مُردہ افغان مفاہمتی عمل کے زندہ ہونے کے امکانات ؟

(Qadir Khan, Lahore)

افغانستان میں بیک ڈور چینل کے ذریعے افغان مفاہمتی عمل کے ختم ہونے والے سلسلہ دوبارہ جڑ چکا ہے ۔ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان افغان امن مفاہمتی کے عارضی تعطل کے بعد اعتماد بحالی کے نام پر قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ دونوں فریقین کی جانب سے جاری ہے ۔ 19نومبر کو افغان طالبان کے اہم رہنماؤں کی رہائی نے ان توقعات کی تصدیق کردی ہے۔ قیدیوں کے تبادلے سے توقعات پیدا ہوئی ہیں کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن مفاہمتی عمل کا جلد آغاز ہوسکتا ہے ۔ غنی انتظامیہ اور پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اہم افغان رہنماؤں کے مغوی غیر ملکی پروفیسرز و افغان فوجیوں کے تبادلے میں اُن کا اہم کردار رہا ہے ۔ تاہم اس سلسلے میں افغان طالبان نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ مرکزی ترجمان کے مطابق ’’ امارت اسلامیہ کے تین قیدی مجاہدین انس حقانی، حاجی مالی خان اور حافظ عبدالرشید کی رہائی کے حوالے سے ایک مثبت اقدام ہوا،ہم اس کا استقبال کرتے ہیں۔اسی طرح امارت اسلامیہ کی جانب سے دو پروفیسروں (کیون کینگ امریکی اور تیموتی ویکس آسٹریلوی شہری) اور دس افغان فوجیوں کی رہائی کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا۔یہ تمام اعمال حسن نیت اور اعتماد سازی کے لیے ایک بہترین پیشرفت ہے،جو صلح کے عمل سے تعاون کرسکتا ہے۔یاد رہے کہ ہم مملکت قطر کے جناب امیر، وزیرخارجہ اور دیگر حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اس عمل کے آغاز سے مسلسل جدوجہد کی اور لازم سہولیات فراہم کیں‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹر پر دیئے جانے والے پیغام میں کہا کہ ’’ افغان طالبان کی جانب سے غیر ملکی پروفیسرز کیون کنگ اور ٹیموتھی ویکس کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسے ممکن بنانے والوں کی کاوشوں کو سراہتا ہے۔ پاکستان نے ان قیدیوں کی رہائی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، امید ہے یہ اقدام افغان امن عمل میں شریک فریقین کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ ہمیں امید ہے کہ اس پیشرفت سے فریقین کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور وہ امن عمل کے جانب دوبارہ لوٹیں گے۔ پاکستان اس امن عمل میں معاونت کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے‘‘۔کنگ اور ویکس کو اگست، 2016 میں کابل کی ’امریکن یونیورسٹی آف افغانستان‘ کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔مغوی پروفیسروں میں ایک کیون کنگ کا تعلق امریکا اور دوسرے ٹموتھی ویکس کا آسٹریلیا سے ہے۔ یہ دونوں افغان دارالحکومت کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔تقریباً ایک سال بعد ان کی ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی رہائی کے لیے اقدامات کی درخواست کی تھی۔پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں جن سینیئر اور اہم طالبان قیدیوں کو رہائی ملی، اُن میں انس حقانی بھی شامل ہے۔ رہائی پانے والے ان تینوں قیدیوں کو بیرونی ممالک میں گرفتار کرنے کے بعد افغانستان لایا گیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے افغان مفاہمتی عمل کو مُردہ قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان سمیت عالمی برداری نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ امریکی صدر کو عجلت سے کام نہیں لینا چاہے تھا ۔ امریکی صدر ٹرمپ مصر اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی طرز پر کیمپ ڈیوڈ میں ایک تاریخ رقم کرنا چاہتے تھے، لیکن معاہدہ کی ٹائمنگ اُس وقت رکھی گئی جب نائن الیون کا واقعہ 18برس قبل رونما ہوا تھا اور امریکی عوام اس دن کو قومی سو گ کے طور پر مناتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس خفیہ پروگرام کی مخالفت میں امریکی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کے دباؤ کے وجہ سے امریکی صدر نے غصے و عجلت میں ایک برس کی کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کو میلامیٹ کردیا ۔ حالاں کہ دوحہ میں ہونے والے معاہدے پر دستخط کا عمل باقی ر ہ گیا تھا جس کے بعد بین الافغان مذاکراتی مذاکرات کا دور ہونا تھا ۔ یقینی طور پر اُس وقت افغان صدارتی انتخابات تعطل کا شکار ہوجاتے کیونکہ انتخابات میں حصہ لینے والے 03امیدواروں کے تمام امیدوار وں اس بات کا کامل یقین تھا کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان باقاعدہ معاہدہ عمل میں آچکا ہے اس لئے صدارتی مہم میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ تاہم اس موقع کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے میں غنی انتظامیہ نے انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا اور صدرٹرمپ کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوئے کہ اگر امریکا ، مستقبل کی حکومت میں ان کے لئے جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا تو وہ افغان مفاہمتی عمل کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب افغان طالبان کا وفد پاکستان کی دعوت پر دورے کے لئے باقاعدہ آنے پر راضی ہوگیا تو غنی انتظامیہ نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر پاکستانی وزیر اعظم نے افغان طالبا ن کو دعوت دی تو وہ بلوچستان کے نام نہاد علیحدگی پسندوں کو لے کر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس پہنچ جائیں گے ۔ امن کی اس کاوش کو غنی انتظامیہ نے سبوتاژ کیا اور افغان طالبان کا وہ اُس وقت پاکستان نہ آسکا جب سعودی ولی عہد بھی پاکستان میں موجود تھے ۔ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ سائیڈ لائن ملاقات میں افغان طالبان اور سعودی حکام کے درمیان سرد مہری کو کم یا ختم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن غنی انتظامیہ ، شاید افغانستان میں جلد امن کی خواہاں نظر نہیں آتی تھی۔افغان امن مفاہمتی عمل کو مُردہ قرار دیئے جانے کے بعد امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا تاہم انہوں نے اس بات کی امید باندھ لی کہ افغان صدارتی انتخابات اُن کی منشا کے مطابق ہوئے تو عالمی برداری کو باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ انہوں نے افغان طالبان کے مطالبات کو نہ مان کر بہتر فیصلہ کیا ہے۔ امریکا اس جانب افغان صدارتی انتخابات کو کامیاب کرانے میں مصروف ہوا تو افغان طالبان نے عالمی برادری کی توقعات کے برعکس خود پر عاید عالمی سفر پر پابندیوں کی دسمبر میں ختم ہونے والی ڈیڈ لائن سے قبل ، روس ، ایران ، چین اور پاکستان کا باضابطہ سیاسی دورہ کرکے امریکا و غنی انتظامیہ کو حیرا ن و منتشر کردیا ۔

غنی انتظامیہ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ صدارتی انتخابات افغان طالبان کا بیانیہ مسترد کردیں گے اور افغان طالبان کا کردار محدود اور صرف چند علاقوں تک محدود ہوجائے گا ۔ لیکن افغان طالبان نے عوام سے انتخابی عمل سے دور رہنے کی اپیل کی اور دنیا نے دیکھا کہ افغان صدارتی انتخابات اپنی تاریخ کے کم ترین سطح پر منعقد ہوئے ۔20 فیصد رائے دہی کے دعوے بھی پورے عمل کو مشکوک بنا چکے ہیں کیونکہ تکینکی خرابیوں اور وٹر کے ڈیٹا کی منتقلی سمیت ووٹوں کی کم ترین تعداد کے بعدکسی بھی صدارتی امیدوار کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا جاسکا ۔ یہاں تک صدارتی امیدوار اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ سمیت برہان الدین ربانی نے اپنے کامیابی کے دعوے قبل ازوقت اعلان کرنا شروع کردیئے اور دوبارہ ووٹوں کی گننے کے عمل کو بھی مسترد کردیا ۔جس کے بعد افغان الیکشن کمیشن نے اعلان کی تاریخ بڑھانے کے ساتھ بالاآخر غیر میعنہ مدت تک کے لئے انتخابی نتایج کا اعلان نہ کرنے بیان دے کر افغان صدارتی انتخابات میں امریکا کی تمام خواہشات پر پانی پھیر دیا ۔ اس وقت افغانستان میں ایک ایسی حکومت کا انتظار کی جارہا ہے جو تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ پر مشتمل ہوگی ۔ افغان طالبان کی پاکستان آمد سے قبل امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد پاکستان میں موجود تھے ۔ اس امر کے یقینی ہونے میں کوئی دو رائے نہیں تھی کہ امریکی نمائندے اور افغان طالبان کے درمیان میٹنگ ہوگی۔ جو اعتماد سازی کے لئے ایک نئے پل کا کام کرے گی۔ افغان طالبان کے وفد کا پاکستانی حکام نے پرجوش استقبالیہ کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے روایتی مہمان نوازی کے تحت ملا عبدالغنی بردار وفد کا وزرات خارجہ کے دفتر میں استقبال کیا ۔ غنی انتظامیہ کو افغان طالبان کی پاکستان آمد و پر جوش استقبال پر غیر سفارتی انداز سے مخاطب کیا گیا ، لیکن پاکستان نے خطے میں امن کے خاطر تمام فریقوں کو امن مفاہمتی عمل دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ زلمے خلیل زاد کے ساتھ بھی افغان طالبان کے وفد نے ملاقات کی اور یہی وہ لمحہ تھا جو امریکی صدر کی جانب سے معاہدے مردہ کئے جانے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا سبب بنا ۔پاکستان کی اہم سہولت کاری نے افغان مفاہمتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا اور غنی انتظامیہ کی جانب سے عدم تعاون کے باوجود اسلام آباد ملاقات میں ابتدائی طور پر صوبہ بغلان میں ایک پاور پلانٹ پر کام کرنے والے 7 بھارتی انجینئرز کو جنہیں گزشتہ سال مئی میں اغوا کیا گیا تھا ، اس میں سے 3 بھارتی انجینئرز کو 11 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں چھوڑنے پر اتفاق ہوا۔طالبان ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ رہا ہونے والے افغان طالبان قیدیوں میں بگرام میں قید طالبان رہنما سید محمداکبر آغا بھی شامل ہیں جب کہ ان کے علاوہ کنڑ کے سابق گورنر شیخ عبدالرحیم اور نمروز کے سابق گورنر مولوی عبدالراشد بلوچ بھی رہائی پانے والوں میں شامل ہیں۔یہ ایک عمل تھا جس نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کی بحالی کے لئے اہم کردار ادا کیا ۔ اسلام آباد دورے کے بعد افغان طالبان نے اپنے موقف کو دوہرایا کہ وہ اب بھی مفاہمتی عمل وہیں سے جوڑنا چاہتے ہیں جہاں سے توڑا گیا تھا ۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کا عمل امریکا سمیت کسی بھی افغان اسٹیک ہولڈر کے لئے خوشگوار ثابت نہیں ہوا ۔ لیکن غنی انتظامیہ اسے کامیاب قرار دیتی رہی ، تاہم انتخابات کے نتائج کا اعلان غیر معینہ مدت تک موخر ہونا ، ظاہر کررہا تھا کہ امریکا اپنے فیصلے سے واپسی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور ایک موقع کی تلاش میں ہے۔ یہاں امن کے لئے سب سے بہترین موقع اُس وقت میسر آیا ، جب افغان طالبان کے سب سے دیرینہ رہنما انس حقانی کی رہائی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ افغان طالبان کے تین اسیر رہنماؤں انس حقانی، حاجی مالی خان اور حافظ عبدالرشید کی غیر ملکی شہریوں کے تبادلے میں رہائی اور قطر پہنچنے کے بعد ان تمام کوششوں و افوہوں نے دم توڑا کہ کابل حکومت نے تینوں اسیروں کی رہا کرنے کا فیصلہ روک دیا ہے۔ مختلف وجوہ بتائی جانے لگی ، ذرائع ابلاغ میں کئی خبریں افوہ کی صورت میں گشت کرنے لگی ، لیکن جب افغان طالبان نے اپنے رہنماؤں کی رہائی اور قطر پہنچنے کی باقاعدہ تصدیق کی تو تمام افوہوں نے دم توڑ دیا ۔اس وقت افغان طالبان کے سیاسی دفتر میں موجود افراد کے تعداد اُن رہنماؤں پر مشتمل ہے جو ماضی میں امریکی یا کابل انتظامیہ کی قید میں رہ چکے ہیں ، امریکا ، اُن قیدیوں سے مذاکرات کرتا رہا ہے جنہیں وہ بدنام زمانہ جیلوں میں اسیر رکھ چکا ہے۔ انس حقانی کا نام اس فہرست میں شامل تھا جو دوحہ افغان مفاہمتی عمل میں امریکی وفود سے مذاکرات کرتی رہی ہے۔۔ انس حقانی کی گرفتاری 2014 میں خلیجی ریاست بحرین میں ہوئی تھی۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیڈر جلال الدین حقانی کے بیٹے اور اہم کمانڈر سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’انس حقانی اپنی کم عمری اور اپنے بڑے بھائی کی موجودگی کی وجہ سے کبھی باقاعدہ طور پر شدت پسندی یا جنگی کارروائیوں کا حصہ نہیں رہے بلکہ وہ بیشتر اوقات خاندانی تجارت سے منسلک رہے ہیں‘۔تاہم افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ انس حقانی اپنے والد کی قائم کردہ جنگجو تنظیم کے لیے خلیجی ممالک سے رقوم اکٹھی کرنے میں ملوث رہے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ ان کو اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب طالبان کی طرف سے ان کا نام قطر دفتر کی مذاکراتی ٹیم میں باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا۔افغان صدر اشرف غنی نے واضح کیا کہ ان قیدیوں کو مغوی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں ہی رہا کیا گیا۔ غنی نے دونوں پروفیسروں کی صحت مسلسل خراب ہونے کا بھی بتایا ہے۔ انس حقانی کے بھائی اس وقت امارات اسلامیہ افغانستان کے ڈپٹی امیر ہیں۔افغان مفاہمتی عمل کے باقاعدہ شروعات کی اہم راہیں کھل چکی ہیں ، افغان صدارتی انتخابات نے بھی عالمی برداری کے سامنے حقائق رکھ دیئے ہیں کہ اگر افغانستا ن میں مستحکم امن کی ضرورت ہے تو اسے بیرونی عناصر کی طاقت و جبر کے قوت صرف کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لئے افغان عوام کے اسٹیک ہولڈر کو ہی فیصلہ کرنا ہوگا ، کسی بھی ملک کی خواہش پر افغانستان کا انتظام و انصرام کو کامیابی سے چلانا ممکن نہیں ہے۔ 19برسکی لاحاصل جنگ کے بعد عالمی برداری اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ، امریکا اور نیٹو اتحادی ممالک کو وہ کامیابی نہیں مل سکی ، جس کی توقع کرکے افغانستان کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تھا ۔ رواں برس 26اکتوبر کو نیٹو رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس بلجیم کے صدر مقام بروکسل میں منعقد ہواتھا ۔ گو کہ انہوں نے اپنے کامیابی کے دعوے کئے لیکن زمینی حقائق ان کے دعوؤں کو مسترد کررہے تھے ۔

18برسوں میں نیٹو مداخلت ناکام رہی، پھر اس ناکامی کے ازالے اور اس جنگ سے باہر نکلنے کے لئے متعدد پالیساں ، وعدے و حکمت عملیاں وضع کیں گئیں لیکن تمام تجربات ناکامی کا شکار ہوتے رہے یہاں تک کہ 2019کے اختتام تک 19برس کی جنگ میں امریکا خود کو فاتح ثابت نہیں کرسکا ۔ طویل ترین تجربات کے اب اہل عقل ودانش اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں بیرونی افواج کی کامیابی ناممکن ہے،کیونکہ ان کے خلاف افغان طالبان ناقابل شکست اسٹیک ہولڈر کی صورت میں حائل ہے، ویسے بھی افغان قوم کی اپنی تاریخ میں کبھی بھی بیرونی جارحیت کو تسلیم نہیں کیا، تو اسی لیے مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ استعماری فریق اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیں اور فوجی برتری کے سوچ کو ذہن سے نکال دیں۔افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے اس حوالے سے متفق نظر آتے ہیں کہ اگر نیٹو رکن ممالک چاہتے ہیں کہ اس اٹھارہ سالہ سردردی اور تنازع سے خود فارغ کریں، تو اس عمل کو جسے کل انجام دینا چاہیے، تو بہتر ہے اسے آج ہی عملی کریں۔ مگر یہ مسلم حقیقت ہے کہ افغانستان میں امریکا اور ان کے اتحادیوں کو دائمی کامیابی حاصل نہیں ملنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا افغانستان میں اپنے شہریوں کی زندگی اور مالی ذرائع کے نقصان کا روک تھام کرکے امریکا و اتحادی ممالک کو مداخلت سے دستبردار ہونا چاہیے اور افغان عوام پر چھوڑ دیا، کہ اپنی قسمت کا انتخاب خود ہی کریں۔افغان طالبان نے نیٹو آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو باقاعدہ دعوت دی ہے کہ افغانستان کی صورتحال کا گہرے طور پر مطالعہ کرکے حقائق کو سرخم ہوجائیں۔ اس تنازع کا حل بار بار کانفرنسوں کے انعقاد سے تلاش نہیں کیا جاسکتا، بلکہ حقائق پر مبنی رویہ اور اٹھارہ سالہ برسوں کے تجربات سے عبرت حاصل کرنا واحد طریقہ ہے۔

افغان مفاہمتی عمل ایک اہم سیاسی راستہ تھا ، امریکی صدر کی عجلت نے افغانستان میں امن کے ایک بہترین موقع کو فروعی مفادات کے تحت ضائع کیا ، تاہم وقت اب بھی اتنا نہیں گزرا کہ افغان مفاہمتی عمل کے حتمی مسودے پر عمل درآمد کی مسدود راہ تلاش کی جائے جو اُن کے سامنے ہے ۔بلا شبہ مملکتوں کے اپنے فروعی مفادات ہوتے ہیں لیکن ہر مسئلے کا حل جنگ کے بعد بھی مذاکرات کی صورت میں نکلتا ہے ۔ جنگ تو امریکا جیت نہیں سکا ، مذاکرات کی میز پر بھی شکست خوردہ ہوا ، لیکن پاکستان نے امریکی صدر و اسٹبلشمنٹ کو دوبارہ موقع فراہم کرایا ہے کہ وہ افغان مفاہمتی کے ڈیڈ لاک کو ختم کرکے روس ، ایران ، چین کے ساتھ مل کر امن کو نیا موقع دیں ۔امریکی افواج کو بالاآخر آج نہیں تو کل واپس جانا ہوگا ۔ امریکی افواج ہمیشہ کے لئے افغانستان میں نہیں رہ سکتی ، ایک لاکھ سے زیادہ تعداد کے نیٹو افواج افغانستان فتح نہیں کرسکے تو چند ہزار فوجی کس طرح افغان سرزمین کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے یہ دنیا بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ امریکا افغان مفاہمتی عمل کے اصولی معاہدے کی شق پر عمل کرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین سے باقی ماندہ فوجیوں کو باحفاظت واپس بلائے ، جس کے بعد افغان طالبان و اپوزیشن جماعتوں سمیت غیر رسمی طور پرکابل انتظامیہ کے با اثر افراد افغانستان کے مسائل کا حل افغان روایات کے مطابق نکالنے کے لئے پیش رفت کرسکیں گے ۔ افغان طالبان کے اسیر رہنماؤں کی مغوی قیدیوں کے بدلے رہائی کے معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ بیک ڈور چینل میں فریقین رابطے میں ہیں اور باقاعدہ افغان مفاہمتی عمل کو قابل عمل بنانے کے لئے خود کو مناسب وقت کے لئے تیار کررہے ہیں ۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات امن کی گارنٹی نہیں بن سکتا ۔ افغانستان میں مستحکم و پائدار امن کے لئے افغان عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق تمام اسٹیک ہولڈرز کو خود ہی راستہ نکالنا ہوگا۔ امن کو موقع دینا ہوگا اور افغان عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے اپنے اپنے موقف میں لچک بھی پیدا کرنا ہوگی کیونکہ طویل ترین جنگوں سے عام دعوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ۔افغانستان کے تمام فریقوں کو ادارک کرنا ہوگا کہ طویل جنگ کا خاتمہ لاکھوں مہاجرین کو اپنے آبائی وطن کی باحفاظت واپسی کی راہ بھی ہموار کریں گے اور لاکھوں خاندانوں کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق بھی مل سکے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 154 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 592 Articles with 213880 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: