ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہم سب کا فرض

(Areeb ali, Karachi)

شہر کراچی جو روشنیوں کے شہر کے نام سے پہچانا جاتا ہے اس کا شمار پاکستان کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے اور یہ شہر پاکستان کی معیشت کا 75 فیصد حصہ مکمل کرتا ہے اس شہر کے نظارے بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہیں اسی لیے ملک بھر سے کئ افراد اس شہر کی منفرد روایات سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہر سال یہاں سفر کرنے آتے ہیں لیکن شہرِ کراچی کی ان خوبصورتیوں کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ایک ایسی پریشانی بھی جنم لے رہی ہے جو ہم سبھی کی جانوں پر نقصان ہے اور جس سے نجات پانا اس شہر کے تمام افراد کا فرض ہے جی ہاں یہاں بات ہورہی ہے ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں جو دن بدن بڑھتی چلے جا رہی ہے اور جس کی وجہ اس شہر کا کوئی ایک فرد نہیں بلکہ ہم سب ہیں کہ یہ ہم سب ہی کی نااہلیاں ہیں جس کی وجہ سے آج ہمارے شہر کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے جس کا جہاں دل چاہتا ہے کچرے کے ڈھیر لگا دیتا ہے جگہ جگہ پلاسٹک شاپر کو جلا دینا اورہیوی وہیکلز کا دھواں یہ سب ہماری غیر ذمہ داریوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں اور ہماری حکومت بھی اس شہر کے مسائل پر زیادہ غوروفکر نہیں کرتی اور پھر ہم لوگ ان غلطیوں کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹہراتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے تو ایسے میں کیا کیا جائے ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ اپنی مدد آپ ہی ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے اور اپنے شہر کی بہتری کے لیے قدم اٹھائیں وہ اس طرح کے اگر ہر گھر کے آگے ایک درخت لگا دیا جائے اور سڑک کنارے کچرہ پھینکنے سے خود کو روکا جائے تو ہم کافی حد تک فضائی آلودگی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں سننے میں تو ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے یہ حل بہت چھوٹے لگ رہے ہیں لیکن اگر ان باتوں پر باقاعدگی سے عمل کیا جائے توہم ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ میں کافی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم دوسروں کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھیں بلکہ خود اپنی مدد آپ اس مسئلے پر قابو پائیں امید ہے کہ قارئین میری تحریر کو پڑھ کر متاثر ہوئے ہوں گے اور میری ان چند باتوں پر عمل کرکے دوسروں کے لئے مثالی کام کریں گے اور اپنے اس خوبصورت شہر کی پہچان دوبارہ حاصل کر لیں گے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Areeb ali

Read More Articles by Areeb ali: 4 Articles with 544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: