ہتھیلی پہ سر دھرے ہوئے لوگ

(Sami Ullah Malik, )

میں بہت بولتاہوں۔سب لوگ میرامنہ تکتے رہتے ہیں۔میں کسی کوموقع ہی نہیں دیتاکہ وہ بھی کوئی بات کرے۔ لوگوں کوگرفت میں لینے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔میں یہ بھی نہیں دیکھتاکہ میرامخالف کون ہے۔بڑاہے،چھوٹاہے، مرد ہے،عورت ہے،بچے ہیں۔بس بلاتکان بولتارہتاہوں۔ ہاں میں نے بہت مرتبہ پڑھاہے”جوخاموش رہاوہ نجات پاگیا”لیکن میں نے اس پرکبھی عمل نہیں کیا۔ شاید کرہی نہیں سکتا۔خودپسندی اوراپنی فوں فاں میں مگن،اپنے خیالات کااسیراوراپنی چرب زبانی پرنازاں۔
ایک دن میرے ایک بہت ہی پیارے بابے نے مجھ سے ایک عجیب سی بات کی”دیکھ پگلے توبہت بولتاہے۔محفل کودیکھ کر بات کیا کر۔جس نے دیکھا نہیں اُسے کیادکھانا۔ہنساکر،ہنسایاکرلیکن ہربات ہرایک سے نہیں کرنی۔دیکھ توآنکھیں،کان کھلے اوراپنی زبان بند رکھ۔ تنہائی سے بات کر،محفل میں خاموش رہ،اکیلے میں محفل سجااورمحفل میں تنہا ہوجا۔””واہ ،واہ کیا بیکارسی بات کی آپ نے،کوئی کام کی بات بتایاکریں۔ خوامخواہ کی بات”میں نے انہیں خاموش کردیا۔
“اوٹھیک ہے،ٹھیک ہے پگلے،تیرااچھابھی راہ پرآئے گا۔”
کتنی بدنصیبی ہے،میں اب تک گمراہ ہوں۔کتنی عجیب سی بات ہے،میں کچھ نہیں جانتااورجاننے کادعوے دارہوں۔میں اپنے جہل کوعلم کہتاہوں،چرب زبانی کوذہانت،مکاری کواخلاص،ہوس کومحبت،چالاکی کوہنر،دھوکے کوکمال،کراہت کوجمال، اداکاری کو ہتھیارسمجھتاہوں۔میں ڈراہواہوں،سہما ہوا ہوں،خوفزدہ ہوں لیکن خودکوبہت بہادرسمجھتاہوں۔میری نیت کچھ اورہے اورعمل کچھ اور ۔میں صرف اپنی محبت میں گرفتارہوں اورخود کوآزاد سمجھتا ہوں۔میں اپنےنفس کی پیروی کرتا ہوں اورسمجھتاہوں کہ میں رب کابندہ ہوں۔
میں رب سے محبت کادعویٰ کرتااورمخلوق کیلئے آزاربنارہتاہوں۔میرارونامکرکاروناہے۔میرے آنسوفریب ہیں۔میری ہمدردی دکھاوا ہے۔میراایثار تجارتی ہے۔میراخلوص بازاری ہے۔میں مجسم فنکاری ہوں۔تاجراورنراتاجر،جوجمع تفریق کرتارہتاہے، مکروفریب کی دنیاکاباسی،ہوس نفس کاپجاری ، میں کسی کے کام نہیں آتااورتوقع رکھتاہوں کہ لوگ میرے حضوردست بستہ کھڑے رہیں۔میں سب کے حقوق غضب کرکے بھی اپنے حقوق کاطلبگار ہوں۔میں دوسروں کوان کے فرائض یاددلاتارہتاہوں اوراپنے فرائض کوبھول گیا ہوں۔
میں نے نصیحت کرنے کاآسان کام اپنے لئے منتخب کرلیاہے اوراس پرعمل کرنے کامشکل کام مخلوق کیلئے رکھ چھوڑاہے۔میں کالم اس لئے نہیں لکھتاکہ اس سے خلق خداروشنی پائے۔میں یہ اس لئے لکھتاہوں کہ مجھے اس سے شہرت مل جائےاورناموری کامجھے چسکا لگ گیاہے۔میں چاہتاہوں کہ لوگ میری بات سنیں،چاہے میں ان کی کوئی بات بھی نہ سنوں۔میں اوروں کو آئینہ دکھاتا رہتاہوں اورکوئی مجھے آئینہ دکھائے تومنہ سے جھاگ اڑانے لگتاہوں۔
میں خودکوبہت باعلم اورلوگوں کومجسم جہل سمجھتاہوں۔میں چاہتاہوں کہ جب میں کسی تقریب میں جاؤں توسب لوگ میرے احترام میں کھڑے ہو جائیں اوراگرکوئی میرے پاس اپنادکھ بیان کرنے آئے تومیں مصروفیت کوخودپراوڑھ کر اسے چلتاکردوں۔معصوم و مظلوم انسانوں کے چہروں پراداسی ناچ رہی ہو،بھوک نے انہیں بنجربنادیاہو،وہ دربدر خاک بسرہوں مگرمیں اپنی دانشوری کاکما ل د کھارہاہوں اورپھربھی انسانیت کے دکھوں کاپرچارک بناہواہوں۔وہ رت جگے کررہے ہوں اور میں چین سے سوتارہوں۔وہ اپنے جائزکاموں کیلئے خوارہورہے ہوں اورمیرے ایک فون پرسارے کام ہو جائیں۔وہ دھوپ میں لائن لگاکرکھڑے ہوں اورمیں اندرجاکر افسرسے چائے پی کراپناکام کروالوں۔ عجیب سی بات ہے ناں۔
میں سیمینارپرسیمینارسجائے چلاجارہاہوں۔منرل واٹرپیتاہوں۔یخ بستہ پنج وہفت ستارہ ہوٹلوں میں طعام وقیام کرتاہوں۔ لگژری گاڑی میں سفرکرتاہوں اورروناروتاہوں مفلوک الحالوں کا۔میں نے آج تک فاقہ نہیں کیااورفاقہ زدوں کادکھ لکھتاہوں۔ میں نے غربت دیکھی تک نہیں اورغریبوں کاہمدرد بنا پھرتاہوں۔میرے الفاظ نرے لفظ ہیں۔بے روح لفظ۔میں لایعنی تحقیق میں لگارہتاہوں۔میں زندہ مسائل کو نظراندازکرکے اپنے قاری کوفضول مباحث میں الجھائے رکھتاہوں۔اس لئے کہ کہیں اصل مسائل کی طرف اس کی توجہ نہ چلی جائے اوروہ اس انسان کش نظام کے خلاف اٹھ کھڑانہ ہو۔ عجیب ہوں ناں میں۔
میں خوددوغلاہوں اوراوروں کومنافق کہتاہوں۔میں نے اپنے ضمیرکاسوداکرلیاہے،میرے اندرسے بدبوکے بھبکے اٹھ رہے ہیں اور میں اوپرسے خوشبو لگائے پھرتاہوں۔میں اپنے اندرکے انسان کوسولی دے چکاہوں۔میں خوبصورت لباس میں درندہ ہوں۔میں صرف خودجیناچاہتاہوں۔مجھے لوگوں سے کوئی سروکارنہیں ہے۔مجھے اپناپیٹ بھرناہے،مجھے بھوکوں،ننگوں،ناداروں،مفلسوں سے کیا لینادینا۔
میں زرداروں کے آگے بچھاجاتاہوں اورکوئی نادارسلام کرے تومجھے ناگوارگزرتاہے۔میں سماجی بہبودکے کام اس لئے نہیں کرتا کہ مجھے یہی کرناچاہئے بلکہ اس لئے کرتاہوں کہ میری واہ واہ ہو۔میں اپنی تعریف سن کرنہال ہوتارہتاہوں۔میں بندۂ رب نہیں بندۂ نفس ہوں۔
میں یہ بھول گیاہوں کہ اصل کوبقاہے۔جعل سازی کبھی پنپ نہیں سکتی۔ بارآورنہیں ہوسکتی۔کوئی انقلاب نہیں لاسکتی۔ گلے سڑے نظام کی پیوندکاری کب تک کی جاسکتی ہے۔آخراس انسان کش نظام کوفناہوجاناہے اورمجھے بھی۔سب اپنی اپنی قبرکاپیٹ بھریں گے۔موت میرے تعاقب میں ہے اورمیں جینے کیلئے منصوبے بنارہاہوں۔ عجیب ہوں ناں میں
کچھ بھی تونہیں رہے گا یا رو۔ بس نام رہے گااللہ کا۔
اجل سے خوفزدہ،زیست سے ڈرے ہوئے لوگ
کہ جی رہے ہیں میرے شہر میں مرے ہوئے لوگ
یہ عجزِ خلق ہے یا قاتلوں کی دہشت ہے
رواں دواں ہیں ہتھیلی پہ سردھرے ہوئے لوگ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 184 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 322 Articles with 78589 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: