دیریلش ارتغرل(خلافت عثمانیہ پر مبنی سیریل)

(Raja Hammad Sarfaraz, )

رجب طیب اردگان کی خصوصی ہدایت اور زیرسرپرستی بننے والی ایک مکمل سچائی پر مبنی ایکشن اور سنسنی سے بھرپور خلافت عثمانیہ کی تاریخ پر بنی سیریل دیریلیش ارطغرل اس وقت دنیا میں اپنی مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے اس ڈرامے کا ہر سین شاندار اور دوسرے مناظر سے بھرپور طریقے سے جڑا ہوا ہیاگر چہ یہ مکمل قریبا تین سو سے چار سو گھنٹوں پر مشتمل ہے لیکن ان میں ایک بھی سین ایسا نہیں ہے جو اضافی محسوس ہو اور پُرلطف نہ ہو، ڈرامے کا ہر کردار بہترین ہے کہیں بیزاری محسوس نہیں ہوتی ڈرامہ دیکھنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سلطنت عثمانیہ سے منسلک اپنے تخیل میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں آپ ارتغرل کے اچھے وقتوں سے مسرت حاصل کرتے ہیں اور برے وقتوں سے آپ کرب اور تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔

ڈریلیس ارطغرل صرف ایک سیریز نہیں ہے یہ ایک تحریک ہے جو ہمیں بحالی عروج کی طرف لے جاسکتی ہے یہ ایک سبق ہے جو ہمیں اپنے بچوں کو پڑھانا ہوگا اس وقت جبکہ ہماری نوجوان نسل پوری طرح طاغونی میڈیا کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے، تو ہمیں آنیوالے نسلوں کی حفاظت کے لیے اس طرح کی سیریز آخری امید ہوں گی _ ہمیں مستقبل کا رخ اسلام کی طرف موڑنا ہوگا _ اس کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہمارے بچوں کا ہیرو ٹام جیری اور ڈوریمون نہیں بلکہ ارطغرل غازی اور صلاح الدین ایوبی ہونے چاہیے _ صرف اسی صورت ہم کافروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر سکیں گے _ آئیے اپنے آنیوالے نسلوں کو غلامی سے بچانے کے لئے پہلا قدم اٹھاتے ہیں _ دیریلش ارتغل صرف یہ نہیں سکھاتا کہ علم جہاد کو بلند کیا جائے۔بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ساس اور بہو کو کیسے رہنا ہے۔میاں اور بیوی کو ازدواجی زندگی کیسے گزارنی ہے۔کس عمر میں بچوں کی تربیت کس طریقے سے کرنی ہے۔ بغیر سربراہ کے گھر کو کیسے سمبھالنا ہے۔مخلص محبت دوست کی صورت میں کس نظرئیے کے تحت رکھنی ہے۔بھائی چارہ قائم کیسے رکھنا ہے۔چاہے تمہاری جان ایک ایک عضو کو نقصان پہنچاکر دشمن ناکارہ بنا دے لیکن اسلامی نظریات کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولنا۔۔۔۔۔

یہ سب بھی اس ڈرامے میں سکھایا گیا۔قارئین محترم یہ کوئی فرضی لکھی گئی کہانی نہیں بلکہ کے مکمل سچائی پر مبنی ایک داستان ہے جو ہمیں بتا رہی ہے جب ہم غالب تھے تو کیسے تھے ہماری تہذیب ہمارا کلچر اور ہمارے آباؤ اجداد کے طور طریقے کیا تھے مسلمان جب اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیشریعت قران اور سنت کے احکامات پر عمل پیرا تھے تو کیسے دشمن ان سے خوف کھاتے تھے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایک پر امن معاشرے میں کیسے رہا جاتا ہے مسلمان عورتیں کیسے اپنے شوہروں کی وفادار ہوتی ہیں مسلمان مرد کیسے اپنی عورتوں سے محبت کرتے ہیں اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ محبت کی منزل گرل فرینڈ نہیں بلکہ نکاح ہے باپ کا کیا مقام ہے ساس بہو نے کیسے رہنا ہے ایک اچھا حکمراں کیسا ہوتا ہیدریلیش سیریل نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈرامے کی مقبولیت کے لئے عورتوں کو نیم عریاں کرنا ضروری نہیں نہ ئی فحاشہ جملوں کلیمات اور عکس بندی یا غیریوں کی تقلید ضروری ہے اس میں مکمل طور پر اﷲ کے بنائے گئے قوانین اور اسلامی طورطریقوں اسلامی روایات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ہم ترکی کے اس پروڈیوسر سے لے کر اس میں کام کرنے والے ہر فنکار جس جس نے بھی اس کے لیے کردار ادا کیا اس کی کتنی بھی تعریف کریں کم ہے کہ ہمیں کچھ تو پتا چلے گا کہ وطن کے لیے قربانیاں کیا ہوتی ہیں۔ اور

خصوصیت کے ساتھ حکومت وقت کے کا انتہائی اہم اقدام ہے کہ اسے اردو میں ترجمہ کے ساتھ پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیا جائے گا۔تاریح کے آہینے میں ایک طرف ہلاکو خان اور چنگیز خان اپنے لشکر بھیج رہے تھے اور دوسری طرف صلیبیوں کے ظلم و ستم بڑھتے جارہے تھے مسلمانوں کی کوئی سلطنت موثر نہ تھی مسلمان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں قبائل میں بٹ چکے تھے برائے نام سلطنت تھی مگر ایسے وقت میں ان سرزمینوں پر ایمان کی شمعیں صوفیائے کرام کے ذریعے روشن تھی سلجوقی سلطنت اپنا عروج دیکھ چکی تھی اور دن بہ دن منگولوں کی بڑھتی ہوئی پیش رفت اور دوسری طرف صلیبیوں کی مکاریوں کی وجہ سے کمزور پڑ رہی تھی۔ایسے وقت میں چراہوں کا ایک چھوٹاسا قبیلہ کائی جو منگولوں کے بار بار حملوں کی وجہ سے ہجرت پر مجبور خراسان میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھا کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا ارطغرل خلافت عثمانیہ کی بیل ڈال چکا تھا اور اس کے لیے جدوجہد کر رہا تھا مارکے ہو رہے تھے قونیا ہیڈکوارٹرتھا سلجوقی سلطنت کا اور سلطان علاولدین جب بادشاہ تھا ادھر مولانا روم قو نیہ میں آباد ہو چکے تھے۔

ارتغرل ایک اور عظیم صوفی بزرگ معین الدین شیخ ابن عربی خراسان میں موجود تھے اور ارتغرل خلافت کے قیام کے سلسلے میں ہر امور پر ان سے قدم بہ قدم رہنمائی لیتے تھے اور مشاورت کرتے تھے۔سلجوقی بادشاہ سلطان علاوالدین کے بھتیجی حلیمہ سلطان سے ارطغرل کی شادی ہوئی اور اس لاطینی اور صلیبی فتنوں کے خلاف جنگیں لڑ لڑ کر ارنے نئی اسلامی کی بیل ڈالی جو ان کے بیٹے عثمان کے دور میں وجود میں آئی۔ مسلمانوں کے عظیم جدامجد ارطغرل غازی نے ایک طرف اپنی تلوار کی طاقت اور خداداد زہینی صلاحیتوں کے بل بوتے پر عہد شکن صلیبیوں اور دوسری طرف درندہ صفت منگولوں کو شکست دی اس کے ساتھ ساتھ سلجوقی سلظنت کو غداروں سے پاک کیا غظیم الشان خلافت جو 1303 عیسوی میں قائم ہوئی اور میں پہلی جنگ عظیم کے وقت ختم ہوئی۔

ہمارے میڈیا کو بھی چاہیے کہ ترکی کی طرح انڈین ڈراموں اور فلموں کو پروموٹ کرنے فحاشی عریانی پئھلانے کے بجائے اپنی تاریح کلچر اور ثقافت پر مبنی سیریل تیار کیے جاہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 285 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Hammad Sarfaraz
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: