خون ِ شہیداں زندہ باد :جب ظلم و ستم کے کوہ گراںروئی کی طرح اڑ جائیں گے

(Dr Salim Khan, India)

حکومت ہند فی الحال اردو اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دے کر مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے کہ شہریت کایہ کالا قانون کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ مسلمان جب تک حکومت کی ظلم و زیادتی کو نظر انداز کررہے تھے یہ لوگ انہیں خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن کبھی نہ کبھی تو پیمانۂ صبر لبریز ہونا تھا سو ہوگیا۔ اب جبکہ مسلمان میدان میں آئے تو ان کے ہوش ٹھکانے آگئے ۔ ملک کے طول و عرض میں اس طرح کے بڑے بڑےحکومت مخالف مظاہرے پچھلے چند سالوں میں کسی مسئلہ پر نہیں ہوئے اور اس برف کی سِل کو توڑنے کا سہرہ یقیناً مسلمانوں کے سر ہے اور یقیناً مبارکباد کے قابل ہیں ۔ اس احتجاج میں ہندو مسلمان سب شامل ہیں مگر اس کو خون کا نذرانہ قوم مسلم نے پیش کیا ہے اور تحریکیں اسی طرح کی عظیم قربانیوں سے جلا پاتی ہیں ۔ مسلمانوں کے اندر شوق شہادت پایا جاتا ہے اس لیے وہ مایوس یا بددل نہیں ہوتے۔

بی جے پی بھی چاہتی تھی کہ مسلمان مظاہرے کریں اور وہ ان کے ذریعہ ہندورائے دہندگان کو ڈرائے یا خوش کرے ۔ اس طرح کا احتجاج اگر طلاق ثلاثہ یا کشمیر کے مسئلہ پر ہوتا تو غیر مسلمین کی جانب ایسے تعاون و اشتراک کی توقع نہیں تھی لیکن این آر سی اور سی اے اے پر سب کا ساتھ آنا آسان ہوگیا اس لیے بی جے پی کے لیے اس کو ہندو مسلم مسئلہ بنا نا مشکل ہوگیا۔شہریت ترمیم بل جب ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو بی جے ڈی اور جنتا دل (یو) نے اس کی حمایت کی تھی لیکن این آر سی پر وہ بھی سرکار کے مخالف ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل بنگال کی ممتا بنرجی ، پنجاب کے ارمندر سنگھ، راجستھان کے اشوک گہلوت ، چھتیس گڈھ کےبھوپیش بگھیل اور کیرالا کے پی وجین دونوں قوانین کی مخالفت کرچکے ہیں ۔ ایوان میں شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والی ٹی آر ایس اور عآپ بھی این آر سی کے خلاف ہیں۔ نوین پٹنائک اور نتیش کمار کی حمایت کے بعد جملہ ۸ وزرائے اعلیٰ اور ۱۱ صوبے اس کے مخالف ہوگئے ہیں جن کی حکومت چالیس فیصد سے زیادہ رقبے پر ہے جس میں ملک کی بیالیس عشاریہ آٹھ فیصد لوگ بستے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اس قانون کے نفاذ کو اپنے سوالات کے جواب اور عدالتی تصفیہ سے مشروط کرکے ٹال دیا ہے اس طرح ملک میں بسنے والی اکثریت یعنی باون فیصد لوگوں پر یہ قانون نافذ نہیں ہوگا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بہار جہاں بی جے پی اقتدار میں حصے دار وہاں پر سب سے زور دار مظاہرہ ہوا۔ شہر پٹنہ میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ارکان نے ٹرینیں رکوا دیں لیکن نہ گولی چلی نہ ڈنڈا چلا کیونکہ نتیش کمار کے ہاتھ میں اقتدار ہے۔ مہاراشٹر میں کل تک بی جے پی کے ساتھ شیوسینا تھی لیکن اب وہ اس سے الگ ہوگئی ہے۔ اس کی حکومت میں صوبے کے مختلف شہروں بڑے بڑے احتجاج ہوئے ۔ مالیگاوں میں پانچ لاکھ لوگوں کے جلوس کی خبر ہے پھر بھی امن و امان بحال رہا ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مسئلہ مظاہرین کا نہیں بلکہ انتظامیہ اور سرکار کا ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ اور یدورپاّ جیسے لوگوں کے پاس جہاں اقتدار ہو وہاں امن و امان کیونکر ہوسکتا ہے؟ یوگی جی نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں پہلے تو اپنے اڑیل رویہ سے تشدد بھڑکایا اور پھر مظاہرین کو شرپسند قرار دے کر ان کے ساتھسختی سے نپٹنے کی ہدایت دی ۔

یوگی جی کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگیا کہ جمہوریت میں تشدد کا کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے بند کی اپیل کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ معاملے درج کر کے ان کی ملکیت ضبط کر کے نقصان بھرپائی کی دھمکی دی ہے ۔یوگی جی نے اس بابت ایک ایسا بیان دے دیا کہ اسے پڑھ کر ہر ہندوستانی شہری کا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں اس تشدد میں ملوث ہر فرد کی جائیداد کو ضبط کریں گے اور اس سے عوامی تنصیبات کے نقصان کی بھرپائی ان فسادیوں سے کریں گے کیونکہ یہ سب شناخت شدہ چہرے ہیں ۔ وہ سب ویڈیو گرافی میں آچکے ہیں ۔ سی سی ٹی وی کے فوٹیج میں آچکے ہیں ۔ ان سب کی پراپرٹی کو ضبط کرکے ان سب سے ہم اس کا بدلہ لیں گے ۔ کیا اس طرح کا انتقام کسی وزیراعلیٰ کو زیب دیتا ہے۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ ملک کے کئی صوبوں میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہے اور احتجاج کرتی رہتی ہے۔ اگر بی جے پی کے زیراہتمام کسی جلوس میں تشدد ہوگیا تو کیا ان کی پارٹی اس کی نقصان بھرپائی کرے گی؟

ٹی وی فوٹیج کا خوف دکھانے والے ادیتیہ ناتھ دہلی یونیورسٹی کے اندر طلبا کو زدوکوب کرنے والے اے بی وی پی کے رہنما جیتندر چودھری کی ویڈیو دیکھ لیں جو وائرل ہورہی ہے۔ اس ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو میں اے بی وی پی کے تین عہدیداران ایک ملیالی طالب علم سے پوچھتے ہیں کہ ’’کیا تم سی اے اے کی حمایت کرتے ہو؟ تم اس کے حامی ہو یا مخالف ہو؟ اس کے بعد دوسرا کہتا ہے اس کو لے چلو۔ اس کے علاوہ ایک اور مختصر ویڈیو میں اے بی وی پی کا بھرت شرماسماجی سائنس شعبے کے پاس ایک ایم کے طابعلم پر لات اور گھونسے برساتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس بابت شرما سے استفسار پر اس نے سنگھی روایت کے مطابق کہا کہ معتوب طالب علم عورت کو چھیڑ رہا تھا ۔ یہ ان سنگھیوں کا پراناحربہ ہے کہ جب رنگے ہاتھ پکڑے جائیں تو کسی نامعلوم عورت کے آنچل تلے اپنے کالے کرتوت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنے ملک میں اکثریت تک کو معتوب کرنے والے جب پڑوسی ممالک کے اقلیتوں کے لیے ٹسوے بہانے کا ڈھونگ کرتے ہیں تو ان کی حالت پر ہنسی آتی ہے۔

ایک اور ویڈیو دہلی یونیورسٹی کی طلبا یونین کا صدر اکشت دھنیا مظاہرہ کرنے والے ایک طالبعلم کا آئی کارڈ پوچھ کر اس کے بال پکڑ کر کھینچتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دھنیا سے پوچھا گیا تو اس نے کہا میں تو اس طالبعلم کو پولس کے حوالے کررہا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا کام طلبا کو پولس چھڑانا ہے کہ اس کے حوالے کرنا ہے۔ یہ اسٹوڈنٹس لیڈر ہے پولس کے دلال ہیں؟ اگلے یونین الیکشن میں انہیں دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجائے گا۔ یہ لوگ تحریک چلانا بھول گئے ہیں اس لیے پولس کے تحفظ میں مارپیٹ پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ اس طرح دہشت تو پھیلائی جاسکتی ہے لیکن طلباکا دل ، اعتماد اور الیکشن نہیں جیتا جاسکتا ۔ یہ لوگ اگر سی اے اے کی حمایت میں ایک بڑے جلو س کا اہتمام کرتے تب تو کوئی بات ہوتی لیکن جامعہ میں بھی پولس کا لباس پہن کر انہوں نے یہی کیا اور اب دہلی یونیورسٹی میں سادہ لباس میں وہی کھیل ہورہا ہے۔

ممبئی جہاں اگست کرانتی میدان میں عوام کا سیلا ب موجزن تھا تو ان کے ساتھ آزاد میدان پر چند نوجوان بھی نہیں تھے ۔ ان کا اصلی چہرہ عوام نے دیکھ لیا ہے اور وہ اب اس پر تھوکنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ۔سنگھ پریوار کو یاد رکھنا چاہیے کہ خوف و دہشت کا یہ کھیل اب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے ۔ بی جے پی والے ایک طرف عوام کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دراصل یہ خود خوفزدہ ہوگئے ہیں ۔ اس کاسب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف مظاہرے کے دن بی جے پی کے کارگذار صد جے پی نڈاّ نے اپنے سکریٹریز کی نشست ملتوی کردی وہیں دفع ۱۴۴ کے باوجود سیکڑوں مظاہرین نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو ڈرانے کی کوشش کی گئی وہ تو نہیں ڈرے لیکن یہ لوگ خود ڈر گئے۔ اس کے بعد ہی وزارت داخلہ نے سی اے اے اور این آر سی کے تعلقات سے یو ٹرن کیا اور نوٹ بندی کی اپنی ناکامی یاد دلا دی ۔ اس کامیابی میں ان لوگوں کو سب سے بڑا حصہ ہے جو اپنی جان کو ہتھیلی پر لے کر ظالموں سے سینہ سپر ہوئے اور اللہ کی نصرت سے انہیں جھکنے پر مجبور کردیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 98 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 953 Articles with 315329 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: