رنگ بندگی

(Aalima Rabia Fatima, )

وجود انسان کوئی معمولی وجود کا حامل نہیں بلکہ یہ اشرف المخلوقات ہے لیکن تب تک جب تک یہ صبغة الله کا مظہر ہے۔۔ صبغة الله کیا ہے سورة البقرة آیت نمبر ۱۳۸ میں ہے کہ"صبغة الله و من احسن من الله صبغة و نحن له عبدون" (تم ان سے کہو) ہم نے خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ لیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
صبغة الله کی تفسیر کے حوالے سے مفسرین لکھتے ہیں کہ امام ابن جریر ابن حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا ہے کہ صبغة اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے۔۔
امام ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے حضرت مجاہد رحمة الله علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس سے مراد فطرت ہے وہ فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ۔۔
ابن جریر اور ابن المنذر نے قتادہ رحمة الله علیہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے بیٹوں کو یہودی رنگ کرتے تھے اور نصاری اپنے بیٹوں کو نصاری رنگ کرتے تھے اور اللہ کا رنگ اسلام ہے اور اسلام جو اللہ کا رنگ ہے اس سے خوبصورت اور پاکیزہ رنگ کوئی نہیں ہے یہ وہ دین ہے خس کے ساتھ اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔۔
• صبغة الله اللہ کا رنگ ہے اور وہ اسلام ہے دین کو استعارہ اور مجازا صبغة کہا گیا ہے کیونکہ اسکے کمال ظاہر ہوتے ہیں اور دین دار پر اسکی نشانی ظاہر ہوتی ہے۔۔
• حضرت ابن عباس سے کلبی قتادہ اور حسن کی روایت میں صبغة الله کا معنی اللہ کا دین مروی ہے دین کو رنگ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کپڑے پر رنگ ظاہر ہوتا ہے اسی طرح متدین پر دین کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔۔
اللہ کی صفات ۔۔اسلام۔۔ دین۔۔ یہ سب صبغة الله ہیں
(تفسیر قرطبی، تفسیر مظہری، تفسیر درمنثور ، تفسیر ضیاء القرآن، تفسیر نعیمی)
انسان ہی صفات الہیہ کا امین ہے یہ رنگ کیا ہے رنگ بندگی ہے رنگ بندگی کیا ہے ؟ اللہ کی صفات سے خود کو متصف کرنا ، اپنے وجود کواس کے سپرد کرنا طبیعت کو ان کا خوگر بنانا یہ رنگ جب چڑھ جائے تو ظاہر اور باطن سنور جاتا ہے۔۔
رنگ بنانے والے (اللہ) نے رنگ بنا دیا (دین) رنگ جمانے والے بھی بھیج دیے ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم) رنگ قبول کرنے والوں نے قبول کر لیا ( صحابہ کرام ۔۔ تابعین تبع تابعین صالحین اور مومنین نے)۔۔
یہ رنگ بندگی ایک سمندر کی مانند ہے جو جس قدر سعی کرے اتنا ہی پھل پائے ۔۔ کوئی تہہ میں جاکے موتی ڈھوند لے تو کوئی ذرا سی گہرائی سے مچھلیاں پکڑ لائے ۔۔ یہ ایک بارش کی مانند بھی ہے جو سب پر یکساں برستی ہے اب یہ زمین کی نرمی پر منحصر ہے کہ کتنا جذب کرے۔۔ سخت زمین زرخیز نہیں ہوا کرتی چاہے جتنا مینا برسے ۔۔
اب سوال یہ ذہن میں ابھرتا ہے کہ رنگ جو اللہ کا ہے اس میں خود کو کیسے رنگیں؟ کیسے اس رنگ کو اپنی شخصیت میں ڈھالیں ؟ کونسا رستہ ہے جو صبغة اللہ کی طرف جاتا ہے؟؟
صراط مستقیم سیدھا راستہ۔۔۔ یہ سیدھا راستہ کونسا ہے ؟ یہ سیدھا رستہ دین اسلام ہے جو محبوب ترین ہے جس کو ہمارے لیے چن لیا گیا ہے ۔۔
اب سوال کیجیے خود سے کہ کیا صراط مستقیم صرف لا الہ الا اللہ ہے ؟؟ نہیں بلکہ اب بعد کے مراحل طے کرنے ہوں گے اللہ کی عبادت ۔۔ کیا صرف عبادت کافی ہے؟؟ نہیں بلکہ عبودیت کو بھی جاننا ہوگا ۔۔۔ اب آپ سوچیں گے عبادت اور عبودیت کیا دو الگ الگ چیزیں ہیں ؟؟ جی یہ دو الگ چیزیں ہیں عبادت اور ہے عبودیت اور ہے عبادت کا تعلق جسم سے عبودیت کا تعلق نفس و روح سے۔۔ یہی رنگ رنگ بندگی ہے۔۔ اللہ کا رنگ ۔۔ یہ رنگ چڑھانا چاہتے ہو ؟؟؟چاہتے ہو کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے؟؟ چاہتے ہو کہ تمہاری عبادت خالص اللہ کے لیے ہو جائیں؟؟ تو کلمہ طیبہ کے دوسرے جز محمد رسول اللہ کو بھی قلب و روح میں اتارنا ہوگا کیوں کہ اس رنگ کو چڑھانے والے صرف سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔۔انکی محبت ہی دین حق کی شرط اول ہے۔۔۔ سورہ ال عمران کی آیت نمبر ۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے" قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ" اس آیت میں واضح طور پر بتایا ہے کہ اللہ کی محبت چاہتے ہو تو رسول اللہ کی پیروی کرو ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی کے بغیر تمہارے سارے دعوے باطل ہوجائیں گے۔۔
اللہ اور انسان کے درمیان کے ایک تعلق ہے وہ تعلق عبد و معبود کا ہے اور اسی تعلق کو استوار کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ سے پہلے تمام انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے اور یہ تعلیم دی کہ بندگی ہی وہ ذریعہ ہے جو اس تعلق کی مضبوطی کا باعث ہے۔۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارفع و اعلی ہیں کمال بندگی سے متصف ۔۔ اور تمام میں عبد خاص ۔۔ اسی کی جانب اقبال نے اشارہ کیا ہے کہ۔۔
عبد چیز دیگر ، عبدہ چیز دیگر

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شب معراج میں التحیات کے الفاظ کے ساتھ امت کو بندگی کے آداب سکھائے کہ رب کے حضور عجز و انکساری کا اظہارکس طرح کیا جاتا ہے رنگ بندگی کا مطلب ہی یہ ہے کہ اپنی میں کو مٹادے ہر قول و فعل بس اللہ کے لیے ہو۔۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو آپ کے بعد صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اولیا کرام سلف و صالحین نے یہ ذمہ داری اٹھا لی ۔۔ عبد اور معبود کا تعلق جب کمزور پڑا انہی معزز ہستیوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔۔ اب یہ سلسلہ اولیاء کے ذریعے قیامت تک جاری رہے گا جیسے محبوب الہی کے حوالے سے امیر خسرو نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:

دیس بدیس میں ڈھونڈ پھری ہوں
تورا رنگ من بھایو نظام الدین
اور نہ کوئی رنگ سہائے،
چشتیہ رنگ ہی من کو بھائے

اگر رنگ بندگی میں سچائی کی چاہت تو دل کو تمام آلودگیوں سے پاک کرنا ہوگا تمام کثافتوں سے اس کو پاک کرنا ہوگا ۔۔۔ پاک کیسے کریں؟؟؟ استغفار کی کثرت ندامت کے آنسو جو دل کی زمین کو نرم کر دے گی۔۔ جب دل کی زمین نرم ہوجائے گی رنگ بندگی کو جذب کرنا شروع ہوجائے گی جب جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی تو پھر نہ تن میلا رہے نہ من میلا رہے گا اسکے سبھی معملات صبغة الله کی عملی تفسیر بن جائیں گے۔۔ مومنین صالحین متقین صابرین یہ وہ صفات ہیں جو صبغة الله میں رنگ جانے والے کو ملتے ہیں ۔۔
رنگ بندگی میں طالب کو چاہیے کہ وہ سچا بن کر کمال بندگی کی چاہ میں مستغرق رہے ۔۔ کمال بندگی کو حاصل کرنا ظاہر ہے ممکن نہیں لیکن اس کی چاہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ قلب میں اس کی حرارت کو محسوس کرتا رہے ۔۔۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ گناہ سے بچنے کا اہتمام کرنا اور اگر گناہ سرزد ہوجائے تو توبہ کے ذریعے اس کا مداوا کرنا چاہیے ۔۔ توبہ میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ توبہ کا تعلق قلب و روح سے ہوتا ہے ۔۔ توبہ سے ہی دل کی آلودگیوں کو دور کیا جاسکتا ہے تاکہ اس میں نرمی پیدا ہو ،نرمی ہوگی تو اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و محبت کو قبول کرے گا ۔۔ دل آلودگیوں سے پاک ہوگا تو صبغة اللہ کو چڑھا سکے گا۔۔ گناہوں کی تلافی نیک اعمال سے کرے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ بے شک نیکیاں گناہوں کے اثر کو زائل کر دیتی ہیں (سورة الهود آيت نمبر 114) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد بابرکت ہے کہ" تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے گناہوں کا ازالہ نیکیوں سے کرو اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ( سنن ترمذی 1987)
اطاعت ، فرمانبرداری ، محبت رنگ بندگی ہے رنگ بندگی صبغة الله کی تفسیر ہے۔۔ رنگ بندگی کو اوڑھ لینے میں ہی نجات ہے کیونکہ بقول مولانا رومی علیہ الرحمة

زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 605 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 42 Articles with 15504 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ