کارِ بے کار

(Wasim Khan Abid, Peshawar)
ابھی پچھلے دنوں ایک فنکشن میں جانے کا اتفاق ہوا،تو ایک حد سے زیادہ کانفیڈنس والی آنٹی آئی اور کہا بیٹا بہت لمبے اور موٹے ہو گئے ہو۔۔۔کوئی ایکسرسائز کیوں نہیں کرتے۔۔۔، ہمارے منہ سے بے اختیار نکل گیا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ نے ساری زندگی چونی کے ساتھ گزاری ہے اس لیے ہزار کا نوٹ بڑا لگ رہا ہے،ورنہ پانچ ہزار اور دس ہزار کے سامنے بالکل چھوٹا ہے!!!۔۔۔ اب اتنی سی بات پر،جو تشبیہ اور استعارے کا سہارا لیکر کی جائے کوئی بھلا مانس ناراض ہوتا ہے،بھلا۔۔۔ منہ پہ بدتمیز کہہ کر چلی گئی۔۔۔!۔۔حالانکہ آپ لوگ اسکے شوہر کو دیکھتے تو خودہی کہہ دیتے کہ چونی بھی زیادہ کہا ہے۔۔

ابھی چند سال پہلے کی بات ہے، کہ ہم ایک بڑے شہر کے پوش علاقے میں بے کار پڑے، دیوجانس کلبی کی طرح زندگی کی گھتیوں کو سلجھانے کے بارے میں سوچ بچارکر رہے تھے۔کہ دماغ کے کسی چینل نے ”درائیونگ سیکھ لو“ کا مفت مشورہ دیا۔ حالانکہ زندگی کے بدترین دور سے گزر رہے تھے۔ لیکن من کی دنیا سے اٹھنے والی آوازپر لبیک کہا اورڈرائیونگ سنٹر کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔خیر ایک دوست کے توسط سے ایک انسٹرکٹر صاحب سے ملے،جو اپنے آپ میں ڈاکٹروں سا نخرہ اور نخوت پالے ہوئے تھے۔ موصوف سفید لٹھے میں ملبوس، اور کا فی سے زیادہ چِکنے، مطلب کلین شیوتھے۔ اس لیے اُسے استاجی (استادجی) کہنے کے بجائے سر کہہ کر مخاطب کیا تو صاحب اور بھی پھول گئے، اور جلد از جلد فیس طے کرنے لگے۔۔۔ صاحب نے دبے الفاظ میں یہ بھی کہا کہ: میرے سنٹر سے زیادہ تر لیڈیز ہی ڈرائیونگ سیکھتی ہیں لیکن آپ کو آپکے دوست کی وجہ سے داخلہ دے دیتا ہوں۔۔اور ہم نے کہا۔۔۔جی!!۔ جب ہماری سمجھ میں پوری بات آجائے تو ہمارے منہ سے بے ساختہ۔۔جی۔۔ کے الفاظ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔استاجی کی چکنی کلین شیو بھی سمجھ میں آگئی تھی تب ہی۔۔۔جی!!۔۔۔ کے ساتھ سر بھی اثبات میں ہلا دیا۔

استادجی کی ٹیسٹ ڈرائیو نگ کا راستہ چونکہ ہمارے گھر کے سامنے سے گرزتا تھااس لیے اُس نے اگلے دن، مطلب فیس جمع کرنے کے اگلے دن”گھر سے باہر نکلو“ کا فون کیا۔ اور ہم سعادت مند شاگرد کی طرح گھر سے باہر نکلے،تو کیا دیکھتے ہیں کہ چکنے استاجی ایک گرے کلر کی بد ترین کھٹارا مہران کار کی فرنٹ سیٹ پہ نیم دراز بیٹھے ہیں اور کھڑکی سے کہنی ایسی نکلی ہے جیسے نو دولتیے پراڈو کا شیشہ نیچے کرکے کہنی کا حصّہ لوگوں کومنہ کی جگہ دکھاتے ہیں۔وہ ہمیں جلدی جلدی پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کررہے تھے۔ اس کار پر کار کی جسامت سے بڑا بورڈ بھی لگا تھا جس پر سرخ پینٹ سے،اے بی سی(فرضی)ڈرائیونگ سکو ل کی جلی تحریر کسی فارغ خوش نویس نے اپنا وقت صرف کرکے لکھی تھی۔ہم نے پہنچ کر استاجی کو،سلام کیا تو پچھلی سیٹ پر پہلے سے دو لڑکے براجمان تھے جو مجھے دیکھتے ہی سکڑنا شروع ہوگئے۔کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک کانپتا ہوا نو جوان بیٹھا تھا جس کے ہاتھ پیر نروس ہونے کی وجہ سے تھر تھر کانپ رہے تھے۔ یہ تینوں بھی میری طرح بالکل نوآموزاور ڈرائیونگ سے انجان تھے۔ انسٹرکٹر صاحب کے پیروں میں بھی ایک کلچ اور بریک ایکسٹرا لگے تھے تاکہ بوقتِ حادثہ دبا سکیں (اگر موقع ملے)۔

اُس لرزتے کانپتے لڑکے نے جب سات آٹھ کلو میٹر تک گاری چلائی تو مجھے ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کا حکم ملا۔میں نے جیسے ہی گاڑی میں گھسنے کی گوشش کی تو گھٹنے اضافی معلوم ہوئے کیونکہ ان کے گھسنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی۔میں نے پھر کوشش کرنی چاہی تو استاجی نے ایک لیور کھینچ کر سیٹ کو اپنی آخری حدوں تک دشمن کی فوج کی طرح دھکیل دیا۔اب میں نے اپنے اعضاء سکیڑ کر کار میں داخلے کے لیے ہمت اکھٹی کی تو میری حالت ایسی بنی جیسی، آٹھ نمبر کے جوتے میں دس نمبرکا پیرڈالتے وقت بنتی ہے۔ایسی ہی کسی سچوئیشن میں مرحوم ماموں جان چھوٹی دودھیا پیالیوں کو دیکھ کر فرماگئے تھے،بھانجے! یہ ہماری انگلیوں کے لیے نہیں بنیں، بلکہ چائنہ اور جاپان کے قلیل الوجود مخلوق کے لیے بنی ہیں اس کی ڈنڈی میں انگلی گھسانے کی سعی،لاحاصل ہے۔ میری یہی رائے مہران کار کے متعلق ہے۔خیر سیٹ پر بیٹھنے کے بعدسارا قصور گاڑی کا معلوم نہیں ہوتا تھا بلکہ ہمارے ڈیل ڈول کی بھی کچھ نہ کچھ خطا بنتی تھی۔ جب میری حالت اُردو حرف ”ع“جیسی ہوئی تب ونڈ سکرین سے سڑک نظر آئی۔۔۔استاجی نے سب سے پہلے کلچ بریک اور ریس کے متعلق سمجھانا چاہا جو میرے گھٹنوں اور گاڑی کی سوئچ بورڈ کے چپک جانے کی وجہ سے نظر آنے، نا ممکن تھے۔ استاجی نے زور لگا کر میری ایک ٹانگ مروڑ کر ان تین،آ۔داب، قسم کے لیوز کی طرف اشارہ کیا جن میں سے دو ہم ایک ہی پیر کے نیچے۔۔داب۔۔ چکے تھے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردانہ پیر سے نوازا ہے۔۔۔استاجی نے گرجدار آواز میں پیرپیچھے ہٹانے کا حکم دیا۔۔ لیکن ہم نے معصومیت سے جواب دیا ”سر، کس طرف ہٹائیں گنجائش کہاں۔۔؟“ کہا!موڑ لو۔۔۔ہمارے منہ سے نکلا ہڈی ہے پلاسٹک نہیں۔۔۔بگڑ گئے کہ بہت بولتے ہو۔حالانکہ ہم نے تو اپنا مدعا بیان کیا تھا۔خیر ہم شاگر د تھے،فوراََسوری کہا۔۔۔ اور پھر سے سیکھنا شروع کردیا۔استاجی کسی ایٹمی سائنس دان کی طرح ایک ایک پرزے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ اور گرمی کی بابت اپنے آدھے سر کا پسینہ سفید ٹائلٹ پیپر سے پونچھ رہے تھے۔کیونکہ ٹائلٹ پیپر کی نئی پنی لینے کے لیے سوئچ بورڈ کا ڈھکن کھولتے اور بند کرتے رہتے۔استاجی کے آدھے سر پر،جو اللہ تعالیٰ کی مہر بانی سے فارغ البال تھا، پسینے کی ننھی ننھی بوندیں جھلک رہی تھیں۔ہر پرزے کا اِنٹرو، دیتے ہوئے استاجی بطورِ تکیہ کلام ”یہ تو بچوں کو بھی پتہ ہے“ استعمال کر رہے تھے ہم ٹھہرے شاگر ورنہ کہہ سکتے تھے کہ اگر پتہ ہوتا تو تجھے دس ہزار منہ دکھائی میں کیوں دیتے!!۔۔ لیکن چُپ رہے کیونکہ میری تمام مشکلات کی جڑ میری زبان ہے اور لکھائی ہے بھی۔گھر والے بھی ہرایسی ویسی بات مجھ سے باجماعت چھپاتے ہیں کہ مبادا کسی ڈائری میں لکھ نہ لے۔ایک عزیزہ کی حلوہ بریانی کا ذکرِ خیر کہیں پر کیا تھا تو مہینوں اپنی ریسپی کے بجائے مجھ پر ناراض ہوتی رہی۔۔۔ میرے سامنے صرف و ہی بات کی جاتی ہے جو اگلی نسلوں سے چھپانی نہ پڑے۔اور کچھ ایسا ہی حال میرے دوستوں اور یونیورسٹی فیلوز کابھی ہے۔

استاجی اس گاڑی میں بالکل کنفرٹ ایبل تھے بلکہ اس کے جسم کے حساب سے مہران کی سیٹ اس کے لیے زائد از ضرورت تھی کیونکہ آجکل چھوٹے ماڈل ہی بہت فیشن میں ہیں خواہ انسانوں میں ہوں یا گاڑیوں میں۔۔!۔۔ کیونکہ اکانومیکل ہوتے ہیں۔چھوٹی جسامت والے ایک ہی زندگی میں دس دس کاروبار بھی کرتے ہیں اور تھکتے بھی نہیں، مجھے تو اتنے کام کرنے کے لیے سات جنم لینے پڑیں گے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک فنکشن میں جانے کا اتفاق ہوا،تو ایک حد سے زیادہ کانفیڈنس والی آنٹی آئی اور کہا بیٹا بہت لمبے اور موٹے ہو گئے ہو۔۔۔کوئی ایکسرسائز کیوں نہیں کرتے۔۔۔، ہمارے منہ سے بے اختیار نکل گیا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ نے ساری زندگی چونی کے ساتھ گزاری ہے اس لیے ہزار کا نوٹ بڑا لگ رہا ہے،ورنہ پانچ ہزار اور دس ہزار کے سامنے بالکل چھوٹا ہے!!!۔۔۔ اب اتنی سی بات پر،جو تشبیہ اور استعارے کا سہارا لیکر کی جائے کوئی بھلا مانس ناراض ہوتا ہے،بھلا۔۔۔ منہ پہ بدتمیز کہہ کر چلی گئی۔۔۔!۔۔حالانکہ آپ لوگ اسکے شوہر کو دیکھتے تو خودہی کہہ دیتے کہ چونی بھی زیادہ کہا ہے۔۔

خیر چکنے استاجی نے کہا دائیں پیر کے نیچے ریس ہے، درمیان والا بریک اور بائیں پیر کے نیچے کلچ ہے جسے ہمیشہ دبائے رکھنا ہے جس طرح ہیڈ ماسٹر استادوں کو،افسر کلرکوں کو اور بیویاں شوہروں کو دبا کر رکھتی ہیں ورنہ گاڑی نہیں چلتی جھٹکے لے لے کر بند ہو جاتی ہے۔۔۔۔!!۔۔ایک راڈ جو دونوں سیٹوں کے درمیان تھااور اُس پر ایک دو تین چار بھی لکھے تھے (باقی لکھائی بھی تھی لیکن مٹ چکی تھی)،کو گئیر کہہ کر پکارا جارہا تھا۔پہلا گیئر آگے بائیں کونے میں لگائیں،دوسرا پیچھے بائیں کونے میں لگائیں، تیسرا درمیان میں آگے۔۔۔۔تیسرا درمیان میں،اور آگے!۔۔مجھے رقیب جیسا لگا۔۔۔کیونکہ عاشق سے آگے بھی ہوتا ہے اورمحبت کرنے والوں کے درمیان بھی!!!!۔۔بندہ جیلس ہی ہوجاتا ہے۔۔۔خیر،اسے جملہءِ معترضہ سمجھ لیجئے۔چوتھا بھی درمیان میں تھالیکن،پیچھے تھا اس لیے عاشق سے پیچھے رہنے والے رقیب نقصان دہ نہیں ہوتے۔ اس لیے بُرا نہیں لگا اور نہ جیلسی فیل ہوئی۔۔اور بس!!!۔۔اتنے ہی گیئر مجھے استاجی نے سکھائے۔۔ ریورس کا اُس کی ڈرائیونگ میں کوئی کانسیپٹ ہی نہیں تھا۔ میں نے اللہ کا نام لیکر گاڑی سٹارٹ کی، اور جلدی جلدی چھت سے لٹکی ہوئی سفر کی دعا بھی زبر زیر درست کرکے پڑھی،اور اپنے اوپر آیت الکرسی بھی دم کی،کیونکہ مجھے اپنی قابلیت کا پتہ تھاکہ کتنی جلدی سیکھتا ہوں۔۔گاڑی جوں ہی روانہ ہوئی زور زور سے کھانستے ہوئے اچھلنے لگی،اور چند فٹ مٹکنے کے بعد سپیڈبریکر کے کھڈے میں رک گئی کیونکہ حکومت نے آجکل سپیڈ بریکرز کی جگہ چھ سات انچ کے کھڈے کھود دیے ہیں، تاکہ کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملے۔۔۔ استاجی نے غصّے سے گھورا کلچ سے پیر کیوں اُٹھایا۔۔۔ہم نے کہا۔۔۔سر بریک کے لیے۔۔۔تو بریک کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔سر کھڈے کے لیے۔۔لیکن آپ کے سامنے بھی تو کلچ لگا ہے۔۔آپ دباتے۔۔۔ اُس نے ایک بائیں ہاتھ کا تھپڑ اپنے گنجے اور پسینے سے تر سر پر مارا۔۔جس سے پسینے کی چھینٹیں اُڑکر کچھ میرے منہ پر اور کچھ سامنے والے شیسے (ونڈ سکرین)پر منتقل ہوگئیں۔۔۔۔ تُجھے کون گدھا ڈرائیونگ سکھائے گا۔۔۔ہم نے انکساری سے، چہرے پر معصومیت لاتے ہوئے جواب دیا!۔۔۔۔سر آپ۔۔!!!۔۔
حالات نارمل ہوئے تو،استاجی نے پھر سے گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی جوسٹار ٹ نہ ہوسکی استاجی نے حکم دیا گاڑی گرم کردی ہے تو نے۔۔۔ہم نے کہا۔۔کونسا بابو سر ٹاپ تک لے کے گیا ہوں۔۔؟؟ ابھی تو بمشکل چار فٹ کا فاصلہ طے کیا ہے۔۔۔گاڑی ہی کھٹاراماڈل ہے!!۔۔۔آپ سے بھی تیز گرم ہوتی ہے۔۔۔ استاجی نے پہلے غصے سے دانت پیسے اور پھر زیرِ لب مسکرائے شاید بات سچ لگی یا سینس آف ہیومر جاگ گیا۔۔۔کہ کھٹارا جلد گرم ہوجاتے ہیں۔۔۔!!!۔۔جس کے لیے گاڑی ہونا شرط نہیں!!!انسان بھی!!!۔۔۔۔خیر جب گاڑی پھر سے رواں دوان ہوئی تو سب سے زیادہ دِقت مجھے گیئر بدلتے وقت پیش آئی کیونکہ استاجی فرما رہے تھے کہ گیئر بدلتے وقت گیئر کی طرف نہ دیکھو بلکہ سڑک پر نظر رکھو!۔۔۔حالانکہ کوئی بھی ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے سڑک پر نظر نہیں رکھتا دائیں بائیں پھرنے۔۔والیوں پہ رکھتا ہے!!۔۔۔لیکن ہم بار بار گردن موڑ کرگیئر اور کلچ کی طر دیکھتے رہتے۔۔۔گیئر سے یاد آیا کہ۔۔۔خواتین لڑائی میں اور بچے روتے ہوئے کافی کیئر تبدیل کرتے ہیں۔۔۔۔مشترکہ فیملیز میں پلنے والے بچے اس راز سے بخوبی واقف ہیں۔جبکہ الگ گھروں میں پیدا ہونے والے اس نعمت سے محروم۔۔۔ویسے میرے پاس زندگی کی جتنی بھی معلومات ہیں میں نے بچپن میں عورتوں کی لڑائیوں سے کشید کی ہیں۔میرا پسندیدہ مشغلہ عورتوں کی لڑائی دیکھنا تھا کیونکہ یہ منہ زبانی ہوتی ہے پرتشدد نہیں ہوتی۔۔۔آجکل کے ٹاک شوز ہی کی طرح۔۔خیر خواتین کے جھگڑے کا اصل مزہ پانچویں گیئر میں آتا ہے، جب گھر میں کوئی مرد نہ ہو۔اور اصل معلومات بھی اسی پانچویں گیئر میں شیئر کی جاتی ہیں۔یعنی تاریخ کے جھرونکے کھولے جاتے ہیں۔

اب استاجی، کے ساتھ یہ دس کلومیٹرکا ٹرپ ہمارا معمول بن گیا اور اسکے ساتھ گپ شپ بھی ہو گئی۔اس نے کچھ اشارے بھی سمجھائے اور سکھائے اور یقین مانیں ہمیں سارے ڈرائیونگ کورس میں اشارے ہی اچھے لگے۔اُردو ادب کا طالب علم ہونے کے ناطے اشاروں اور کنایوں کے ساتھ میرا پرانارشتہ ہے۔خیر ادب میں آنکھ کے اشاروں پر زور دیا جاتا ہے جبکہ ڈرائیونگ کورس میں ہاتھ کے اشاروں پر۔لیکن فرق یہ ہے کہ:ہاتھ کے اشاروں پر رکنا پڑتا ہے اور آنکھ کے اشاروں پر۔۔۔!!!!۔۔۔۔ٹریفک کا اشارہ تو ڑو،تو پر چہ ہوتا ہے جبکہ ادب کا اشارہ کرو(کسی انجان کو) تو پر چہ ہوتا ہے۔ خیر ایک ماہ کی محنت کے بعد ہم گاڑی یعنی کھٹارا مہران گاڑی چلانا سیکھ گئے اور کار میں سکڑ کر بیٹھنا بھی۔۔۔۔!! ایک دن استاجی نے ایک پرانا انجن دکھایا انڈیکیٹر ز کے بارے میں بتایااور گاڑی میں پانی بھرنا سکھایا۔۔۔۔ لیکن اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس نے سکھایا تو ہم سیکھ گئے!!!۔۔۔۔ استاجی نے ایک دن مجھے نوید سُنائی کہ تم اب اکیلے ڈرائیو کر سکتے جو باطل ہی ثابت ہوا، کیونکہ اکیلے آج تک نہیں کی۔۔۔ اس خوشخبری کے بعد بل کھاتی پہاڑیوں میں ڈرائیونگ کے گر سکھانے کے لیے ایک پہاڑی علاقے کا رُخ کیا،اور پیٹرول کا خرچہ فیس پر اضافہ کرکے میرے کھاتے میں ڈال دیا۔۔۔اوریوں ہم نے کارِ بے کارچلاناسیکھ ہی لی۔
٭٭٭٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 230 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wasim Khan Abid

Read More Articles by Wasim Khan Abid: 24 Articles with 15949 views »
I am a realistic and open minded person. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: