میری گلوبٹ

(Kiran Khan, Bahwalpur)

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔۔سکول بدلا تھا تو چند دنوں بعد پیپر تھے ۔پڑھائی میں زیادہ توجہ ہوتی تھی لہذا دوست بہت کم بناتی تھی ۔پیپرز سر پر دیکھ کہ دوست بناے بغیر میں دلجمعی سے پڑھائی میں لگ گئی

۔رزلٹ جس دن آیا میں سیکنڈ پوزیشن لڑکی سے ایک نمبر زیادہ لے کر فرسٹ آئی تھی۔۔مجھے نا پتہ تھا کہ سیکنڈ کون آئی ہے کیونکہ میں کسی کو زیادہ جانتی ہی نا تھی۔۔رزلٹ ملنے کے بعد جب اپنی کلاس میں جا کر بیٹھی ۔۔ایک تیکھے سے نقوش والی لڑکی غصے سے تن فن کرتی کلاس میں آکر کھڑی ہوئی بلند آواز میں میرا نام لے کر پکارا کہ اس نام کی لڑکی جہاں پر ہے کھڑی ہو جاے ۔
۔مجھے کیونکہ بینچز سے مسئلہ نا ہوتا تھا جس بینچ پر ٹکنے کی جگہ ملتی وہی بیٹھ جاتی لہذا پچھلی بینچوں سے میں نے سر اٹھا کر سوالیہ انداز سے اسے دیکھا اور چپ چاپ کھڑی ہوگئی۔۔

یہ جارحانہ انداز میں میری طرف بڑھی ۔۔اس کے تیور دیکھ کر میرا بوکھلانا فطری امر تھا ۔۔میں غیر ارادی طور پر چند قدم پیچھے ہٹی۔۔عین میرے سامنے آکر رک گئی اور سخت لہجے سے بولی" تم فرسٹ آئی ہو؟؟؟"
میں نے تذبذب سے اثبات میں سر ہلایا ..
۔" ۔رزلٹ کارڈ دکھاو" اب کی بار اس کی آواز پہلے سے زیادہ کڑکدار تھی۔۔
میں نے چپ چاپ کارڈ نکال کے اس کے حوالے کیا۔۔سخت تاثرات سے نمبرز دیکھتی رہی اور پھٹ پڑی " تمہاری یہ ہمت میرا مقابلہ کرو؟؟؟ یہ ایک نمبر زیادہ لیا ہی کیوں؟؟میں ٹانگیں توڑ دونگی مجھے جانتی نہیں ہو ۔۔خبردار جو مجھ سے پنگا لیا آیندہ منہ توڑ دونگی۔۔۔۔انگلی سے وارننگ دیتےہوے میرا رزلٹ کارڈ اس نےاچھال کر پھینکا اور تن فن کرتی نکل گئی ۔۔
کسی لڑکی کا ایسا جارحانہ بلکہ بدمعاشی پر مبنی انداز میرے لیے انوکھا تھا میں نے ایسا رویہ لڑکوں میں تو دیکھا تھا لیکن لڑکیوں میں نہیں۔۔۔اس نے مجھے حیران و پریشان تو کیا ہی تھا ساتھ میں ایک اور نقصان یہ ہوا کہ میں اس کے پریشر میں آگئی ۔۔اور اسکے رویے سے خوفزدہ ہوگئی ۔

۔اس کے جانے کے بعد مجھے کلاس کی باقی لڑکیوں سے یہ معلوم ہوا کہ یہ ہماری کلاس کی کافی امیر، پوزیشن ہولڈر لڑاکا، بے خوف بلکہ مختصر کہا جاے تو " گلوبٹ " تھی۔۔۔اور میری بدقسمتی کہ میں نے جاتے ساتھ ہی اس کی پوزیشن چھین کر اس سے بیر باندھ لیا تھا ۔۔
یہ معلومات سننے کے بعد میں نے ٹیچر کو شکایت لگانے کا ارادہ بھی ملتوی کردیا کہ مسلسل دشمنی کون کرے اب۔اس دن میری ہمت نا ہوئی کہ بریک ٹائم ہی کلاس سے نکل سکوں۔۔مجھ میں اس بدتمیز لڑکی سےدوبارہ بے عزتی کروانے کی ہمت نا تھی۔۔
اور دل ہی دل میں دعا گو بھی تھی کہ اس سے سامنا نا ہو۔۔لیکن ایک ہی سکول میں پڑھتے ہوے یہ کہاں ممکن تھا ۔۔ البتہ اس کا سیکشن دوسرا تھا یہ بات میرے لیے طمانیت کا باعث تھی۔۔

۔میرا اس لڑکی سے سامنا اگلے دو دن تو نا ہوا اور میں نے اسی میں عافیت جانی۔۔لیکن تیسرے دن ٹیچر نے میرے سر پر بم یوں پھوڑا کہ رول نمبرز چینج ہوے ہیں لہذا مجھ سمیت کل آٹھ لڑکیوں کو اس سیکشن میں بھیج دیا گیا جس میں وہی گلو بٹ مانیٹر تھی۔۔

۔۔پہلا تاثر ہی ایسا پڑا تھا کہ میں اس سے خوفزدہ ہو چکی تھی ۔ ڈرتے ڈرتے میں اپنے بیگ کو دبوچے کلاس میں داخل ہوئی ۔سامنے ہی وہ بینچ پر ایک ٹانگ رکھے کڑے تیوروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔میں جھجھکتے ہوے کوئی محفوظ کونہ دیکھنے لگی جہاں اس کے عتاب سے بچ سکوں۔۔

۔پچھلی بینچوں کی طرف قدم بڑھاے ہی تھے کہ ٹیچر کی آواز سنائی دی " بیٹا آپ کہاں جا رہی ہیں؟ "
میں مڑ کر ان کو دیکھنے لگی ۔۔۔" ایسا کرو پہلی تین سے چار پوزیشن لینے والی بچیاں ایک ساتھ بیٹھو ۔۔" انہوں نے مجھے مس گلو بٹ کے بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ دیا ۔۔
میں نے مری مری نگاہوں سے اس کو دیکھا یہ خونخوار نظریں مجھ پر جما کر بولی " ٹیچر میری بینچ پر جگہ نہیں ہے"
ٹیچر مسکرا دیں" جگہ بنانے سے بنتی ہے۔۔چلو شاباش فرسٹ سیکنڈ تھرڈ آنے والی ساتھ بیٹھو "
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے بینچ کی طرف بڑھی۔۔اس نے آدھی جگہ بیگ کو گھسیٹ کر رکھا اور آدھی جگہ خود مل کر بیٹھ گئی ۔۔اب باقی جو جگہ تھی اس پر ہم دو لڑکیاں بمشکل گھس کر بیٹھیں۔۔
۔ٹیچر کلاس سے کچھ دیر باہر گئیں ۔۔اس نے فوراً میری۔طرف رخ موڑا
"خبردار ۔۔جو میری برابری کا سوچا۔۔۔میری بینچ پر بیٹھ گئی ہو تو میرے اصولوں پر چلنا ہوگا اور ۔۔۔میری دشمنی تمہاری صحت کےلیے اچھی نہیں"

اس نے چباتے ہوے لہجے میں کہہ کر تنفر سے رخ موڑ لیا ۔۔۔میں گوکہ ایسی کوئی بزدل بھی نا تھی ۔۔لیکن پھر بھی اس کا رویہ میرے لیے پریشانی کا باعث تھا ۔مجھے اس سے ایسے ہی خوف محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی چھٹے ہوے بدمعاش سے ہونا چاہیے۔۔۔
اب اس کے ساتھ سکول میں پڑھنا ہے یہ سوچ کر ہی میں پہلو بدل کر رہ گئی ۔۔۔اس دن بینچ پر میرا یوں جیناحرام کیے رکھا کہ پاوں مت ہلاو ۔۔
۔۔مجھے ٹچ کیوں ہوئی ہو ؟؟
مجھے دیکھا کیوں؟
وغیرہ وغیرہ۔
۔ میں نے دل میں سوچا اپنے اچھے سلوک سے اس کا دل جیت کر اس سے دوستی کرلونگی لیکن مجھے اندازہ نا تھا کہ اس نے مجھے کس قدر ٹف دینا ہے۔۔
۔۔اگلے دن میں کلاس میں آئی تو یہ موجود نا تھی ۔۔۔بینچ پر آکر بیٹھے ہوے بمشکل پانچ منٹ ہی ہوے ہونگیں کہ محترمہ کہیں سے آن وارد ہوئیں اور اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں میرے سر پر آن موجود ہوئی ۔۔میں بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔" یہ لو ڈسٹر ان تمام بینچز کو صاف کرو "
اس نے ڈسٹر میرے ہاتھ میں پٹخا ۔۔۔میں نے تذبذب سے ڈسٹر تھاما کمزور سا احتجاج کیا" لیکن یہ کام تو ماسی کرتی ہوگی؟؟"
اس نے تنک کر میری بات کاٹی " زیادہ زبان نا چلاو ۔۔میں مانیٹر ہوں میرا حکم۔چلے گا ۔۔جو کہا ہے چپ چاپ کرو "
میں نے ڈسٹر سے بینچ صاف کرنا شروع کردیے۔۔۔چند بیک بینچرز نے مجھے ہمدردی سے دیکھا ۔۔ کچھ کہنے کی ہمت ان میں بھی نا تھی ۔
۔میں تمام بینچ صاف کرکے واپس بینچ پر آگئی۔۔کچھ دیر بعد ٹیچر آگئیں۔۔ریاضی کا پیریڈ شروع ہوا ۔۔ٹیچر نے ٹیسٹ کرنے کو دیا ۔۔ہم سب ٹیسٹ حل کرنے لگے۔
۔۔ٹیسٹ جب چیک ہوے تو مس گلو بٹ کے اور میرے نمبر برابر نکلے۔۔۔
میں نے ہڑبڑا کر کاپی بند کی لیکن وہ دیکھ چکی تھی۔۔چڑ کر اس نے اپنی کاپی دوبارہ ٹیچر کے سامنے کی " ٹیچر میرا ٹیسٹ دوبارہ چیک کریں مجھے لگتا ہے میرے نمبر زیادہ بنتے ہیں"
ٹیچر اپنی کلاس کی پوزیشن ہولڈر بچی کو راضی کرنے کی خاطر اس کی کاپی لے کر پھر سے چیک کرنے لگیں۔۔جب اس کو لوٹائی ایک نمبر مزید کم ہوچکا تھا ۔ مسکراتے ہوے بولیں۔۔" لو بیٹا دوبارہ چیک کرایا میری تو نہیں تمہاری غلطی نکل آئی" میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی جو اس پر نظر پڑتے ہی بھک سے اڑ گئی کیونکہ کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔بھڑک کر میری طرف بڑھی " زیادہ دانت نکل رہے ہیں ؟؟سمجھتی کیا ہو خود کو" " اونہوں ۔۔۔بیٹا کیسے بات کر رہی ہو تم؟؟" ٹیچر نے اس کو ٹوکا ۔۔" ٹیچر یہ میرا مذاق اڑا رہی ہے" ادھر دیدہ دلیری سے اس نے جھوٹ بولا ۔۔ادھر میں نے گھبرا کر ٹیچر کو دیکھا .

ٹیچر کو میری شکل سے ہی غالباً اندازہ ہوگیا تھا کہ میں نے اس کو نہیں چِڑایا لہذا انہوں نے نوٹس نا لیتے ہوے اگلا ٹیسٹ چیک کرنے پر توجہ مذکور کر دی۔۔اور میں سکھ کا سانس لیتے ہوے بینچ کے کونے پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔
۔اس بینچ پر میرے اور اس کے علاوہ ایک اور پوزیشن ہولڈر بھی تھی جس کا تیسرا نمبر آیا تھا۔۔یہ بہت دوستانہ مزاج کی ہنس مکھ اور باتونی لڑکی تھی۔۔اس سے میری اچھی سلام دعا تھی۔ہم دونوں گلوبٹ کے زیر عتاب رہتیں بے عزتی کرا کے ایک دوسرےکو ایک ہی تسلی مختلف زاویوں سے دیتیں کہ کوئی بات نہیں یہ بدتمیز ہے جلد ہی ہمارا حسن سلوک اس کو بدل دے گا ۔۔

غالب امکان تھا کہ ہم اچھی دوستیں بن جاتیں۔۔لیکن ایک قیامت مزید ٹوٹی اس کے والد صاحب کا دوسرے شہر تبادلہ ہوا اور وہ سکول چھوڑ گئی۔۔اب مس گلو بٹ کو مجھ اکیلی کو جھیلنا تھا۔۔
۔۔اس دن اس نے بینچ پر فرضی لائن کھینچ کر مجھے وارننگ دی کہ یہ میرا ایریا ہے یہاں سے آگے نا خود بیٹھنا نا کوئی چیز رکھنا ۔۔میں نے تابعداری سے سر ہلا دیا۔۔ اس کے ساتھ بیٹھنے سے مجھے پنکھے پر لٹک کر پڑھنا پڑتا وہ بھی گوارا تھا ۔۔۔لیکن مجبوری تھی لہذا اس کو بھگتنا تھا۔۔

۔مجھے اس سکول میں دو مہینے ہونے کو آے تھے مس گلو بٹ کا ٹارچر مجھ پر روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔یہ مختلف طریقوں سے میرا ضبط آزما رہی تھی ۔۔ویسے میرا ضبط ٹوٹ بھی جاتا تب بھی میں نے کوئی خصوصی قیامت برپا نہیں کردینی تھی۔۔کیونکہ میری فطرت ہی صلح جو اور امن پسند ٹائپ تھی ۔۔مجھ میں اس جیسا ایٹی ٹیوڈ نا پید تھا ۔۔

میں عاجز تھی اور وہ مغرور۔۔میں لڑائی دنگوں سے دور بھاگتی اور اس کو ایسے موقع کی تلاش رہتی۔۔یوں سمجھیں ایک ہی بینچ پر زمین اور آسمان کو یکجا کیا گیا تھا ۔۔

ویسے تو سارے سکول میں اس کی کسی سے کوئی خاص نا بنتی تھی۔۔لیکن میری طرح جو ناچاہتے ہوے بھی اس کے مقابلے میں کھڑا ہوجاے اس نے تو یوں سمجھیں اپنے پیروں کو آرے والی مشین میں دے دیا ۔۔
اس نے مجھے زچ کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر عمل شروع کردیا تھا اور یہاں المیہ یہ تھا کہ اس کے پاس تنگ کرنے کے ایک ہزار ایک نسخے موجود تھے ۔۔
ایک مرتبہ اسمبلی کے دوران لائن میں کھڑے تھے ۔۔ روز یہ سب سے آگےہوتی اس دن یہ مجھ سے پیچھے کھڑی ہوئی۔۔مجھے تھوڑا سا کھٹکا ہوا ۔۔دل چاہا کسی اور لائن میں گھس جاوں ۔۔لیکن اسمبلی شروع ہوچکی تھی۔۔اپنی طرف سے خاصی محتاط کھڑی رہی بار بار اس کو مڑ کر دیکھتی بدلے میں یہ تڑخ کر بولی" کیا مصیبت ہے؟؟؟ اب مڑ کر دیکھا تو آنکھیں نکال لونگی"( جاری
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 45 Print Article Print
About the Author: Kiran Khan

Read More Articles by Kiran Khan: 12 Articles with 4727 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: