آزادی مارچ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟

(Ambreen Sethi, Karachi)

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اسلام آباد تک پہنچ چکا ہے اور یہ مارچ ایک دھرنے میں تبدیل ہونے جا رہا ہے اپوزیشن جماعتیں اس دھرنے کو الیکشن 2018 کی دھاندلی کے خلاف قرار دے رہی ہے جب کہ اس دھرنے کو وزیر اعظم جماعت کرپشن بچاؤ دھرنا قرار دیتے ہیں-

الیکشن دھاندلی کے خلاف ایک دھرنا ماضی قریب میں موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی 126 دن تک دیا گیا تھا مگر حکمران جماعت کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ دھرنے سے قبل انہوں نے دھاندلی کی شکایت کے لیے سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن ، الیکشن ٹریبونل اور قومی اسمبلی میں بھی آواز اٹھائی تھی اور وہاں سے انصاف نہ ملنے کے بعد عوام کی عدالت میں کئی جلسے کر کے اپنا کیس پیش کیا تھا جس کے بعد دھرنے کا انتہائی قدم اٹھایا گیا تھا-

جبکہ موجودہ اپوزیشن اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمن جو کہ اس بار اپنی سیٹ بچانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے تھے انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف کسی بھی پلیٹ فارم پر آواز نہیں اٹھائی اور پہلے مرحلے میں ہی آزادی مارچ کا اعلان کر کے حکومت کے خاتمے اور وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے-

اسی بات کو لے کر پاکستانی میڈیا پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور اکثر ٹی وی اینکرز جمعیت علما کی قیادت سے یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں اسی حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک اینکر جمیل فاروقی نے جب جمعیت علما اسلام کے وکیل کامران مرتضیٰ سے عوام کی جانب سے کیے گئے کچھ سوال پوچھے -

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں راتوں رات اس مارچ کے لیے ایک پیچ پر کیسے جمع ہو گئیں؟ انہوں نے مزید یہ سوال کیا کہ اس مارچ کے لیے اکتوبر کے مہینے کا ہی کیوں انتخاب کیا گیا ؟ کیا یہ مارچ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کرپشن کیسز میں رہائی دلوانے کے لیے کیا جا رہا ہے؟ یا پھر اس مارچ کے پیچھے بھارتی سوچ ہے اور بھارت اسلام آباد کے حالات خراب کر کے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کروا کر پاکستان کی معاشی حالت خراب کرنا چاہ رہا ہے؟ اس مارچ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے اور اس مارچ کی فنڈنگ کون کر رہا ہے؟

یہ تمام وہ سوالات تھے جو آج پاکستان کی عوام کے ذہنوں اور دلوں میں موجود ہیں مگر جب ان سوالوں کے جوابات کے لیے جمعیت علما اسلام کے وکیل سے ان کے جوابات دریافت کیے گئے تو انہوں نے ان سوالوں کے جواب دینے سے نہ صرف گریز کیا بلکہ اس شو کو ہی چھوڑ کر چلے گئے-

دوسری جانب جب دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا یہ تھا کہ دھاندلی کے حوالے سے تحقیقات کے لیے تمام ادارے موجود ہیں اپوزیشن رہنماؤں کو چاہیے کہ پہلے ان سے رجوع کریں اور اپنی شکایات وہاں درج کروائیں-

معروف اینکر کاشف عباسی نے بھی جب اس حوالے سے جمعیت العلما اسلام کے نمائندے سے استفسار کیا کہ اسلام آباد پہنچ کر آپ کی جماعت کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ اس سوال کا کوئی خاطر خواہ جواب دینے میں ناکام رہے-

اس وقت اس اوہام کی کیفیت میں عوام یہ پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ آخر کیا ہونے جا رہا ہے کیا ایک بار پھر اسلام آباد میں لاک ڈاؤن ہوگا یا پھر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ میں بیٹھنے میں کامیاب ہو جائے گا؟؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 452 Print Article Print
About the Author: Ambreen Sethi

Read More Articles by Ambreen Sethi: 5 Articles with 10134 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: