آزاد کشمیر کا آخری وزیراعظم

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

جب سے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سے منسوب ایک انتہائی متنازعہ بیان سامنے آیا ہے تب سے اس پر شدو مد سے بحث جاری ہے۔’’آزاد کشمیر کا آخری وزیراعظم‘‘کا بیان وزیراعظم نے پی سی ہوٹل مظفر آباد میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ بار کی نومنتخب باڈی کی تقریب حلف برداری کے موقع پر دیا۔جس کا مطلب یہ لیا گیا کہ شاید پاکستان بھی بھارت کی طرح آزاد کشمیر کو ضم کرنے کی تشویشناک پالیسی اور سنگین غلطی پر گامزن ہو رہاہے۔ راجہ محمد وسیم خان وزیراعظم آزاد کشمیر کے ترجمان ہیں۔ میں نے ان سے اس بیان کی حقیقت معلوم کی۔ انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ’’لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں کہ میں آزاد کشمیری کا آخری وزیراعظم ہوں‘‘۔

راجہ فاروق حیدر خان کن صورتوں میں آزاد کشمیر کے آخری وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔ پہلی ،یہ کہ آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام حکومت ختم کر دیا جائے، اس کی جگہ صدارتی نظام لایا جائے۔ جس میں صدر ریاست کا چیف ایگزیکٹو ہو، دوم، یہ کہ آزاد کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کر دیا جائے۔ ایسا تب ممکن ہے جب آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جائے۔تب آزاد کشمیر کا وزیراعظم، وزیراعلیٰ کہلائے گا سوم، یہ کہ آزاد کشمیر کو پاکستان میں ضم کر دیا جائے،چہارم، یہ کہ آزاد کشمیر کو فاٹا کی طرح وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے۔ اس سب کے لئے آئین میں تبدیلی کی ضرروت ہو گی، یا صدارتی آرڈیننس سے کوئی قانونمنظور کیا جا ئیگا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح آزاد کشمیر کے بھی نئے انتظام (ری ارگنائزیشن)کی باتیں ہو رہی ہیں۔جیسے کہ مظفر آباد ڈویژن کو ہزارہ کے ساتھ جوڑ دینا، پونچھ ڈویژن کو مری کے ساتھ ملانا، میرپور ڈویژن کو جہلم ، گجرات میں ضم کرنا وغیرہ، مگر یہ سب خیالی پلاؤ ہیں۔

ان سب رپورٹس میں دو اہم باتوں کی تصدیقہو رہی ہے۔ پہلی، آزاد کشمیر کے آخری وزیراعظم ، دوم تقسیم کشمیر کی سازش۔ وزیراعظم عمران خان، یا کسی ادارے یا کسی بھی طرف سے یا لوگوں سے منسوب اس طرح کی باتیں ، یہ بات زیر بحث آئی ہے۔ جہاں تک اس پر عمل کا سوال ہے، یہ موضوع بحث طلب ہے۔ مندرجہ زیل سرکاری ہینڈ آؤٹ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

’’وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری میں خطاب کے موقع پر کی گئی تقریر کو کچھ دوست درست انداز میں پیش نہیں کررہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا تھا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ آخری وزیراعظم ہو ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے یہ نہیں کہا کہ میں یہ کہتا ہوں ۔اس لیے کسی کی کہی گئی بات کو بیان کرنا اور خود کہنے میں فرق ہے ۔ملاحظہ ہو سرکاری ہینڈ آوٹ مظفرآباد (پی آئی ڈی)12دسمبر2019ء،وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو پائیہ تکمیل پہنچانے اور تقسیم کشمیر کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ ساری سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا قومی کردارادا کرے۔ کچھ لوگ میری باتوں پر سیاست کرنے کی آڑ میں طاق لگائے بیٹھے ہوتے ہیں سار ا بیڑ امیں نے نہیں اٹھایا ہوا۔ کشمیریوں کیلئے تہاڑ جیل گوانتانامو بے ہے۔کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارے ہیں۔ مقبول بٹ کو شہید کیا گیا، یاسین ملک اور دیگرحریت رہنما آج بھی وہاں قید زندان میں ہیں۔ ،،،،، مقبوضہ کشمیرمیں سبز ہلالی پرچم میں لپٹے شہداؤطن عزیز سے وفادای کی گواہی دے رہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ بین الامی سطح پر آزاد حکومت اور حریت قیادت پر مشتمل ایک’امبریلا‘(چھتری)قائم کیا جائے جو اقوام عالم کو ہندوستانی مظالم سے آگاہ کر سکے اور کشمیریوں کی اپنی آواز بین الاقوامی دنیا تک پہنچائے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا چاہتا ہے،پانچ اگست کے بعد سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ یہاں ہندوستان سے لا کر غیر مقامی افراد کو بسانا چاہتا ہے جس کے خلاف وادی کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھرپور مزاحمت کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ جدوجہد کسی ایک رنگ و نسل تک محدود نہیں رہی۔ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول معطل نہیں ہونے چاہیے تھے۔ ہمارا تعلق ریاست پاکستان سے ہے۔ ہم وفاقی اکائی نہیں۔ ماضی میں جب اختیار کی بات کرتا تھا تو مجھے علیحدگی پسند کہا گیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ہمار موقف درست تھا۔۔۔۔۔وزیر اعظم نے کہاکہ آزادکشمیر کی عزت و وقار پر نہ حرف پہلے آنے دی نہ آئندہ آنے دونگا۔ اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھ کر فرض ادا کیا۔ سردار عبدالقیوم خان کہا کرتے تھے کہ تحریک آزادی کشمیر کی وجہ سے ہی آزاد خطے کی اور ہماری عزت ہے اور یہ سیٹ اپ موجود ہے ورنہ ہماری آبادی اور رقبہ تو بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی رویوں کو بدلنے کیلئے وقت چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور حکومت کو بااختیار بنانے کے حوالے سے قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے احسانات یاد رکھیں گے۔ ۔۔۔‘‘

مقبوضہ کشمیر کے سٹیٹس کو جس طرح بھارت نے 5اگست2019کو بدل دیا۔ اسی طرح مارچ 1965کو بھی کیا گیا جب مقبوضہ ریاست کے کانگریسی وزیراعظم غلام محمد صادق کو بھارتی حکومت نے وزیراعلیٰ میں تبدیل کیا۔ اس سے پہلے 1947سے 1965تک مہر چند مہاجن، شیخ محمد عبداﷲ، بخشی غلام محمد، خواجہ شمس الدین بھی ریاستی وزیراعظم رہے۔ کل پانچ وزرائے اعظم میں سے تین کا تعلق نیشنل کانفرنس اور دو کا انڈین نیشنل کانگریس سے تھا۔ بھارت نے ایک متنازعہ ریاست کے آئین، یوا ین سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھل کر خلاف ورزی کی۔ تا ہم پاکستان کے اپنے مفاد میٰں یہ نہیں کہ وہ سیز فائر لائن کو انٹرنیشنل سرحد کے طور پر تسلیم کرے یا تقسیم کشمیر کی کسی عالمی سازش کا حصہ بنے۔ اگر پاکستان کسی عالمی جھانسے میں آگیا تو وہ بھارتی مفادات کے لئے کام کر سکتا ہے۔ پاکستان کا بھارتی مفادات کے لئے رائی کے دانے برابر کام کرنا بھی خود پاکستان کی نفی ہو گی۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی تیز رفتارتعمیر و ترقی، بیروزگاری، غربت کے خاتمے کے اقدامات ضرور کئے جائیں، ان خطوں کو ملانے اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے،آزاد حکومت اور حریت کی کسی چھتری کے طریقوں پر غور و خوض کیا جائے۔ سیز فائر لائن کو انٹرنیشنل سرحد کے طور تسلیم کرنا یا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ضم کرنے کی سوچ پاکستان کے مفادات کے سراسر منافی ہو گی۔ اس سے صرف بھارتی مفادات کو فروغ ملے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 112 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 509 Articles with 170461 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: