آزاد کشمیر اسمبلی کا '' ان کیمرہ '' اجلاس

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر کے سیاسی مستقبل اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی درخواست پر آزاد کشمیر اسمبلی کا ' ان کیمرہ' اجلاس 14دسمبر کو مظفر آباد میں منعقد ہوا۔میڈیا میں شائع اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ' ان کیمرہ' اجلاس شام دیر تک جاری رہا ۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ایوان کو اپنے تحفظات ،خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے سب کو دعوت دی کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں مل کر اپنا فرض ادا کریں۔اجلاس میں ارکان اسمبلی اور سیکرٹری اسمبلی موجود تھے۔اس موقع پر ' وی آئی پی' گیٹ کے سوا باقی تمام گیٹ تالے لگا کر بند کئے گئے اور سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے

۔شائع خبروں کے مطابق سردار عتیق احمد خان نے طویل تقریر کی جبکہ بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کئی سوالات کئے۔نماز کے وقفے کے علاوہ اسمبلی اجلاس بغیر تعطل جاری رہا۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے ارکان اسمبلی کے سوالات کے جواب دیئے۔خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ ''ممبران کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام پارلیمانی لیڈر شپ 'ایک پیج ' پر ہیں اور قومی تقاضوں کے تحفظ کے لئے بھی تحریک کشمیر کی تائید و حمایت میں کشمیری قیادت کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے،سب متحد ہیں''۔

اجلاس کے بعد سیکرٹری اسمبلی چودھری بشارت حسین کے دستخط سے 16دسمبر کو چار نکات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ '' قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کے in camera اجلاس میں یہ طے پایا گیا کہ (1)آزاد کشمیر کی منتخب اسمبلی،حکومت ،عوام اور تمام سیاسی جماعتیں مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتی ہیں اور کشمیری عوام کو یقین دلاتی ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔(2)آزاد کشمیر کی موجودہ آئینی اور سیاسی حیثیت میںکوئی کمی/تبدیلی نہیں ہو گی بلکہ اس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔(3)تحریک آزادی کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے آزادکشمیر کی جملہ سیاسی قیادت اور آل پارٹیزحریت کانفرنس کی قیادت مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔(4) دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری Dispora نے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں جو کردار ادا کیا اس پر انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ اپنا کردار بھرپور طریقہ سے جاری رکھیں گے۔"

آزاد کشمیر اسمبلی کا یہ اجلاس ایسی صورتحال میں منعقد ہو اکہ جب وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے برملا اس بات کااظہار کیا کہ کشمیر کاز اوراس تناظر میں آزاد کشمیر سے متعلق امور محض فاروق حیدر کی ذمہ داری نہیں ہے،آزاد کشمیر کے تمام سیاسی رہنمائوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے جارحانہ اقدام کے حوالے سے آزاد کشمیر کے سرگرم کردار کے لئے متحد ہو کر اپنا موثر کردار ادا کریں۔اسی حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اسمبلی کا ' ان کیمرہ ' اجلاس بلانے کی بات کی تا کہ وہاں ان امور کی اس صورتحال پر غور کیا جائے جو عام لوگوں کے سامنے ڈسکس نہیں کئے جا سکتے۔

ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاس میں کسی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ جس وجہ سے اسمبلی اجلاس ' ان کیمرہ ' کیا گیا تھا۔یعنی پارلیمانی جماعتوں کے رہنما ان '' حساس'' باتوں کے قریب بھی نہیں گئے ،جن باتوں پر غور اور متفقہ لائحہ عمل اپنانے کے لئے اسمبلی اجلاس ' ان کیمرہ' طلب کیا گیا تھا۔یوں آزاد کشمیر اسمبلی کے ' ان کیمرہ ' اجلاس میں عام،معمول کی ہی باتیں ہونے سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آزاد کشمیر کے سیاستدان متحد ہو کر ''آر پار'' کے کشمیریوں اور ریاستی حقوق کے تحفظ کی فکر اور عمل سے دوری اختیار کرتے جا رہے ہیں۔بقول حیدر علی آتش

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

اسمبلی اجلاس کے ' ان کیمرہ' اجلاس کے اعلامیہ میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی کہ جس سے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو آزاد کشمیر اسمبلی سے کوئی ایسی توقعات وابستہ ہو جاتیں،جنہیں پورا کرنا آزاد کشمیر کے '' قد آور'' سیاستدانوں کے بس /ترجیحات میں نہیں ہے۔اعلامیہ میں حکومت پاکستان سے یہ درخواست بھی نہ کی جا سکی کہ مقبوضہ کشمیر کی خطرناک صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر کو متحرک کردار تفویض کیا جائے۔اعلامیہ میں یورپ و امریکہ وغیرہ میں کشمیر کاز کے لئے سرگرم شخصیات اور افراد کے کردار کو سراہا تو گیا تاہم آزاد کشمیر تمام دنیا میں کشمیر کاز کے لئے متحرک کشمیریوں کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کئے جانے کی ذمہ داری سے بھی عاری نظر آیا۔

مقبوضہ کشمیر کی غیر معمولی اور سنگین صورتحال میں اعلامیہ کے معمول کے ''بے ضرر'' اور بے عمل جملے افسوسناک اور المناک صورتحال کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔اعلامیہ کے نکات اور الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ اس بات کا خا ص طورپر خیال رکھا گیا کہ کوئی ایسی بات ،کوئی ایسا جملہ یا لفظ شامل نہ ہو جس سے '' حکام بالا'' کی طبع نازک پہ گراں گزرنے کا اندیشہ ہو۔بیرون ملک دورہ جات،کانفرنسوں اور مظاہروں میں شرکت کے علاوہ وہ کون سی جدوجہد کی جا رہی ہے جس کو جاری رکھا جائے گا؟ اس حقیقت کا اعادہ ہوا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہمارا سیاسی چہرہ کمزور اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کی اہلیت سے محروم نظر آتا ہے۔اگر اہلیت سے محروم نہیں تو پھر ان کی ترجیحات کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 287 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 580 Articles with 256121 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More

Comments

آپ کی رائے
excellent description
By: shah Nawaz Bokhari, Rawalpindi on Dec, 24 2019
Reply Reply
1 Like
Language: