تبدیلی کا سفر

۱۹۹۹؁ میں کیڈٹ کالج پٹارو ، نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، جب PTV سے پتہ چلا کہ جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ پلٹ دیا۔ کیڈٹ کا لج تھا تو بڑی خوشی منائی گئی۔ اساتذہ فری پیریڈز میں مشرف کی مناجات اور نواز حکومت کی نا اہلیت بیان کرتے اور ہم سارے دوست سنتے اور سر دھنتے ۔ اس زمانے کے نوجوانوں کے لئے وہ بڑی تبدیلی تھی جس کو خوشی سے سب نے گلے لگایا اور مشرف کے ایجنڈے کا خیر مقدم کیا۔ پھر 9/11کا واقع ہوا اور امریکی اتحادی بننے کے بعد تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہی اساتذہ جو کچھ عرصہ پہلے مناجات سناتے تھے، وہ مشرف پر تنقیدی لیکچر دینے لگے اور ہم اپنی فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے رہے۔ امریکی تعاون کے نتیجے میں جو امداد ملی مشرف اس سے 4-5سال سکون سے نکال گیا اور عوام بھی راضی رہے کہ معاشی حالات قدرے بہتر تھے، پھر ایک دن NRO کا نعرہ لگا اور اس تبدیلی کا زوال شروع ہو گیا اور پھر جو کچھ ہوا دنیا واقف ہے۔

۲۰۱۸؁ الیکشن کے بعد ایوانوں میں تبدیلی آ گئی۔ بادشاہ بدل گئے، چہرے بدل گئے اور مہرے بھی۔عوام بھی ہمہ تن گوش کہ کئی دـٖہأیوں بعد ایک نئی پارٹی اور نیا حکمران آیا ہے تو دیکھیں ملک و قوم کی حالت میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ اور پھر سفر کی شروعات UTURN کے نعرہ سے ہوئی۔ حامی تو مجبور کہ آج تک توجیہ پیش کرتے ہیں مگر اربوں دنیا میں جو غیر متفق۔ اپنے اصولوں پر ڈٹ جانا اور حق بات پر قائم رہنا تاریخِ انسانی میں طرہ امتیاز رہا ہے اور ہماری قوم کی بدنصیبی کہ بادشاہ اپنی بات سے پھر جانے کو عظیم لیڈر کی نشانی بتاتا ہے۔ کیسی سفاک تربیت ہے نسل کی۔ غیر ملکی دورے، ایمنسٹی، IMFسے لے کر ایک کے بعد ایک UTURN اور تبدیلی میں پرانی یاداشتیں شامل ہوتی گئیں۔ بادشاہ ہر گناہ ، جس سے توبہ کی ترغیب دے کر یہ بساط بچھائی گئی تھی، انہیں جائز کرتا گیا۔ حامیوں کی مجبوری کہ تالیاں بجانا مقدر ٹہرا۔ حیرت یہ ہے کہ جو ایک دہائی سے معاشی پالیسیاں تیار کیے بیٹھیے تھے وہ نا اہل قرار پائے اور پورے ملک میں ایک بھی قابل نہ ملا جو خزانہ سنبھال سکتا۔ آخر کار اہلیت کے نام پر وہی آ گئے جن کے ہاتھوں پر پہلے ہی قوم کے معاشی قتل کا خون ہے۔SBPکا سربراہ بنانے کے لئے سودی نظام کے پیروکار ایک شخص کو امپورٹ کرنا پڑا، یقین آ گیا کہ ہماری اکانومی Import Base ہے۔

تبدیلی کا سفر چلتا گیا، اپوزیشن والے اندر ہوتے گئے اور دوسری طرف معاشی اصلاحات کے نام پر مہنگائی ، بیروزگاری، غربت، بد حالی اور ٹیکسوں میں اضافہ عوام کی کمر توڑتا گیا مگر حکمران کا جواب کہ 'گھبرانا نہیں ہے'۔ حکمران مشکل حالات کے نام پر عوام کو زہر پلاتے گئے اور بہتری کے عداد و شمار پیش کرتے رہے، مگر عوامی حالات میں بہتری ندارد۔ تبدیلی کے دعویداروں کے لئے فقط اتنی بات کہ اسٹیٹ بنک کی ویب سائٹ پر دیکھ لیں کہ ماضی اور حال میں کیا فرق ہے۔ سانحہ ساہیوال، صلاح الدین اور ایسے بے شمار کیسس کہ جو موجودہ دور میں ہوئے اور جن میں تحریک انصاف کی حکومت انصاف دلانے کی ذمہ دار تھی، وہ تمام کیس اور مدعی اپنے انجام کو پہنچے اور 'قاتل 'بے گناہ قرار پائے۔تبدیلی کے پروانے بھی شاکی کہ طاقتور کے لئے قانون وہی پرانا ہے جہاں حکمرانوں، امیروں اور مقتدر قوتوں کے لئے انصاف سمیت ہر سہولت کی فراہمی گھنٹوں اور دنوں میں مگر غریب و کمزور طبقہ کے لئے نسلوں کا انتظار مقدر ہو چکا۔ اقوام متحدہ میں بھارتی جارحیت کے خلاف تقریر شاندار رہی مگر آج کی حقیقت یہ ہے کہ تیسرا مہینہ چل رہا ہے اور کشمیریوں پر ظلم و جبر کا تسلط برقرار ہے۔

تبدیلی کے علمبردار دوستوں سے سوال یہ کہ اگر ایک جگہ ایک گندا شخص کچرا پھیلا رہا ہے اور ڈھیر ہے کہ روز بروز بڑھتا ہے۔ پھر ایک شخص صفائی کا نعرہ لگااس کی جگا کر آجائے تو ہونا یہ چاہیئے کہ اس دن سے کچرا مزید بڑھنا رک جائے ،باقی صاف ہونے میں چاہے کتنا وقت لگے، مگر المیاـء کہ کچرا ہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔UTURN لینے، اپنے قریبی ساتھیوں کو نوزانے، پرانے وارداتیوں کو کابینہ میں شامل کرنے، بدانتظامی، معاشی پالیسی کے نام پر غریب کی کمر توڑنے،اور انصاف کا جنازہ نکالنے سے لے کر ماڈل گرلز کے ایوانوں میں داخلے تک ہر جگہ شرمندگی کے سامان ہیں، مگر ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینے والوں کو شرمندگی کوئی نہیں۔

قدرت کا قانون ہے کہ توبہ کی توفیق اور قبولیت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو گناہ کو گناہ سمجھ کر تائب ہو۔ حالات کی ستم ظریفی اور مکافات عمل آج سامنے ہے کہ سابق حکمران جیلوں میں کس طرح دھکے کھا رہے ہیں۔ سیاسی میدان پھر گرم ہے اور اسلام آباد پھر آباد ہے۔ آج جو اندر ہیں کل وہ باہر بھی ہو سکتے ہیں ۔ توبہ کرنے کو مگر کوئی تیار نہیں۔

ہاں ایک واضح تبدیلی آئی ہے کہ حکومت اور فوج تسلسل کے ساتھ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ دونوں ایک پیج پر ہیں۔ مگر ہائے افسوس کہ 'مظلوم عوام' اس پیج پر فی الحال نظر نہیں آ رہے۔

اب یہ سوچا ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گا
تاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں


 

Syed Minhaj
About the Author: Syed Minhaj Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.