وزیر اعظم کے دورہ سعودیہ و ایران : اثرات و مضمرات

(Qadir Khan, Lahore)

وزیراعظم عمران خان ایران و سعودیہ عرب کے دورے پر ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے لیکن سعودی عرب نے آرمکو آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے ۔ ایران نے عمران خان کی ثالثی پیشکش کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ تاہم اس بات کی تردید بھی سامنے آچکی ہے کہ سعودی عرب نے عمران خان کو حالیہ کشیدگی دور کرنے کے لئے کوئی خط لکھا تھا۔ وزیراعظم کا چین کے بعد ایران اور پھر سعودی عرب کا دورہ، ایک اچھی روایت ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھیں جائیں ۔ لیکن بدقسمتی سے افغانستان ، بھارت کی راہ پر چل رہا ہے اور دونوں ممالک اشتعال انگیز بیانات سے پاکستان کی امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دورہ ایران و سعودیہ عرب خطے میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک بروقت اقدام ہے ، کیونکہ اس وقت ترکی شمالی شام میں آپریشن کرتے ہوئے پیش قدمی کررہا ہے اس سے کئی ممالک کو تحفظات بھی ہیں ، جنگ کسی خاص ملک و وقت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا دائرہ نہ چاہتے ہوئے بڑھتا چلا جاتا ہے ۔پاکستان اپنے دو نوں پڑوسی ممالک افغانستان و بھارت سے بھی بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن ان کے ایجنڈے فروعی مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ ومودی سرکار پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز نہیں آرہے ، حالاں کہ پاکستان نے افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لئے طورخم بارڈر کو 24گھنٹے کھولنے سمیت قیام امن کے لئے ان گنت مثبت اقدامات کئے ہیں ، لیکن کابل انتظامیہ نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کی امن کوششوں اور مثبت اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ۔ وزیر اعظم کے دونوں ممالک کے دوروں سے فوراََ کوئی فرق نہیں پڑے گا ، لیکن ثالثی کی ایک ایسی کوشش تو ضرورکی جا سکتی ہے جس کو دیکھتے ہوئے اکثریتی مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ اُن عالمی قوتوں کو بھی باور کرایا جاسکے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کسی ملک میں جنگ کرا کر، اربوں ڈالر کے جنگی سازو سامان کی فروخت و دوڑ سے اسلحہ بنانے والے ممالک کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے ، لیکن اس سے اُس ملک کی عوام کو معاشی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنگ اُس وقت ضروری ہوجاتی ہے جب کسی قوم کی بقا و سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیں اور جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہے ، ان حالات میں جنگ کے بغیر بات کرنا قابل ازوقت ہوتا ہے۔

وزیر اعظم گو کہ خود ملکی سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی خود اعتمادی بتاتی ہے کہ حزب اختلاف کی تحریک کو دبانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ملکی سیاست کے اہم کردار مولانا فضل الرحمن نے جس سبک رفتاری و سیاسی حکمت عملی سے آزادی مارچ کے لئے صرف خود پر تکیہ کیا وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے بھی سرپرائز ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ، بلکہ انہیں اِس دھرنے سے سیاسی فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور ملکی میڈیا کے ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔حکومت بظاہر مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کرنے کے لئے کسی کمیٹی کے قیام کی ضرورت کو ضروری نہیں سمجھتی ، لیکن انہیں جلد جے یو آئی (ف) سے مذاکرات کے لئے ایسے حلقوں کی ضرورت پڑسکتی ہے جو مولانا کو آزادی مارچ سے روکنے کی کوشش کریں گے ۔ وزیر اعظم کے حالیہ دورے کو بظاہر ایران و سعودیہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا ایک دورہ قرار دیا جارہا ہے ،لیکن اس حوالے سے سیاسی پنڈتوں کی رائے قدرے مختلف ہے۔

سعودیہ عرب اپنے دفاع کے لئے امریکا کی مدد حاصل کررہا ہے اور امریکی صدر مزید پانچ ہزار امریکی فوجی سعودی عرب میں جدید جنگی سامان کے ساتھ جلد تعینات کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ایران کا کردار مشرق وسطی میں محدود ہوگیاہے ، عراق میں ایران مخالف پُر تشدد احتجاج کے بعدخطے کی صورتحال تبدیل ہوتے نظر آرہی ہے۔ایران یمن میں حوثی باغیوں کی مدد کے نتیجے میں خود اقتصادی بحران کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ امریکا کی جانب سے بھی ایران پر سخت معاشی پابندیوں کا دباؤ ہے۔ ایرانی عوام میں بے چینی کی کیفیت میں اضافہ اس کی واضح مثال ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حکمت عملی کی وجہ سے غیر مشروط جنگ بندی کی پیش کش کی تھی لیکن سعودی عرب نے اس کو نظر انداز کرتے ہوئے دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی اور امریکا کے ساتھ ساتھ اب روس کے صدر پوتن بھی سعودیہ یاترا پر ہیں جہاں 16سے زائد معاہدوں پر دستخط بھی کئے جا رہے ہیں ۔

پاکستان کی ایران یا سعودی عرب کو قائل کرنے کی کوششیں کتنی کامیاب ہوئیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ، امریکا کو افغاستان سے محفوظ راستہ دینے کے لئے افغان مفاہمتی عمل کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی گامزن ہے ۔ امریکا اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنا چاہتا ہے لیکن معاہدہ نہ ہونے سے امریکا کے لئے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ ایران و سعودیہ کے پاس ایک آپشن ہے جو امریکا کو افغانستان کی جنگ سے نکالنے کے لئے ’’کچھ لو کچھ دو‘‘ کی پالیسی کی تحت مدد کرسکتے ہیں۔سعودی عرب ، ایران سے براہ راست الجھنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ سعودی عرب کی تمام توجہ یمن پر ہے ۔امریکا پر سعودی عرب کا انحصار زیادہ اور پاکستان پر بدقسمتی سے کم ہے ۔پاکستان و سعودی عرب کے تعلقات مثالی و دیرینہ ضروررہے ہیں گوکہ کچھ عرصہ سرد مہری کا شکار بھی تھے ۔ افغان طالبان ، سعودی اثر رسوخ سے آزاد اور ان کا انحصار بھی پاکستان پر بہت کم ہوگیا ہے۔ اسلام آباد دورے میں افغان طالبان اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور مبینہ طور پر دو بھارتی انجیئنر کے بدلے اپنے گورنر و کمانڈروں کو جس طرح رہا کرایا وہ عالمی برادری کے لئے خلاف توقع اور سر پرائز تھا ۔

عالمی سیاسی منظر نامے میں موجودہ حکومت کی بھاگ دوڑ کیا رنگ لائی گی ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ، لیکن عظیم مشرق وسطیٰ کے روز با روز بڑھتے سنگین حالات کی وجہ سے عوام میں کئی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم ملکی حالات کو سازگار کرنے پر بھی توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہے ۔ کیونکہ اس وقت مملکت کی بقا و سا لمیت خطرے میں ہے اور بیرون ممالک دوروں سے پاکستان کے سیاسی حالات کو نظر انداز کرنے کی پالیسی سے خدا نخواستہ منفی اثرات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔وزیر اعظم کو ملکی سیاسی حالات کو صرف ِ نظر کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ عالمی کردار اپنی جگہ لیکن جب اپنے گھر میں آگ لگی ہو تو دوسروں کے گھروں کی آگ کو بجھانا ناقص حکمت عملی قرار دی جاسکتی ہے ۔ کسی بھی ملک کی ثالثی کے لئے مینڈیٹ کے مطابق ملکی محدود کردار تک رہا جائے۔ ماضی میں اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی وجہ سے مملکت کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچ چکے ہیں۔ اس لئے ریاست کو سیاسی مفاہمت کی بھی زیادہ ضرورت ہ ے کیونکہ یہ سب کے حق میں بہتر ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 325 Articles with 100970 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: