پیپلز پارٹی ماضی میں

(Idrees Jaami, )

کیااب پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور سے منحرف ہو گئی ہے؟اب اکثرو بیشتر یہی مانا جاتا ہے کہ پاکستان میں پارٹی منشورکا کردار کچھ نہیں اس لیئے سیاسی جماعتیں انہیں مرتب کرنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتیں،بلکہ ان کا زیادہ تر زور شخصی قیادت کے گیت گانا، پرکشش نعرے تخلیق کرنا، اپنے مخالفین کی کردارکشی اور فتوے صادر کرنے پر ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا ماضی میں اگر دیکھیں تو 1970ء پیپلز پارٹی کا منشور ہے جس کی درج ذیل جھلک پیش خدمت ہے۔

حکومت پنجاب کے وزیرخزانہ (مالیات) محمد حنیف رامے نے پنجاب اسمبلی میں 1973/74 ء کا صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک طویل تقریر فرمائی، تقریر کا وہ حصہ جو ہمارے نزدیک توجہ طلب ہے،انہوں نے(روزنامہ امروز بابت 20 جون1973 ء میں شائع شدہ متن تقریرکے مطابق )ــ ’’جناب سپیکر!میں نے ابتدا میں عرض کیا تھاکہ بجٹ میرے لیئے حساب کتاب کا معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ کی صورت میں حکومت کی اقتصادی پالیسی کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس کی وساطت سے واضح کیا جاتا ہے کہ اقتصادی شعبے میں ہمارے مقاصد کیاہیں اور ہم ان مقاصد کے حصول کی لیئے کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں ۔جہاں تک مقاصد کا تعلق ہے ان کی جانب آج کی گفتگو کے دوران متعدد اشارے ہو چکے ہیں۔لیکن اب میں انہیں ایک جامع تعریف میں ڈھالنے کی جراء ت کرتا ہوں ۔ہمارے مقاصد کی منزل جاگیر داری،سرمایہ داری، سامراجی بندھنوں کو توڑ کرپیداواری قوتوں کو آزاد کرنا اور انہیں اجتماعیت کی بنیادوں پراز سر نو ترتیب دینا ہے۔یوں کہ دیجیئے کہ ہم سوشلسٹ معیشت برپا کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کوئی معمولی کام نہیں ہم سیاسی طور آزاد ہونے کے باوجوداقتصادی طور پر ابھی نو آبادیاتی شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ہمارا علاج سوشلزم کے سوا کچھ نہیں لیکن ہماری کیفیت ایسی ہے کہ جوزف شیمپیٹرکے الفاظ میں اشیاء اور روحیں تو ابھی پوری طرح سوشلزم کو قبول کرنے کے لیئے تیار نہیں ہوئیں۔البتہ ایک سیاسی جماعت برسر اقتدار آ گئی ہے جو سوشلزم لانے کی پابند ہیں ،اب ایک راستہ ہے ہم قدم قدم چلیں لیکن ہمارا ہر قدم سوشلزم کی طرف بڑھ رہا ہو،ہماری حکومت نے یہی روش اختیار کی ہے،صدر بھٹو کی تمام تر اصلاحات اور اقتصادی پالیسیوں کا یہی مقصد ہے۔

مگر جناب والہ!اس راہ میں بڑے کٹھن موڑ آتے ہیں ۔سب سے خطرناک موڑ وہ ہے جہاں دائیں بازو کے لوگ اس لیئے برہم ہوتے ہیں کہ آپ سوشلزم لا رہے ہیں اور بائیں بازو کہ لوگ اس لیئے کہ آپ سوشلزم لانے میں دیر کررہے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں سوشلزم اور جمہوریت کے باہمی تعلق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔اجازت دیجئیے کہ میں اس مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرنے والے ایک انقلابی کے اذکار کی جانب آپ کی توجہ مبذو ل کراؤں ۔ماوزے تنگ نے1939 ء میں چینی انقلاب اور اپنی پارٹی کی منزل متعین کرتے ہوئے کہا تھا:’’چین کی انقلابی تحریک دو مرحلوں پر مشتمل ہے،یعنی جمہوری انقلاب اور سوشلسٹ اانقلاب یہ کیفیت کے اعتبار سے دو مختلف انقلابی عمل ہیں اور دوسرا عمل صرف اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب پہلا عمل مکمل ہو چکا ہو۔جمہوری انقلاب سوشلسٹ انقلاب کے لیئے لازمی تیاری کی حیثیت رکھتا ہے اورسوشلسٹ انقلاب ،جمہوری انقلاب کا ناگزیر نتیجہ ہوتاہے اگر کوئی انصاف کی نگاہ سے دیکھے تو آج ہم بھی سوشلزم لانے میں دیر نہیں کر رہے بلکہ جمہوری انقلاب کو مستحکم کرکے سوشلسٹ انقلاب کی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ چار صوبوں کی عوامی نمائندوں کی متفقہ رائے سے منظور ہونے والا دستوراس امر کی دلالت کرتا ہے کہ ہمیں اپنے راستے کی خبر اور منزل کا شعور ہے۔ اس موقع پرمیں اپنے سوشلسٹ دوستوں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جمہوری انقلاب ہماری منزل نہیں راستہ ہے۔ ہماری منزل سوشلسٹ انقلاب ہی ہے البتہ اس منزل پر پہنچنے کے لیے ہم جمہوری انقلاب ہی کوصراط مستقیم گردانتے ہیں۔ جہاں تک ان صاحبوں کا تعلق ہے جو سوشلزم کے نام سے برکتے ہیں۔ انکی خدمت میں عرض ہے کہ وہ نہ تو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے مذموم و محکوم عوام کی تحریکات آزادی کو نظر انداز کریں اور نہ ہی روح عصر کو پہچاننے سے گریز کریں۔ پھر سوشلزم کوئی بدعت نہیں یہ وہی نظام معیشت ہے جو اسلام کے اولین دور میں جلوہ گر ہوا۔ اسے محض اس لیے رد نہیں کیا جاسکتا کہ جب مسلمانوں نے مساوات کو ترک کرکے ملوکیت اختیار کر لی تو اس نظریے نے غیر مسلموں کی ہاں پناہ لے لی حقیقت یہ ہے کہ اس نظریے کو قبول کر کے ہم اسلام سے منحرف نہیں ہوتے بلکہ اس کی اصل پاکیزگی کی جانب لوٹ آتے ہیں، یاد رکھنے کی بات ایک ہی ہے کہ آج افلاس اور بے روزگاری نے ہمیں جس بری طرح گھیر رکھا ہے اس کا کوئی شافی علاج چاہیے اور یہ علاج جلد از جلد چاہئیے میں اس مسئلے پر آپ کا تھوڑا وقت لینا چاہتا ہوں ۔ جناب والہ ! اگر ہم روایتی انداز میں اس ترقی کا خواب دیکھیں گے تو لازم ہے کہ ہم سرمایہ دار طاقتوں کے دست نگررہیں گے، ٹینک ہو یا ٹریکٹر، گندم ہو یا گولی باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔ کمپیوٹر سے لے کے سڑک کوٹنے کے انجن تک تقریباً ہر مشین باہر سے لائی جا رہی ہے۔ مالی اور فوجی اشیاء ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔یہ صورت حال صرف اس لیے ہے کہ ہماری اقتصادی منصوبہ بندی کا تمام تر انحصار سرمایے پر ہے۔ اور یہی نقطہ سرمایہ دارانہ نظام کی اصل ہے اس اصل کو ایک ہی صورت میں اور اپنے فن میں بدلا جا سکتا ہے کہ ہماری منصوبہ بندی محنت کی بنیاد پر ہو اور اسی کا نام سوشلز م ہے ۔ سوشلزم میں محنت ہی پیدائش رزق اور تقسیم رزق کی اساس ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے مستقل دستور کے آرٹیکل نمبر 3 میں اس اساس کو ان الفاظ میں جگہ دی ہے کہ ’’ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرے گااور ہر شخص اپنے کا م کے مطابق اجر پائے گا‘‘۔ اب ہمیں اس اساس کو عملی قالب عطا کرنے ہیں اور یہ اہم کام جلد از جلد انجام دیناہے اس لیے کہ اگر ہم نے دیر کی تو ہو سکتا ہے کہ افلاس اور بے روزگاری کے عنصریتوں سے تنگ آئے ہو ئے لوگ بے چین ہوجائیں اور حالات قابو سے باہر نکل جائیں تو یہ بڑا ہی نازک مقام ہے جہاں ہم آج کھڑے ہیں۔ہمیں جلد از جلد اپنی تمام تر آبادی کو محنت کی راہ پر ڈالنا ہے اور انکی کدالوں اور کلہاڑیوں کو ،انکے ہلوں اور نیزوں کو ایک ساتھ حرکت میں لاکر راستے کے جھاڑ جھنکار کو صاف کرناہے لیکن ساتھ ہی حکومت کو بھی کچھ نئی ذمہ داریاں قبول کرنا ہوں گی بیشک آج کے حالات میں نجی شعبہ کوکام کرنے کا موقع دینا ہو گا۔لیکن سرکاری شعبہ کو مظبوط سے مظبوط تر کرنا بھی اشد ضروری ہے۔سوشلسٹ معیشت کیلیئے ضروری ہے کہ ذرائع دولت و پیداوار پر اجتماعی ملکیت کا اصول نافذکیا جائے گویا ہمارے لیئے سوشلزم لانے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ ہم اپنے ہر صحت مند فرد کو اسکی صلاحیت کے مطابق کام پر لگائیں اور دوسر اجہاں ضروری ہو وہاں ذرائع دولت و پیداوار کو افراد کے قبضے سے نکا ل کر اجتماعی ملکیت بنا دیں ۔اپنی زندگی کے ٹھوس حقائق کے پیش نظر ہمارے لیئے سوشلزم برپا کرنے کا یہی لائحہ عمل ہے اور یہ بجٹ اسی لائحہ عمل کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔چنانچہ جہاں اس کا ایک اہم ترین رکن عوامی تعمیراتی پروگرام ہے وہاں دوسرا اہم ترین رکن سرکاری شعبے میں صنعتوں کا قیام ہے۔مجھے فخر ہے کہ جو بجٹ میں آج آپکی خدمت میں رکھ رہا ہوں اس کے قالبوں میں عوام اور عوامی حکومت شانہ بشانہ سوشلزم کی راہ طے کرتے نظر آتے ہیں ۔

مگر جناب والہ!اقبال نے اپنی پہلی کتاب ـــ’’علم الاقتصاد‘‘ میں جو چبھتا ہوا سوال اٹھایا تھاوہ اب تک ایک چیلنج کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے، اس نے کہا تھا ’’غریبی قوئی انسانی پر برا اثر ڈالتی ہے بلکہ بسا اوقات انسانی روح کے مجد آئینے کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجودوعدم برابر ہوجاتاہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دل خراش صدائیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائیں اور ایک دردمند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا درد ناک نظارہ ہمیشہ کے لیے صفحہ عالم سے صرف غلط کی طرح مٹ جائے، اس چیلنج سے عہدہ برآں ہونا اس لیے بھی ازحد ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جو اقبال کے عہد میں چپکے چپکے کراہ رہے تھے اب انکی چیخیں فلک شگاف نعرے بن چکی ہیں۔ مفلس و محروم مگر غضب ناک و مشتعل لوگوں کے اس انبوہ کو انتشار اور تباہی کے بجائے تعمیروترقی کی راہوں پر ڈالنے کے لیے لازم ہے کہ نظام معیشت کو اجتماعی بہبود کے نقطہ نظر سے از سر نو تشکیل دیا جائے یہ کام ہمارے لیے مشکل بھی نہیں اس لیے کہ اقبال نے جہاں یہ چبھتاہوا سوال اٹھایا تھا وہاں یہ بشارت بھی دی تھی۔

جو صرف قل العفومیں پوشیدہ ہے اب تک۔اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار ،

جناب والا!قل العفو کے حرف میں پوشیدہ حقیقت 1970 ء کے انتخابات میں بہت کھل کر نمو دار ہو گئی اور قرآن کریم کی یہ آیت مقدسہ ایک عوامی مطالبہ بن گئی کہ’’یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو‘‘اے نبیﷺ!آپ کے امتی آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں ،فرما دیجئے اپنی ضرورت سے جو کچھ زائد ہو دوسروں پر خرچ کر دیا جائے۔

جنابوالہ!یوں تو قرآن کا ایک ایک حرف معنی کاسمندر ہے لیکن قرآن کے بارے میں قرآن ہی کا فرمان ہے کہ اس کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔عفو کا لفظ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی وارد ہوا ہے اور وہاں اس کی شکل ’’خذالعفو‘‘کی ہے جس کا مطلب ہے کہ جو زائد از ضرورت ہے وہ لے لیا جائے ۔گویا اسلام میں اول تو زائد از ضرورت رکھنے کی گنجائش ہی نہیں اور اگر کوئی زائد از ضرورت رکھے تو اس سے چھین لینے کا حکم ہے یہی وہ حکم ہے جس کے تحت حضرت ابوبکر صدیق ؓنے کہا تھا اگر کسی پر اونٹ باندھنے کی رسی کے برابربھی زکوٰۃ واجب ہے تو میری تلوار اس کے خلاف اس وقت تک بے نیام رہے گی جب تک وہ رسی اس سے نہیں لی جاتی مگر لے لینے یا چھین لینے کا عمل افراد کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا یہ وہ ذمہ داری ہے جو حکو مت کو ادا کرنی چاہئیے۔صدیق اکبرؓنے بھی یہ ذمہ داری یہ ذمہ داری حکومت ہی کی طرف سے ادا فرمائی تھی۔اس لیئے آج ہم سوشلزم کے اصول پر ذرائع پیداوار کو حکومت کی تحویل میں لے لینے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے دل اس یقین سے معمور ہوتے ہیں کہ ہم اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف رجوع کریں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نے اس سوشلزم کا اعتراف نہ کیا جس کی گنجائش اسلام نے اپنے اندر رکھی ہے تو ہمیں رد عمل کے طور پر اس بات کے لیئے تیار رہنا چاہیے کہ جلد ہی غریبوں کا ہاتھ امیروں کی گردن پر ہو گا اور پھر سوشلزم نہیں اس ملک میں کمیونزم آئے گا ۔اس لیئے کہ محرومی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو گھٹا دیتی ہے لیکن بڑی بڑی خواہشوں کو بڑھا دیتی ہے ویسے ہی جیسے ہوا موم بتی کے شعلے کو بجھا دیتی ہے لیکن سلگتی ہوئی آگ کو بھڑکا دیتی ہے‘‘۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Idrees Jaami

Read More Articles by Idrees Jaami: 24 Articles with 8700 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2019 Views: 195

Comments

آپ کی رائے