بینانا ریپبلک

(Iftikhar Chohdury, )

 لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے
اپشاور موڑ پر جاتے وقت جو گند اہل دھرنہ چھوڑ گئے وہ اس سوچ سے قدرے بہتر تھا جو کنٹینر سے برامد ہوئی۔کس قدر حواس باختہ تھے وہ لوگ۔مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ دھرنہ ختم کیسے ہوا ؟تو سیدھا سا جواب ہے عمران خان نے اسے اخلاقی مار دے کر تباہ کیا۔دوسرا مولانا فضل الرحمن چالاک کوے کی طرح مار کھا گئے جس طرح ہٹلر کی فوجیں سردی سے مر گئیں مولانا کو احساس ہی نہیں تھا کہ اسلام آباد میں نومبر خضدار ڈیرہ غازی خان ملتان جیسا نہیں ہوتا ۔خود تو وہ تقریر کرنے آتے تھے لیکن اپنے شاہدولے شاہ کے چوہوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے سردی جھاڑے کی کپکپی کے مارے لوگوں کو عمران خان نے دوائی علاج خوراک دے کر ثابت کیا کہ وہ قانون سے زیادہ اخلاق کی مار دیتے ہیں۔مولانا کا جانا ان کے اپنے دل کے ارمانوں کا لٹ جانا تھا وہ سر عام کہہ گئے کہ میں زرداری اور نواز شریف کو جیل سے باہر دیکھنا چاہتا ہوں تو کیا میاں نواز شریف فضلی دھرنے کی وجہ سے ریلیف لے گئے ہیں۔ہمارے کاکے منے نے میرے کان میں کہا کہ چودھری جی وہ شعر یاد ہے
ہے عجب نظام زکوۃ کا
میرے ملک میں میرے دیس میں
اسے کاٹتا کوئی اور ہے
اسے بانٹتا کوئی اور ہے

سمجھ تو مجھے بھی ہے ہماری تقدیر کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں سنائے کہیں اور سے جاتے ہیں۔
میاں نواز شریف کا جانا سچ پوچھیں ان کے سیاسی قد کاٹھ میں کمی کا باعث بنا ہے۔اب پتہ چلا کہ ان کی دماغ کو خون پہنچانے والی شریان اسی فی صد بند ہے۔

چلئے آپ کو ایک واقعہ سناتے ہیں احمد فراز جدہ میں مشاعرہ پڑھنے آئے پڑھ کے گاڑی میں واپس بیٹھ رہے تھے تو مرحوم قاری شکیل نے کہا واہ سر فراز صاحب تسی تے مشاعرہ لٹ لیا اے۔وہ فراز صاحب کو سرفراز کہہ گئے میں نے لقمہ دیا وہ در اصل آپ کو کہہ رہے ہیں sir Farazکہہ رہے ہیں میں نے تعارف کرایا کہ یہاں کی مسلم لیگ کے صدر ہیں بس تھوڑے سے کھسکے ہوئے ہیں فراز صاحب نے برجستہ کہا مسلم لیگی ہونا ہی کافی ہے۔پاکستان کی اشرافیہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ان کی دماغ کی شریانوں کو خون اور آکسیجن دونوں نہیں ملتی اسی لئے شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہمیں چھ ماہ حکومت دیں ہم پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ان کی نس بھی چیک کرائیں پتہ نہیں پینتیس سال یہ لوگ یوگنڈا میں حکومت کرتے رہے ہیں کہ اب چھ ماہ پاکستان میں حکومت کر کے یہاں کے غریب لوگوں کی قسمت بدلیں گے۔
ایک اور طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو وزیر اعظم کو حکیمانہ مشورے دیتا ہے کبھی یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو بیماری کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے حالنکہ عمران خان کو اسی طرز سیاست نے عمران خان بنایا ہے۔ہم نے کب کہا ہے کہ بیمار کا مذاق نہ اڑائیں لیکن حد ہوتی ہے کہ بیماری کا اس قدر شور مچایا گیا کہ ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ دم آیا آیا نہ آیا۔

میاں صاحب خیر سے ستر کے ہونے والے ہیں کوئی ایک دو سال کم ہوں گے اس عمر کا بندہ ویسے ہی اپنے تمام آرگنز استعمال کر چکا ہوتا ہے دل دماغ ٹانگیں جگر اور بہت کچھ بصارت سماعت سب ہی کنارے لگے ہوتے ہیں ان کی فیصد رپورٹ کیا آئے گی۔جو شخص نوے فی صد زندگی بتا چکا ہو اس بے چارے کا کیا حال ہو گا۔میں چونسٹھ کا ہوں سر سے پاؤں تک بیماری کا لاری اڈہ بنا ہوا ہوں۔ایسے میں ایک شخص جس نے ساری زندگی کھانے کے ارد گرد صرف کی ہو پھجے کے پائے طیفے کی نہاری غرض کس کس دکان کا میاں صاحب زکر کیا کرتے تھے۔ایام در بدری میں جدہ میں ان چیزوں کو مس کرتے تو انہیں مکہ ہوٹل اشرفیہ کے کھانے عزیزم شہباز دین بٹ کی مکہ سے ااجھڑی پالک اور بے شمار دوستوں کی جانب سے پائے نہاری اور اس قسم کے کھابے بھیجے جاتے۔فراز ہی نے بتایا کہ میاں صاحب کابینہ کے لمبے اجلاس میں کہا کرتے لسی کا وقفہ نہ ہو جائے۔میرا دوست نواز شریف میں ضیاء شاہد نے لکھا کہ فلائیٹ کے اڑتے ہی میاں صاحب فرماتے شکیل کج کھان نوں ہے؟میں سمجھتا ہوں کمال کی قابل رشک صحت ہے اپنے میاں جی۔رات کو لاہور کے بٹوں کی پنڈی میں آمد تھی یقین کیجئے میرے سامنے دو بٹ بیٹھے ہوئے تھے جثے کے لحاظ سے بڑے سمارٹ جس پلیٹ میں جناب بٹ کھانا لائے میں سمجھا یہ ڈش ہے جو ہم سب استعمال کریں گے۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ میں نے دیکھا۔بسیار خوری اور مرغن چیزیں میاں صاحب کی عادت رہی ہے۔اس کے بعد اگر وہ ان گنت بیماریوں کا شکار ہیں تو اچھنبے کی بات نہیں۔یہاں سوال ہوتا ہے کہ کیا ہم Benana stateہیں کہ ہمارا طاقتور طبقہ سارے قوانین کی دھجیاں اڑا کے اسے موم کی ناک بنا لیتا ہے۔عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید نہیں لیکن سوال تو اٹھ رہے ہیں ہمیں اگر چپ بھی کرا دیا جائے تو دنیا کے ایک بڑے جریدے پاکستانی عدلیہ کوBitches of richesکہہ کر پاکستان کا قد چھوٹا کر دیا ہے اسے ہی Benana republicکہا جاتا ہے۔حضور فیصلے تو سب ہی مانتے ہیں لیکن ان کو دل سے تسلیم کوئی کوئی کرتا ہے ہمارے سامنے ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑ گئے اس عدالتی فیصلے کو Jodicial murderکہا گیا اور آج پاکستان کے نوے فی صد اسے عدالتی قتل کہتے ہیں گرچہ اس میں ہری پور سری کوٹ کے جسٹس صفدر شاہ جو چیف جسٹس اطہر من اﷲ کے نانا تھے انہوں نے اختلاف کیا مگر بھٹو کو مارنے والوں نے اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔عدالتی فیصلے جو بھی ہوں اس ایک بڑی عدالت کے اعلی جج کو سامنے رکھ کر کئے جائیں جس میں نے بھی آپ نے بھی اور اس دنیا کے سب ججوں نے پیش ہونا ہے۔وزیر اعظم نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آنے والے چیف جسٹس گلزار کو بڑا صائب مشورہ دیا ہے۔عمران خان نے سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنے خلاف چلنے والی چال کو ساڑھے سات ارب کی گارنٹی کو وابستہ کر کے ناکام بنا دیا ہے۔

وزیر اعظم کی مشیر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے بارے میں خبر چلی کے وہ کابینہ کے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کی کڑی تنقید کا نشانہ بنیں جب منتحب لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ احساس پروگرام پارٹی کارکنوں کا احساس نہیں کر رہا۔اور یہ سارے فائدے بے نظیر انکم سپورٹ والے لوگوں کو مل رہے ہیں اور یہ سروے 2009کا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اس سروے کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ سپورٹ کے کارڈ یا تو اس وقت کے منتحب اراکین کے پاس بڑی تعداد میں ہیں یا خود اس محکمے کے لوگوں کے پاس ہیں مجھے اندر کے آدمی نے بتایا سارا سروے بد نیتی پر مشتمل ہے۔

کامیاب جوان پروگرام کے بارے میں کارکنوں کی آواز بن کر کہنا چاہوں گا کہ اگر میرٹ ہی بنیاد ہے تو جناب وہ لوگ جو برس ہا برس آئی آئی پی ٹی آئی چیختے رہے ان کا کیا بنے گا۔ایک بار چودھری اختر علی وریو جناب غلام حید وائیں کے پاس گئے اور کہا ایس منڈے دی نوکری کر دے وائیں صاحب نے انہیں جواب دیا کہ گجر صاحب یہ میرٹ پر نہیں ہے۔جو لوگ چودھری اختر علی وریو کے طرز کلام سے واقف ہیں انہیں علم ہے کہ انہوں نے کیا کہا ہو گا البتہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کیا تم اور میں دونوں میرٹ پر بیٹھے ہیں جناب وزیر اعظم کے میرٹ محنت کو تو دنیا جانتی ہے لیکن یہ سوالدوسرے صاحب سے کیا جا سکتا ہے۔کارکنوں کی سنیں ورنہ وہ سنانے پے آئے تو مشکل ہو گی۔ہم نے ان لوگوں کا بھی سوچنا ہے جنہوں نے ہمارے لئے زندگیاں قربان کیں۔اس دن آئی ایس ایف کا یوم تاسیس تھا پورا دن گزر گیا شام کو ایک ذمہ دار کو مبارک باد دی تو وہ پھٹ پڑا اس نے کہا جناب آپ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے مجھے کال کر کے مبارک باد دی البتہ ٹویٹس بڑی آئی ہیں۔فیاض خان میرے دوست نے ہمارا نام ہی ٹویٹو سلطان رکھ دیا ہے جو ہر کام پے ٹویٹ کرنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ انہیں وزیر اعظم ہاؤس بلا کر کیک کاٹا جا سکتا تھا ۔میں کیا کر سکتا تھا اگلے دن انہیں ناشتے پر بلایا پھول پیش کئے کوئی تین گھنٹے ڈھارس بندھائی۔وزیر اعظم کے وہ مشیر جنہیں آئی ایس ایف کی جد وجہد کا سرے سے علم ہی نہیں ان سے کیا گلہ کریں۔کارکنوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا۔اور آخر میں جس تیزی سے پارٹی تنظیمیں کھڑی کی جا رہی ہیں لگتا ہے پی ٹی آئی پارٹی نہیں ادارہ بننے جا رہی ہے۔شمالی پنجاب کی ٹیم نے اس دوران فیصل آباد،لاہور،سرگودھا میانوالی بھکر کے طوفانی دورے کئے ہیں ۔باقی گرچہ قومیں ٹماٹروں سے نہیں بنتیں لیکن آٹے چینی گھی دال کی قیمتوں سے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے بہت نیچے جائیں گے ۔پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور بیو رو کریسی کج کرسی تے کم بنسی۔ میاں جی کے جانے پر
سدھاریں شیخ کعبہ کو
ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا
ہم خدا کی شان دیکھیں گے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 170 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 381 Articles with 122831 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Language: