آزادی مارچ ۔۔اسلام آباد میں

(Umer Farooq, )

آزادی مارچ کراچی سے پندرہ سوکلومیٹرکاسفرطے کراسلام آبادمیں پہنچ چکاہے اسی طرح کاایک دوسراقافلہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے چل کراسلام آبادمیں داخل ہواہے، ان دونوں قافلوں نے یہ فاصلہ تقریبا ایک سوگھنٹوں میں طے کیا ہے قبائلی علاقوں اورخیبرپختونخواہ سے نکلنے والے قافلے بھی منزل مقصودپرپہنچ چکے ہیں یوں لاکھوں افرادپرمشتمل پاکستان کی تاریخ کایہ طویل ترین روڈ مارچ ہے جونہایت منظم طریقے اوربغیرکسی رکاوٹ کے اسلام آبادپہنچاہے مگرمجال ہے کہ کہیں بھی کوئی گڑبڑ ہوئی ہو چاروں صوبے بشمول آزادکشمیروگلگت بلتستان سے عوام بڑی تعدادمیں اس مارچ میں شامل ہوئے مگران کی زبانیں نفرت کے شعلے نہیں برسارہی تھیں بلکہ تلاوت کلام پاک اورذکرواذکارکی خوشبوئیں پھیلارہی تھیں، ،لاہورکے عوام اورمیڈیاکے نمائندے تواس قت حیران رہے گئے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ داڑھی پگڑی والے نہایت سلیقے سے سڑک کے اطراف میں بیٹھے ہیں اور میٹروبس بھی چل رہی ہے ،لوگ اپنی منزل کی طرف بھی گامزن ہیں مگردوسری طرف جلسہ ہورہاہے ، پرامن مارچ کی اس حسیں روایت کایہ سہرہ حقیقی معنوں میں مولاناکے سرسجتاہے ،

مولانانے حقیقی معنوں میں مذہبی جماعتوں اوردینی مدارس کاوہ روشن چہرہ دنیاکے سامنے پیش کیاہے جوپچھلے چنددھرنوں کی وجہ سے مسخ ہواتھا اوریہ تاثربھی زائل ہواہے کہ مذہبی لوگ پرامن اورمنظم نہیں ہیں ،عالمی سطح پراورلبرل حلقوں کاخیال ہے کہ مذہبی جماعتیں شدت پسندہیں یہ سلیقے طریقے سے احتجاج نہیں کرسکتیں بلکہ بین الاقوامی میڈیا ایسے جلوسوں میں کھوج لگارہاہوتا ہے کہ انہیں کوئی منفی نعرہ یاخبر مل جائے تاکہ پاکستان کوبدنام کیاجاسکے حالانکہ آپافردوس عاشق نے مولاناکے ساتھ کلاشنکوف والے بھی ڈھونڈلیے تھے اوراس کوخبربنانے کی بھی کوشش کی مگر ان کی طرح اوربہت سے لوگوں کو بھی اس حوالے سے مایوسی کاسامناکرناپڑاالبتہ حکومت نے اس موقع پرکینٹنروں کی پکڑدھکڑکی ہے اورجوافراتفری مچائی ہے اس سے بہت کچھ عیاں ہورہاہے ۔

اس موقع پرحکومت کی طرف سے اشتعال انگیزاقدامات کے ذریعے جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کومشتعل کرنے کی بھی کوشش کی گئی ،پہلے ان کی رضاکارفورس پرنارواپابندی عائدکی گئی ،پھرجے یوآئی کے رہنماء حافظ حمداﷲ کو غیرملکی قراردے دیاگیا مفتی کفایت اﷲ کوجیل میں ڈال دیاگیاآزادی مارچ کوالیکٹرانک میڈیاسے بلیک آؤٹ کیاگیا ،بلوچستان میں لیویزاہلکاروں کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کے رضاکاروں کے ساتھ جھگڑے کوبڑھاچڑھاکرپیش کیاگیا جمعیت علما ء اسلام کے خلاف یکطرفہ میڈیاٹرائل کیا گیاپیمرانے میڈیاپراچانک نارواپابندیاں عائدکیں مولانافضل الرحمن کومختلف طریقے سے ڈرایادھمکایاگیا آزادی مارچ کے شروع ہوتے ہی فاٹاسے سابق امیدواراسمبلی مفتی محمدسلطان کوشہیدکردیاگیا مختلف مختلف مذہبی شخصیات کومولاناکے خلاف استعمال کیا گیا مدارس کوہراساں کیاگیا غرضیکہ کون سااقدام تھا کہ جوحکومت نے آزادی مارچ والوں کومشتعل کرنے کے لیے نہیں کیا مگرمولانانے تاحال صبرکادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا انہو ں نے عدالتی فورم استعمال کیا اورریلیف حاصل کیا ۔

مولانافضل الرحمن اوران کی جماعت نے یہ ثابت کیاہے کہ وہ نہ صرف پرامن ہیں بلکہ منظم بھی ہیں مولانافضل الرحمن نے پرامن احتجاج کی یہ شاندارروایت ڈالی ہے ،مولانانے اتنے بڑے جم غفیرکے ہمراہ طویل ترین اورنہایت پرامن مارچ کرکے عمران خان ،طاہرالقادری کواس میدان میں بھی شکست دے دی ہے اورثابت کیاہے کہ انہوں نے اسلام آبادپرچڑھائی ضرورکی ہے مگران کی طرح جلادو،آگ لگادو کے نعرے نہیں لگائے ۔جولوگ یہ کہہ کرعوام کوگمراہ کررہے ہیں کہ مولاناکے مارچ کی وجہ سے بھارت اور ایف اے ٹی ایف کوپاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کاموقع ملاہے دراصل مولانانے ایسے بیمارذہنوں اورایف اے ٹی ایف کوعملی طورپرجواب دیاہے کہ مذہبی لوگ اورمدارس پرامن ہیں ان کادہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
اس آزادی مارچ میں مولانافضل الرحمن حقیقی طورپرایک عوامی لیڈربن کرابھرے ہیں اب وہ صرف بلوچستان اورخیبرپختونخواہ تک محدودنہیں رہے بلکہ اس عوامی مارچ میں انہیں پنچاب اورسندھ میں بھی بھرپورپذیرائی ملی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام اہم شاہراؤں پرمولاناکی گاڑی پرمنی پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں ،دیگرسیاسی جماعتوں کے کارکنوں کومولاناکی گاڑی چومتے دیکھاگیا کراچی سے اسلام آبادتک جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی جوخدمت مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کی ہے اس کوبھی مدتوں یادرکھاجائے گا ۔

اس کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اورسابق صدرآصف علی زرداری کے جیل جانے اوران کی بیماری کی وجہ سے جوخلاپیداہواہے مولانانے نہایت احسن طریقے سے اس خلا کوپرکیاہے اورحقیقی اپوزیشن قائدکے طورپرسامنے آئے ہیں یہ مولانافضل الرحمن کی خوبی ہے کہ انہوں نے مذہبی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود سیکولرجماعتوں اورقوم پرستوں کوساتھ ملایاہے آج آزادی مارچ میں محمود خان اچکزئی ،میرحاصل بزنجو،اسفندیارولی خان جیسے نیشنلسٹ بھی ہمرکاب ہیں اس کے باوجود اگرکوئی عقل کااندھامولاناپریہ الزام عائدکرے کہ وہ مذہبی کارڈ استعمال کررہے ہیں تواس کی عقل پرماتم ہی کیاجاسکتاہے ۔
آزادی مارچ میں مذہبی ومسلکی ہم آہنگی کابھی خواب اظہارہواہے جمعیت علماء پاکستان کے علامہ شاوہ اویس نورانی نے اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے مولاناکابھرپورساتھ دیاہے انہوں نے ایساساتھ دیاہے کہ جس پررشک ہی کیاجاسکتاہے ان کے والدعلامہ شاہ احمدنورانی مرحوم نے 1977کی تحریک اوردیگرتحریکوں میں مفتی محمودؒ کااسی طرح ساتھ دے کراتحادویگانگت کی مثال قائم کی تھی آج علامہ شاہ اویس نورانی آزادی مارچ کے کینٹینرپرہی نہیں کھڑے ہیں بلکہ وہ مولاناکے بااعتمادساتھی ہیں،علامہ شاہ اویس نورانی کی جماعت نے آزادی مارچ کامختلف مقامات پرشانداراستقبال کیا اسی طر ح مرکزی جمعیت اہل حدیث بھی مولاناکے شانہ بشانہ کھڑی ہے اوردامے درمے سخنے اپناکرداراداکررہی ہے اس کے ساتھ ساتھ سندھ ،پنچاب اورخیبرپختونخواہ کے گدی نشیں بھی مارچ میں شامل ہیں گزشتہ رات پنڈال میں معروف عالم دین پیرعزیزالرحمن نے ذکرکی محفل سجائی مولاناکی طرف سے یہ ان لوگوں کوجواب تھا جواس مارچ کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی سازش کررہے تھے اس کے ساتھ سندھ کی اقلیتی برادری بھی بڑی تعدادمیں مولاناکے آزادی مارچ میں شامل ہوئی ہے ۔

اب یہ آزادی مارچ اسلام آبادمیں پڑاؤڈال چکاہے اس کی اگلی منزل کیاہے یہ اگلے چندگھنٹوں میں واضح ہوجائے گامولاناحکمرانوں کے خلاف اپناپہلاراؤنڈ جیت چکے ہیں اعصابی جنگ میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے ،مولاناکی اخلاقی پوزیشن بھی بہترہے ،مگرسب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیاوہ اپنے مقاصدحاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ؟اس وقت اسلام آبادمیں یہ سوال ہرایک کی زبان پرہے ہرایک اپنی اپنی سمجھ اورمعلومات کے مطابق جواب دے رہاہے ۔ حکمرانوں کے تیوربتارہے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھرسے جمعیت علما ء اسلام کومشتعل کرنے کے اقدامات کریں گے مولانافضل الرحمن اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مطالبات قوم کے سامنے رکھ چکی ہیں شہراقتدارمیں افراتفری مچی ہوئی ہے وزیراعظم نے کہاہے کہ وہ استعفی نہیں دیں گے مگرمارچ والوں کااصرارہے کہ جعلی حکومت کوہرصورت گھرجاناہوگا مولاناکی مٹھی کیابندہے یہ اب تک کسی کونہیں معلوم ہوسکاہے لیکن ایک چیزواضح ہے کہ مولاناایک بڑالشکرلے کر اسلام آبادآچکے ہیں اب حکومت اوراپوزیشن دونوں کاامتحان شروع ہوچکاہے ۔

اب یہ سوال بے معنی ہوکررہے گیا ہے کہ یہ احتجاج کیوں کیاجارہاہے کیوں کہ کشمیرپرپسپائی سے لے کرمعیشت کی ڈوبتی کشتی تک ،بے روزگاری سے مہنگائی تک ،پارلیمنٹ کی بجائے صدارتی آرڈیننس پرچلنے والی حکومت کے توشہ میں ایک بھی کامیابی نہیں ہے حکومت کے پاس ایک بڑی کامیابی ہے اوروہ ہے کرتارپورہ راہداری کی تکمیل ،مگراس سے پاکستانی عوام کوکیافائدہ ہوا ؟عوامی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ٹیکسزکی وجہ سے تاجرچیخ رہے ہیں تبدیلی کانعرہ کافورہوچکاہے کون ساطبقہ ہے جوحکومت کی پالیسیوں سے خوش ہے ؟پی ٹی آئی کے پشتیبان بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں ،لانے والے بھی پریشان ہیں البتہ پی ٹی آئی کے وہ ورکرزابھی تک ہاری ہوئی جنگ لڑنے کی کوشش کررہے ہیں مگریہ جنگ توکب کی ختم ہوچکی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26568 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2019 Views: 231

Comments

آپ کی رائے