اوئے تم کیا لوگ ہو؟

(Sami Ullah Malik, )

قلبی اطمینا ن کیلئےقبلہ آصف بٹ صاحب سے فون پربات ہورہی تھی،پاکستان کے سیاسی حالات،وکلاءکاامراضِ قلب کے ہسپتال پر حملہ اوراب ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے مقدمے میں عدلیہ کے فیصلے کے پیراگراف66کے متن پرانتہائی غمزدہ جملوں کاتبادلہ ہوا۔ہم دیرتک ایک دوسرے کوتسلی دیتے رہے ۔ایک مرتبہ پھرملکی اداروں کے درمیان معاملات کوخانہ جنگی سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنے دکھ وکرب کااظہارکررہے تھے۔بٹ صاحب کوجیسے تیسے تسلی دے کرمطمئن توکردیالیکن جب فون بندہوا،میں بڑی دیرتک سوچتارہالیکن میرے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا،مجھے محسوس ہواجیسے ہم مسلسل گراوٹ کے اندھے کنوئیں میں گرتے جارہے ہیں،خاکم بدہن بربادی اورہمارے درمیان اب صرف چندانچ کا فاصلہ باقی ہے،ہم آخری سانسوں کے مریض ہیں۔

ہمیں ان ابترحالات کے دہانے پرکون لے کرآیا؟یہ آج اورآنے والے کل کے مورخ کاسب سے بڑا سوال ہوگا، ہماری اس بربادی کے5بڑے کھلاڑی ہیں،اس کھیل کاپہلاکھلاڑی امریکاتھا،امریکاکی خارجہ پالیسی خانہ جنگی پرمبنی ہے،امریکاآج تک جس ملک میں گیااس میں خانہ جنگی،قتل وغارت گری اور فسادپھیلااوروہ ملک کبھی دوبارہ معمول کی پٹڑی پرنہ آسکا،آپ زیادہ دورنہ جائیے،آپ1950ءکودیکھ لیجئے،1950ءمیں امریکاکوریامیں داخل ہوا، کوریامیں خانہ جنگی ہوئی اوراس خانہ جنگی کے نتیجے میں کوریاشمالی اورجنوبی دوحصوں میں تقسیم ہوگیااورآج تک وہاں امن قائم نہیں ہوسکا،امریکا1954 ءمیں گونٹےمالاگیا،وہاں خانہ جنگی میں پوراملک تباہ ہوگیا،وہ 1958ءمیں انڈونیشیاگیا،1959ءمیں کیوبا،1961ءمیں ویت نام ،1964ءمیں کانگو ، 1965 ء میں پیرو،1969ءمیں کمبوڈیا،1971ءمیں پاکستان،1973ءمیں لاؤس،1980ءمیں ایل سلواڈور ،1981 ءمیں نکاراگوا، 1983ء میں گرینیڈا،1984ءمیں لبنان،1986ءمیں لیبیا،1989ءمیں پانامہ،1998ءمیں سوڈان اور 1999ءمیں یوگوسلاویہ گیااوران تمام ممالک میں خانہ جنگی ہوئی اوراس خانہ جنگی میں لاکھوں،کروڑوں لوگ مارے گئے اوراس کے بعدان ممالک میں دوبارہ امن قائم نہ ہو سکا،امریکاکی اس خارجہ پالیسی کے تازہ ترین شکارافغانستان اورعراق ہیں،امریکیوں نے1980ءمیں افغانستان کی سیاست میں قدم رکھاتھا آج اس واقعے کو39برس گزر چکے ہیں اوران39برسوں میں افغانستان کے شہریوں نے امن کی ایک رات نہیں گزاری ،آج افغانستان کے شہری اپنے ہی افغان بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں اورامریکااس قتل وغارت گری کواپنی کامیابی قرار دے رہاہے،عراق نے 1980ءمیں امریکیوں پردوستی کے دروازے کھولے تھے،یہ دروازے کھلتے ہی عراق ایران جنگ شروع ہوئی اوراس جنگ میں6لاکھ ایرانی اورعراقی مارے گئے، 1990ءمیں امریکانے عراق پرپہلاحملہ کیا، دوسرا2003ءمیں ہوااورآج عراق بری طرح خانہ جنگی کاشکارہے،عراق میں اب تک16لاکھ لوگ مرچکے ہیں،امریکاکی یہ مہربانیاں صرف یہیں تک محدودنہیں ہیں بلکہ ارجنٹائن ہو،ہیٹی ہو،چلی ہو، ہوائی ہویاپانامہ ہو،فلپائن ہو، سپین، پورٹوریکو، ساموآ، کولمبیا، ہونڈراس، ڈومینکن ری پبلک، بولیویا ،برازیل،کوسٹاریکا،فاک لینڈ، جمیکا، الجیریا، مصر، ایران، اسرائیل، اردن، کویت مراکش،شام،تیونس یمن،انگولا،برونڈی، ایتھوپیا،گھانا،کنی بساؤ ،کینیا، لائبیریا، مڈغاسکر، موزمبیق، نائیجریا،روانڈا،سائوتھ افریقہ،یوگنڈا،زائرے،زیمبیا،زمبابوے،یونان، ہنگری،رومانیہ،ترکی ہویانیپال ، دنیا کے جس ملک میں امریکیوں نے قدم رکھااسے خانہ جنگی کاتحفہ ملااوریہ تحفہ اس وقت تک ملتارہاجب تک وہ دوستی کے اس شکنجے سے آزادانہ ہوگیا،دنیاکے نقشے پراس وقت 13ممالک بدترین خانہ جنگی کاشکارہیں اورآ پ کوان 13ممالک میں امریکی نظرآتے ہیں لہٰذااگردنیاکے ان تمام ممالک نے امریکی دوستی کاتاوان اداکیاتھا توبھلاہم کیسے اپنا حصہ وصول نہ کرتے،ہم نے بھی 67ہزارافرادکی جانی قربانیاں اور110بلین ڈالرکی قیمت اداکی جس کے بعد جب ہمیں ہوش آیاتو ہماری سپاہ نے اس ملک کوخانہ جنگی کے دہانے پرپہنچی ریاست کودوبارہ امن کاگہوارہ بنانے کیلئے ان گنت قربانیاں دیں۔

پاکستان کے موجودہ حالات کے دوسرے بڑے کھلاڑی ہمارے ڈکٹیٹر ہیں،یہ ڈکٹیٹر بھی امریکاکی پیداوارتھے،امریکاجب بھی کسی ملک میں جاتاہے تووہ اس ملک کی دفاعی امدادمیں اضافہ کردیتاہے جس کے بعداس ملک کی فوج سیاست میں حصہ داربن جاتی ہے اوراس کے بعداس ملک میں ڈکٹیٹروں کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے اوریہ سلسلہ اس وقت جاری رہتاہے جب تک ملک خانہ جنگی کا شکارنہیں ہوجاتااورہم اس سلسلے کی آخری کڑی کوچھوکرلوٹے ہیں۔اس کھیل کے تیسرے کھلاڑی ہمارے مفادپرست سیاستدان ہیں،ہم لوگوں کوبدقسمتی سے آج تک کوئی بے لوث اورکھری قیادت نہیں ملی، ہمارے سیاستدانوں نے ہردورمیں اقتدار کیلئے سمجھوتہ کیا،مسلم لیگیں اورپیٹریاٹیں بنائیں اورفیلڈمارشل ایوب خان ہوں،جنرل یحییٰ خان یاجنرل ضیاء الحق،ہمارے سیاست دانوں نے ہمیشہ جرنیلوں کے ہاتھوں پربیعت کی،یہ لوگ اسمبلی کے ایک ٹکٹ یاایک جھنڈے کیلئے اپناایمان،اپناضمیر،اپنا احساس اوراپنی عزت بیچتے رہے،افسوس صد افسوس خرید وفروخت کی اس منڈی میں ہر سیاست دان نے اپنی قیمت وصول کی یہاں تک کہ آج جب یہ منڈی اپنے اختتام کوپہنچ رہی ہے اس وقت بھی ہمارے سیاستدان اپنی قبرکی اینٹوں کا سودا کررہے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے یہ لوگ مرنے سے پہلے اپنی قبرپر جھنڈالگالیں،کھیل کے چوتھے کھلاڑی اس ملک کے سرکاری ملازم ہیں،افسوس جج ہوں یاسیکرٹری اس ملک کاہرسرکاری ملازم بزدلی اورمفادکی کوکھ سے پیداہوااوروہ زندگی کی آخری سانس تک مصلحت کی چھاتیوں سے دودھ پیتارہا، افسوس ہمارے سرکاری ملازموں نے ہردورمیں طوائفوں اورڈیلروں کاکرداراداکیا،یہ ہمیشہ کرائے کے قاتل ثابت ہوئے اوریہ لوگ 72برس تک مفاد پرست حکمرانوں کے پوتڑوں پرعرق گلاب چھڑکتے رہے یہاں تک کہ گلاب بھی ختم ہوگیااورعرق بھی،آج ہماری عدلیہ نے انگڑائی تولی ہےلیکن افسوس ہماری بیوروکریسی کاایمان اب بھی نہیں جاگا وہ آج بھی سچے اور جھوٹے اور کھرے اورکھوٹے میں تمیزنہیں کرسکی،آج ہمارے دفتروں میں90 لاکھ سرکاری ملازم ہیں،ان میں22ویں اور21ویں گریڈ کے610/ افسر ہیں لیکن افسوس ہمارے سرکاری ملازم وہ اہل کوفہ ہیں جوحضرت امام حسین کی شہادت پرماتم توکرلیتے ہیں لیکن انہیں پانی کاایک گھونٹ نہیں دیتے اوراس کھیل کے آخری کھلاڑی ہمارے 22کروڑعوام ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس عوام کوشعوراورآزادی کی نعمت سے نوازاتھالیکن افسوس انہوں نے 72 برس تک جانوروں کی زندگی گزاردی ،ان لوگو ں سے تووہ گائے اوربھینس اچھی تھی جودم سے اپنی کمرپربیٹھی مکھی تواڑالیتی تھی یہ لوگ تواتنابھی نہیں کر سکتے ،اس ملک کی بدقسمتی دیکھئے ہمارے عوام کے سامنے ملک ٹوٹااورجس شخص نے جب چاہااورجوچاہااس ملک کے ساتھ کیا لیکن ہمارے عوام نے اف تک نہ کی،آپ آج کی بات ملاحظہ کیجئے ہماراسب سے بڑامسئلہ وہ”اوفوبالعہد ” ہے جس کی بنیاد پریہ معجزاتی ریاست معرضِ وجودمیں آئی لیکن ہم اخباروں اورٹی وی چینلزکے دفتروں میں فون کرکے پوچھ رہے ہیں کہ ”مشرف مقدمے کاکیا بنے گا؟”بے وقوفو!ہم جنگ سے دوانچ دوربیٹھے ہیں اورتم ریموٹ کنٹرول سے کھیل رہے ہو،کیاتمہیں علم ہے کہ اس جج کے فیصلے نے مشرف پرکس قدراحسان کیاہے کہ اس قدرنفرت سمیٹنے والے کوراتوں رات کس قدرعوامی ہمدردی حاصل ہوگئی ہے!اوئے تم کیا لوگ ہو؟

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 96 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 351 Articles with 86842 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: