اور تبدیلی آ گئی --

(Usman Ahsan, Gujranwala)
توں تبدیلیو بس کریں اوہ یار -
سانوں دتا ایس تبدیلی تھاں مار

Change تبدیلی ایک مسحور کن الفاظ میں سے ایک ہے پوری دنیا میں بولا لکھا جاتا ہے ۔ مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں یہ نعرہ اپنی افادیت کھوچکا ہے - مخلوق خدا بابا بلھے شاہ کا لہجہ ادھار لیکر کہہ رہے ہیں توں تبدیلیو بس کریں اوہ یار - سانوں دتا ایس تبدیلی تھاں مار - میں ایک عام آدمی ہوں میرا اٹھنا بیٹھنا عام لوگوں میں ہے ! حقیقت میں خلق خدا بہت زیادہ مشکل میں ہے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اچھے بھلے خود کفیل لوگ تبدیلی کے بعد فقیر بن چکے ہیں - سرمایہ دار سرمایہ دبا گیا ہے یا ملک چھوڑ کے جاچکا ہے اور باقی ماندہ پائپ لائن میں ہیں ۔ مہنگائی کا اک طوفان بدتمیزی ہے جسے تبدیلی سرکار اور انتظامیہ خود ساختہ کہتی ہے ۔ مگر یہ سب ایک سال سے سن رہے ہیں نہ کوئی پلان ہے اور نہ ہی مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت ہے ۔ سب سے پہلے میں نے کہا تھا کہ تبدیلی سرکار صرف سوشل میڈیا پر چل رہی ہے . اوپر سے نیچے تک ٹویٹو سلطانوں کی اک فوج ظفرموج ہے جو ٹویٹ کرکے بتاتی ہے کہ مصنوعی مہنگائی ہے اور ٹاسک فورس بس بن رہی ہے جو مہنگائی کنٹرول کرلے گی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ لوگ اس بیانیے کو سچ مان رہے ہیں اور یقین کررہے ہیں کہ مہنگائی خود ساختہ ہے اور حکومت اس پر قابو پا لے گی جو دیوانے کا خواب ہے . میرا سوال ہے ٹویٹو سلطانوں سے کہ پیٹرول کی قیمتیں کتنی بار بڑھی ہیں بجلی اور گیس کے نرخ کتنی بار بڑھے ہیں - پہلے جب چوروں کی حکومت تھی تو کمرشل فی یونٹ بشمول ٹیکس اٹھارہ روپے کا تھا جو کہ اب پارساؤں کی حکومت میں اکتیس روپے کا ہے ۔ ٹویٹو سلطانوں یہ سب مہنگائی میں نہیں بدلے گا تو کس میں بدلے گا کیونکہ ملز کارخانے پانی اور ہوا سے تو نہیں چلتے مگر یہ سب کامن سینس کی باتیں ہیں جن سے یہ لوگ عاری ہیں ۔ اب ٹاسک فورسز پرچون فروشوں کا جینا حرام کریں گی اور شوگر ملز فلور ملز کی طرف کوئی دیکھنے کی بھی جرات نہیں کرے گا ۔ اس ملک کا نظام ہے ہی عام آدمی کے لئیے ہے تگڑے آدمی کے سامنے یہ سسٹم لیٹ جاتا ہے ۔
اس ظالمانہ نظام کو بدلنے کے لئیے ہم نے قائد ملت اسلامیہ کو ووٹ دیا تھا - یقین کریں جان پہچان والے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تم ہی پی ٹی آئی کے بہت بڑے سپورٹر تھے تم نے پی ٹی آئی کا جلسہ بھی کروایا تھا اور تقریر بھی جھاڑی تھی اب بتاؤ تبدیلی کا کیا بنا - میں عرض کرتا ہوں بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی - عام لوگوں کا ماننا ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لئیے وقت درکار ہے مگر میرا ماننا ہے کہ ایک سال کافی ہوتا ہے چلو اگر مکمل تبدیلی نہیں لا سکے کوئی دو چار قدم ہی طے کرلیتے ۔ آپ نے آگے منزل کی طرف کیا سفر کرنا تھا آپ نے تو قوم کو باجماعت تیس سال پیچھے پہنچا دیا ہے - بامشکل ہم راشن ڈپو اور راشن کارڈ کی لائنوں سے باہر نکلے تھے آپ نے پھر اس راشن ڈپو کی قطار میں کھڑا کردیا ہے ۔ بابا جی کہتے ہیں پتر اس دور میں جتنا گو - گو - گو - ہورہا ہے اتنا تو صدر ایوب کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا ۔ کہانی تے مک گئی اے بس ضد باقی اے ۔
الله پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 285 Print Article Print
About the Author: Usman Ahsan

Read More Articles by Usman Ahsan: 139 Articles with 86782 views »
System analyst, writer. .. View More

Reviews & Comments

بالکل ٹھیک کالم لکھا ہے۔
چور مچائے شور والی بات ہے۔ پہلے تو چور ڈاکو کھا گئے، اب کون کھا رہا ہے۔
جب ان کے حمایتوں کے کاروبار تباہ اور نوکریاں ختم ہونگی تو انہیں سمجھ آئیگی کہ ہمارے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔
By: Irfan, Islamabad on Nov, 14 2019
Reply Reply
0 Like
محترم ،
٧٠ سال کا کرپٹ نظام ایک سال میں نہیں بدلتا اس کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے اور قربانی دینے سے اس قوم کی جان جاتی ہے تو پھر انہیں چوروں کو واپس لے آؤ مگر پھر ان کے چور ہونے کا رونا بند کرو اور یہ چور آخر میں اس ملک کی ایک ایک چیز بیچ کر اپنے اکاؤنٹ بھر کر یہاں سے لندن اور دبئی دفع ہو جائیں گے وہ تبدیلی اپ کو بہت پسند آئی گی
By: tariq, karachi on Nov, 13 2019
Reply Reply
0 Like
Language: