جو جیتے وہی سکندر

(Sami Ullah Malik, )

جن کے دلوں میں خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں،جنہیں دنیاکے اسباب اورآسائش سے اس قدررغبت ہوکہ اس کے چلے جا نے کا خوف ہی انہیں بے خوابی کاشکارکردے،جوذراسی بیماری پرماہرڈاکٹروں کے پینل کے روبروپیش ہوجا ئیں کہ کہیں اس کی وجہ ان کی زندگی کی مہلت ختم نہ ہوجائے۔ جوڈر، خوف اوربے یقینی سے ا پنی ساری پونجی اکھٹی کرکے اس شہرسے اس شہراورپھر اس ملک سے اس ملک دربدرہوتے پھریں،خوف سے مقام اورپتہ تبدیل کرواتے پھریں۔رات کوچھت پرہلکی سی آہٹ پران کی نیند ان سے روٹھ جائے اورٹھنڈے پسینے آناشروع ہوجائیں،چوکیداروں کومددکیلئے اونچی آواز میں پکارناشروع کردیں،کچھ بھی نہ نکلےتوپھربھی ساری رات کروٹیں بدلتے جاگ کررات گزرے۔ایسے لوگوں کوتاریخ کے وہ اوراق پڑھنا چاہئیں جن میں قوموں نے غیرت،عزت،حمیت،جوانمردی،حوصلہ اورجرأت جیسے اوصاف سے وہ میدان فتح کئے جن کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔

وہ تمام لازوال داستانیں جوتاریخ کے ماتھے کاجھومرہیں ان کے محرکات میں کبھی معاشی خوشحالی،آسودگی اورسا مان حرب نہیں رہے بلکہ قوموں کی تاریخ جن لوگو ں نے بدل کررکھ دی وہ نہتے اوربے سروساماں لوگوں کے گروہ تھے جوآندھیوں کی اس طرح اس رفتارسے چلے کہ انہیں روکنے والوں کواپنے ہتھیارتک سنبھالنے کی مہلت تک نہ مل سکی۔لیکن خوفزدہ لوگوں کی لغت میں غیرت،عزت،حمیت،جوانمردی،حوصلہ اورجرأت ایسے کھوکھلے الفاظ ہیں جن کی کسی اسٹاک ایکسچینج میں کوئی قیمت اوروقعت نہیں،جن سے فیکٹری نہیں لگتی،جس سے بینک بیلنس نہیں بڑھتا،جس کی وجہ سے بیرون ملک عیاشی کے دورے اور تفریح نہیں ہوسکتی،توپھران سب کاکیا فائدہ؟سب بیکارکی باتیں اورلفاظی ہیں،میں ہرروزایسی باتیں سنتاہوں،حکمرانوں کے منہ سے بھی اورصاحب ثروت معززین سے بھی،فیشن ایبل ہوٹلوں میں کافی پیتے دانشوروں سے بھی اور پرتعیش زندگی گزارتے اہل قلم صحافیوں سے بھی۔

سچ کی صحیح تصویردکھانے والے ٹی وی اینکرپرسنزسے بھی اوغریبوں کی قسمت بدلنے کادعویٰ کرنے والی این جی اوزسے بھی۔یہ سب ایک ایسی مٹی سے بنے ہوتے ہیں جوذراسی بھی گرمی برداشت نہیں کرپاتی،چٹخنے لگتی ہے،فوراًجنریٹراور یو پی ایس لگوالیتی ہے۔کسی ٹریفک کے رش میں پھنس جائیں توان کافشارخون تیزہوجاتاہے۔پریشانی میں”جاہل قوم”کواول فول بکناشروع کر دیتےہیں،لفٹ بندہوجائے،ہڑتال ہوجائے،جہازلیٹ ہوجائے،پٹرول پمپوں کی ہڑتال ہوجائے،چاردن بارش نہ ہو ،کہیں سڑک پرگڑھاہو اورگاڑی دھڑام سے اندرجاگرے۔غرض روزمرہ کی کسی بھی مشکل میں انہیں اپنے یورپ اورامریکا میں گزارے ہوئے دن شدت سے یادآتے ہیں اورپھریہ اس جاہل،گنواراوربدتہذیب قوم کوبے نقط سناتے پھرتے ہیں۔ان دنوں ان کی حالت دیدنی ہے بالکل اس شخص جیسی جوکسی ایسی بس میں سوارہوجائے جس کاڈرائیورتیزرفتاری سے گاڑی کو پہاڑی موڑوں پراس طرح چلارہاہوکہ اب گراکہ گرا،لیکن مشاقی سے چلتاجائے اورسارے رستے میں ان لوگوں کاکلیجہ منہ کو آیاہو،گاڑی سے چھلانگ لگائیں توموت اور بیٹھیں رہیں تودل کی دھڑکن بندہونے کاخطرہ۔ایسے میں ان کووہ لوگ کتنے برے لگتے ہوں گے جوڈرائیورکی مہارت پراس کوداد دیں اورتالیاں بجائیں۔

میرے ملک کایہ دانشورطبقہ گزشتہ 72سالوں سے قوم کوخوف کے انجیکشن لگارہاہےاورگزشتہ دودہائیوں میں تواس نے ماہر نشہ والے ڈاکٹر کی طرح حکمرانوں اورصاحبان طاقت کوایسی گہری نیندکاانجیکشن لگایاکہ وہ خوف کی نیندسے بیدار ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔یہ اب بھی اس عالم خوف کوقوم پرمسلط رکھناچاہتے ہیں،لیکن کیاکریں اب معاملہ ہی کچھ اورہے۔

قصاب کی دوکان پرجب ایک مرغی ذبح کرنے کیلئے نکالی جاتی ہے توباقی مرغیاں سکون کاسانس لیتی ہیں کہ چلوجان بچ گئی، لیکن اب قصاب کاہاتھ تو ہماری طرف بڑھ رہاہے۔اب قصاب کی سرخ آنکھیں چونچیں مارکرہی پھوڑی جاسکتی ہیں اور ناپاک ہاتھ زخمی کئےجاسکتے ہیں۔

لیکن ان خوفزدہ کاسہ لیس اورمرعوب لوگوں کوکون سمجھائے کہ یہ میدان جنگ ان کاہے ہی نہیں ۔یہ تونہتے اورغیرت مند لوگوں کی راہ ہے جس پروہ جب چاہیں بے دھڑک چل پڑتے ہیں کہ انہیں کسی چیزیاقیمتی متاع کے لٹ جانے کاخوف ہی نہیں ہوتا۔جن دنوں امریکااپنے پورے وسائل کے ساتھ ایران میں اپنے ناپاک اورخونی پنجے گاڑچکاتھا۔اس کی تربیت یافتہ سفاک ساواک ہزاروں لوگوں کوغائب اورلاکھوں لوگوں کوتماشہ بناچکی تھی،شاہ ایران کواپنی سات لاکھ وفادارفوج کی برتری پرپورایقین اوربھروسہ تھا ،مغربی طاقتیں اورامریکی مدداس کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں،ایسے میں نہتے ایرانی عوام، ہاتھوں میں لاٹھیاں،بھالے یاکوئی سادہ ساہتھیارلئے سڑکوں پرنکلتے توصرف جرأت اور جوانمردی ان کے ساتھ ہوتی۔ایسے میں ایک شعرایران کے ہراس شخص کی زبان پرہوتاتھاجوانقلاب کی راہ دیکھتاتھا۔
اززلزلہ ترسند ہمہ کاح نشیناں
ماخانہ بدوشاں،غم سیلاب نہ داریم

(زلزلے سے تووہ ڈریں جومحلوں میں رہتے ہیں۔میں خانہ بدوش ہوں مجھے توسیلاب کابھی ڈرنہیں)خیمہ اکھاڑا،ذرادورلگالیا۔یہ بے خوفی دنیاکے ہر بڑے انقلاب اورہرجنگ میں فتح کے پس پشت رہی ہے۔کیمونسٹ انقلاب جس نے آدھی دنیاکواپنے زیر تسلط کیا اس کیمونسٹ مینی فیسٹوکے آخری فقرے ہیں”مزدوروں کواپنی زنجیروں کے سواکھوناہی کیاہے اورجیتنے کوپوری دنیاپڑی ہے” جیتنے کی گھڑی انہی کامقدرہوتی ہے جنہیں کسی چیزکے کھونے،لٹ جانے اورغائب ہونے کاخوف نہ ہو۔

خوش نصیب ہوتی ہیں وہ قومیں جن کے دلوں سے موت کاخوف نکلنے کالمحہ آجاتاہے۔ایسی قوم کوآج تک کسی بڑی سے بڑی طاقت نے بھی شکست نہیں دی اورہم تووہ خوش نصیب قوم ہیں جن کی پہچان سیدالانبیاء ﷺنے یہ بتائی کہ انہیں دنیاسے بے رغبتی ہوتی ہےاورموت کاخوف نہیں ہوتا۔وہ جوپچکے ہوئے گالوں،کمزورجسموں اورفرسودہ تلواروں سے دنیاکی دوعالمی طاقتوں قیصر وکسریٰ سے ٹکراگئے تھے اورتاریخ کاوہ سبق زندہ کردیاتھاکہ فتح آج تک اسباب سے نہیں

غیرت، عزت،حمیت،جوانمردی،حوصلہ اورجرأت جیسے اوصاف سے ہوتی ہے۔یہ سبق بربروں سے منگولوں تک،مسلمانوں سے یورپ کے قزاقوں تک اورویتنام،انگولا ، ہنڈراس کے نہتے عوام تک سب نے تحریرکیااورزندہ رکھااوراب کشمیرکی باری ہے۔ فتح نہتے عوام کامقدرہوا کرتی ہے۔ظالم خواہ اپناہویاباہرسے آکرمسلط ہوجائے رسواکن شکست اس کامقدرہوتی ہے۔خوفزدہ لوگوں کاکیاہےانہوں نے توہرحال میں ڈرنا ہے ، رات کونیندکی گولیاں کھاکرسوناہے۔صبح بلڈپریشرکی کم کرنے کی دوائی لیناہے،شام کوڈیپریشن دورکرنے کانسخہ استعمال کرناہے اور پھرجوجیتے وہی سکندرکانعرہ بلندکرکے کام میں جت جاتاہے ۔
نہ کھوبیٹھیں کہیں وہ قافلے میراث ماضی بھی
جوہاتھوں میں زمان حال کاپرچم نہیں لیتے
کیٹاگری میں : آج کاکالم، کشمیر
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 468 Articles with 154765 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2019 Views: 283

Comments

آپ کی رائے