گبرّ کی واپسی پر اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی

(Dr Salim Khan, India)

للن گوڈبولے سے کلن پوٹ دُکھے نے کہا تجھے یاد ہے شعلے میں گبرّ نے کیا کہا تھا؟
للن بولا ارے بھائی گبرّ کا تو ہر ڈائیلاگ ہٹ ہوگیا تھا تو کس کی بات کررہا ہے ؟
میں اس مشہور مکالمہ کی بات کررہا ہوں ’’یہاں سے پچاس پچاس کوس دورگاوں میں جب بچہ رات کو روتا ہے تو ماں کہتی ہے بیٹا سوجا ۰۰۰۰۰۰۰۰
للن بیچ میں بول پڑا’’نہیں تو گبرّ سنگھ آجائے گا‘‘۔
جی ہاں میں اسی کی بات کررہا تھا۔ ہماری نسل کا کوئی آدمی اس کو بھول نہیں سکتا
مجھے تویاد ہے لیکن اچانک تجھ کو اس کی یاد کیسے آگئی؟
دراصل تم لوگ بھی تو کہتے تھے کہ جب مہاراشٹر کے کسی کونے میں شیو سینک روتا ہے تو پرمکھ کہتا ہے کہ سو جا ورنہ سردار آجائے گا ۔
جی ہاں اس میں کیا شک ہے ۔ فی ا لحال ہندوستان میں کون مائی کا لال ہے جو ہمارے گبرّ سے نہیں ڈرتا ۔
ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن آخر اس سے لوگ کیوں ڈرتے ہیں؟
تم نے ٹھاکر چدمبرم کا انجام نہیں دیکھا۔ انگریز کے زمانے کے جیلرنے اسے چکیّ پیسنے پر مجبور کردیا ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے گبرّ نے آخر اپنا ممبئی کادورہ کیوں منسوخ کردیا ؟
ارے بھائی میں اس وقت اپنے سامبھا میرا مطلب ہے دیو ا کے ساتھ بیٹھا تھا جب گبرّ کا فون آیا اور اتفاق سے فون اسپیکر پر تھا ۔
اوہو تو اسپیکر بند کرنے میں کون سی محنت کرنی پڑتی ہے ؟ وہ تو دو سیکنڈ کا کام ہے۔
جی ہاں لیکن جب انسان ڈر جائے تو اس کے لیے دو سیکنڈ بھی دوسال سے طویل ہوجاتے ہیں ۔
اچھا خیر فون پر کیا بات ہوئی یہ بتاو؟
یہی ہوا کہ سامنے سے آواز آئی ’ ارے او سامبھا کتنے آدمی ہیں‘ ؟
اچھا ؟ تو تمہارے سامبھا نے کیا جواب دیا ؟ کلن نے پوچھا
اس نے کہا ۵۵ ہیں سرکار ۔
سردار بولا وہ ۵۵ اور تم ۱۰۵ ؟ پھر بھی سرکار نہیں بنا پائے ؟
سامبھا بولا کیا کروں ! سرداران لوگوں نے تو سیدھے سیدھے میرا عہدے پر ہی دعویٰ ٹھونک دیا۔
گبرّ ہنس کر بولا ایک کرسی اور دو دعویدار بہت ناانصافی ہے ۔
جی سردار بہت ہی انصافی ہے ۔ان کا دن رات یہی راگ ہے’ یہ کرسی مجھے دے دے ٹھاکر‘ ۔
سردار نے ہنس کر کہا اچھا تو تم نے کیا جواب دیا؟
میں نے کہا یہ کرسی نہیں پھانسی کا پھندا ہے۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں ؟
اچھا اگر وہ پھانسی کا پھندا مانگ رہے ہیں تو دے دو ۔ ویسے بھی تو تم پانچ سال عیش کرہی چکے ہو۔
یہ کیا بات ہوئی سردار! اگر وہ پہلےڈھائی سال کے لیےوزیر اعلیٰ بن جائےاور بعد میں مایا وتی کی طرح کرسی نہ چھوڑے تو ۰۰۰۰۰؟ دیو ا کا گلا خشک ہوگیا
ہاں سمجھ گیا ۰۰۰۰۰توتیرا کیا ہوگا دیوا؟
سرکار آپ کا نمک کھایا ہے۔
تو چل اب گولی کھا اور گول ہوجا ۔
کیا مطلب میں نہیں سمجھا سردار؟
یہی کہ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر گل ہوجا اور کیا؟ یہ کم سے کم سزا ہے کیا سمجھا ؟
کلن نے بیچ ہی میں للن سے سوال کردیا اچھا تو اس کے بعد تمہارے سامبھا نے کیا کیا؟
وہ بیچارہ کیا کرتا ۔ اس نے سردار کے پاس دہلی جانےکا ٹکٹ بنوا لیا ۔
ارے یہ تو الٹی گنگا بہہ گئی ۔ پہلے تمہارا گبرّ سنگھ ممبئی آنے والا تھا اور اب خود دیوا کو بلا لیا؟ یہ کیوں ہوگیا ؟
سردار نے فون پر یہ نہیں بتایا اور کس کی مجال ہے کہ وہ ازخود کہے ’آ بیل مجھے مار‘؟
ارے کمال کرتے ہو؟ تم نے اپنے صدر کو بیل کہہ دیا ۔ یہ تو سراسر توہین ہے ۔
اس میں کون سی توہین تم لوگ اپنے پر مکھ کو شیر کہتے ہو ۔ اب شیر ہو یا بیل آخر جانور تو جانور ہی ہے ۔
جی نہیں ایسی بات نہیں ۔ کیا تمہارے نزدیک گھوڑے اور گدھے میں کوئی فرق نہیں ہے؟
فرق کیوں نہیں ؟ بہت فرق ہے لیکن بیل بھی کوئی معمولی جانور تھوڑی نا ہے۔ وہ اپنے شیو دیوتا کی سواری اور گئوماتا کاباپ ، بھائی اور بیٹا ہے۔
ارے بھائی للن تم بھول گئے ۔ وہ اپنی گئو ماتا کا پتی دیو بھی تو ہوتا ہے ۔
ہاں ہاں لیکن اس کے لیے وواہ کا ہونا ضروری ہے۔ میں نے تو مویشیوں کی شادی کہیں نہیں دیکھی ۔
اچھا تو کیا میں سمجھ لوں کہ تمہارے سانڈ نے ہمارے شیر سے ڈر کر اپنا ممبئی کا دورہ ملتوی کردیا؟
کس شیر کی بات کررہے ہو للن آج کل سوشیل میڈیا پر شیر کی کھال میں بلی کے کارٹون گردش کر رہے ہیں ۔
اچھا لیکن کیا تم نے چیتے کی کھال میں بھیڑئیے والا کارٹون نہیں دیکھا۔ جو کھال بھیڑئیے پر چڑھائی جاتی ہے وہ بیل پر بھی چڑھ سکتی ہے۔
ہاں ہاں اپنے راج کا بنایا ہوابھیڑئیے کا کارٹون میں نے دیکھا اور اس کو سمجھایا کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں کرنا۔
کوئی فائدہ نہیں ، وہ اپنے چچا کی طرح نڈر کارٹونسٹ ہے۔وہ نہیں مانےگا؟
تب تو خطرہ ہے۔اس نے دوبارہ ایسی بھول کی تو ہوسکتا ہے اس کو یو اے پی اے یا مکوکا کے تحت جیل بھیج دیا جائے گا۔
ارے لیکن تمہارے گبرّ کو اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ راج کے کارٹون تو صرف دوستوں کو واٹس ایپ پر بھیجے جاتے ہیں۔
تو کیا ہوا؟ ہمارے گبرّ نے واٹس ایپ میں ایسا جاسوسی کا پروگرام ڈال رکھا ہے کہ اس سے ساری خبر اس کو اپنے آپ مل جاتی ہے۔
چلو مان لیا لیکن اپناراج کوئی آتنک وادی ہے جواس پر مکوکا یا یو اے پی اے لگا دیا جائے؟
دیکھو کلن آج کل اس قانون کا اطلاق کرنے کے لیے کسی کا آتنکوادی ہونا ضروری نہیں ہے۔
کیسی باتیں کرتے ہو للن ۔ میں نے تو سنا ہے کہ یہ قانون دہشت گردوں کے لیےبنایا گیا ہے۔
جی ہاں ان لوگوں کے لیے بنایا تو گیا تھا مگر اب یہ کسی پر بھی لگ سکتا ہے جیسے اربن نیکسلائیٹس ۔
ہاں یار یہ بیچارے تو حقوق انسانی کے کارکنا ن ہیں ان کا آتنکوادسے کیا سروکار لیکن پھر بھی تمہارے گبرّ کی مہربانی سے جیل میں پہنچا دیئے گئے ہیں ۔
کلن بولا یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر تمہارا سردار یہ سب کرکے کیوں بدنامی مول لیتا ہے؟
للن نے جواب دیا ۔ دوسروں کو ڈرانے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے کلن ۔ اس کو مجبوری سمجھ لو۔
لیکن وہ تو خود ہی ڈان ہیں ۔ اسے کسی کو ڈرانے کی کیا ضرورت ؟
بھائی تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ جو ڈرتا ہے وہی وہی ڈراتا ہے۔ اپنے مخالفین کو ڈرا دھمکا کر رکھنے کی ضرورت ہم آپ کو تھوڑی نا پیش آتی ہے۔
لیکن شعلے کا گبرّ تو کہتا تھا ’جو ڈر گیا وہ مرگیا‘
جی ہاں لیکن وہ پچھلی صدی کی بات تھی ۔ جسٹس لویا کی موت گواہ ہے کہ مودی یگ میں ’جو نہیں ڈرا وہ مر گیا‘‘۔
لیکن ہم تو بھگوا دھارک ہندوتوادی پکش ہیں ۔ ہم تمہارے مخالف تھوڑی نا ہیں ۔
دیکھو کلن تمہیں ایسا لگتا ہے کہ تم ہمارے مخالف نہیں ہو لیکن اگر سردار کو نہ لگےتو تم کیا کرسکتے ہو؟ اب لگنے کو تو کچھ بھی لگ سکتا ہے؟
یہ کیا بات ہوئی کہ انسان اپنے دوست کو دشمن سمجھنے لگے ؟
دیکھو کلن سیاست میں کوئی کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ دشمن ؟سب مطلب کے یار ہوتے ہیں اس لیے کبھی پیار کرتے ہیں اور کبھی وار کرتے ہیں۔
اچھا اب ہیر پھیر چھوڑ کر سچ سچ بتادو کہ تمہارے سردار نے اپنا دورہ کیوں ملتوی کردیا؟
وہ ایسا ہے کہ سردار پہلے تو تمہارے سینا پرمکھ کو سمجھا نے میں ناکام رہے اور پھر اپنے دیوا کو منانے میں ناکام رہے ۔
پرمکھ والی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ڈپٹی سی ایم سے کم پر راضی نہیں ہوں گے لیکن تمہارے سامبھا میرا مطلب ہے دیوا کو کیا ہوگیا؟
ارے بھائی سامبھا نے اپنے سردار کو یقین دلا دیا کہ بہت جلد سینا ٹوٹ جائے گی ۔ اس لیے جلدی نہ مچائی جائے۔
لیکن اگر تمہارے سامبھا کو اس قدر یقین ہے تو ابھی تک سینا ٹوٹی کیوں نہیں؟
یہ تو میں نہیں جانتا لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ بازی اب الٹ چکی ہے۔
الٹ چکی ہے ؟ میں نہیں سمجھا کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟
دیکھو پہلے تو ادیتیہ کو صرف نائب وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے سودے بازی چل رہی تھی لیکن اب تو وہ وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہاہے ۔
خواب دیکھنے سے کیا ہوتا ہے لیکن ہر سپنا ساکار نہیں ہوتا ۔
ہاں ہاں یہ درست ہے لیکن وہ کانگریسی ویرو اور راشٹروادی کے جئے نے ساتھ مل کر ادیتیہ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
لیکن اس سے سینا کے ٹوٹنے کا کیا تعلق ؟
سیدھا تعلق ہے۔دیوا ر پر بیٹھے بندروں کی سمجھ میں آگیا ہے کہ ادیتیہ کی کامیابی کا امکان روشن ہے۔ اب اگر وہ سینا چھوڑ کر بی جے پی میں چلے گئے اور سینا کی سرکار بن گئی تو وہ تو نہ گھر کے رہیں گے اور نہ گھاٹ کے ۔
اس موقع پرکیا وہ اپنا ونچت بھوپالی کسی کام آسکتا ہے؟
یار کیا بتاوں ، نتائج کے بعد اس کو سانپ سونگھ گیا ۔ آج کل تو وہ نہ اخبار والوں کا لیتا ہے اور نہ ہمارا ۔
اچھا تو کیا اس کا مطلب ہے کہ تمہارا سرداراب ممبئی نہیں آئے گا ؟
یہ میں نے نہیں کہا جب اونٹ کسی ایک کروٹ بیٹھ جائے گا یعنی یاتو سامبھا ازخود ادیتیہ کو اپنا نائب بنانے پر راضی ہوجائیں گے یا ۰۰۰
یا کیا؟؟؟؟؟؟
یا ادیتیہ ٹھاکرے این سی پی کی مدد سے وزیراعلیٰ بن جائیں گے ۔
لیکن ’سب کچھ لٹا کے ہوش میں آنے سے کیا فائدہ ‘ ؟ تو وہ اس وقت آکر کرے گا بھی تو کیا ؟
وہی جوڑ توڑ اور کیا؟ اسی میں سردار کو مہارت حاصل ہے اور سچ تو یہ ہے اس کے سوا اس کو کچھ اور آتا بھی تو نہیں ہے۔
جی ہاں اسی لیے ہمارے سینا پر مکھ کہہ رہے تھے ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی ؟‘۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1208 Articles with 439709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2019 Views: 401

Comments

آپ کی رائے