گھونٹ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بہتر ہے ۔‘‘
جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے اور صبروتحمل کا مظاہرہ کرتا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔من كف غضبه كف الله عنه عذابه، ومن اعتذر إلى ربه قبل الله عذره ومن حزن لسانه ستر الله عورته.
عن أبي كعب: قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من سره أن يشرف له البنيان، وترفع له الدرجات، فليعف عمن ظلمه، وليعط من حرمه وليصل من قطعه۔
ترجمہ: جو شخص یہ چاہے کہ اس کے محلات جنت میں اونچے ہوں اور اس کے درجات بلند ہوں اس کو چاہیے کہ جس نے اس پر ظلم کیا ہو اس کو معاف کردے اور جس نے اس کو کبھی کچھ نہ دیا ہو اس کو بخشش و ہدیہ کرے اور جس نے اس سے ترک تعلق کیا تو یہ اس سے ملنے میں پرہیز نہ کرے۔
آدمی کو نصیحت
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تغضب یعنی غصہ نہ کیا کر۔راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین بار ارشاد فرمایا کہ لا تغضب، لاتغضب، لاتغضب، یعنی غصہ نہ کیا کر، غصہ نہ کیا کر،غصہ نہ کیا کر۔
لوگوں کے ساتھ حسن سلوک
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صل من قطعك، واعف عمن ظلمك، واحسن إلى من أساء اليك۔ یعنی جو تیرے ساتھ تعلق کو توڑے تو اس کے ساتھ تعلق جوڑ، اور جو تجھ پر زیادتی کرے تو اسے معاف کر اور جو تیرے ساتھ برا سلوک کرے تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کر۔
اس حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اچھے سلوک کا درس دیا ہے۔ کسی کی برائی کے مقابلے میں اچھائی کا حکم دیا ہےاور کسی کی زیادتی کے مقابلے میں معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔اگر ان اصولوں پر عمل کرلیا جائے تو معاشرے میں امن و سکون رائج ہو سکتا ہے ۔قطع تعلقی کی فضا ختم ہو سکتی ہے۔ زیادتی کے مقابلے میں زیادہ زیادتی کے رجحان کی بجائے اچھائی کا نظام رائج ہو سکتا ہے اور زیادتیوں کو بھلا کر اچھے سلوک کی روایت قائم کی جاسکتی ہے۔
طاقتور کون؟
جب کسی کے بارے میں دل میں شدید نفرت پیدا ہو چکی ہو اور غصہ انتہا کو پہنچ چکا ہو اس وقت اس پر قابو پانا دشمن پر قابو پانے سے بھی مشکل ہے اس لیے حدیث میں کہا گیا ہے کہ جس نے ایسی حالت میں اپنے غصے پر قابو پایا اس نے گویا کئی حریفوں کو زیر کیا، اس لیے اصل بہادر اور پہلوان اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ليس الشديد بالصرعة انما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب. یعنی اصل پہلوان وہ ہے جو غصے پر قابو پائے۔
خود کشی کی مذمت
خود کشی بھی عدم برداشت کی ایک شکل ہے، آج پوری دنیا میں لوگ خودکشی کے مرض میں مبتلا ہیں، اور جان جیسی بیش قیمتی چیز خود اپنے ہاتھوں ضائع کررہے ہیں۔اسلام نے ہر طرح کی خو ں ریزی کو حرام قرار دیا ہے، چاہے خود کو قتل کرنا ہو یا دوسرے کو قتل کرنا ہو، اور اس کی یہ سزا بھی متعین فرمادی ہے کہ ہم اسے آخرت میں دوزخ کے عذاب کی دورد ناک سزادیں گے۔ ایک آیت میں فرمایا گیا :ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة (البقرۃ:۱۹۵)’’اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت کر ڈالو‘‘۔
زمانے اور مافیہا کو برا بھلا کہنا
عدم برداشت کی ایک صورت یہ ہے کہ جب بندے کے حالات تنگ ہوتے ہیں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو زمانے کو برا بھلا کہتا ہے۔جو کچھ سامنے ہوتا ہے۔ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ چیزوں کو توڑتا ہے۔ جانوروں اور پرندوں کو گالیاں دیتا ہے۔دوسرے لوگوں پر بے جا غصہ کرتا ہے۔اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔یقول الله تعالی يؤذيني ابن آدم يسب الدهر وأنا الدهر بيدي الأمر أقلب الليل والنهار۔ (متفق علیہ)۔
یعنی ’’ابن آدم زمانے کو گالی دینے کے باعث مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، حالانکہ میں زمانہ ہوں ، تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ، میں ہی دن رات کو بدلتا ہوں ‘‘ ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ مرغ کو گالی نہ دو، فرمان نبوی ہے۔لا تسبوا الدهر فإنه يوقظ للصلوة۔ یعنی مرغ کو بُرا بھلا نہ کہو وہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے۔
مسلمان کو گالی دینے کی وعید
عدم برداشت کی ایک شکل گالی گلوچ اور برا بھلا کہنا ہے۔اس کا سدباب کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فسق سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ سباب المسلم فسق و قتاله کفر۔یعنی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔
اس حدیث کی رو سےگالی گلوچ کامرتکب شخص کو فاسق ہے۔اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو گالی دینا پھر قتل کرنا کافروں والا کام ہے۔
اگر ہم ان تعلیمات عالیہ پر عمل کریں تو ہماری زندگیوں میں انقلاب آجائے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 190 Print Article Print
About the Author: Mohammad Nadir Waseem

Read More Articles by Mohammad Nadir Waseem: 26 Articles with 19178 views »
I am student of MS (Hadith and its sciences). Want to become preacher of Islam and defend the allegations against Hadith and Sunnah... View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ