شگفتہ شفیق کی تصنیف’شگفتہ نامہ‘کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا اظہاریہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

(معروف شعراء، افسانی نگار، کہانی کار اور سفر نامہ نگار کی کتاب ”شگفتہ نامہ“ کی تعارفی تقریب، کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیا اہتمام بروز ہفتہ 16نومبر 2019ء کو کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں پڑھی گئی تقریر)
صدرِ گرامی قدرپروفیسر سحر انصاری صاحب، جناب اکرم کنجاہی صاحب
مہمانان اعزازڈاکٹر شاہد ظمیر صاحب، جناب قادر بخش سومرو صاحب، جناب زیب ازکار صاحب
ادبی کمیٹی، کراچی پریس کلب کے منتظمین، شگفتہ نامہ کی خالق شگفتہ شفیق صاحبہ،
سامنے بیٹھے ادب کی دنیا کے روشن ستارو
السلام علیکم!
منتظمین ادبی کمیٹی، کراچی پریس کلب کا شکریہ کہ آج منعقد ہونے والی ادبی ستاروں کی محفل میں مجھ ناچیز کو مدعو ہی نہیں کیا بلکہ مہمان ِ خصوصی کا منصب بھی عطا فرمایااور کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں اظہار ِ خیال کا موقع بھی عنایت فرمایا۔ اپنی گفتگو کو مختصر رکھو نگا،کچھ مقررین شگفتہ نامہ پر اظہار خیال کرچکے اور کچھ نے ابھی کرنا بھی ہے۔وجہ اختصار کی یہ بھی ہے کہ لمحہ موجود میں اختصار پسندیدہ اور طوالت ناپسند یدہ تصور کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول نگاری کم ہوچکی، افسانے نے افسانچوں کا روپ اختیار کر لیاجب کہ طویل کہانی سو لفظی کہانی میں بدل گئی ہے۔
’شگفتہ نامہ‘ آج کا موضوع ہے۔ اس پر کچھ کہنے سے قبل یہ کہنا چاہوں گا وہ یہ کہ بعض احباب کی رائے سوشل میڈیا پر یہ سامنے آہی کہ ادب زوال پزیر ہوگیا ہے، ادب تخلیق نہیں پارہا، کتاب نہیں چھپ رہی، مطالعہ کا شوق ناپید ہوگیا ہے، انٹر نیٹ نے کتاب کی اہمیت کم کردی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میری ذاتی رائے ہے کہ مطالعہ کا شوق واقعی کم ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک کم ہوگیا ہے۔ اس کی بے شمار دیگر وجوہات ہیں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا، البتہ شہر کراچی میں جس تسلسل اور تواترکے ساتھ ادبی تقریبات، مشاعرے اور کتابوں کے تعارف کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ادب تشکیل پارہا ہے، تخلیق کار مصروف عمل ہیں، لکھ رہے ہیں اور کتابیں بھی چھپ رہی ہیں، بک بھی رہی ہیں، پڑھی بھی جارہی ہیں۔ میرے اس خیال سے اختلاف کا حق کسی کو بھی حاصل ہے۔

دوسری بات سوشل میڈیا کے حوالے سے صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ آج اس ادبی محفل میں مجھ سمیت کئی احباب کی شمولیت سوشل میڈیا ہی ہے۔ شگفتہ نامہ کی مصنفہ اور کئی تخلیق کاروں سے جو اس وقت اس محفل میں بھی تشریف فرما ہیں میں اسی سوشل میڈیا کے توسط سے روشناس ہوسکا ہوں۔ سوشل میڈیا کتاب کو متعارف کرانے اور تخلیق کاروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ہمیں اپنی ادبی محفلوں میں ناشرین اور بک سیلرز کو بطور خاص شریک کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی جان سکیں کہ علمی او ادبی شخصیات کتنی متحرک ہیں۔ وہ ادیبوں کے نذدیک آئیں گے،اس سے ان کا بھی فائدہ ہوگا اور ادیبوں کو بھی۔کتاب کی بہر طور اہمیت ہے۔ایک زمانہ میں کسی بھی شاعر کے لیے صاحبِ دیوان شاعر ہونا اعزاز تصور کیا جاتا تھا۔ رسائل، ڈائجسٹوں اور اخبارات میں چھپنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن کتاب تخلیق کار کو ادبی سطح پر متعارف کراتی ہے اور ایسا ہی ہوا کہ شگفتہ شفیق کے شعری مجموعوں نے ادبی سطح پر انہیں متعارف کرایا،ان کا شمار لمحہ موجود کی معروف اور پسندیدہ شاعرات میں ہونے لگا ہے۔ مَیں موصوفہ سے ان کے شاعری کے مجموعوں سے ہی متعارف ہوا، شگفتہ نامہ‘ ان کی چوتھی کتاب ہے۔ کسی بھی تخلیق کارکے لیے نئی تخلیق کا احساس عید کی خوشی سے کم نہیں ہوتا۔شگفتہ نامہ نظم اور نثر کا مرقع ہے۔ اس میں شاعری بھی ہے، کہانی اور افسانے بھی۔

جہاں تک ’شگفتہ نامہ‘ میں شامل افسانوں کا تعلق ہے وہ موجودہ عہد کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔افسانہ کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ان کی نظرزمانہ حال کے قاری کے مزاج اور اس کی علمی پیاس پر بھی دکھائی دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کہانیوں اور افسانوں اور ان کے کرداروں کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دیا۔ ان کے افسانوں کی ایک اہم خصوصیت ان کا مختصر ہونا ہے۔ ان کی زبان آسان اور سادہ، لہجے میں پختگی، الفاظ کا چناؤ اور استعمال عمدہ اور بر وقت، اس کی نشست و برخاست دل میں اتر جانے والی ہے، ان کے افسانوں کا پلاٹ دیو مالائی اور کردار مصنوعی نہیں بلکہ ان کی کہانیاں زندگی کے ارد گرد ہونے والے واقعات، حادثات، رسم و رواج کے گرد گھومتی ہیں جب کہ ان کے کردار معاشرہ میں موجود عام کردار ہیں جو ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں۔ ان کرداروں کو انہوں نے اپنے افسانوں میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ شگفتہ نامہ شاعری، افسانہ نگاری اور کہانی کاری کا خوبصورت مرقع ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ شاعرہ نہ ہوتیں تو افسانہ نگار ہوتیں۔ اپنے ایک شعر میں شاعری اور افسانہ نگاری کے بارے میں کہتی ہیں۔
لکھتی ہوں میں کہانیاں افسانے تبصرے
لیکن ہے میرے دل کو پسند شاعری بہت

شاعری کے افق پر خواتین شاعرات میں شگفتہ ایک روشن اور چمکتا ستارہ ہیں۔ انہیں بطور شاعرہ نمایاں و معتبر مقام حاصل ہے۔ ان کے شاعری کے مجموعوں میں ’میرا دل کہتا ہے‘، ’یاد آتی ہے“، ’جاگتی آنکھوں کے خواب‘شامل ہیں۔ شگفتہ کا کہنا ہے کہ ’شاعری تو انسان کے اندر کے موسم کی محتاج ہوتی ہے‘۔ شگفتہ کی شاعری کا آغاز درد والم کی کیفیت میں ہوا، وہ غم اور دکھ تھا ماں کے بچھڑجانے کا، ماں کی اچانک موت نے شگفتہ سے شاعری کرائی۔ بقول خود شگفتہ کہ ”میری جان سے عزیز ہستی میری ماں جس کے بغیر مجھے سانس نہیں آتی تھی شدید ہارٹ اٹیک کے باعث دس منٹ میں مجھ سے بچھڑ گئیں تو اس وقت میں نے بہتے آنسووں کے درمیان کچھ نظمیں لکھیں جن کو لوگوں نے پسند کیا پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا اور ہم نے لکھنا اور چھپنا شروع کیا، تب میں نویں جماعت کی طالبہ تھی“۔ گویا شگفتہ نے المیہ شاعری سے اپنی تخلیق کا آغاز کیا، اور یہ کہ شاعری کا آغاز اس وقت سے شروع ہوا جب وہ نویں جماعت میں تھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔وہ کہتی ہیں ؎
کس قدر مہر بان ہے مجھ پر خدا
اپنی قسمت پہ ناز کرتی ہوں

تخلیق کار چاہے شاعر ہویا نثر نگار اپنے ارد گرد کے حالات اور واقعات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا وہ انہیں محسوس کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔ شگفتہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ”وہ عام معاشرتی مسائل دیکھ کے اپنی روح کو سکون دینے کے لیے کاغذ اور قلم تھام لیتی ہیں“۔ شگفتہ کی شاعری میں بناوٹ یا الفاظ کا بے جا استعمال نہیں ہے بلکہ اس میں سادگی ہے، رچاؤ ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس کی شاعری میں اس کے اندر کے دلی احساسات اور جذبات کا سادہ طریقے سے اظہار ہے۔ گویا شگفتہ کی شاعری اس کی روح کی ترجمان ہے، عشق و محبت، حسن و دل کشی اور اس کے اندر چھپی شاعرہ کے احساسات و جذبات نمایاں ہیں۔ یہی بات اس نے اپنے ایک شعر میں تسلیم بھی ہے
خدا کی عطا میرا تخلیقی جوہر
مری شاعری، روح کی ترجمان

شگفتہ نے حمد بھی کہیں نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بھی، نظمیں بھی، غزلیں بھی، قطعات بھی، رباعیات بھی۔ اس کے کلام کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ چاہے مصرعے چھوٹے چھوٹے ہوں لیکن ان کے پیچھے وسیع مفہوم پوشیدہ نظر آتا ہے۔ گویا اس کا ظاہری پن مختصر لیکن باطن میں اس کے کلام کا قد کاٹ بلند ہے۔ غزل کا مطلع دیکھیں
طلبِ عشق مٹا دی ہم نے
اُس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

شگفتہ ایک درد مند دل رکھتی ہیں، انہوں نے زندگی کو قریب سے دیکھا، پرکھا اور محسوس کیا ہے۔ ان کی شاعری گویا ان کے انہی تجربات کی عکاسی کرتی ہے۔شگفتہ نے شاعری میں ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو عام زندگی میں معروف اور عوام الناس ان سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان کا انداز اور لب و لہجہ سیدھا سادھا اور عام فہم ہے
یہ آنسوؤں کے خزانے یہ جاگتی آنکھیں
ترے دئے ہوئے تحفے کدھر چھپاؤں گی

شاعرہ نے اپنی بات کو بیان کرنے کے لیے بے تکلفی سے کام لیا ہے وہ اشاروں اور کنایوں میں بات نہیں کرتیں بلکہ جو بات کہنی ہوتی ہے اسے صاف صاف کہہ ڈالتی ہیں۔ یہی ادا ان کی شاعری کو منفرد بناتی ہے۔ بلا شبہ مصنفہ نہ صرف ایک اچھی شاعرہ ہی نہیں بلکہ وہ ایک
اچھی افسانہ نگار بھی ہیں۔
چھپ گیا ہے’شگفہ نامہ‘ شگفتہ شفیق کا
شاعری میں ایک مقام ہے شگفتہ شفیق کا
ادب کے تمام ہی رنگ ہیں اس میں
پسندسب ہی نے کیا مجموعہ شگفتہ شفیق کا
(16نومبر2019ء)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 756 Articles with 642963 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
16 Nov, 2019 Views: 358

Comments

آپ کی رائے