نمک کے پہاڑ۔۔۔

(Umer Farooq, )

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی بنائی ہوئی موٹروے پرسفرشروع کیاتومجھے یادآیاکہ کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کے سوشل میڈیاکھلاڑیوں نے ایک طوفانی مہم چلائی تھی کہ انڈیاکوسستے داموں گلابی نمک فروخت کیاجارہاہے، حکومت اس کانوٹس لے پھروزیرسائنس فوادچوہدری نے نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی مگرجس طرح وہ درست قمری کیلنڈرنہیں بناسکے سی طرح اس کمیٹی کی تحقیق بھی منظرعام پرنہیں آسکی ،ظاہرہے کہ یہ رپورٹ منظرعام پرآئی بھی تواس میں دھماکہ خیرخبرنہیں ہوگی ،کیوں کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان نمک کی سپلائی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے البتہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کے شیڈول بی میں پاکستان سے برآمدات کی جانے والی مصنوعات کی فہرست میں نمک بھی شامل ہے۔

فیاض صاحب نے کلرکہارپمپ پر گاڑی کوبریک لگائی تومیری سوچوں کاسلسلہ ٹوٹاہمارارخ بھی کھیوڑہ کی طرف تھا تاکہ اس سے قبل کہ یہ نمک سارابھارت کوبیچ دیاجائے ہم ایک نظارہ کرلیں ،لِلہ انٹرچینج سے اترکرہم پنڈدادن خان روڈ کی طرف مڑگئے ، ،کھیوڑہ پنڈدادنخان کے قریب ایک چھوٹا سا شہر ہے ،14 مارچ 1876 کو باقاعدہ کھیوڑہ شہر کی بنیاد رکھی گئی اس کے شمال میں کوہستان نمک کا سلسلہ ہے جبکہ جنوب میں پنجاب کا میدانی علاقہ ہے ۔شہر کی بیشتر آبادی زیادہ تر نمک کے کاروبار یا کان کنی سے وابستہ ہے ۔نمک کے خزانے سے مالامال یہ تاریخی شہرترقی نہیں کرسکاہے۔

کھیوڑہ پہنچ کرہم نے گاڑی پارک کی ،پارکنگ میں پہلے سے درجنوں گاڑیاں کھڑی تھیں زیادہ ترسکول کالجزکے طلباء وطالبات نمک کان کی سیرکوآئے تھے ،معلومات لینے کے بعد کاؤنٹرسے ٹرین کاٹکٹ لیا تبدیلی سرکارنے یہاں بھی اپنارنگ دکھایاہے کیوں کہ کسی دورمیں یہ ٹکٹ 100روپے کاہوتاتھا مگراب 350روپے کاہوچکاہے ،ٹکٹ حاصل کرنے کے بعددائیں ہاتھ پہ نیچے ایک راستہ برساتی نالے پر بنے ہوئے پل سے گزر کر ایک سرنگ کے منہ پر جا رکا۔ سرنگ کے ماتھے پر کھیوڑہ سالٹ مائئنز کا ایک سرکاری بورڈ آویزاں تھا۔ہم ابھی تصویرکشی کرہی رہے تھے کہ ہماری ٹرین آپہنچی میں مولاناامتیازعباسی اورمفتی نذیرعباسی کے ہمراہ ٹرین پرسوارہوگیا جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے سیکرٹری جنرل مولاناامتیازعباسی ہی اس سفرکاسبب بنے تھے ویسے تووہ ایک تحریکی آدمی ہیں مگرسیروسیاحت ان کاشوق ہے ۔

ٹرین جوں ہی اژدہے جیسی سرنگ میں داخل ہوئی توحیرت انگیزنظارے دیکھنے کوملے ،2500فٹ کافاصلہ طے کرنے کے بعدایک دوراہے پر ہمیں ٹرین سے اتاردیاگیا اورگائیڈنے حکم دیاکہ آگے آپ پیدل جائیں ،ہم نے دائیں طرف والے راستے کاانتخاب کیا اورچل دیئے ، کان میں موجود پانی کے گہرے تالابوں کاایک سلسلہ نظرآیا بعض تالاب ہماری سوچوں سے بھی گہرے تھے، تالابوں میں چھتوں کے عکس کا نظارہ آپ کو دنگ کر دیتا ہے ،تھوڑاآگے جاکر چٹانوں کا تراشا ہوا مینارِ پاکستان قائم کیاگیاتھا جسے برقی قمقموں سے سجایاگیاتھا ،گلابی نمک کی ٹائلوں پرمشتمل خوبصورت مسجدبھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ، ہم جگہ جگہ رک کر اندھیرے میں چمکتے ہوئے مختلف فن پاروں کی تصویریں لینے کی کوشش کرتے اور آگے بڑھ جاتے،جن میں خاص کر اسمبلی ہال، شیش محل ،چاغی ہل کے ماڈل، کرسٹل پیلس، نمک کے پل، خالص سوڈیم کلورائیڈ کی قلمی حالت،پرانے زمانے میں نمک کو بارود سے اڑانے کے لیے استعمال ہونے والی توپ ، کان اور دمہ کے مریضوں کے لیے ایک ہسپتال قابل ذکرہیں ،

کتابوں میں لکھا ہواہے کہ سکندر اعظم (322)قبل مسیح میں کوہستان نمک کے مشہور درے نندنہ سے گزر کر یہاں کھیوڑہ پہنچا تھا اور اس نے راجا پورس سے لڑنے کیلئے کھیوڑہ میں ہی پڑاو ڈال دیا اور کھیوڑہ کے پہاڑوں میں اپنی فوجیں چھپا دیں جبکہ راجہ پورس کی فوجیں پنڈدادنخان میں مقابلے کی تیاریوں میں مشغول تھیں سکندر اعظم کا گھوڑا اور کچھ دیگر مویشی بیمار پڑ گئے تھے اور انہو ں نے غار کی دیواروں کو چاٹنا شروع کیا تو ان کے معدے ٹھیک ہوگئے تب سکندر اور اس کی فوجوں کو کچھ کرید ہوئی اور انہوں نے بھی دیواروں کو چکھ کر دیکھا تو انکشاف ہوا کہ یہ نم ہے ۔

کھیوڑہ میں سائنسی بنیادوں پرنمک کی کان کنی کا آغاز انگریزی دور حکومت میں 1849 میں شروع ہوا 1872 میں کان کے اندر سے نمک باہر لانے کیلئے کم گیج کی ریلوے لائن بچھائی گئی اور نمک سے بھرے ہوئے ڈبوں کے آگے گھوڑے جتے ہوئے ہوتے تھے 1925 میں بجلی سے چلنے والے انجن سے نمک کے کنٹینر باہر لائے جانے لگے ۔اس طرح نمک کو کان سے باہر لانا قدرے آسان ہوگیا ۔پہلے کھدائی خود ساختہ دستی اوزاروں سے کی جاتی تھی اب بجلی کی مشینوں کے ذریعے کھدائی اور کٹائی کا سلسلہ شروع کیا گیا اس دور میں نمک کی کانوں کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں تھااس کان کے اندر جانے کیلئے ایک مرکزی دروازہ ہے جو پہاڑ کی بلندی کے مقابلے میں بہت چھوٹا لگتا ہے اور اس دروازے کو دیکھ کو قطعا اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ایک ایسی وسیع و عریض دنیا کا دروازہ ہے جو مکمل طور پر نمک سے بنی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق کھیوڑہ میں آٹھ کروڑ 20 لاکھ سے 60 کروڑ ٹن نمک کے ذخائر موجود ہیں، یہاں سے 320 قبل مسیح سے نمک نکالا جا رہا ہے اور اب تک تقریبا دو سو بیس ملین ٹن نمک نکالا جا چکا ہے ۔ یہ نمک زیر زمین ایک سو دس مربع کلیومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے،پی ایم ڈی سی(پاکستان مزل ڈولپمنٹ کارپوریشن) کی زیرنگرانی کھیوڑہ سے 4لاکھ ٹن سالانہ اعلی کوالٹی کا نمک نکالاجارہا ہے ، جواپنے منافع میں سے 35فیصد حکومت پاکستان کو دیتے ہیں یہ ادارہ حکومت کو اب تک 785کروڑ روپے دے چکاہے، یہ کان 17 منزلوں پر مشتمل ہے جن میں سے 11 زیر زمین ہیں۔ یہ کان سطح سمندر سے تقریبا 228 میٹر بلند اور 730 میٹر لمبی ہے یہاں کا نمل 99 فیصد خالص اور گلابی ، سفید اور سرخی مائل رنگوں میں پایا جاتا ہے۔

کھیوڑہ کی نمک کی کانوں سے روزانہ قریبا بیس ہزار من نمک نکالا جاتا ہے اور تین شفٹوں میں قریبا اڑھائی ہزار مزدور کام کرتے ہیں لیکن یہ بات قارئین کے لئے شائد حیرت کا باعث ہوگی کہ ان مزدوروں کو یہ نمک استعمال کرنے یا گھر لے جانے کی اجازت نہیں اور انہیں بھی عام لوگوں کی طرح نمک بازار سے ہی خریدنا پڑتا ہے یہ قانون دراصل انگریزوں نے بنایا تھا جو آج تک رائج ہے ۔

نمک جیسے خزانے پرمشتمل قدرتی پہاڑ، تقریبا اڑھائی لاکھ سالانہ سیاحوں کی آمد، ارضیاتی عجائب گھر اور تقریبا ڈھائی ہزار سالہ تاریخ بھی ہمارے حکمرانوں کو متاثر نہیں کر سکی کہ وہ اس اہم مقام کی ترقی یاسہولیات کے لیے کچھ کریں۔کھیوڑہ شہر میں سرکاری گیسٹ ہاس 1876، ریلوے اسٹیشن 1890، سینٹ جان چرچ 1899، امپیریل کیمیکل انڈسٹریز (ICI) 1938 اور کوٹ منگل سین سکول 1946 بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔1916 میں یہاں کان سے باہر نمک نکالنے کے اوزاروں کو بنانے اور مرمت وغیرہ کے لیے ایک ورکشاپ (لوہار خانہ) قائم کی گئی تھی،

اس سارے سفرمیں خبرکی بات یہ ہے کہ گلوبل انڈیکیشن لا (جی آئی ایل)کی غیر موجودگی میں پاکستان براہ راست اپنے برانڈ سے نمک مغربی دنیا کو برآمد نہیں کر سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گلابی نمک کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے کے باوجود یہ نمک برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 131 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 50 Articles with 9940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: