فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کچھ یادیں کچھ باتیں

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)

اسلامی جموریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد کوئی ایسا حکمران نصیب نہ ہواجس کو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا ثانی کہا جا سکے۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ پاکستان کو سیاستدان و فوجی حکمران جو ملے وہ نااہل تھے ۔ اگر آج ہم اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت ہے تو اس کا سہرا بھی ماضی کے حکمرانوں کو جاتا ہیں ۔ حکمرانوں سے بھی عام لوگوں کی طرح غلطیاں ہونا خلاف قدرت نہیں ۔ آج ہم مختصر سا جائزہ لیتے ہے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان مرحوم و مغفور کے کچھ کاموں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ۔ کسی کے اچھے کاموں سے تعصب کی بناہ پر آنکھیں چرانا پاکستانی قوم کا شیوہ نہیں۔ یہی وجہ ہے آج بھی روڈ پر سفر کرتے ہوئے اکثر بسوں ٹرکوں اور رکشوں پر جنرل ایوب خان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوتا ہے تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔ آخر کیوں ؟ اس کی وجہ ۔۔

٭لاہور کی خستہ حال بادشاہی مسجد کو کس شخص نے از سر نو مرمت کرا کر شاندار بنا دیا تھا۔ کروڑوں روپے خرچ کر کے ساری مسجد مرمت کرائی اور میناروں پر سنگ مر مر کے سفید گنبد بنوایا مسجد کا مین دروازہ اور شاندار سیڑھیاں بنوا کر مسجد کو دیدہ زیب بنا دیا۔۔۔٭چوبرجی لاہور کے تین مینار تھے اور کھنڈر پڑی تھی.اس شخص نے چوتھا مینار اور ساری عمارت کو مرمت کرا کر اس کی عظمت بحال کی۔٭ شالا مار باغ کو از سر نو مرمت کروایالاہور کا شالامار باغ ویران پڑا تھا

اس وقت سے لوگ اسے بطور سیر گاہ استعمال کر رہے ہیں۔٭عالیشان مینار پاکستان تعمیر کروایا تھا۔
٭پاکستان کا دارلحکومت کراچی سے لا کر پہاڑوں کے بیچ اسلام آباد جیسی محفوظ جگہ پر بنوایا اورخوبصورت سرکاری عمارتیں تعمیر کرائیں

٭پاکستان کو خوراک میں خود کفیل بنانے کے لیے سارے پاکستان میں اشتمال اراضیات کرایا اور لوگوں کی بکھری زمینیں یکجا کرا دیں۔(پاکستان PI 480 کے تحت امریکہ سے گندم خیرات میں لیا کرتا)
٭فیصل آباد میں زرعی تجربات کے لیے 100 ایکڑ رقبے پر زرعی یونیورسٹی قائم کی۔٭ آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پہلے وارسک ڈیم بنوایا،پھر منگلا اور تربیلا ڈیم بنوایا اور کالا باغ ڈیم کی بنیاد رکھی جو سیاسی تعصب کی وجہ سے آج تک سیاستدانوں کی جان کو رو رہا ہے۔٭ مستقبل میں پنجاب یونیورسٹی کی ضرورتوں کو محسوس کر کے اسے نیو کیمپس کے لیے نہر کے دونوں طرف 27 مربع زمین الاٹ کر کے وہاں پر عمارات بنوا دیں۔٭ دریائے راوی، چناب، جہلم اور اٹک پر نئے پل تعمیر کرائے أور سکھر میں دریائے سندھ پر ریلوے پل کے ساتھ اتنے چوڑے دریا پر بغیر ستونوں کے شاندار معلق پل بنوایا۔
٭ کراچی سے حیدر آباد تک 100 میل لمبی شارٹ کٹ سپر ہائی وے تعمیر کرائی۔٭ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور پہاڑوں کے اندر ٹینک فیکٹری لگواء جو خالد ٹینک تیار کرتی ہے۔
٭رسالپور میں ریلوے انجن بنانے کی فیکٹری لگوائی۔٭ اسلام آباد میں ریلوے کی بوگیاں تیار کرنے کی فیکٹری لگوائی۔
٭ ان کی پالیسییوں سے لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان میں ٹیکسٹایل انڈسٹری لگی۔
٭ فیصل آباد میں ایک ایکڑ رقبے پر ٹیکسٹایل یونیورسٹی بنوا دی۔
٭ انہوں نے مستقبل میں تیل کی منہگائی اور نایابی کو بھانپ کر لاہور سے خانیوال تک تجرباتی طور پر الیکٹرک ٹرین چلائی تھی
جس کی ہمارے لوگ تاریں تو کیا پول بھی بیچ کر کھا گئے ہیں۔
٭ آج کا گوادر 1952 میں گوادر حکومت مسقط کا حصہ تھااسی شخص نے گوادر کا علاقہ مسقط سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔
پاکستان کی گوادر بندر گاہ اب پاک چین کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک کیلئے راہداری کا باعث بنی ہے
٭ صدر جرنل ایوب سے پہلے کرنسی انڈیا کی اور پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف پاکستان کا تھا
٭ مشرقی پاکستان میں بھی چائیتیار کرنے کے کارخانے اور بانس سے کاغذ تیار کرنے کی بہت بڑی کرنا فلی پیپر مل لگوائی تھی
٭ہ پٹسن سے کپڑا اور بوریاں تیار کرنے کی بڑی بڑی جوٹ ملیں لگوایں اور لاکھوں مچھیروں کی کشتیوں میں انجن فٹ کروا دی تاکہ انہیں سمندر میں دور تک جا کر مچھلیاں پکڑنے میں آسانی ہو۔
جنرل محمد ایوب خان کے کارناموں میں سنہری حروف سے لکھا جانے والہ 1959 بلدیاتی جموریت کا اصول یقینی بنایا ۔ ، نکاح، طلاق، پیدائش کا ریکارڈ درست و مرتب کروایا۔ خواتین کے حقوق اور وراثت میں حصہ قانون کا حصہ بنا یا وغیرہ وغیرہ

پہلے عرض کر چکا ہوں پاکستان کے حکمران بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور ان سے اچھے اور برے کام ہونا فطری سی بات ہے۔ ذاتی پسند اور ناپسند سے ہٹ کر ایسے حکمران جنہوں نے ملک و قوم کے لئے جو جو خدمات سر انجام دی ہوتیں ہیں ان کو سراہا جاناخودمختار اقوام کا مشغلہ ہوتا ہے۔ دعا ہے اﷲ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 269 Articles with 162124 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2019 Views: 425

Comments

آپ کی رائے