مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔ اورپاکستان نے پھر بھی اسے دشمن نہ سمجھا، تودنیا پاکستان کو بے وقوف ملک کہے گی نا!پھر کیا پاکستانی حکمران پاکستان کے بے وفا نہ ہوئے؟ ۱۶؍ دسمبر پاکستان ٹوٹنے کے حوالے سے آج کے کالم میں ہم اس کا تجزیہ کریں گے۔

بنو امیہ کے دور میں عرب نوجوان کمانڈر محمد بن قاسم ثقفی، سندھ کے راستے ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر تک ہزار سال سے زیادہ مدت تک حکمرانی کی تھی۔اگر ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کی حکمرانی کا تجزیہ کیا جائے تو مسلمان حکمرانوں نے مقامی سرداروں کو اپنے پرانے عہدوں سے نہیں ہٹایا تھا۔ جو مالیات پر کام کر رہا تھا اسے اُسی عہدے پر برقرار رکھا۔جو انتظامیہ کو کنٹرول کرتا تھا وہ بھی اپنے منصب سے نہیں ہٹایا گیا۔حتہ کہ کئی موقعوں پر مسلمان فوجوں کے کمانڈر بھی غیر مسلم تھے۔صرف سیاسی امور پر مسلمان حکمرانوں نے کنٹرول اپنے پاس رکھا۔مسلمانوں نے اپنے مذہبی رواداری کے مطابق ہندوستانی عوام کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ عرف عام میں عوام کی مذہبی ثقافتی اورتہذیبی آ زادیوں کو برقرار رکھا گیا۔ مذہبی رواداری کی وجہ سے اسلام کے پرامن اور سلامتی والے دین میں، مقامی راجاؤں کے ستائے ہوئے کروڑوں ہندو اسلام کے دارے میں شامل ہوئے۔ اس میں بڑا کردار بزرگان دین کا بھی تھا۔ہندوستان نے مسلمانوں کے دور میں معاشی ترقی کی منازل طے کی تھیں۔ اس کا اندازہ ہم ا س بات سے لگاسکتے ہیں کہ مغلوں کے آخری دور تک دنیا کے جی ڈی پی کا ۲۵؍ فی صدہندوستان کا کنٹری بیوشن تھا۔سلطنت مغلیہ کے بانی ظہرالدین بابر نے اپنے پیش رو مسلمان کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے ہمایوں کو ہنددؤں کے مذہبی معاملات میں احتیاط کا مشورہ دیا تھا۔ اب ہٹلر کی نازی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارتیا جنتا پارٹی کے کرتا دھرتاآر ایس ایس کے متعصب ہندو بابر کی اس نصیحت کے مقابلہ میں بابر کی بنائی ہوئی بابری مسجد کو شہید کر شہید کر چکے ہیں۔ مسلمان حکمران فراغدل واقع ہوئے تھے۔ شہنشاہ اکبر نے تو انتہا کر دی ۔دین اکبری کا اجرا کر دیا۔نو رتن بنائے۔اس سے ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب نے جنم لیا۔ ان وجوہات کی بنا پر مسلمان ایک بڑی ہندو اکژیت پر ہزاروں سال حکومت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی تناظر میں ہم نے مودی کے لیے ایک کالم بعنوان ’’مسلمانوں نے تو آپ پر ایک ہزار سال حکومت کی، آپ سو سال تو پورے کریں‘‘یعنی متعصب مودی نے اب مسلمانوں کو اتنا تنگ کر دیا ہے کہ بھارتی مسلمان بھارت میں ایک اور پاکستان بنانے پو مجبور ہو رہے ہیں۔

جب پاکستان بن رہا تھا توہندو لیڈر شپ نے اپنے لو گوں کو یہ کہہ کر مطمئن کیا تھا کہ مسلمان اب تو قائد اعظمؒ کے دوقومی نظریہ کے جوش مگھن ہیں ۔جب ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ہم قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کو آہستہ آہستہ کمزور کر کے پاکستان کواپنے اکھنڈ بھارت میں ضم کر لیں گے۔ ہند وؤں نے اپنے سیاسی رہنماچانکیہ کی سوچ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان بنتے ہی یہ کام شروع کر دیا گیا تھا۔ سندھ میں غلام مصطفےٰ شاہ (جی ایم سید) الطاف حسین، خیبر پختون میں عبدالاغفار خان،بلوچستان میں خیر بخش مری وغیرہ اورمشرقی پاکستان میں مجیب کو قومیتوں کے سبز باغ دکھا کر پاکستان توڑنے کے کام پر لگا دیا گیا۔اس میں امریکا، روس اور اسرائیل بھارت کی مدد کرتے رہے۔ ان سب کو اسلامی اور پھر ایٹمی طاقت بن جانے والا پاکستان ہر گز پسند نہیں تھا۔سندھ، خیبر پختون اور بلوچستان کے غداران تو پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے مگر مشرقی پاکستان کے غدار مجیب کامیاب ہو گیا۔پاکستان کے دو ٹکڑے کر کے زبان، قومیت کی بنیاد پر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا د یا گیا ۔ بھارت کی وزیر اعظم اندرا نے اس کامیابی پر بیان دیا کہ قائد اعظمؒ کا دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا مسلمانوں سے ہزار سالہ حکومت کا بدلہ بھی لے لیا۔ یہ ہے دشمن کا بیانیہ اور ہمارے پرانے اور نئے حکمرانوں کا بیانیہ کہ ہم بھارت سے آلو پیاز کی تجارت کی باتیں کرتے ہیں۔موسٹ فیورٹ ملک کی باتیں کرتے ہیں۔ پاکستان سے بے وفائی کی یہ حالت ہے کہ عمران خان کی حکومت جو بھارت سے جنگ کی حالت میں۔ کل ہی پیازوں سے بھرے پاکستانی ٹرک واگہ باڈر کراس کرنے کی تصویریں میڈیا میں شایع ہوئیں ہیں۔ جبکہ بھارت کہتا رہا ہے کہ پاکستان کے پہلے پاکستان کے دوٹکڑے کریں گے۔ اب پاکستان کے دس ٹکڑے کریں گے۔آزاد کشمیر پر حملہ کرکے بھارت میں شام کریں گے۔

اگر بے وفا حکمران پاکستان بننے کے بعد برعظیم کے مسلمانوں اور اپنے اﷲ سے کیا گیا وعدہ کہ پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کا وعدہ پورا کیا ہوتا۔ تو پاکستان مضبوط ہوتا، عوام قومیتوں کے بجائے اسلام کے پرامن نظام پر عمل کرتے۔ مشرقی پاکستان بھی اسلام کے بابرکت نظام حکومت کے تحت پاکستان سے جوڑا رہتا۔کیا اوپرجو ہندوستان پر ہزار سالہ مسلمانوں کی حکومت کرنے کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آتا۔اور دنیاکے سیکڑوں قوموں،تہذب و ثقافتوں والے پونے چار براعظموں پرمسلمانوں کا ایک مسلمان خلیفہ حکومت نہیں کرتا رہا۔ بلکہ ابھی ماضی قریب۱۹۲۳ء عثمانی خلافت کی دنیا کے تین براعظموں پرحکومت قائم نہیں تھی۔ یہ پاکستانی بے وفا حکمران ہیں کہ جو صرف ایک مسلم بنگالی قوم کو اپنے ساتھ ساتھ ملا کر نہ رکھ سکے۔

مشرقی پاکستان قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کے وژن اور بر عظیم کے مسلمانوں سے ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے وعدہ پر عمل نہ کرنے اور پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان سے علیحدہ ہوا۔ بے وفا حکمران اسلامی نظام کیا قائم کرتے ۔جب کہ قائد اعظمؒ کے انتقال کے بعد مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں نے قائد اعظم ؒ کے وژن سے اعلانیہ بغاوت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں چودہ سو ل سالہ اسلامی نظام حکومت قائم نہیں ہو سکتا۔علامہ محمد اسدؒ کو قاعد اعظمؒ کے قائم کردہ ایک ادارے’’ ری کنسٹرکشن آف اسلامک تھاٹ‘‘ سے ہٹا کر بیرون ملک سفیر بنا دیا۔ اس کے کیے گئے کام کے ریکارڈ کو ایک قادیانی بیروکریٹ نے پر اسرار طور پر آگ لگا دی۔ سیدمودودیؒ جو اسلامی کے عملی نفاذ کی کوششیں کر رہے تھے پاکستان مخالفت کاجھوٹاالزام لگا کرقید میں ڈال دیا۔

صاحبو!اب بھی مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ کسی بھی وقت بنگلہ دیش واپس پاکستان کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش میں اس کام کے لیے ایک مضبوط جماعت اسلامی موجود ہے۔ عمران خان وزیر اعظم ،ایٹمی اور میزائل قوت، مملکت اسلامی جمہوریہ ،مثل مدینہ ریاستِ پاکستان،جو مدینہ کی اسلامی فلاحی حکومت کی گردان ہمیشہ دھراتے رہتے ہیں نے اگر پاکستان کو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے بچانا ہے تو ۴ ؍اقدام کرنے چاہییں۔نمبر:۔ ۱۔ پاکستان میں فوراً اسلامی نظام حکومت کا اعلان کر دینا چاہیے۔ اس سے ایک تو اﷲ کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا ہو گا۔پچھلے ۷۲ سال سے اسلامی نظام حکومت کو ترسنے والے پاکستانی عوام ایک دم ساری سیاسی وابستگیوں کو چھوڑ کر حکومت وقت کے ساتھ یک جان ہو جائیں گے ۔ نام نہاد قومیتیوں کے حقوق اور لسانیت کی سیاست کرنی والی پارٹیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے ۔ یہی مشرقی پاکستان توڑنے کا سبب بنی تھیں۔ اب بھی باقی ماندہ پاکستان کو توڑنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔اس سے قبل ایم کیو ایم کو غیر ضروری ڈھیل دے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا۔ نمبر :۔۲۔بھارت جو پاکستان پر حملہ کا اعلان کر چکا اور پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔اس کے خلاف تحصیل لیول کی بنیاد پر پاکستان کے بچانے کے نام پر پاکستانی عوام سے بیعت لی جائے۔نمبر:
۔۳۔ علماء سے مشورہ کر کے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان، بھارت کے خلاف جہاد فی سبیل اﷲ کا اعلان کردے۔نمبر:۔۴۔پاکستان کی ساری سیاسی اور دینی پارٹیاں، تاجر تنظیمیں، وکلا تنظیمیں ،سول سوسائٹیوں کے کارکن پاکستان توڑنے کے بھارتی ڈاکٹرائین کو تبدیل کرانے اور اور جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ،بھارت پردبھاؤ بڑھانے کے لیے آزاد کشمیر جا کر ہر روز ایک ایک کرکے مظفر آباد سے صرف چکوٹی تک مارچ کرتے رہیں۔اس سے ایک طرف مظلوم کشمیریوں کو حوصلہ ملے گا اور دوسری طرف ،لکشمی یعنی دولت کی پوجاری اور یہودیوں کی طرح ہزار ہزار سال زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والا ہندو مشرکوں کا معاشرہ صلح کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ اگر بھارت نے جنگ کی حماقت کی تو فتح غازیوں اور شہیدوں کے معاشرے والے پاکستان کی ہو گی۔ان شاء اﷲ۔اسی طریقے سے مشرقی پاکستان ٹوٹنے کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ مشرقی پاکستان ٹوٹنے کا الزام فوج اور سیاست دانوں پر ہی نہیں پوری پاکستانی قوم ذمہ دارہے۔ اس لیے کہ قوم نے اسلامیِ نظام حکومت کے لیے تحریک پاکستان والا جذبہ استعمال کر کے حکمرانوں کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ اب قوم، فوج سیاست دان مل کر اب مندرجہ بالاا قدام کرکے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کریں ۔ اﷲ پاکستان کا محافظ ہو آمین۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 143 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 832 Articles with 372546 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: