بہار کے اقلیتی فلاح کے وزیر کو بلا تاخیر برطرف کئے کیا جائے

(Syed Ahmed Qadri, India)

 گیا(بہار)
حکومت بہار کے اکلوتے مسلم وزیرخورشید عرف فیروز احمد ،جو بہار اقلیتی فلاح کے وزیر ہیں۔ا نھوں نے کل بہار اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں این آر سی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ جو لوگ ہندوستان کے نہیں ہیں، انھیں یہاں کیسے رہنے دیا جائے‘۔ اس سلسلے میں اردو کے معروف ادیب و صحافی ڈاکٹر سید احمد قادری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف تمام سیکولر دانشور اور سیاسی پارٹیاں این آر سی کی پُزور مخالفت کر رہی ہیں اور اسے امت شاہ کے در پردہ مسلم دشمنی منصوبہ بتا یا جا رہا ہے ۔ اس لئے کہ مغربی بنگال میں این آر سی سے متعلق بیان دینے کے بعد جس طرح انھوں نے اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے بار بار مسلمانوں کو چھوڑ کر دیگرتمام مذاہب کے ماننے والوں کو این آر سی سے خوف زدہ نہیں ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ تما م مذاہب کے لوگ جو دوسرے ممالک سے آ کر یہاں بس گئے ہیں ۔ انھیں ان کی شہریت بحال رکھی جائے گی۔دراصل اس این آر سی کے در پر بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند منظم سازش ہے ۔ اس لئے اس نہاد مسلمان اور حکومت بہار کے اقلیتی فلاح کے وزیر ، جو کہ وسیم رضوی اور سید شہنواز حسین کی ذہنیت سے بہت قریب ہے ۔ اس کے اس بیان کی اردو کے معروف صحافی اور افسانہ نگار ڈاکٹر سید احمد قادری نے سخت الفاظ میں مذّمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بہار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے وزیر کو جو اپنی پارٹی کے سیکولر امیج کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی سازش کی حمایت کر رہا ہے ۔ اسے بلا تاخیر نہ صرف بہار کی وزارت سے بلکہ پارٹی سے بھی برطرف کریں ۔ چونکہ وزیر اعلیٰ بہار نیتیش کمار کی قیادت والی پارٹی جے ڈی یو نے کئی بار اپنے مؤقف کو ظاہر کیا ہے کہ ان کی پارٹی اور ان کی حکومت این آر سی کی حمایت میں نہیں ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ پہلے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں این آر سی نافذ ہو۔ ڈاکٹر سید احمد قادری نے اپنے بیان میں مذید کہا ہے کہ یوں بھی بہار کے مسلمانوں کو اس اقلیتی وزیر سے کسی فلاح کی توقع نہیں ہے ۔ یہ وہی وزیر ہے جس نے وزارتک کی حلف برداری کے بعد جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی پارٹی کی کامیابی کے لئے اس نے ہون اور پوجا بھی کی ہے ۔ اس بیان کے بعد امارت شریعہ، بہار نے اس شخص کو اسلام سے خارج کئے جانے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی مصالحت کی کوششوں کے بعد امارت شریعہ میں جا کر معافی تلافی کی تھی ۔ تب کہیں جا کر اسے ایک بار پھر رو بہ اسلام کیا گیا تھا۔لیکن چونکہ اس شخص کی سرشت میں اسلام دشمنی ہے اس لئے اس سے کبھی بھی اور کسی بھی طرح کی اسلام دوستی کی توقع نہیں کی جا کتی ہے ۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ بہار کے مسلمانوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے اس شخص کونہ صرف اپنی وزارت سے بلکہ اپنی پارٹی سے بھی برطرف کریں ۔ تاکہ بہار کے مسلمانوں کے غم و غصّہ میں کمی آئے ۔ یوں بھی بہار اسمبلی کا انتخاب اب سر پر ہے اور ایسے نا پسندیدہ اور متنازعہ شخص کے باعث نتیش کمار کو انتخاب کے دورا ن زبردست نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ وقت رہتے وزیر اعلیٰ اس شخص سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ ٭٭٭٭٭٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 162 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Ahmad Quadri

Read More Articles by Syed Ahmad Quadri: 88 Articles with 38378 views »
An Introduction of Syed Ahmad Quadri
by: ABDUL QADIR (Times of India)

Through sheer imagination,
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: