سموگ کی تباہ کاریاں

(تسمیہ نثآر, گجرنوالہ)
سانس لینا بھی اب دشوار ہوا

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ مسائل میں تیزی سے اضافہ ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں. ان مسائل میں سے ایک مسلہ جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ مختلف ممالک میں دھوم مچا رکھی ہے "سموگ" ہے.لفظ سموگ دو لفظوں "سموک" اور "فوغ" کا مجموعہ ہے.اس سے مراد دھوئیں اور دُھند کا امتزاج جِس سے عموماً زیادہ گُنجان آبادی والے صنعتی اور مصنوعاتی علاقوں کو واسطہ پڑتا ہے.جیسے کہ اب سردیوں کی آمد آمد ہے لہٰذا سموگ نے پاکستان کے مختلف شہروں پر اپنا بسیرا کر رکھا ہے جس میں شہرِ لاہور متاثرین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ پہنچا ہے. سموگ کی مختلف وجوہات ہیں جن میں صنع تی آلودگی' فصلوں کو جلانا' گاڑیوں کا دھواں وغیرہ قابلِ ذکر ہیں. سموگ سے شہریوں کی نہ صرف حالاتِ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ مختلف قسم کی بیماریاں بھی اپنا غلبہ مسلط کیے ہوئی ہیں جن میں آنکھوں میں جلن ہونا' دمہ کی بیماری' سر میں درد کی شکایت' مستقل کھانسی کا رہنا' جلد کی الرجی وغیرہ شامل ہیں.شہریوں کو چاہیے کہ درجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ ان خطرناک بیماریوں سے بچا جا سکے:
1.پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے.
2.گھروں سے زیادہ باہر جانے سے گریز کریں.
3.لکڑی اور کوڑا جلانے میں احتیاط کریں.
4.ماسک کے استعمال کو یقینی بنائے.
5.اچھی اور مناسب غذا لیں.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: تسمیہ نثآر
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Nov, 2019 Views: 249

Comments

آپ کی رائے