بس تم نہیں ہو۔۔۔۔۔۔

(Aalima Rabia Fatima, )

تمہیں معلوم ہے تمہارے نہ ہونے سے۔۔ وقت تھم سا گیا ہے زندگی رک سی گئی ہے۔۔ تمہارے ساتھ دو پل جو گزارے تھے زندگی کا حاصل تھے۔۔ تمہارے چلے جانے سے آنکھوں کا رواں دریا بھی سوکھ گیا ہے۔۔ مسکرانا بس وہی آخری بار تمہارے ساتھ ہی تھا ۔۔ آج سمندر کے کنارے بیٹھے تمہیں دیر تک سوچتی رہی ریت پر تمہارے ساتھ اٹھنے والے ان قدموں کے نشانوں کو ڈھونڈتی رہی۔۔ کتنا دلفریب منظر تھا بس میرے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ۔۔ اور اس کی گرفت آج تک مجھے محسوس ہوتی ہے ۔۔ آج یہ ہاتھ خالی ہیں ۔۔تمہیں پتہ ان لہروں سے انسیت سی محسوس ہو رہی ۔۔ جیسے یہ وہی لہریں ہوں جو تمہارے قدموں سے ہوتی ہوئی میرے قدموں سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔ سب کچھ وہی ہے وہی منزل وہی جگہ وہی سما وہی گہما گہمی وہی سمندر وہی کنارہ وہی میں وہی ریت وہی لہریں۔۔ نہیں ہو تو بس تم نہیں ہو۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 153 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 43 Articles with 17606 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: