رشتوں کا معیار کیسا ہونا چاہیے

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 شادی کے مسائل میں سے ایک مسئلہ زندگی کے ساتھی کے انتخاب کابھی ہے۔ اس بات کافیصلہ ہرایک اپنی سوچ اوراپنے زاویہ نظرکے مطابق کرتاہے کہ اس کے زندگی کے ساتھی میں کیاخوبیاں اورکیاکوالٹیاں ہونی چاہییں۔ کتاب تحفہ شادی خانہ آبادی کے صفحہ ۴۳ پرلکھاہے کہ فی زمانہ زندگی کاساتھی تلاش کرنامردوعورت دونوں کے لیے بہت مشکل ہوگیاہے کہ وہ ساتھی تلاش کریں توایساکہ اس کے ساتھ زندگی اچھی گزرجائے۔ کیونکہ نکاح میں کسی کوشریک حیات، رفیق سفراورعمربھرکاساتھی بنانااوروہ بھی اس طرح کہ وہ خوشی وآرام اوررنج وغم ہرحال میں ساتھی ہو۔ جس کے انتخاب کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آدمی نے چنددنوں یاگھنٹوں کے سفرپرجاناہوتواس کی خواہش وتمناہوتی ہے کہ اس کے آس پاس بیٹھنے والے لوگ ذراسلیقے، قرینے والے ،مہذب اوربااخلاق ہوں۔ تاکہ سفر پرسکون طریقہ سے گزرجائے اورذہن کوکسی قسم کی کوفت وپریشانی نہ ہو۔ ورنہ وہ تمام راستہ بوریت،الجھن اورگھٹن محسوس کرتارہتاہے۔ توجب چندگھنٹوں کے سفرمیں آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ رفیق سفر یعنی ساتھ سفرکرنے والااچھاہو، مہذب ہو، باسلیقہ ہو،ذی شعورہوتوپھرزندگی کاہم سفرتلاش کرتے وقت توان کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فی زمانہ ایساسفرتلاش کرنامشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس لیے اس کام میں جلدبازی کامظاہرہ نہیں کرناچاہیے بلکہ خوب احتیاط کے ساتھ اس بہت بڑی سیڑھی پرقدم رکھناچاہیے۔

موجودہ دورمیں دولہاکاانتخاب کرتے ہوئے یہ دیکھاجاتا ہے کہ وہ کتناکمالیتاہے۔ وہ کیاکاروباریاکون سی ملازمت کرتاہے۔ اس کارہن سہن اورخاندان کیساہے۔ دولہاکے انتخاب کے وقت ،پیسہ، جائیداد اورسرمائے کوفوقیت دی جاتی ہے۔ اسی کتاب تحفہ شادی ۔خانہ آبادی میں لکھا ہے کہ عورت کے گھروالوں کواورعورت کوبھی ایسے خاوندکانتخاب کرناچاہیے جودین پرعمل کرنے والاہو اوراخلاق حسنہ کامالک ہو، عقل مندہو، ذی شعورہو۔ سمجھدارہواورنبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پرعمل کرنے والاہو
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کونکاح کاپیغام وہ شخص دے جس کی دینداری اوراخلاق تم کوپسندہے (تواس کے ساتھ رشتہ طے کردو) اگریہ نہ کروگے توزمین میں لمبے چوڑے فسادبرپاہوجائیں گے۔

اس حدیث مبارکہ کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں خطاب لڑکی کے اولیاء کوہے۔ کیونکہ عادتاً عورت خصوصاً باکرہ لڑکی کے اولیاء سے ہی نکاح کی گفتگو کی جاتی ہے۔ اس لیے ان سے خطاب فرمایا کہ جب تمہاری لڑکی کے لیے دیندارعادت کالڑکامل جائے تومحض مال کی ہوس میں اورلکھ پتی کے انتظارمیں جوان لڑکی کے نکاح میں دیرنہ کرو۔ اورلڑکے کے خلق (اخلاق )سے مرادتندرستی، عادت کی خوبی، نفقہ پرقدرت سب ہی داخل ہیں۔ کیونکہ اگرمال دارکے انتظارمیں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے توادھرلڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اورادھرلڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے۔ جس سے زناپھیلے گا اورزنا کی وجہ سے لڑکی والوں کوننگ وعارہوگی۔ نتیجۃً یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں قتل وغارت کریں گے۔ جس کاآج کل مشاہدہ ہے۔ بدقسمی سے موجودہ دورمیں جاہلیت کی بری رسمیں لوٹ آئی ہیں اوران رسموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ برادری کے باہررشتہ نہیں کرنا۔ خواہ کسی بے نمازی، شرابی، بدمعاش، نشہ آور،سودخور،بلکہ کسی بے ادب سے کرناپڑے تووہ رشتہ منظورکرلیتے ہیں۔ لیکن برادری سے باہررشتہ نہیں کرتے۔ حالانکہ حدیث مبارکہ میں فرمایا گیاہے کہ کوئی دین داراوراچھے اخلاق والارشتہ مل جائے تواس کوترجیح دو۔ اﷲ رب العزت ہم سب کوبھی اپنے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کاصدقہ بری رسموں سے محفوظ فرمائے۔ جب یہ ساری چیزیں انسان دیکھ لے یعنی مردعورت میں عورت مردمیں توپھراس صورت میں نکاح کردیناچاہیے۔

موجودہ دورمیں دلہن کاانتخاب کرتے وقت یہ دیکھاجاتا ہے کہ وہ کتناجہیزلائے گی۔ اس کوجائیدادمیں سے کتناحصہ ملے گا۔ دلہن کے انتخاب کے وقت دولت، خوب صورتی اوربڑے خاندان کوترجیح دی جاتی ہے۔ کتاب سنت نکاح کے صفحہ اکیس پرلکھاہے کہ کسی بھی انسان کااپنی روزمرہ زندگی میں کسی بھی اہم کام یامسئلہ میں اقوال کرنا یعنی اپنی رائے کااپنے لیے یااپنے گھروالوں کے لیے یااپنے خاندان والوں کے لیے یااپنے اردگردکے معاشرے کے لوگوں کے لیے اظہارکرنااوراسی پرقائم رہناایک مشکل ازدواجی زندگی گزارنے اوربسرکرنے کے لیے نیک بیوی کاانتخاب کرنابھی ہے۔ یہ ایک ایسامعاملہ ہے کہ جس میں جلدبازی کرنانقصان دہ ہوسکتاہے اوراسی طرح اس معاملہ میں مردکامایوس ہونااورکم ہمت ہونابھی زہرقاتل ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں یہ ہوتاہے کہ اگرکسی مردکارشتہ دوچارجگہ پرگیااوروہاں سے جواب ہاں نہیں ملتا تواکثرلوگوں کے گھروں کے لوگ خاندان کے لوگ مایوس ناامیدہوجاتے ہیں کہ اب کون دے گا رشتہ سارے خاندان میں چھان بین کرلی اب توکوئی نہیں رشتہ اس لیے اب کوئی بھی لڑکی مل جائے چاہے اس کے لیے غیرمناسب ہی کیوں نہ ہورشتہ کردواس طرح اچھے بھلے پڑھے لکھے نوجوان کانکاح ایسی لڑکی سے کروایاجاتاہے جوکسی بھی طرح سے اس کے لیے مناسب نہیں ہوتی پھرہوتا کیاہے کہ ساری زندگی میاں بیوی کی آپس میں ان بن لڑائی جھگڑے اوراﷲ نہ کرے مارپیٹ اورطلاق و خلع تک نوبت پہنچ جاتی ہے اورجونہیں ہوناچاہیے۔ وہ ہوجاتا ہے اس لیے ایسے دقیق مسئلے میں یعنی نیک بیوی کے انتخاب کے سلسلے میں لڑکے کوبھی چاہیے کہ خودبھی ہمت سے کام لے اورگھروالوں کوبھی حوصلہ افزائی کرے اورانہیں مایوس بھی نہ ہونے دے۔ اﷲ تعالیٰ سے اچھے رشتے کی امیدرکھتے ہوئے احکام الہٰی کی پابندی کے ساتھ خلوص دل سے دعامانگتے رہے اورگھروالوں کوبھی ازخود چاہیے کہ ہمت وکوشش کرتے ہوئے ٹھنڈے دل سے خوب غوروخوض کرکے اچھی طرح چھان بین کرکے رشتہ طے کریں۔ کتاب تحفہ شادی ۔خانہ آبادی میں لکھاہے کہ شادی کے سارے معاملات میں سب سے پہلااوراہم فریضہ یہ ہے کہ مرداپنے لیے یااس کے گھروالے مردکے لیے ایسی عورت کاانتخاب کریں جونیک ،پاکباز،سلیقہ شعار،تعلیم یافتہ اورحسن اخلاق وحسن عمل والی ہو۔ مردکواوراس کے گھروالوں کوعورت کی صورت پرعورت کی سیرت کوترجیح دینی چاہیے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ کسی عورت سے چاروجہوں سے نکاح کیاجاتا ہے۔ اس کے مال پر، خاندان پر،حسن اوردین پرتم دین والی کواختیارکرو

اس حدیث مبارکہ سے روزروشن کی طرح واضح ہوگیاکہ عورت کاانتخاب کرتے وقت دین کوترجیح دینی چاہیے۔ یعنی اس عورت سے شادی کرنی چاہیے جونیک ،سیرت ،پاکباز، سلیقہ شعاراوردین سے رغبت رکھنے والی ہو۔ حسن وجمال، مال ودولت ،حسب ونسب کوبھی دیکھناچاہیے لیکن ان سب پردین کوترجیح دینی چاہیے اوریہ فرمان مقدسہ کامفہوم ہے۔ اسی حدیث مبارکہ کی تشریح کتاب سنت نکاح میں یوں لکھی ہے کہ کسی بھی عورت سے نکاح کرتے وقت اس میں سب سے پہلی خوبی دین داری کودیکھناچاہیے کہ آیاوہ دین سے کتنی لگن رکھنے والی ہے کیونکہ اگروہ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والی ہوگی یعنی اﷲ تعالیٰ کے سارے احکامات کوپوراکرنے والی ہوگی تواس کے بہت زیادہ فائدے آپ کوحاصل ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ازدواجی زندگی پائیدارخوش گوارباوقاراورباہم پیارومحبت سے بھرپورہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ شادی حقیقۃ ً خانہ آبادی ،ڈھیروں خوشیاں لانے کاسبب بنے گی اورآنے والی نسل بھی ایک باشعوراورباپردہ خاتون کی گودمیں پرورش پاکرامت مسلمہ کے لیے عظیم نعمت بن سکتی ہے۔ شادی کے لیے عورت کاانتخاب کے وقت سب سے پہلے یہی صفت تلاش کرناہرمسلمان کے لیے بہت ضروری ہے ۔یہ بات ہرمردکوسمجھ لینی چاہیے۔ دین اسلام ہی وہ واحددین ہے جولڑکی کوشوہر،ساس وسسرکے نندوبھاوج کے غرض کہ تمام گھروالوں کواورساری دنیاکے لوگوں کے حتیٰ کہ جانوروں کے حقوق اداکرنابھی سکھاتاہے۔

حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حبیب پروردگارصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تقویٰم کے بعدمومن کے لیے نیک بیوی سے بہترکوئی چیزنہیں اگراسے حکم کرتاہے تووہ اطاعت کرتی ہے ۔اگرمرداسے دیکھے وہ خوش کردے اوراس پرقسم کھابیٹھے توقسم سچی کردے اوروہ کہیں چلاجائے تواپنے نفس اورشوہرکے مال میں بھلائی کرے یعنی خیانت وضائع نہ کرے

حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک دنیااستعمال کی چیزہے لیکن اس کے باوجودنیک اورصالحہ عورت دنیاکے مال ومتاع سے بھی افضل وبہترین ہے۔

حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرواورنہ ہی ان کے مال کی وجہ سے نکاح کرو کہیں ایسانہ ہوکہ ان کاحسن اورمال انہیں سرکشی اورنافرمانی میں مبتلاکردے بلکہ ان کی دینداری کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرو کیونکہ چپٹی ناک اورسیاہ رنگ والی کنیزدین دارہوتوبہترہے۔

حضورصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھے خاندان میں شادی کرو اس لیے کہ خاندانی اثرات سرایت کرتے ہیں۔ کتاب سنت نکاح میں لکھا ہے کہ اگرلڑکی کاصرف اورصر ف مال دیکھ لیاجائے باقی تنیوں باتوں کومدنظرنہ رکھاجائے توبے شمارخرابیاں لازم آئیں گی ۔سب سے پہلے تودین سے بے پرواہوکرصرف مال ودولت کی بناء پرشادی کرناحماقت ہے کیونکہ دولت توایک ڈھلتاسایہ ہے اس کاکوئی بھروسہ نہیں ،صبح کابادشاہ شام کوفقیراورشام کافقیرصبح بادشاہ ہوسکتاہے۔ لیکن اگرلڑکی مال دارہوتوغریب کالڑکاان کاغلام اورخادم بن کررہ جاتاہے۔ اوراگردونوں دولت کے نشے میں ہوں تونت نئے فتنے اورفسادظاہرہوتے ہیں۔
حضورپرنورصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں سے ان کے مال دارہونے کی وجہ سے نکاح نہ کرو ہوسکتاہے کہ ان کامال تمہیں (یعنی میاں بیوی ) کوطغیان اورسرکشی میں مبتلاکردے۔ عورتوں سے دین داری کی بناء پرنکاح کرو۔

سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی عورت کے ساتھ نکاح اس کی عزت (اورمرتبے) کی وجہ سے شادی کی (تاکہ اس کی وجہ سے خود بھی معززہوجائے) تواﷲ اسے معززکی بجائے ذلیل کرے گا اورجس نے کسی عورت کے ساتھ مال کی وجہ سے شادی کی (تاکہ وہ اس کی وجہ سے خودبھی مال دارہوجائے) تواﷲ سے مال دارکی بجائے محتاج کرے گا۔ مذکورہ دونوں حدیثوں سے واضح ہوگیا کہ ما ل ودولت کے لالچ میں کی ہوئی شادی نفع بخش نہیں ہوسکتی۔ کتاب تحفہ شادی ۔خانہ آبادی میں ہے کہ مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ عام طورپرلوگ عورت کے مال، جمال اورخاندان پرنظررکھتے ہیں ۔ان ہی چیزوں کودیکھ کرنکاح کرتے ہیں۔ مگرتم عورت کی شرافت اوردینداری کوتمام چیزوں سے پہلے دیکھو کہ مال وجمال فانی چیزیں ہیں۔ دین لازوال دولت ہے نیزدیندارماں دینداربچے جنتی ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا جوعورت کاصرف مال دیکھ کرنکاح کرے گا وہ فقیررہے گاجوخاندان دیکھ کرنکاح کرے گاوہ ذلیل ہوگا اورجودین دیکھ کرنکاح کرے گااسے برکت دی جائے گی۔

حضرت معقل بن یسارسے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔محبت کرنے والی ،بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے امتوں پرفخرکروں گا۔ کتاب سنت نکاح میں لکھاہے کہ عورت سے شادی کے وقت جن چارچیزوں کادیکھنامستحب ہے ان میں عورت کے مال کے بعدجس چیزکادیکھنابہترہے ۔وہ عورت کاحسب نسب ہے۔ اس سے مرادعورت کے گھر، خاندان،آباؤاجدادکوبھی دیکھناچاہیے کہ اولادپراس کااثرہوتاہے۔ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ عورت کے گھروالوں سے یہ نہیں پوچھناچاہیے کہ آپ کی بیٹی نے کس جامعہ سے تعلیم حاصل کی بلکہ یہ پوچھناچاہیے کہ اس کابچپن، جوانی اوردیگرزندگی کیسے گھرانے میں گزری۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ نکاح ایسی لڑکی سے کیاجائے جس کے والدین نیک وصالح ہوں، لڑکی کی والدہ اپنے شوہرکی اطاعت گزارہو۔اس لیے شادی خاندان دیکھ کرکرنی چاہیے نہ کہ مال ودولت، جہیزمیں گاڑی بنگلہ وغیرہ نہ دیکھیں بلکہ لڑکی کی تربیت ،شرافت ،شرم وحیا،اخلاق ،حرکات وسکنات ،دین سے لگاؤ دیکھیں پھرشادی پرآمادہ ہوں۔
 
اس تحریرکے آخرمیں دوواقعات لکھے جارہے ہیں جس سے یہ سمجھنے میں مزیدآسانی ہوجائے گی کہ رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے

خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزررہے تھے ۔ایک گھرمیں ایک خاتون اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ دودھ میں پانی ملادے۔ اس کی بیٹی کہتی ہے خلیفہ نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیاہے ،وہ خاتون کہتی ہے وہ اس وقت کون سادیکھ رہے ہیں۔ لڑکی کہتی ہے وہ نہیں دیکھ رہے ان کاخداتودیکھ رہاہے۔ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے عبداﷲ کے لیے اس لڑکی کارشتہ مانگ لیا۔ حضرت عمربن عبدالعزیز اسی لڑکی کے نواسے ہیں۔

دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھاہواایک نوجوان دریامیں بہتاہواسیب کھالیتاہے تواس کاضمیراسے کہتاہے تونے سیب توکھالیااس کی قیمت ادانہیں کی اوراس کے مالک سے اجازت بھی نہیں لی۔ وہ نوجوان اس سیب کوبخشوانے کے لیے باغ کے مالک کے پاس پہنچتاہے سلام دعاکے بعداپنامدعابیان کیا۔ باغ کے مالک نے کہا کہ بیٹا سیب کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ تم ادانہیں کرسکتے۔ نوجوان کے اصرارکرنے پرمالک کے حکم کے مطابق باغ کی رکھوالی شروع کردی۔ چندسال کے بعدباغ کے مالک نے سیب معاف کرنے کی ایک اورشرط رکھی کہ اس کی ایک بیٹی ہے جونابینااوربہری ہے۔ اس سے شادی کرلو۔ نوجوان نے بلاتامل قبول کرلیا۔ شادی کے بعدوہ نوجوان دلہن کے کمرے میں جاتاہے توجوخامیاں اس کے سسرنے اس کی دلہن میں بتائی تھیں ان میں سے دلہن میں ایک عیب بھی نہیں تھا۔ نوجوان کے سوال پرباغ کے مالک نے جواب دیا کہ میں نے جوکہااورتم نے جودیکھادونوں ہی سچ ہیں۔ اس لڑکی نے کبھی اپنی زبان سے خلاف شریعت کوئی بات نہیں کی اس لیے گونگی ہے۔ کانوں سے کوئی فحش بات اورغیرمحرم کی آوازنہیں سنی اس لیے بہری ہے ، کبھی کسی غیرمحرم کونہیں دیکھا اس لیے نابیناہے۔باغ کے مالک حضرت عبداﷲ صومعی تھے اوروہ سیّدابوصالح موسیٰ بن عبداﷲ تھے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 380 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 314 Articles with 126776 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ