آزادی مارچ کا قافلہ چل پڑا

(Umer Farooq, )

آزادی مارچ کے خلاف ایک زہریلاپروپیگنڈہ کیا گیا اوریہ سلسلہ بدستورجاری ہے ،ان لوگوں کی طرف سے مارچ کے پیچھے خفیہ ہاتھ ،خفیہ پلان تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جوخفیہ ہاتھ کے بغیرایک گھنٹہ کھڑے نہیں رہے سکتے ،کبھی مولانافضل الرحمن کی کرپشن ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی توکبھی جعلی خطوط کے ذریعے ان کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کی مذموم سعی کی گئی ،یہ تمام حربے ناکام ہوئے توحکومت نے اداروں کواستعمال کرناشروع کیا جن اداروں کوآزادکرنے کی بات کی جاتی تھی مگروہ آج کٹھ پتلی حکومت کے ہاتھوں کھلونابن چکے ہیں ۔

پہلے مولانافضل الرحمن کی تقاریراورپریس کانفرنسزپابندی عائدکی جب اس سے بھی کام نہ چلاتودلائل کے زورپرحکومتی وزیروں کومات دینے والے اپنے ہی شہری حافظ حمداﷲ کوغیرملکی ہونے کاسرٹیفکیٹ جاری کردیایہاں ہی بس نہ کی بلکہ ٹی وی ٹاک شوزمیں حکومتی نمائندوں کوناکوں چنے چبوانے والے مفتی کفایت اﷲ کوگرفتارکرکے جیل میں پھینک دیا،مگرکیاکریں کیوں کہ یہ دونوں ذراگرم اورتلخ مزاج تھے ابھی توٹھنڈے مزاج والے حافظ حسین احمدباقی ہیں جوبیماری کے باوجود جمعیت علماء اسلام کامقدمہ بہترین اندازمیں لڑرہے ہیں ہفتے میں ان کادومرتبہ ڈائلاسیزہوتاہے مگراس کے باوجود وہ اپنے مقابل کوآج بھی سامنے ٹھیرنے نہیں دیتے ،دھیمے اندازمیں ایسے نشترچلاتے ہیں کہ اگلاسمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیاوارہوگیاہے حکومت حافظ حسین احمدکی آوازکوبھی بندکرنے کاسوچ رہی ہے مگراس کابس نہیں چل رہاکیوں کہ حافظ حسین اپنے الفاظ اوراندازبیان کی وجہ سے پکڑائی نہیں دے رہے ہیں ۔
ؒ
آزادی مارچ کوروکنے کے لیے جمعیت علماء اسلام کی رضاکارتنظیم پرپابندی عائدکردی گئی،اس سے آگے بڑھ کرعوام کوگمراہ کرنے کے لیے مولانافضل الرحمن اوراجیت ڈول کی چھ سالہ پرانی تصویرمن پسندتشریح کے ساتھ چلادی گئی ،کبھی آزادی مارچ پرمذہبی کارڈاستعمال کرنے کاپروپیگنڈہ کیا گیاتوکبھی مدرسوں میں جاکرانہیں ڈرایااوردھمکایاگیا کہ مارچ میں شرکت نہ کرنا ۔دوسری طرف خود حکومت نے مذہبی کارڈاستعمال کیا بلکہ وزیرمذہبی امورنے اس کوفرقہ وارانہ تصادم میں بدلنے کی کوشش بھی کی، مخالف مسلک کی پشت پرہاتھ پھیراگیا اورنادان دوست ایک تھپکی پراچھل پڑے حالانکہ مولانافضل الرحمن اوران کی جماعت کایہ مارچ کسی مذہبی جماعت یامسلک کے خلاف نہیں اورنہ ہی انہوں نے اس طرح کی کوئی بات کی ہے ،حکمران جماعت کی طرف سے ایسی ایسی بچگانہ حرکتیں کیں کہ جنھیں دیکھ اورسن کرہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔

اس سب کے باوجود آزادی مارچ شروع ہوچکاہے سندھ کی سرزمین سے اس کاآغازہواہے یہ کارواں اس وقت تک پنچاب میں داخل ہوچکاہے سندھ کی دھرتی پرجس طرح جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کافقیدالمثال استقبال کیاگیا ہے اس سے واضح ہورہاہے کہ سندھ تبدیل ہورہاہے سندھ کے عوام نے متبادل کے طورپرجمعیت علماء اسلام کاانتخاب کرلیاہے جمعیت علماء اسلام کے متحرک رہنماء علامہ راشدسومرونے سندھ میں انقلاب برپاکردیاہے ،گزشتہ دھرنوں اوراس دھرنے میں یہ فرق ہے کہ یہاں ناچ گانانہیں ہے اورنہ ہی ڈانس ہے ،بلکہ سوشل میڈیاکے ذریعے جوتصاویراورویڈیوزمنظرعام پرآئی ہیں توآزادی مارچ کے شرکاء کانظموں اورنعروں کے ذریعے گرمایاجارہاہے شرکاء تلاوت کلام پاک اورنمازوں کااہتمام کررہے ہیں، ذکرواذکارکی محافل ہورہی ہیں مارچ کی کامیابی کے لیے خواتین گھروں میں روزے رکھ رہی ہیں ا س کے ساتھ ساتھ گونیازی گوکانعرہ شرکاء کاپسندیدہ نعرہ ہے ،باب الاسلام سے نکلنے والے اس قافلے کی منزل اسلام آبادہے جہاں پہلے ہی بوکھلاہٹ اورکپکپاہٹ طاری ہے ،ایسے لگتاہے کہ مولانافضل الرحمن نے یلغارکردی ہے اقتدارکے محلوں میں شمع برداروں کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں ۔

مولانافضل الرحمن کا آزادی مارچ کب ،کہاں،کیوں اورکیسے کے سوالات سے آگے بڑھ چکاہے اب اس کے نتائج پربات کی جارہی ہے مگرایک بات طے ہے کہ مولانافضل الرحمن نے آزادی مارچ کے پچاس فی صدنتائج حاصل کرلیے ہیں حکومت کے خلاف طاری جمود کوتوڑدیاہے سہاروں پرچلنے والی حکومت مزیدسہاروں کی محتاج ہوگئی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ مولانانے بکھری ہوئی اپوزیشن کومتحدکردیاہے کراچی سے سکھرتک مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی کارکن بھی مارچ میں شامل ہوئے ،کارکنوں میں تحرک پیداکردیاہے ،حکومت کے جوہاتھ کل تک اپوزیشن کے گلے میں تھے اب پاؤں میں آناشروع ہوگئے ہیں کل تک مذاکرات نہ کرنے کی بھڑکیں مارنے والے آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی اپوزیشن کے گھروں کے باہرمنڈلاتی نظرآتی ہے ،مزے کی بات یہ ہے کہ 2014میں جب عمران خان نے دھرنادیاتھا توان کے علاوہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں آج حکومت کے اتحادی بھی حکومت کے ساتھ کھڑے نظرنہیں آرہے ہیں ،کل سیاسی مقاصداوراپنی اناکی تسکین کے لیے دھرنوں میں خواتین اوربچوں کولایاگیا تھا آج اس مارچ میں نہ خواتین ہیں اورنہ ہی بچے ہیں بلکہ قوم کے وہ نوجوان شامل ہیں جن سے ملک کامستقبل وابستہ ہے ۔

31اکتوبرکواسلام آبادمیں عوام کاسیلاب آنے والاہے،ابھی توسندھ اورپنچاب کے لوگ قافلے میں شامل ہوئے ہیں جمعیت علماء اسلام اصل کیمپ خیبرپختونخواہ اوربلوچستان ہیں یہاں سے جب عوام نکلیں گے توحکمرانوں کے ہوش اڑجائیں گے اس کے ساتھ ساتھ ہزارہ ،آزادکشمیراورگلگت بلتستان سے بھی بڑی تعدادمیں لوگ آزادی مارچ میں شامل ہوں گے خان صاحب ایک موقع پرکہہ چکے ہیں کہ میرے خلاف اگر پندرہ ہزار لوگ سڑکوں پر آئے تو استعفی دے دونگا،،حالات بتارہے ہیں کہ وہ اپنے اس اعلان سے بھی یوٹرن لے لیں گے کیوں کہ یہاں بات پندرہ ہزارکی نہیں بلکہ لاکھوں تک جاپہنچی ہے ،آزادی مارچ کے اسلام آبادمیں داخلے اوردھرنے میں تبدیلی سے اگرچہ عوام کومشکلات کاسامناکرناپڑے گا مگرحکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پوراملک جس کرب کاشکارہے یہ مشکلات اس سے کم ہوں گی پھرجن لوگوں نے دھرنوں کی ریت ڈالی تھی اب انہیں بھگتناتوہوگا جوبویاتھا ووہ کاٹناپڑے گا ۔

حکومت بندگلی میں داخل ہورہی ہے ابھی تک اپنے اتحادیوں کواعتمادمیں نہیں لیاہے جس سپریم کورٹ کے فیصلے کاسہارہ لے کرآزادی مارچ کے شرکاء کوپریڈگراؤنڈیاایچ نائن میں روکنے کی باتیں کررہی ہے حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرچکی ہے اس سے واضح ہوتاہے کہ حکومت کی اخلاقی پوزیشن کیاہے ؟سپریم کورٹ کے جس جج نے یہ فیصلہ دیاتھا جس پرتحریک انصاف کوسب سے زیادہ تکلیف تھی حکومت اس جج کے خلاف ریفرنس دائرکرچکی ہے ،مگرپاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ فیصلہ اب حلال ہوچکاہے تواس لیے اس کاسہارہ لے کرآزادی مارچ کوروکنے کی کوشش کی جارہی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کااسلام آبادانتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کواپنی کامیابی قراردے رہی ہے ۔حالانکہ ان کے وزاراء کل تک یہ بیانات دے رہے تھے کہ ان کوایسابٹھائیں گے کہ دوبارہ اٹھیں گے نہیں وزیراعلی خیبرپختونخواہ توزیادہ ہی جوش میں تھے انہوں نے یہاں تک کہہ دیاتھا کہ آزادی مارچ والوں کوگھروں سے باہرنہیں نکلنے دیں گے مگراچانک ایساکیاہواکہ تمام راستے کھول دیے کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے ۔

حکومت ہرمحاذسے پسپائی اختیارکررہی ہے کشمیرکامحاذہی دیکھ لیں ایک تقریرکے بعد ہماری حکومت نے کیاکیاہے جومودی کشمیرکے مسئلے پرہمارادشمن ہے وہ کرتارپوررہ راہداری پرہمارادوست بن چکاہے یہ کیسی پالیسی ہے ایک مرتبہ وزیراعظم نے پھرکہاہے کہ پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں جہاد کی باتیں کرنے والے کشمیریوں سے دشمنی کررہے ہیں، اورخود حکومت کی حالت یہ ہے کہ کبھی آدھاگھنٹہ کھڑے ہوکراحتجاج ،کبھی کالی پٹی باندھ کریکجہتی اورکبھی درخت لگاکریوم سیاہ بنانے کے فیصلوں نے واقعی کشمیریوں اورقوم کومایوس کیاہے کشمیری وفاقی حکومت کی پالیسی سے خوش نہیں ہیں وہ نالاں ہیں اس کے ساتھ ساتھ سانحہ ساہیوال پرانصاف دینے کی بھڑکیں مارنے والے وزاراء کے بیانات سوشل میڈیاپروائرل ہورہے ہیں اورقاتل آزادہوکران کی بے بسی پرہنس رہے ہیں ،حکومت کے پاس کون سااخلاقی جوازباقی رہے جاتاہے کہ اسے مزیدحق حکمرانی دیاجائے ۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26422 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2019 Views: 288

Comments

آپ کی رائے