ناصر ناکا گاوا جاپان میں پاکستان اور اردو زبان وادب کابے لوث سفیر...چوتھی قسط

(Afzal RAZVI, Adelaide, AUSTRALIA)

گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ناصر ایک اچھے مترجم اوراور انٹرپریٹر ہیں اسی لیے تو ان کاجاپان میں ایک اچھا نام ہے اور یہ نام انہوں نے سالہا سال کی محنت کے بعد کمایا اور بنایا ہے۔ناصر ناکا گاوا کے ہم نام سید محمد ناصر علی نے اپنی کتاب ”بہ زبانِ قلم“ میں کچھ تراجم شامل کیے ہیں۔ ان تراجم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بقائی یونیورسٹی کے شعبہ نشرواشاعت کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ذہین عالم خاں سروہا لکھتے ہیں،” ترجمہ کے لئے جس زبان سے ترجمہ کیا جائے اور جس زبان میں ترجمہ ہو دونوں ہی پر عبور ہونا ضروری ہے۔ دوہری زبان دانی میں ہر دوزبان کے محاورہ اور روزمرہ کا علم ہونا بھی لازمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو بات لفظی ترجمہ میں پھنس جاتی ہے۔“ یہ الفاظ مجھے اس وقت یاد آئے جب مجھے ناصرناکاگاوا کا جاپانی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔یقینا یہ ترجمہ پڑھنے سے پہلے اگر کسی کو یہ نہ بتایا جائے کہ یہ کسی دوسری زبان میں لکھے گئے مضمون کی ٹرانسلیشن ہے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک طبع زاد تحریر نہیں ہے۔، گویا ذہین عالم سروہا صاحب کے الفاظ ناصر کی ترجمہ دانی پر مہرِ تصدیق ثبت کررہے ہیں اور راقم الحروف کو اس سے مکمل اتفاق ہے۔یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ناصر کا موجودہ ذریعہ معاش بھی تراجم اور انٹرپریٹیشن ہی کے گرد گھومتا ہے، اسی لیے وہ اس پروفیشن کی اہمیت اور لوازمات سے بخوبی آگا ہ ہیں۔باتوں باتوں میں بات دور نکل رہی ہے لہٰذا اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹتے ہیں، مذکورہ ترجمہ انہوں ”جاپان کے معروف دانشور مانجیرو ناکا ہاما کی کہانی“ کے عنوان سے کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
"موسمِ سرما کے ایک دن کا واقعہ ہے کہ جب مانجیرو اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے کے لئے گیا۔مگر اُس دن انھیں کوئی مچھلی نہیں مل رہی تھی۔آخر کار تین دن کی سخت محنت و مشقت کے بعد انھیں مچھلیوں کے ایک جھرمٹ کا سامنا ہوا تو مانجیرو اور اسکے ساتھی دیوانہ وار مچھلیوں سے بھرا جال کھینچنے لگے۔وہ مچھلیاں پکڑنے اور جال کھینچنے میں مصروف تھے کہ اس دوران انھوں نے دیکھا کہ ایک کالے رنگ کا بادل غربی طوفانی ہواؤں کے ساتھ انکی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ مچھلیاں پکڑنے میں اس قدر مشغول تھے کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی اس ہولناک طوفان کی طرف دھیان نہ گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ کالی گھٹائیں ایک بڑے اور خطر ناک طوفان کی شکل اختیار کر گئیں اور وہ سب ساتھی اس طوفان میں گھِر گئے۔”یہ بہت خطرناک طوفان ہے،!!جلدی کرو اور واپس چلو، جلدی سے جال کھینچو!!!جال کھینچو،جلدی کرو!!“کشتی بان نے اونچی آواز سے چلاتے ہوئے کہا۔"
پھر طوفان ان ملاحوں کو کہیں سے کہیں لے گیا اور زندگی کے نشیب وفراز سے گزر کر یہ ملاح کہیں سے کہیں چلے گئے۔مانجیرو کو ایک جہاز امریکہ لے گیا اور اس نے وہاں سے انگریزی سیکھی اور بل آخر دو دہائیوں کے بعد اپنے وطن جاپان لوٹا۔ مضمون کے اختتام پر ناصر کہتے ہیں:
"مانجیرو جسے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ جاپان کی کسی بھی یونیورسٹی میں انگریزی کا پہلا استاد مقرر ہوا۔ مانجیرو نے جاپان کی نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ عطا کی اور اپنے تجربات کی روشنی میں جدید تعلیم سے آراستہ کیا۔
مانجیرو کی تعلیم یہ تھی کہ”جاپان کو دنیا کے لئے اپنے دروازے وا کرنا چاہئیں۔امریکی ہوں یا جاپانی کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے سب انسان برابر ہیں۔اپنی رحمدلی، شفقت، شرافت اور ہمدردی سے ہی انسان اپنے گہرے تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔“
"اور آج بھی اسی احساس و دلی جذبات کیساتھ کپتان وہائٹ فیلڈ کے خاندان کیWhitfiled Family آل اولاد اور مانجیرو کی آل اولاد ناکاہاما Nakahama Familyخاندان کے لوگوں کے باہمی تعلقات قائم ہیں۔مزید براں، نیو بیڈ فورڈ New BedfordاورFairhaven فیئر ہیون کے قصبوں کے لوگ اور مانجیرو کے آبائی قصبے ناکانوہاما Nakanohamaاور تھوسا شی میزو Tosashimizuکے لوگوں کے درمیان آج بھی یہ دوستیاں اور خصوصی تعلقات استوار ہیں جو جاری و ساری ہیں۔"
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا کہ ناصر ناکاگاواکو صرف سفر نامے سے دلچسپی نہیں بلکہ انہیں دوسری اصنافِ ادب سے بھی لگاؤ ہے۔ اس سلسلے میں ان کا انشائیہ بعنوان”بزنس کارڈ Visiting Cardکا تبادلہ اور اس کااستعمال“ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ان کے اس انشائیے کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے:
"دورِ حاضر میں Visiting Cardجسے بزنس کارڈ یا تعارفی کارڈ بھی کہا جا سکتا ہے جو عموماََ کسی سے پہلی ملاقات پر ایک دوسرے کو پیش کیا جاتا ہے۔تعارفی کارڈ یا Visiting Card کا استعمال کا آغاز آج سے کوئی ایک سوسال قبل ہوا،جسکا مقصد سامنے والے ملاقاتی کو اپنا مختصر تعارف کروانا ہوتا ہے۔شروع شروع میں اس تعارفی کارڈ پر صرف لوگ اپنا نام لکھا کرتے تھے اور جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا اسکی اشکال میں بھی تبدیلی آتی گئی اور آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک تعارفی کارڈ پر کسی شخص کے ذاتی کوائف کے علاوہ اسکا فون نمبر، فیکس نمبر، کمپنی کا نام، ای میل ایڈریس،عہدہ اور اسکی سرگرمیاں تک درج ہوتی ہیں اور کئی لوگ اس کارڈ پر اپنی حالیہ یا جوانی کی تصویر بھی چسپاں کرتے ہیں۔ یہ تعارفی کارڈ دو اجنبی افراد کو ایک دوسرے سے متعارف کروانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اسے ایک دوسرے کو پیش کرنے کے آداب ہیں۔ جاپانی زبان میں اسے MEISHIکہتے ہیں۔"
پھر جیسے جیسے ناصر کا یہ انشائیہ آگے بڑھتا ہے اپنے لوازمات پورے کرتا جاتا ہے، کیونکہ انشائیہ ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس میں انشائیہ نگار بے تکلف، بے ساختہ اور اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر ہی اپنے تاثرات قلم بند کرتا ہے۔اس کے سامنے کوئی خاص اصلاحی پہلو نہیں ہوتا۔ وہ اپنے دل کی باتیں مزے لے لے کر اور ایک قرینے کے تحت بیان کرتا ہے؛ لیکن ان باتوں میں تازگی، ندرت اور شگفتگی کا ہونا جزو لاینیفک ہے۔اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کا اس کا لب و لہجہ نرم و نازک ہوتا ہے نیز روانی بھی اس کے لوازمات میں سے ایک ہے۔گویا انشائیہ مضمون نگاری کا وہ جزو ہے جس میں مصنف اپنے ذاتی نیز انفرادی تجربات ومشاہدات کو اپنے قاری کے سامنے پیش کرتا ہے جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس پیشکش میں انشائیہ نگار کی اپنی شخصیت کسی حد تک نمایاں رہتی ہے۔اس طرح اس صنفِ ادب میں داخلی رنگ نمایاں ہوتا ہے لیکن اس کا تعلق تخلیقی ادب سے ہے۔ اظہارو اختصار اور انبساطی مقصد اس کی اہم خصاصیات ہیں۔میرے خیال میں مذکورہ خصوصیات ناصر نکاگاوا کے زیرِ نظر انشائیے میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ مصنف کے بزنس کارڈ کے ساتھ جو برتاؤ ہوا اس کا اندازہ ان کے درج ذیل لیکن قدرے طویل اقتباس سے ہی ہو سکتا ہے
ایک معزز ہم وطن اعلیٰ عہدیدار سے جب ایک عشائیہ کی تقریب میں ملاقات ہوئی تو اس نے بھی ایسا ہی کیا جیسے کوّا کرتا ہے اور میرا کارڈ لیکر بے دلی سے جیب میں رکھ لیا۔ جب عشائیہ کی تقریب اختتام کو پہنچی اور سارے مہمان کھانا کھا چکے تو مذکورہ بالا معزز مہمان اور میں اتفاق سے آمنے سامنے تھے اور ہمارے درمیان کھانے کی میز حائل تھی۔کھانا بہت خوش ذائقہ اور مزیدار تھا جو بکرے یا دنبے کے گوشت کی کڑاہی تھی، عموماََ ایسے کھانوں سے انصاف کرنے کے بعد گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے یا ریشے براہ راست شکم کی دوزخ میں جانے سے بچنے کے لئے دانتوں یا داڑھوں کے درمیانی خلا میں گھس بیٹھتے ہیں۔یہی کچھ میرے سامنے تشریف فرما معزز مہان کے ساتھ ہوا،انھیں خِلال کی شدید ضرورت محسوس ہوئی فوری طور پر خلالی تنکا انھیں میسر نہ ہوا تو وہ اپنی زبان سے کام لینے لگے اور زبان کوخلالی تنکا بناتے ہوئے انھوں نے اپنی بتیسی کا چکر لگایا جو ریشے آسانی سے زدِ زبان آئے انھیں بذریعہ زبان شکم میں دھکیلا، مگر ایک ڈھیٹ قسم کا ریشہ جو پچھلی داڑھ میں مضبوطی سے پنجے گاڑھ چکا تھا زبان کے ہاتھ نہیں آرہا تھا جسکی وجہ سے انھیں بڑی بے چینی ہورہی تھی انھوں نے کئی بار اپنی زبان سے اُس ڈھیٹ ریشے پر مختلف حملے کئے مگر ناکامی ہوئی تو انھوں نے اپنی بائیں جیب پر ہاتھ مارا جہاں میرا تعارفی کارڈ رکھا گیا تھا اسے نکالا اور زبان کو پیچھے ہٹا کر اپنا بڑا سا منہ کھولا اور شکار زدہ داڑھ تک میرے کارڈ کے کونے مارنے شروع کئے، میرا کارڈ جو اتنی اعلیٰ کوالٹی کا نہ تھا یعنی اس میں سخت پن کم تھا لہٰذا وہ ایک دو حملوں سے ہی ہمت ہار گیا اور مُڑ گیا، موصوف نے دوسرا کونا آزمایا تو وہ بھی ہانپنے لگا، کارڈ کے تیسرے کونے کو آزمایا گیا تو کچھ امید ہوئی مگر اس نے بھی ہتھیار ڈال دئے اور مُڑ گیا، ابھی چوتھا کونا باقی تھا وہ انکی توقعات پر پورا اترا اور داڑھ میں چھپا گوشت کا ریشہ اس آخری اور اکلوتے کونے کے ساتھ باہر آیا جو متعد د حملوں سے شدید زخمی ہو چکا تھا اسے کارڈ پر دیکھ کر معزز مہمان کے چہرے پر ایک تسلی بخش طمانیت دیکھی معزز مہمان نے اسکا خوب اچھی طرح معائنہ کیا اور دوسرے ہی لمحے انھوں نے اُس زخمی ریشے کو جو کارڈ پر چپکا ہوا تھا اپنے منہ میں ڈالا اور سُڑک کی آواز نکالتے ہوئے اسے بھی شکم کی دوزخ میں بھیج دیا۔میرے تعارفی کارڈ پر کے چاروں کونے مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے،معززمہمان نے دانتوں کے آخری راؤنڈ کے لئے میرے کارڈ کو موڑ کر دہرا کیا اور ازسرِ نو تمام دانتوں اور داڑھوں کی خبر لی، آخری میں ایک چھوٹا سا ریشہ جو دہرے کارڈ پر نظر آرہا تھا اسے شکم میں دھکیلنے کے لئے سُڑکنا چاہتے تھے کہ انجانے میں اس پر پھونک مار بیٹھے جو سیدھا میرے پاس پہنچا اور میرے موبائل فون پر چپک گیا تو معزز مہمان کچھ شرمندہ سے ہونے لگے مگرمیں نے یوں ظاہر کیا جیسے مجھے کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔ میرا کارڈ جو شدید زخمی حالت میں تھا اسے موصوف نے میز پر اپنے سامنے ہی رکھ لیا۔ معزز مہمان دوستوں سے تبادلہئ خیال بھی کر رہے تھے اور خلال بھی کر رہے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں چائے کے کپ تمام شرکاء کے سامنے رکھ دئے گئے کڑک چائے تھی جسے دودھ پتی کہنا مناسب ہوگا، تھوڑی ہی دیر میں موصوف کے چائے کے کپ میں ملائی جم گئی جو براؤن رنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی، چائے کے اوپر سے اُس ملائی یا پپڑی کو اتارنے کے لئے ایک بار پھر میرا تعارفی کارڈ استعمال کیا گیا اور اسے دوہری شکل میں ہی کپ کے چاروں طر ف پھیر ا اور ملائی کو کپ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا اور کارڈ کو بھی وہیں رکھ دیا گیا۔میں جو کہ بہت ہی حساس ہوں اس قسم کی حرکتوں سے میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے اس سے پہلے کہ مجھے قے ہوتی میں نے برداشت کرتے ہوئے سگریٹ سلگایا تاکہ دھیان بٹ جائے اور لمبے لمبے کش لینے لگا، معزز مہمان نے کہا کہ جناب ایک سگریٹ ہمیں بھی پلائیں،میں نے ایک سگریٹ سلگا کر انھیں بھی پیش کردی، وہاں پر راکھ دان یعنی ایش ٹرے موجود نہ تھی معزز مہمان سگریٹ کا گُل چائے کے کپ میں گرانے لگے جبکہ میرے پاس اپنا جیبی راکھ دان موجود تھا۔ موصوف نے سگریٹ ختم کی اور سگریٹ کا ٹوٹا نیچے پھینکنا خلافِ تہذیب سمجھا اور اسے میرے تعارفی کارڈ پر جو دہرا ہوا پڑا تھا اسکے درمیان بجھا کر اس کارڈ کی بتّی بنا کر کپ کے ہینڈل میں پھنسادی،اپنے تعارفی کارڈ پر یہ ظلم دیکھ کر مجھے اس پر بہت تر س آیا۔“ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 199 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 72 Articles with 21374 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: