فکر اقبال دور حاضر میں ۔۔۔قسط9

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

دراصل علامہ اقبال ؒ کہتے ہیں کہ شریعت کی پابندی کوبوجھ نہیں سمجھنا چاہیے اور اللہ اور اس کے رسولِ مقبولﷺ کی اطاعت کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت درحقیقت رب تعالیٰ کی اطاعت ہے۔قرآنِ مجید میں ارشادِ ربانی ہے:
(مَن یُطِیعِ الرّسول فَقَد اَطَا عَ اللَّہ)
(جس نے رسول کی اطاعت کی،اس نے اللہ کی اطاعت کی) اور
(یاایھا الذین امنواطیعو اللہ واطیعو الرسول)
(اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی)
خودی کی تربیت کا اگلا مرحلہ ضبطِ نفس ہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جس میں انسان اپنے دامن کو برائیوں کے خار سے بچاتے ہوئے نیکی کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔ وہ نفس کے بے لگام گھوڑے پر قابو پاتے ہوئے اپنے دل کو رذیل آرزؤں سے پاک رکھتا ہے اور جب انسان نفس پر قابو پا لیتا ہے تو اللہ کے خوف کے سوا اسے کسی کا خوف نہیں رہتا اور اس کا دل کبھی غیراللہ سے مرعوب نہیں ہوتا۔علامہ کہتے ہیں:
تا عصا ئے لا الہ داری بدست
ہر طلسمِ خوف را خواہی شکست
(جب تک اپنے ہاتھ میں لاالہ کا عصا رکھے گا تو ہر قسم کے خوف کے جادو کو توڑ دے گا)
اور مزید فرماتے ہیں:
ہر کہ حق باشد چو جاں اندر تنش
خم نگرددپیشِ باطل گردنش
جس کے اندر حق تعالٰی بسا ہوا ہے اس کی گردن باطل کے آگے نہیں جھکتی

خوف را در سینہ ء او راہِ نیست
خاطرش مرعوب غیراللہ نیست
ایسے شخص کے سینے میں خوف کی کوئی گنجائش نہیں، اس کا دل کبھی غیر اللہ سے مرعوب نہیں ہوتا۔
اطاعت اور ضبط ِ نفس کی منزل طے کرنے کے بعد خودی تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بندہ عبودیت میں گم ہوکر اللہ اور بندے کے فرق کو ختم کردیتا ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر بندہ، بندہ ءمومن بن جاتا ہے اور پھر اللہ کا ہاتھ اس کا ہاتھ بن جاتا ہے۔جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
’پس تم لوگوں نے ان کفار کو قتل نہیں کیا۔ اوراے نبی جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے احسانوں سے اچھی طرح آزمالے بے شک اللہ سنتا ہے جانتا ہے‘۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ ء مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا کار ساز
علامہ کہتے ہیں کہ اس مقام پر پہنچ کر بندے میں خدائی صفات پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ نیابتِ الٰہی کا صحیح حق دار بن جاتا ہے:
خاکی ونوری نہاد، بندہ ء مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی، اس کا دل بے نیاز
اور بندہء مومن کے بارے ربِ کائنات نےیوں ارشاد فرمایا ہے:
۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 48 Articles with 11247 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Reviews & Comments

Language: