تباہی کا راستہ

(Sami Ullah Malik, )

آج سے ٹھیک 12سال پہلے اس وقت کے قصرِ سفید کے فرعون جارج بش اورنچلی گلی کے نمرود ٹونی بلیرنے کہاتھا کہ ہم دہشتگردوں کوخواہ وہ کشمیر میں ہوں‘فلسطین یاچیچنیا‘عراق یاافغانستان یادنیاکےکسی کونے میں ہوں‘ان کے منطقی انجام تک پہنچائےبغیرچین سے نہیں بیٹھیں گے۔یہ بات انہوں نے لندن میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔ دونوں لیڈروں نے کہاکہ دہشتگردہمیں ہمارے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹاسکتے‘ہم ہرسطح پراورہرمقام پرانہیں روکیں گےلیکن ٹھیک 15 سال بعدایسے ہی بیان کوپھردہرایاگیالیکن اس دفعہ اپنے اس عزم کودہرانے والے افرادکے صرف نام بدلے ہیں لیکن پالیسی بالکل نہیں بدلی۔

اوباماایک اہم میٹنگ میں مصروف تھے کہ ان کویہ اہم حادثے کی اطلاع پہنچائی گئی کہ”ساؤتھ ایشیااوراس کے گردونواح کے درجن سے زائدملکوں میں ڈرون حملوں کوکنٹرول کرنے والا خوست افغانستان میں سی آئی اے کاسب سے بڑاغیرملکی اڈہ اوروہاں پرکام کرنے والے انتہائی مہارت کے حامل تمام افرادسمیت ایک خودکش حملے میں تباہ کردیاگیاہے۔اب تک اس اڈے پر اڑتی ہوئی راکھ اس سپرطاقت کامذاق اڑانے کیلئےعبرت کے طور پرموجودہے۔چند لمحوں کے بعد اوبامانے میڈیا کے سامنے آج کے ٹرمپ کی طرح ہی غیض وغضب کا اظہارکیا جس سے صاف پتہ چلتاتھاکہ اب سرخ آندھی کی شدت اور اس کا رخ ہرکسی کوبہالے جائے گا۔

امریکاکوآج بھی افغانستان میں ایسی ہی مزاحمت کاسامناہے جیسااس کی دوگماشتہ ریاستوں اسرائیل اوربھارت کو فلسطین اور کشمیرمیں ہے۔تینوں ممالک ظلم‘وحشت اورتشددکے ذریعے عوام کو دبانے اوران کی سرزمین پراپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کےلئے کوشاں ہیں مگرتحریکِ مزاحمت میں کمی آنے کی بجائے تیزی آرہی ہے تاہم ٹرمپ نے ایک عوامی اجتماع میں اپنی باقی ماندہ فوج کی واپسی کاعندیہ دیاہےمگراسرائیل و بھارت نے سبق حاصل کرنے کی بجائے ریاستی دہشتگردی میں اجافہ کردیاہے جس کانتیجہ یقیناًخوفناک اورشرمناک ہوگا۔

افغانستان اورعراق پرامریکی حملے کسی اخلاقی و قانونی جوازسے محروم اورطاقت کی فرمانروائی کانتیجہ تھے۔آج تک امریکا11ستمبر کے واقعات میں افغانستان کی طالبان حکومت اورالقاعدہ تنظیم کے ملوث ہونے کاکوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ عراق پر حملے کا جوازمہلک کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو قراردیا گیااورصدام کے القاعدہ سے رابطوں کی کہانی گھڑی گئی مگرآج تک نہ توکیمیائی ہتھیاربرآمدکئے جاسکے اورنہ ہی القاعدہ سے رابطوں کاکوئی ثبوت ملا بلکہ خود امریکی اہلکار وعہدیداراپنی ناکامی اورغلطی کا اعتراف کیااورٹونی بلیئرنے عالمی میڈیاکے ساامنے معافی بھی مانگی۔

جہاں تک کشمیرکاتعلق ہے تواقوام متحدہ کی دونوں قراردادوں کوبھارت نے نہ صرف تسلیم کیابلکہ نہرواور دوسرے عالمی لیڈروں نے بطورضامن اس قرارداد پردستخط کئے کہ بھارت ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کاپابندہے جس کوبنیا قیادت پچھلی سات دہائیوں سے زائد اپنی کہنہ مکرنیوں سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے اوراب اس نے جہاں ان قراردادوں بلکہ اپنے ملک کے آئین کے بھی پرخچے اڑادیئے ہیں۔

کشمیری عوام نے بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے تنگ آکراپنے وطن کو آزاد کرانے کےلئے برسرپیکارہیں جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ان علاقوں میں اپنے حقِ خودارادیت کےلئے جدوجہد کرنے والوں کشمیریوں کے خلاف بھارتی سفاکانہ اقدام پرمکمل خاموشی یہ ثابت کررہی ہے کہ ان کی اصل جنگ مسلمانوں کے خلاف ہے اوروہ ہراس طاقت کے معاون اور سرپرست ہیں جومسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے کےلئے ریاستی دہشتگردی میں مصروف ہے بلکہ برسوں ہردو کالونیسٹ ذہنیت کے ممالک نے بعض مسلم حکمرانوں اوردانشوروں کی یہ غلط فہمی دورکردی اوراپنے ان دعووں کی بھی نفی کردی تھی کہ دہشتگردی کے خلاف حالیہ جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں اورامریکی قیادت دہشتگردی اورحقِ خودارادیت کی جنگ میں فرق کرتی ہے۔

اب پاکستان کے حکمرانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اوردہشتگردی کے خلاف تعاون کرکے وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں بلکہ کشمیر میں تحریکِ مزاحمت کچلنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کی تلوارسے کیوں کانپ رہے ہیں۔کمانڈو مشرف کے زمانے میں توہرقسم کی جہادی تنظیموں پرپابندی لگانے کامقصد دراصل کشمیر کی حمائت سے ہاتھ اٹھانے کا واضح اشارہ تھالیکن اس کے باوجودسفاک ہندوپاکستان کوبربادکرنے پرتلاہواہےاورموجودہ حکومت نے توبھارت کے ساتھ دوستی اوربات چیت کےلئے اپنے ہراصولی مؤقف کوبھول کرکئی اقدامات بھی کئےجس سے کشمیرکے بارے میں ان کی کوششوں کی حقیقت کا بھی صاف پتہ چل رہا ہے۔۔ہمارے حکمراں اپنے عوام کو غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کےلئے امریکا کی اب بھی صفائیاں دے رہے ہیں۔

امریکااوراس کے مغربی اتحادی اس انتہاپسندانہ‘یکطرفہ مسلم کش پالیسی کے نتیجہ میں افغانستان‘امریکی اوربرطانوی مفادات پرخودکش حملوں کی صورت میں اس جنگ کواپنی مکارانہ سیاسی چالوں سے پاکستان کی طرف موڑدیاہے۔امریکا اور برطانیہ نے اپنے ایجنٹوں کو یہ ٹاسک دیاہے جو ان معصوم لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کررہے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی تلوارپاکستانی افواج اور پاکستان میں مددگارثابت ہورہی ہے۔اس لئے تمہاراہدف اب پاکستان کی وہ تمام جماعتیں ہیں جو عملاً کشمیرکی آزادی کیلئے مسلح جدوجہدکانعرہ لگاتی ہیں جبکہ خوداقوام متحدہ کے چارٹرمیں یہ قراردادموجودہے جس میں ان تمام مظلوم قوموں کومسلح جدوجہدکاحق دیاگیاہے۔

سب سے پہلےامریکا نے یمن میں دہشتگردی کے خاتمے کےلئے اپنے اس مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کیاتھا جس کی آڑمیں اب سعودی عرب کومکمل ملوث کردیاگیاہے۔آپ کو اگریادہوتو میں نے آج سے 15سال پہلے پینٹاگون کے کرنل رالف پیٹر کے اس مجوزہ نقشے کی بابت خبردارکیاتھاجس میں کئی مسلم ممالک کے حصے بخرے کرکے کئی نئی مملکتوں کے قیام کو دکھایاگیاہے۔اب بھی وقت ہے کہ مسلمان حکمران ہوش کے ناخن لیں اورفوری طورپر مسلم سربراہ کانفرنس بلا کرایک موثراورپائیدارلائحہ عمل مرتب کریں۔امریکا کے عزائم کوسمجھیں‘بھارت کی سرپرستی کے نتائج کا درست اندازہ لگائیں اور فلسطین‘کشمیر‘عراق‘افغانستان میں تحریکِ مزاحمت کی ناکامی کے مضمرات پرغور کریں اورپھر مستقبل کاکوئی آبرو مندانہ اورٹھوس لائحہ عمل تیارکریں تاکہ ہرجگہ مسلمانوں کاخونِ ناحق بہانے کی موجودہ امریکی پالیسی میں تبدیلی لائی جاسکے۔

یاسرعرفات کاحشرسب کے سامنے ہے اوریہی حشران تمام حکمرانوں کاہوگاجو امریکی جنگ میں حصہ داربن رہے ہیں۔ مسلمان بھائیوں کی تحریکِ مزاحمت کو کمزور کرنے اور جہادکودہشتگردی اورانتہاپسندی قراردینے کے درپے ہیں‘یہ تباہی کاراستہ ہے۔اگرطالباان امریکااوراس کے اتحادی قوتوں کوافغانستان میں ان قاتلوں کوآئینہ دکھاسکتے ہیں توآخرایک ارب پچیس کروڑمسلمانو ں اوران کے حواری حکمرانوں کوکیوں سانپ سونگھ گیاہے اوروہ عالمی دہشتگردوں اورموجودہ دور کے ہٹلروں کے خلاف کیوں صدائے احتجاج بلندنہیں کرتے،جومل جل کرمسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں آخر سید علی گیلانی جیسے مجاہد سے کچھ توسبق حاصل کریں جوتن تنہا اس پیرانی سالی میں دنیا کے ایک بہت بڑے عقوبت خانے میں اپنی قوم کوآزادی کی منزل کی طرف لیکر رواں دواں ہے۔سید صاحب!یوں لگتاہے دنیابھرکے مسلمان شائد آپ کی قیادت میں جمع ہوکرہی اپنی گم گشتہ منزل کاگوہرحاصل کرپائیں گے۔اللہ آپ کا نگہبان ہو!
رہے نام میرے رب کا جو اپنے بندوں کےلئے کافی ہے!
اوردنیا سے بھلائی کا صلہ کیاملتا
آئینہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 150195 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 252

Comments

آپ کی رائے