چائے نہیں پیتے ، جنت میں کیسے جاؤں گے؟

(Saba Naz, )

چائے نہیں پیتے ، جنت میں کیسے جاؤں گے؟
سوشل میڈیا پر کسی نے کیا خوب کہا ہے
روک دو میرا جنازہ ، مجھ میں جان آگئی ہے
وہ سامنے دیکھو ظالمو! چائے کی دکان آگئی ہے۔
حالیہ نیوز کے مطابق لیسیٹر شائر کے برونسٹون ٹاؤن کی 73 سالہ ٹینا واٹسن نامی خاتون کی تدفین ٹی بیگ تابوت میں کی گئی۔ جی ہاں ! یہ خاتون چائے پینے کی اس حد تک شوقین تھی کہ دن میں 30 سے 40 پیالیاں پی جاتی تھیں اور انھوں نے مرنے سے قبل اپنی بیٹی سے انوکھی آخری خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کی تدفین " ٹی بیگ تابوت" میں کی جائے ۔

پاکستانیوں کی رو سے لفظ چائے کا مطلب " آرام، سکون، تسلی، دوائی، امید، پروٹین ، وٹامن، زندگی " ہے۔ موسمِ گرما ہو یا سرما ، خزاں ہو یا بہارپاکستان میں چائے کا موسم اِن رہتا ہے ۔ ہم پاکستانیوں کا چائے سے بہت پرانا اور گہرا تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کا غریب ہو یا امیر اس کے منہ میں صبح سویرے روٹی کا لقمہ جائے یا نہ جائے چائے کے چند گھونٹ اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔ کچھ لوگوں کے لیے تو ان کی بنیادی ضرورتوں میں صبح کی چائے، ۱۱ بجے کی چائے، دوپہر کی چائے، شام کی چائے اور رات کی چائے شامل ہیں یوں کہنا غلط نہ ہوگا ان کا اوڑھنا بچھونا ہی چائے ہے۔ خوشی ہو یا غم ، آفس ہو یا تفریحی مقام یا ہو گھر کی چار دیواری ، تندرست ہو یا بیمار، چھوٹا ہو یا بڑا غرض ہر جگہ ، ہر موقع پرہر کسی کو چائے چاہیے۔ڈراموں اور فلموں کا رومانس ہو یا اصل زندگی میں رشتہ طے ہونا ہو تمام معاملات چائے کی پیالی پر تکمیل پاتے ہیں ، کوئی ذہنی الجھن ہو یا کرنی ہو امتحانات کی تیاری ، دوست سے لڑائی ہو یا ٹریٹ ہو دوست کی ایک پیالی چائے لادیتی چہرے پر مسکراہٹ ، اب تو ہمارے فوجی بھی دشمن کو پی لا کر پوچھتے ہیں، ہاں بھئی! بتاؤ کیسی لگی چائے؟

چائے پاکستانی مشروبات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مشروب ہے۔ پاکستان میں چائے کی پیداوار نہیں ، البتہ دنیا بھر میں چائے استعمال کرنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ کیا آپ چائے کی تاریخ جانتے ہیں؟ چائے دنیا میں پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب ہے جو دنیا کے ہر خطے میں علیحدہ طریقے سے تیار اور استعمال کیا جاتا ہے۔ چائے کا اصل خطہ چین کا جنوب مغربی علاقہ ہے جہاں سالانہ 1.6 ارب پاونڈز چائے پی جاتی ہے۔ جبکہ فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو ترکی، آئرلینڈاور برطانیہ سب سے آگے ہیں جہاں دنیا کے سب سے زیادہ چائے کے شوقین پائے جاتے ہیں۔

چینی زبان میں چائے کا نام یہ ہی ہے ، برصغیر میں بھی اسے چائے ہی کہا جاتا ہے ۔ انگریزوں نے اسے tea کا نام دیا ہے جبکہ عرب میں یہی چائے " شائے" اور فرانس میں " تے" کہلاتی ہے ۔ چائے کی دریافت کا سہرا چین کے کسان شننونگ کے سر ہے جو زراعت کا بانی کہلاتا ہے۔ شننونگ نے اپنے ایک مذہبی سفر کے دوران زہریلی جڑی بوٹی کھا لی تھی جس کے باعث وہ مرنے کے قریب آپہنچے تھے ۔ ایسے میں شننونگ نے ایک پتہ چبا یا جس نے انہیں موت کے منہ سے باہر نکالا ۔ یہی وہ چائے کی پتی کا پتہ تھا جو آگے چل کر دنیا کا پسندیدہ مشروب بنا۔ گو کہ چائے میں زہر کا تریاق نہیں لہذا مورخنین شننونگ کی کہانی کو داستان کا نام دیتے ہیں۔ لیکن ماہر آ ثار قدیمہ کے مطابق چائے کی پہلی کاشت اسی خطے میں 6 ہزار سال قبل کی گئی تھی۔

چائے کے پتوں کو ابتدا میں کھانے کے طور پر استعمال کیاجاتا تھا ، کہیں اسے بطور سبزی استعمال کیا جاتا تو کہیں گندم کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا تھا۔ بالآخر گرم چائے کے مشروب نے اسٹینڈرڈ حیثیت اختیار کی، جس کا ابتدائی نام " میٹ چا" یا " موچا" تھا۔ یہ مشروب چین میں بہت مقبول ہوگیا یہاں تک کہ بادشاہوں کا بھی پسندیدمشروب بن گیا۔ آہستہ آہستہ چائے چین کی اہم تجارتی شے بن گئی اور بڑے پیمانے پر اس کو چین سے خریدا جانے لگا۔

نویں صدی میں چائے جاپان ، یورپ اور برطانیہ میں مقبول ہونے لگی۔ برطانیہ میں چائے کی مقبولیت کی وجہ وہاں کی ملکہ کیتھرائن آف برگنزا تھیں جو پرتگال کے اہم خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، ء1685 میں انھوں نے چائے کو برطانوی اشرافیہ کا پسندیدہ مشروب قرار دیا۔ 1700ء تک چائے یورپ میں کافی سے 10 گنا زائد فروخت کی جانے لگی جبکہ اس کی پیداوار صرف چین میں ہوتی تھی۔ اس دور میں اس کی تجارت منافع بخش کاروبار بن چکی تھی یہی وجہ تھی کہ برطانیہ چائے کو چاندی کے سکوں کے عوض خریدا کرتا تھا تاہم یہ سودا اسے مہنگا پڑنے لگا۔ بعدازاں برطانیہ نے چین کو چائے کے بدلے افیم کی پیشکش دی جسے اس نے قبول کرلی اور یوں دونوں ممالک کے درمیان چائے اور افیم کا تبادلہ ہونے لگا۔ اس تجارتی تبادلہ کا سب سے زیادہ نقصان چینی عوام کی صحت پر ہوا اور نشے میں دھت چینی اپنے مستقبل تو تاریکی بناتے گے۔ 1839 میں ایک چینی حکومتی عہدیدار نے برطانیہ کی کھیپ کو تباہ کرنے کا حکم دیا ، یہ عمل دونوں کے درمیان جنگ کا آغاز بنا۔ 1842 میں قنگ خانوادے نے انگریزوں سے شکست کھائی اور ہانگ کانگ کی بندرگاہ ان کے حوالے کردی ، اور چائے کی تجارت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا لیکن اب چین کو بدلے میں کچھ نہیں ملتا تھا جس سے چین کی معیشت پر بری طرح متاثر ہوئی۔

اسی دوران برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی چائے کی فصل پر اجارہ داری کرنے کے لیے اسے خودسے اگانا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک برطانوی ماہر حیاتیات کو مقرر کیا جو چین سے چائے کو پودوں کو چرا کر بھارت کے علاقے دارجلنگ میں اسمگل کرتا تھا۔ بعدازاں دارجلنگ میں بھی مقامی چائے کی کاشت کا آغاز ہوگیا۔

یوں برطانوی گوروں نے سبز چائے کے پتوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ،جسے چینی پان کی طرح چبایا کرتے تھے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ چائے برصغیر میں نوش کی جاتی ہے ، حالیہ سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی 57 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی چائے اڑا چکے ہیں (شاید ان میں سے اکثریت کا تو بلڈ گروپ بھی T-positive ہی ہوگا)۔ وہ مشروب جسے شروعات میں حقارت سے دیکھا جاتا تھا آج ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے اور یہ بات درست ہے آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں لیکن آدھی پیالی چائے پینے کا بول کر پوری پیالی اڑادینے کا فن صرف پاکستانیوں کے پاس ہی ہے ۔ تاہم اس سب کے باوجود ہمارے درمیان بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بالکل چائے کے شوقین نہیں ہوتے تو ہم انہیں یہی کہیں گے بھئی! چائے نہیں پیتے ۔۔۔ جنت میں کیسے جاؤں گے؟ پی لو، اس سے پہلے کہ اس پر بھی ٹیکس لگ جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saba Naz

Read More Articles by Saba Naz: 13 Articles with 7937 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2019 Views: 607

Comments

آپ کی رائے